BOOST

منیم جی

ایک تھے منیم جی جو وزیر پور کے رہنے والے تھے۔ و ہ رتن سنگھ ساہوکار کے یہاں کام کرتے تھے۔ رتن سنگھ منیم جی کی ایمانداری اور محنت سے بہت متاثر تھا۔ منیم جی صبح کو جلدی آتے اور شام کو دیر تک کاموں میں لگے رہتے۔ اسی طرح ان کی زندگی کا بڑاحصہ گذر گیا۔ دھیرے دھیرے ان کے کئی بچے بھی ہوگئے۔ تنخواہ پہلے ہی اتنی کم تھی کہ اپنا خرچ چلانا مشکل تھا۔ اب بچوں کی لکھائی پڑھائی کے خرچ کی فکر منیم جی کو کھائے جارہی تھی۔ وہ ہر روز سوچتے آج رتن سنگھ سے تنخواہ بڑھانے کو کہوں گا۔ مگر ان کی خودداری آڑے آجاتی اور وہ دل ہی دل میں گھٹتے رہتے۔

ایک دن منیم جی کی بیوی انجلی نے کہا آپ ساہو کار سے تنخواہ بڑھانے کو کیو ںنہیں کہتے؟ اب تو ہمارے کئی بچے بھی ہوگئے ہیں۔ اور آج نہیں تو کل اپنی بیٹی آشا بھی جوان ہوجائے گی۔ اس کی شادی بھی کرنی ہوگی۔ مگر آپ کی تنخواہ چوبیس سال پہلے تھی وہی آج بھی ہے۔ دیکھتے ہیں چیزوں کی قیمتیں کتنی بڑھ گئی ہیں۔ منیم جی نے بیوی کو تسلی دی آج میں ساہوکار سے تنخواہ بڑھانے کو ضرور کہوں گا۔ وہاں پہنچ کر وہ روز کی طرح کاموں میں لگ گئے۔ اور اسی طرح شام ہوگئی۔ راستے میں انھیں یاد آیا کہ ساہوکار سے تو تنخواہ بڑھانے کی کوئی بات کی ہی نہیں۔ انجلی پوچھے گی تو کیا کہوں گا۔ پھر اچانک وہ خوش خوش گھر کی طرف تیزی سے قدم بڑھانے لگے جیسے انھوں نے کوئی فیصلہ کرلیا ہے۔ انجلی سے کہہ دیں گے کہ ساہوکار سے بات کی ہے وہ جلد ہی تنخواہ بڑھا دے گا۔ ساتھ ساتھ وہ یہ بھی سوچ رہے تھے کہ یہ تو جھوٹ ہوگا۔ جھوٹ بولنے سے کیا فائدہ۔ تبھی ان کے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی۔ ان کا دل کہہ رہا تھا کل بات کرلینا آج جھوٹ بول دینا اور ضمیر کہہ رہا تھا کہ جھوٹ سے کیا فائدہ۔ اسی کشمکش میں وہ گھر پہنچ گئے۔

