4

کرن آرزو کی (۲)

ان کا ذہن نوکیلی سوچوںکی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ شادی نہ کرنے کا فیصلہ کوئی آسان فیصلہ نہ تھا۔ ایک پاکباز اور اخلاقی حدود کے پابند نوجوان کو نہ صرف اپنے نفس سے جنگ لڑنی تھی بلکہ ازدواجی زندگی کی دوسری بہت سی خوشیوں اور راحتوں کو بھی خیر باد کہنا تھا اور ساری عمر تنہائی کی کال کوٹھری میں گزارنی تھی مگر پھر وہ اور کر بھی کیا سکتے تھے ان کے سامنے اور کوئی راستہ نہ تھا۔ چاروں طرف گھور اندھیرا تھا اور اماں بی کی آواز شڑاپ شڑاپ کوڑوں کی طرح برس رہی تھی:

’’تم نے کیو ںنہ انکار کردیا۔ تم تو مرد تھے سب جانتے بوجھتے تھے۔ تم نے مجھ سے کس جنم کا بدلہ لیا۔ میری قسمت کیوں پھوڑی۔ جیتے جی اس دہکتی آگ میں کیوں جھونکا۔ میں تمہیں کبھی معاف نہ کروں گی۔ قیامت تک۔‘‘

اُف خدایا میں پاگل ہوجاؤں گا۔ اماں بی کو کیا ضرورت تھی یہ ذکر چھیڑنے کی۔ کیا میرے صبر کا امتحان لینا چاہ رہی تھیں کہ میں ابا میاں کے نقشِ قدم پر چلتا ہوں یا ہوشمندی سے کام لیتا ہوں مگر وہ تو میری ماں ہیں، سرتا پا شفقت و محبت۔ اُن کی آنکھوں پر مامتا کی پٹی چڑھی ہوئی ہے۔ مگر پھر آخر یہی پٹی میری دادی مرحومہ کی آنکھوں پر بھی چڑھی ہوگی۔ وہ غریب آج تک اماں بی کی لعن طعن کا ہدف بنی ہوئی ہیں۔ ایک ماں اور بیوی کی سوچ میں بڑا فرق ہوتا ہے۔

وہ اسی طرح سوچوں میں گم بے مقصد سڑکوں پر گھومتے رہے ’’چلو بھئی ابا میاں کے دوست کو بھی دیکھ آتے ہیں وہ بے چارے کب مجھے کسی کام کو کہتے ہیں۔ ان کا کہا ٹالنا نہیں چاہیے۔‘‘ اور یوں وہ طوعاً وکرہاً سمن آباد کی طرف مڑ گئے اور تھوڑی ہی دیر میں ان کے چھوٹے سے صاف ستھرے گھر کے سامنے پہنچ گئے۔ گاڑی بند کرکے لکڑی کا سبز گیٹ کھولا اور برآمدے میںپہنچ کر گھنٹی بجائی۔ دوچار بار بجانے کے بعد کسی کے ہولے ہولے قدموں کی چاپ سنائی دی دروازے کے پیچھے سے کسی نے پوچھا: ’’کون صاحب ہیں؟‘‘ آواز ایسی تھی جیسے دور کہیں جلترنگ بج اٹھے۔

’’میں ڈاکٹر وقاص ہوں۔ مجھے الیاس صاحب نے بھیجا ہے۔ میں غضنفر صاحب کو دیکھنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔‘‘

’’میں دروازہ کھولتی ہوں۔ آپ سیدھے اندر آجائیے، گیلری کے اختتام پر دائیں ہاتھ کا دروازہ دادا جان کے کمرے میں کھلتا ہے معاف کیجیے گا اس وقت گھر میں کوئی نہیں ہے جو آپ کا … میرا مطلب ہے… اچھا میں دروازہ کھولتی ہوں۔‘‘

دھیمی دھیمی سی گنگناتی ہوئی آواز یوں تھی جیسے پھولوں میں ہوا سرسرا رہی ہو۔ بلکہ ہولے ہولے کراہ رہی ہو۔ دروازے کی چٹخنی گرادی گئی۔ وہ چند منٹ باہر کھڑے رہے پھر اپنا بیگ اٹھا کر اندر داخل ہوگئے اور سیدھے غضنفر صاحب کے کمرے میں چلے گئے۔ صاف ستھرا اور روشن کمرہ تھا۔ گہرے نیلے پردے کھڑکیوں پر سے ہٹے ہوئے تھے۔ جنوری کی دھوپ اندر آرہی تھی۔ ان کے سرہانے میز پر گلدان میں نرگس کے پھول آنکھیں کھولے جیسے کسی کے منتظر تھے۔ غضنفر صاحب دبلے پتلے سفید بگلا سے بالوں اور نوکیلی داڑھی کے ساتھ کوئی روسی دانشور لگ رہے تھے۔ آنکھوں پر عینک تھی اور سر پر اونی ٹوپی۔ وہ تکیوں پر ٹیک لگائے کسی کتاب کے مطالعے میں غرق تھے۔ وقاص کودیکھ کر کھل اٹھے۔

