5

روزہ کی حقیقت و حکمت کیا ہے؟

آج کل دنیا پر چھائی ہوئی مغربی تہذیب کے ماحول میں روزہ ایک حیرتناک یا ناپسندیدہ عبادت ہے۔ یہ تہذیب صرف جسم کو مانتی ہے، روح کو نہیں۔ یہ صرف آج کی زندگی پر یقین رکھتی ہے، آخرت پر نہیں۔ اس لیے یہ ہر ایسی عبادت کو ناپسند کرتی ہے جو خواہشاتِ نفس پر پابندی لگائے، چاہے چند لمحوں کے لیے ہی، اور جو بدن کو ادب و تمیز کے راستے پرڈالے۔ موجودہ زمانے میں کیا افراد اور کیا گروپ، صرف آمدنی بڑھانے اور زندگی کا معیار بلند کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ آمدنی کو پاکیزہ تر زندگی کا ذریعہ بنانے کی فکر نہیں کرتے۔ ہم فقر و غربت کی محبت اور جسم کی دشمنی سے دین کو بری قرار دیتے ہیں کیوں کہ تونگری عافیت کا ذریعہ ہے اور طاقتور جسم ذمہ داریاں ادا کرنے اور بوجھ اٹھانے میں زیادہ مدد گار ہوتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا لوگ اپنے جسموں کے ساتھ معقول و حقیقت پسندانہ طریقہ سے معاملہ کرتے ہیں؟

ماہرین غذا کہتے ہیں کہ کھانے کے دو فائدے ہیں اول یہ کہ وہ جسم کو حرارت پہنچاتا ہے جو اسے نقل و حرکت میں مدد دیتی ہے۔ دوم یہ کہ بچپن سے جوانی تک کے مراحل میں نشو ونما میں جو خلیے بیکار ہوجاتے ہیں ان کی تجدید کرتی ہے۔

کیا ہم صرف انہی دونوں ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کھاتے ہیں؟ وہی ماہرین غذا کہتے ہیں کہ جسم کو زندہ رہنے کے لیے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کھانا ایک ایندھن ہے جو انسانی مشین کے لیے ناگزیر ہے۔ مصنوعی آلات اور زندہ انسانیت کے درمیان فرق واضح ہے۔ کار کی ٹنکی لوہے سے بنائی جاتی ہے اور اس میں ایک محدود مقدار میں پٹرول جمع کیا جاسکتا ہے۔ لیکن معدہ ایک ایسی اسپنج نما چیز سے بنا ہے جو پھیل اور پھول سکتا ہے اور انسان کو جتنی غذا کی ضرورت ہے اس سے کہیں زیادہ اس میں سماسکتی ہے۔

کار کی ٹنکی آخری قطرہ تک ایندھن سپلائی کرتی رہتی ہے جبکہ معدہ ضرورت پوری کرتا ہے پھر زائد غذا کو چربی بنادیتا ہے جس سے وزن بڑھتا ہے۔ کار کی ٹنکی محدود مقدار سے زائد نہیں لے سکتی، نہ اس سے ٹنکی کو بڑھانے یا پھیلانے کا کام لے سکتی ہے، نہ اس سے ٹائر بڑے اور موٹے ہوسکتے ہیں۔

انسانی وجود عجیب و غریب چیز ہے۔ ہمیشہ کافی سے زیادہ کی تلاش میں رہتا ہے۔ اس نقصاندہ زیادہ کے لیے کبھی لڑائی بھی کرلیتا ہے۔ اسے کوئی حرج نہیں نظر آتا کہ اس کا جسم موٹا ہوجائے۔ یہ اسے اس سے زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ وہ زیادہ مقدار کسی غریب بچے کی پرورش میں کام آجائے یا کسی مزدور کے جسم کا ایندھن بن جائے۔ میرا ایک دوست بکثرت سگریٹ پیتا تھا۔ میں نے ایک دن اس کے اوپر افسوس کے ساتھ نگاہ ڈالی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اسے اس مصیبت سے نجات دلائے۔ دوست نے (جواب مرحوم ہوچکا ہے) سنا تو کہا کہ اے اللہ تو اس کی دعا کو قبول نہ کرنا، نہ مجھے سگریٹ کی لذت سے محروم کرنا۔ میں نہیں سمجھتا تھا کہ سگریٹ پینے والوں کو اس میں اتنی لذت ملتی ہے۔ میں چپ ہوگیا اور میری زبان بند ہوگئی۔ انسان تنہا وہ مخلوق ہے جو یہ جانتی ہے کہ کیا چیز اسے نقصان پہنچاتی ہے پھر بھی وہ شوق سے اسے استعمال کرتا ہے۔ اسے قاتل شوق ہی کہا جاسکتا ہے لیکن ایسے نفس کو سکھایا جائے تو ہوسکتا ہے باز آجائے۔