انجلی کھانا لے کر آگئی، منیم جی تھکے ہوئے بھی تھی اوربھوکے بھی۔ انھوں نے ہاتھ منھ دھو کر کھانا کھایا۔ اور سونے چلے گئے۔ مگر منیم جی کو نیند نہیں آئی۔ وہ کروٹیں بدلنے لگے، وہ سونے کی کوشش کررہے تھے مگر نیند ان سے کوسوں دور تھی۔ اور وہ خیالوں کے تانے بانے میں الجھے ہوئے تھے۔ انجلی نے انھیں دیکھا تو وہ ان کی پریشانی سمجھ گئی۔ بچوں کے سونے کے بعد وہ منیم جی کے پاس آئی اور بولی کیا طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ سر دباؤں اگر سر میں درد ہو۔ اب منیم جی نے سچ بات بتادینا ہی ضروری سمجھا۔ انھوں نے کہا۔ انجلی تم جانتی ہو کہ میں خوددار آدمی ہوں، میں ساہوکار سے تنخواہ بڑھانے کی ہمت نہیں کرپا رہا ہوں۔ اور وہ میری تنخواہ بڑھانے کا نام نہیں لیتا۔ اب تم ہی بتاؤ میں کیا کروں؟ وہ یہ کہہ کر انجلی کو غور سے دیکھنے لگے۔ انجلی تھوڑی دیر سوچتی رہی پھر بولی۔ میں نے تھوڑے تھوڑے کرکے دوسو روپے جمع کیے ہیں۔ منیم جی نے حیرت سے معلوم کیا – کیا دو سو روپے؟ دو سو روپے تو منیم جی کی دو مہینے کی تنخواہ سے ملتے۔ انجلی نے بہت سکون کے ساتھ کہا : ہاں۔ اب میں سوچتی ہوں کہ آپ ان روپیوں میں سے پچاس روپے کا تو گھر کا سامان لاکر دے دیں۔ اور باقی ڈیڑھ سو روپے سے گھر کی بیٹھک میں محلہ والوں کی ضرورت کی چیزیں لاکر رکھ لیں اور اپنے ساہوکار سے ایک مہینے کی چھٹی لے لیں۔ اگر سامان بکنے لگا اور کام چل نکلا تو پھر آپ اس کی نوکری چھوڑ دیں۔

منیم جی کو انجلی کی یہ ترکیب بہت پسند آئی۔ اگلے دن ہی انھوں نے ساہوکار کو ایک مہینے کی چھٹی کی درخواست دے دی۔ پہلے تو ساہو کار نے درخواست کو غور سے دیکھا پھر منیم کی سے پوچھا اتنی لمبی چھٹی کا کیا کرو گے؟ منیم جی کے کہنے پر کہ کام ہی کچھ ایسا ہے جس میں ایک مہینے کی چھٹی ہی ضروری ہے ،پھر منیم جی ہفتہ میں ایک چھٹی کے علاوہ کوئی چھٹی لیتے بھی نہ تھے۔ اس لیے ساہوکار نے ایک مہینے کی چھٹی کی رضا مندی یہ کہتے ہوئے ظاہر کی کہ اگر کام پہلے ہی نبٹ جائے تو آجانا۔

منیم جی گھر آتے وقت اپنی ایک ماہ کی تنخواہ جو آج ہی پورا ہوا تھا ساتھ لیتے آئے۔ اگلے ہی دن انھوں نے بازار سے روز مرہ کام آ نے والی چیزیں خریدیں اور اپنی بیٹھک میں چھوٹی سی دوکان کھول لی۔ محلہ کے لوگ تو منیم جی کو جانتے ہی تھے دھیرے دھیرے محلے کے لوگوں نے منیم کی کی دوکان سے سامان خریدنا شروع کردیا۔ اس سے محلہ والوں کو بھی فائدہ تھا، انھیں سامان بازار بھاؤ میں ہی ملتا۔ اس طرح وہ بازار جانے کی پریشانی سے بچ گئے تھے۔ ادھر منیم جی کو ایک مہینے میں تین سو روپے کا فائدہ ہوا۔ اب تو وہ اور ان کی بیوی بہت خوش تھے۔ کہاں سو روپے کی نوکری اور کہاں تین سو روپے۔ پھر اس میں کوئی خاص پابندی بھی نہیں تھی۔ دوکان صبح و شام کھلتی دوپہر میں بند رہتی۔ اسی طرح منیم جی کو بچوں کے ساتھ کھانا کھانے اور آرام کرنے کا موقع بھی مل جاتا اور وہ گھر رہ کر بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف بھی توجہ دینے لگے۔