’’اچھا تو میاں وقاص یہ آپ ہیں۔ ماشاء اللہ، ماشاء اللہ بخدا میں تو آپ کو پہچان ہی نہیں پایا۔ آپ تو بڑی معتبر سی شخصیت بن گئے ہیں۔ میں خوامخواہ ہی مرعوب ہوا جارہا ہوں۔ پہلے تو بڑے دبلے پتلے، شرمیلے اور کم گوسے ہوا کرتے تھے۔‘‘

’’زیادہ بولنے کا تو مجھے اب بھی کوئی شوق نہیں۔ رہی آپ کے مرعوب ہونے کی بات تو آپ مجھے شرمندہ کررہے ہیں۔ آپ میرے بزرگ ہیں اور میں آپ کا تابعدار بہت ہی ناچیز اور معمولی سا انسان ہوں۔‘‘

’’یہ تو تمہاری سعادت مندی ہے بیٹا جو خود کو ایسا سمجھتے ہو۔ الیاس خوش قسمت ہے کہ اسے اللہ نے تم جیسا فرزند دیا ہے۔ میں تمہاری قابلیت اور شہرت سے بخوبی واقف ہوں۔ الیاس جتنی دیر بیٹھتا ہے تمہارے ہی قصے سناتا رہتا ہے۔‘‘

وقاص کے لیے یہ انکشاف تھا ورنہ وہ تو اپنے والد کو بہت خشک مزاج اور ریزرو قسم کا انسان سمجھتے تھے۔ ایسا شخص جو اپنی ہستی اور اپنی کتابوں میں گم اور اپنے بچوں کے وجود سے بے خبر ہو۔

’’باپ جو ہوئے، ہر باپ کو اپنا بچہ ارسطو اور افلاطون ہی نظر آتا ہے۔‘‘ وقاص مسکرا کر بولے۔

’’اور جو سچ مچ ارسطو اور افلاطون کے کان کاٹے وہ کیا نظر آئے گا۔‘‘

وقاص نے موضوع بدلا۔

’’فرمائیے آپ کو کیا تکلیف ہے۔ بظاہر تو آپ ٹھیک ٹھاک نظر آرہے ہیں۔‘‘

’’اس وقت تو میاں وہی عالم ہے:

ان کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پر رونق

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

وقاص ہنس پڑے۔

’’مجھے علم نہیں تھا کہ صرف میری صورت دیکھ کر ہی مریضوں کی صحت بحال ہونے لگتی ہے۔‘‘

غضنفر صاحب بڑے بے تکلف اور باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے۔ ارد وادب کے پروفیسر رہ چکے تھے۔ علی گڑھ کے پڑھے ہوئے تھے۔ ان کے علمی ادبی شگفتہ اور لچھے دار باتوں میں وقاص ایسے گم ہوئے کہ اپنی ساری پریشانی بھول گئے۔

’’ارے یار میں تو واقعی سٹھیا گیا ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ سچ مچ بڑھاپے کے آثار شروع ہوگئے ہیں۔ نہ تمہیں کچھ کھلایا نہ پلایا۔ پہلی بار آئے ہو غریب خانے پر اور سب سے بڑی بات یہ کہ جس مقصد کے لیے آئے ہو وہ بھی بھول گیا۔‘‘

’’واقعی وقت گزرنے کا کچھ پتہ ہی نہ چلا۔ لائیے ! جلدی سے آپ کا معائنہ کرلوں۔ آپ کی رپورٹس، ایکسرے اور نسخے وغیرہ کہاں ہیں۔ کھلانے پلانے کی فکر نہ کریں پھر کبھی سہی۔‘‘

وہ سامنے والی الماری میں تمھیں سب چیزیں مل جائیںگی۔ زحمت تو ہوگی۔‘‘

وقاص الماری میں سے مطلوبہ چیزیں نکالنے لگے۔

’’عائشہ بیٹی!‘‘ غضنفر صاحب نے آواز دی۔

’’جی دادا ابّا‘‘ دروازے کے پاس سے ہی کوئی گنگنایا۔

’’بیٹے یہ اپنے ڈاکٹر صاحب آئے ہیں، انہیں چائے کافی کچھ تو بلاؤ۔‘‘

’’اب تو دادا ابا کھانے کا وقت بھی جارہا ہے معلوم ہے کیا بجا ہے۔ تین بجنے والے ہیں۔ اگر ڈاکٹر صاحب کو ہمارے غریبانہ کھانے پر اعتراض نہ ہو تو پیش کروں۔‘‘