روزے کا کام یہی ہے کہ وہ نفس کو کفایت کرنے والے ’’کم‘‘ کی طرف لوٹاتا ہے اور نقصان دہ ’’زیادہ‘‘ سے روکتا ہے بشرطیکہ ہم سچ مچ روزہ رکھیں۔ عام لوگوں کی طرح اسے اور زیادہ مقدار میں کھانے کا ذریعہ نہ بنالیں۔ روزہ تو محرومی کے ساتھ زندگی گذارنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ میں نے پڑھا کہ رسول اللہ ﷺ صبح کو اپنے گھر والوں سے دریافت کرتے تھے کہ کچھ کھانے کو ہے؟ جب بتایا جاتا تھا کہ کچھ نہیں ہے تو روزہ کی نیت کرلیتے تھے اور دن کا سامنا اس طرح کرتا تھے کہ گویا کچھ ہوا نہیں۔ خندہ پیشانی کے ساتھ وفدوں سے ملتے تھے، مسائل پر غوروخوض اور فیصلے کرتے تھے اور بغیر شک و شبہ کے اپنے پروردگار کی طرف سے رزق رسانی کا پورے بھروسے سے انتظار کرتے تھے کہ گویا زبان حال سے فرماتے تھے:

فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً۔ (والضحیٰ)

پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ میں نے سوچا کہ اگر مجھے ناشتے میں چائے ہی نہ ملے تو غصہ آجائے اور کچھ لکھنے پر آمادہ نہ ہوسکوں۔

یہ ایک قابل احترام نفسیاتی عظمت ہے کہ انسان مکمل ہوش، اور خندہ پیشانی کے ساتھ اچھے برے حالات کا سامنا کرلے۔ اگر چاہیں تو افراد بھی ایسا کرسکتے ہیں اور گروپ بھی۔

میرے خیال میں شروع کی اسلامی فتوحات میں اس کا نمایاں کردار تھا کہ اہل ایمان خواہشات نفس کے آگے بے بس نہیں تھے اور نہ ہی ایسی چیزوں کے عادی تھے جن کے بغیر ان کے کام پر اثر پڑے۔ ایک آدمی چند کھجوریں جیب میں ڈال لیتااور میدان کی طرف چل پڑتا تھا جبکہ فارس و روم کے فوجیوں کے ساتھ کھانے پینے کی چیزوں کے بڑے بڑے ذخیرے چلا کرتے تھے۔ برطانیہ عظمیٰ کے خلاف گاندھی جی نے یہی ہتھیاراستعمال کیا۔ برطانوی پیداوار کا انحصار صارفین پر تھا۔ گاندھی جی نے اپنی قوم کو تربیت دی کہ وہ مانچسٹر کے بنے ہوئے کپڑوں کے بجائے دیسی کھردرے کپڑے استعمال کریں اور حکومت اجارہ داری برقرار رکھتی ہے تو نمک بھی چھوڑ دیں اور ان کی موٹر گاڑیوں کے بجائے پیدل چلا کریں۔ خود گاندھی جی ایک گلاس دودھ پی کر شہر شہر اور گاؤں گاؤں کا دورہ کرتے رہے۔ عوام کی زبردست اکثریت نے ان کی آواز پر لبیک کہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انگریزوں کے کارخانے بند ہونے لگے اور ہزاروں انگریز مزدور بے روزگاری کا شکار ہوگئے۔ برطانوی حکومت کو مجبور ہوکر گاندھی کو مذاکرات کے لیے لندن بلانا پڑا۔ عربی شاعر سلیم خوزی نے اس موقع پر سیاست دانوں کے کھلواڑ سے آگاہی دیتے ہوئے اپنی مشہور نظم کہی کہ ایک ہندوستانی نے روزہ رکھا تو پوری ایک مملکت کو بھوک سے دوچار کردیا اور بے روزگاروں کی فوج نے مانچسٹر میں زلزلہ پیدا کردیا۔ بلاشبہ جو انسان اپنی خواہشات نفس پر قابو پالے وہ زبردست طاقت ور ہوجاتا ہے اور جو قوم ایسا کرلے اس کا تو کہنا ہی کیا۔ جامع ازہر کے ایک سابق سربراہ شیخ محمد خضر حسین کو جب شاہ مصر کی طرف سے قیدوبند کی دھمکی ملی تو انھوں نے یہی جواب دیا مجھ جیسے آدمی کو دھمکایا نہیں جاسکتا جو ایک کپ دودھ پر بیس گھنٹے گزارسکتا ہو۔ اس سے پہلے شیخ عبدالمجید سلیم کو جب حکمرانوں کے غضب سے ڈرایا گیا تو انھوں نے کہا کہ کیا مجھ پر اپنے گھر سے مسجد تک آنے جانے پر پابندی لگادی جائے گی؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں تب انھوں نے کہا پھر کیا خطرہ ہے پھر تو ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ یہ عظمت کے ذرائع میں سے ہے کہ انسان دنیا میں اپنی ضرورتیں محدود کرلے۔ یہی طریق کار حضرت علیؓنے بتایا تھا۔ ’’جس کو تم پسند کرتے ہو اس سے بے نیاز ہوجاؤ تو اس جیسے ہوجاؤ گے اور جس کو چاہتے ہو اس کے ضرورت مند رہو تو اس کے غلام بن جاؤ گے۔ جو بہتر ڈھنگ سے روزے رکھتا ہو وہی ایسا کرسکتا ہے۔‘‘