اسی طرح ایک مہینہ بیت گیا۔ مگر منیم جی ساہوکار کے گھر نہیں گئے۔ دوکان کے کاموں سے بھی وقت نہ مل سکا کہ وہ چھٹی کو بڑھانے کی درخواست دیتے۔ منیم جی کے نہ ہونے کی وجہ سے ساہوکار کا بہت زیادہ کام خراب ہونے لگا۔ اس کے حسابات بھی ٹھیک نہیں رہ پائے۔ منیم جی کو جب ڈیڑھ مہینہ ہوگیا تب ایک دن ساہوکار نے سوچا کے منیم کے گھر جاکر دیکھا جائے۔ وہ کیا کررہا ہے؟ اس کی تو تنخواہ بھی اتنی زیادہ نہ تھی کہ وہ اتنے دن گھر رک سکتا، ضرور کوئی بات ہے۔

اگلی صبح ساہوکار منیم جی کے گھر آیا۔ منیم جی اپنی دوکان پر بیٹھے تھے۔ گاہکوں کی بھیڑ لگی تھی۔ رتن سنگھ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ جب گاہک کچھ کم ہوئے تو منیم جی نے رتن سنگھ کو دیکھا۔ انھوں نے کھڑے ہوکر رتن سنگھ کو سلام کیا۔ رتن سنگھ نے پوچھا کیسے ہیں؟ منیم جی نے کہا بس آپ کی دعا ہے۔ رتن سنگھ نے کہا مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے کاروبارکیا مگر مجھے بتایا ہوتا۔ میں منع نہیں کرتا بلکہ خوشی سے اجازت بھی دیتا اور کچھ رقم بھی۔ کیونکہ آپ نے ہمارے یہاں بہت دنوں کام کیا ہے۔ ااپ کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔ خیر آپ نے نہیں بتایا کوئی بات نہیں۔ میں آپ کو ایک مشورہ دیتا ہوں۔ اگر اس پر عمل کیا جائے تو بہت فائدہ ہوگا۔ منیم نے معلوم کیا۔ کیا مشورہ ہے مالک؟ رتن سنگھ نے منیم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ ہمارے یہاں آج کل گائے، بھینس بیل اور بکریاں بہت زیادہ ہوگئی ہیں۔ برسات میں ان کے کھانے کے لیے بھوسا ملنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اگر تم بھوسے کا کام کرو تو اس میں اس دوکان سے زیادہ فائدہ ہوگا۔

منیم نے کہا مالک میرے پاس اتنے پیسے تو ہیں نہیں کہ میں بھوسے کا کام کرسکوں۔ ساہوکار منیم کو غور سے دیکھتے ہوئے بولا۔ بھئی آپ ہمارے منیم ہیں کیا ہم آپ کے لیے اتنا بھی نہیں کرسکتے۔ میں چار بیل گاڑی بھوسا بھجوادوں گا۔ اور آپ کے سامنے جو میدان ہے اسی میں بھوسے کو بارش سے بچانے کے لیے چھپر بھی بنوادوں گا۔ اس سب کام میں پانچ سو روپے ہی خرچ ہوں گے۔ دس پندرہ دن بعد ہی سے بارس کا موسم شروع ہونے والا ہے۔ بس بھوسا بیچ کر تھوڑی تھوڑی رقم مجھے واپس کرتے رہنا۔ یہ کہہ کر رتن سنگھ چلا گیا۔

دو تین دنوں میں بھوسا آگیا۔ رتن سنگھ کے نوکروں نے اس پر چھپر بھی بنادیا۔ جیسے ہی بارش کا موسم شروع ہوا تو بھوسا مہنگا ہوگیا۔ پھر تھوڑے ہی دنوں میں شہر بھر میں بھوسے کی کمی محسوس ہونے لگی۔ جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ منیم کے پاس بھوسا ہے تو لوگ منیم جی کے پاس آنے لگے۔ منیم نے بھوسا بیچنا شروع کردیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پندرہ گاڑی بھوسا ختم ہوگیا۔ منیم جی ساہوکار کے پاس پہنچے کہ بھوساختم ہوگیا ہے۔ رتن سنگھ نے پھر سے بھوسا منگوادیا۔ منیم نے دو ہفتوں میں تین سو پچاس روپے کما لیے۔ اب اس نے سوچا کیوں نہ رتن سنگھ کی کچھ رقم واپس کردی جائے۔ وہ تین سو روپے رتن سنگھ کو دے آئے اور بولے آپ کا بہت بہت شکریہ۔ آپ کے مشورہ سے مجھے بہت فائدہ ہوا ہے۔ باقی رقم بھی اسی مہینے کے آخر تک ادا کردوں گا۔