جاحظ نے اپنی کتاب میں ابو عثمان نوری کی اپنے بیٹے کو نصیحت نقل کی ہے : ’’جو تمہارے قریب ہے اسی میں سے کھاؤ اور یہ جان لو کہ اگر کھانے میں کوئی بہتر لقمہ یا اچھی چیز ہے تو وہ قابل تعظیم بوڑھے شخص کے لیے یا دلارے بچے کے لیے ہے اور تم دونوں میں سے کوئی نہیں۔ بیٹے، نفس کو خواہشات کے خلاف جدوجہد کا عادی بناؤ، جانوروں کی طرح نہ کھاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں انسان بنایا ہے جان لو کہ زیادہ سیر ہونا بیماری کی طرف لے جاتا ہے اور بیماری موت تک۔ اور جو اس طرح مرے گا وہ کمینہ کی موت مرے گا کیونکہ وہ خود اپنی جان کا قاتل ہے اور خود اپنی جان کا قاتل غیر کے قاتل سے زیادہ کمینہ ہوتا ہے۔ بیٹے! کسی پیٹ بھرے شخص نے کبھی رکوع و سجود کا حق ادا نہیں کیا، نہ کسی بڑے پیٹ والے کو خدا کی خشیت ملی۔ روزہ صحت دینے والی چیز ہے۔ میرے بیٹے! میں نوے سال کی عمر کو پہنچ گیا۔ میرا نہ کوئی دانت ٹوٹا نہ سماعت و بصارت میں فرق آیا نہ کوئی اور جسمانی نقص پیدا ہوا اور یہ سب کچھ کم کھانے کی وجہ سے ہوا۔ اگر تم زندگی چاہتے ہو، تو اس کا راستہ یہ ہے اور اگر موت چاہتے ہو تو اس کا راستہ وہ ہے۔ ‘‘

یہ اس آدمی کی نصیحت ہے جو موجودہ دور کے لوگوں کی طرح جسم کی پرستش جانتا ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’انہیں چھوڑ دو کھائیں پئیں، مزے کریں اور بھلاوے میں ڈالے رکھے انہیںجھوٹی امید۔ عنقریب انھیں معلوم ہوجائے گا۔ ‘‘ ’’اور کفر کرنے والے بس دنیا کی چند روزہ زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں اور جانور کی طرح کھا پی رہے ہیں او ران کا آخری ٹھکانا جہنم ہے۔‘‘

وقتاً فوقتاً بحران پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ خشک سالی، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات وغیرہ، تب لوگوں کو مجبوراً بھوکے رہنا پڑتا ہے، تب ان کی دلوں میں تنگی و غصہ بھرا رہتا ہے۔ روزہ اس سے بالکل بالاتر چیز ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کے لیے کھانے پینے کی اشیاء کی موجودگی کے ساتھ اپنے آپ کو محروم رکھنا ہے اور اپنی خواہشات کو ٹالنا ہے جس کا بدلہ وہ دشوار دن میں پائے گا۔ ’’وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور پھر جو کچھ اس روز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔‘‘

رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ’’جس نے ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ روزہ رکھااس کے پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔‘‘ گویا اجر طلب کرنے میں جلدی نہیں ہے یہ اللہ تعالیٰ کے پاس جمع رہے گا۔ ایسے مسلمان بھی مل سکتے ہیں جو رمضان کی حرمت اور روزے کی حکمت جانتے ہی نہ ہوں وہ قیامت میں کون سا اجر پائیں گے۔ روزہ آج کی زندگی کی لہر کے خلاف ہے کیوں کہ آج کے غالب مادی نظریات صرف زمین، جسم اور دنیا سے واقف ہیں آسمان روح اور آخرت سے نہیں۔ وہ جو چاہیں کریں لیکن ہمیں تو اپنے پروردگار کو پہچاننا ہے، اس کے راستے پر چلنا ہے اس کے لیے روزہ رکھنا ہے اور اس کے پاس اپنا اجر جمع کرنا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
علامہ محمد غزالیؒ

تبصرہ کیجیے