منیم جی کی پوری توجہ بھوسے کے کاروبار کی طرف لگی ہوئی تھی اس لیے ان کی بیٹھک کی دوکان میں سامان کم ہوگیا۔ گاہکوں کی ضرورت پوری نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کی دوکانداری خراب ہوگئی۔ ایک آدھ بار انجلی نے کہا بھی کہ بھوسے کا کام تو صرف برسات کا ہے۔ اور اس دوکان کا کام ہمیشہ کا اس لیے آپ دوکان کی طرف بھی توجہ دیں۔ مگر منیم نے انجلی کی باتیں یہ کہہ کر سنی ان سنی کردیں کہ برسات کے بعد دوکان میں زیادہ سامان لاکر رکھ دیں گے۔ دوکان کو تو بعد میں بھی بڑھایا جاسکتا ہے۔ مگر یہ موقع چند ہی دنوںکا ہے۔ انجلی یہ باتیں سن کر خاموش ہوگئی۔

کئی دن سے بارش رک گئی تھی، بھوسے کی کچھ گاڑیاں گاؤں سے آ نے کی وجہ سے شہر میں بھوسے کی قیمت کم ہوگئی۔ منیم کا پورا چھپر بھوسے بھرا ہوا تھا۔ رتن سنگھ نے اپنے ایک نوکر کو بلایا ا ور کہا۔ دیکھو آج رات کو منیم کے بھوسے میں آگ لگاآنا۔ آگ اس طرح لگانا کہ ذرا سا بھی بھوسا نہ بچ سکے۔

رات میں منیم اور اس کے بچے اپنے مکان میں سوئے ہوئے تھے کہ اچانک محلہ میں شور ہوا۔ بھوسے میں آگ لگ گئی ۔ دوڑو ، بھاگو، آگ بجھاؤ جب تک پانی آیا اور لوگ دوڑے اس وقت تک سوکھا چھپر اور سوکھا بھوسا جل کر راکھ ہوگیا۔ اب تو منیم اپنا سر پکڑ کر رہ گیا۔ اس کی دوکان بھی ختم ہوچکی تھی اور رتن سنگھ کے دو سو روپے بھی باقی تھے۔ وہ چکرانے لگا۔

صبح کو منیم روتا، بلبلاتا رتن سنگھ کے پاس پہنچا۔ اس نے رتن سنگھ سے رات کا سارا واقعہ کہہ سنایا۔ رتن سنگھ نے منیم سے کہا۔ اس میں پریشان ہونے کی کیا بات ہے۔ بھئی بھوسا جل گیا تو جلنے دو، تمہاراساہوکار تو زندہ ہے۔ تمہارے لیے میرے دل میں بہت ہمدردی ہے۔ ویسے اب مجھے منیم کی ضرورت نہیں ہے۔ میرا بڑا بیٹا تمام حسابات دیکھ لیتا ہے۔ مگر کیونکہ تم ہمارے پرانے منیم ہو اس پریشانی میں ہم تمہیں کیسے دیکھ سکتے ہیں۔ کل سے پرانی تنخواہ پر ہی نوکری پر آجاؤ۔ تھوڑی تھوڑی رقم تنخواہ میں سے کاٹتے رہنا۔ منیم رتن سنگھ کا شکریہ ادا کرکے کل آنے کا وعدہ کرکے چلا گیا۔

شیئر کیجیے
Default image
مظفر حسین غزالی