’’سن لیا بیٹا میں بھی کتنا بدھو ہوں۔ کھانے کے وقت تمہیں خالی چائے پر ٹرخا رہا تھا۔ اب اگر تمہیں بقول عائشہ کے ہمارے غریبانہ کھانے پر اعتراض نہ ہوتو منگوایا جائے۔‘‘

’’شرمندہ نہ کیجیے چچا جان، میں کھانا گھر جاکر کھاؤں گا۔ والدہ انتظار کررہی ہوں گی۔ میں چند منٹوں میں رخصت ہوتا ہوں۔‘‘

’’ٹھیک ہے بیٹا! اگر تم ہمیں غیر سمجھتے ہو تو میں مجبور نہیں کرتا۔ میں تو تمہیں ہمدم دیرینہ کا لختِ جگر سمجھتا ہوں اور اب تو خیر سے مسیحا کا رول بھی ادا کرنے والے ہو، بہر حال میں کیا کہہ سکتا ہوں اپنے اپنے دل کی بات ہے۔‘‘

’’ارے قبلہ آپ تو ناراض ہوگئے۔ اچھا صاحب کھلائیے اپنا غریبانہ کھانا۔ میں نے کبھی اس قسم کا کھانا نہیں کھایا۔ ذرا معلوم تو ہو کہ غریبانہ کھانا کیسا ہوتا ہے۔‘‘

غضنفر صاحب کا چہرہ خوشی سے جگمگا اٹھا۔ چند لمحوں بعد ہی دروازے پر دستک ہوئی۔

’’میں ٹرے باہر رکھ دیتی ہوں آپ اٹھا لیجیے گا۔‘‘

وقاص نے نسخوں اور رپورٹس کی فائل ایک طرف رکھی اور ٹرے اٹھا کر میز پر رکھ دی۔

’’چیزیں نکال کر میز پر رکھ دیجیے اور ٹرے مجھے واپس کردیجیے۔‘‘

’’بیٹی ہم ٹھہرے مرد۔ ہمیں دسترخوان لگانے اور سجانے کے آداب نہیں آتے۔ تم ہدایات دیتی رہو ہم عمل کرتے رہیں گے۔‘‘ غضنفر صاحب نے خوش دلی سے کہا۔

وقاص نے ٹرے باہر کی۔ ایک نازک سے ہاتھ نے آگے بڑھ کر تھام لی۔ پتلی پتلی ترشی ہوئی صندلی انگلیوں پر آٹا لگا ہوا تھا۔

’’بیٹا معاف کرنا تم مہمان ہو اور ہم تم سے یوں بے تکلفی سے خدمت لے رہے ہیں۔‘‘

’’بن بلایا مہمان بھلا کیا کہلاتا ہے۔‘‘

’’خدا کرے ایسے بلائے جان کبھی جان نہ چھوڑیں اور جم جم آئیں۔‘‘

دروازے پر پھر دستک ہوئی ’’یہ ٹرے اٹھالیجیے۔‘‘

’’ماشاء اللہ یہ غریبانہ کھانا تو آتا ہی چلا جارہا ہے۔‘‘

مٹر پلاؤ، مرغی کا سالن، قیمہ آلو، اچار، چٹنیاں اور دہی کا رائیتہ تھا ایک رومال میں چپاتیاں لپٹی ہوئی تھیں۔

’’اتنی ساری چیزیں۔ یہ تو سچ مچ کی دعوت ہوگئی۔ کمال ہے اتنی سی دیر میں اتنی ساری چیزیں تیار ہوگئیں۔‘‘

’’سادہ سا کھانا ہے میاں۔ عاشی خود چاولوں کی شوقین ہے لہٰذا وہ تو پکتے ہی ہیں۔ مرغی مجھے مریض سمجھ کر روز پکائی جاتی ہے۔ بس ایک قیمہ ہی تو ہے جو شاید رات کے لیے بنا ہوگا اور کیا ہے۔‘‘

وقاص نے غضنفر صاحب کے ہاتھ دھلائے اور کھانے بیٹھ گئے۔ کھانا بے حد لذیذ تھا۔ شاید اس لیے کہ وقاص کو بہت بھوک لگی ہوئی تھی یا پھر شاید اس لیے کہ اس میں ان نازک انگلیوں کی حلاوت شامل ہوگئی تھی۔ جو بھی تھا انھوں نے معمول سے زیادہ کھانا کھایا تھا۔

’’اصل میں میں اورعاشی دونوں دنیا میں بالکل اکیلے ہیں۔ میرا ایک ہی بیٹا تھا، اس کے دو بچے تھے۔ عاشی اور اس کا چھوٹا بھائی۔ کافی عرصہ ہوا بیٹا بہو اور پوتا کار کے حادثے میں ختم ہوگئے۔ عاشی بچ گئی کہ ہمارے پاس آئی ہوئی تھی، اس وقت محض چار سال کی تھی۔ یہ نہ ہوتی تو نہ جانے ہم کیسے اس جاں گسل صدمے کو برداشت کرتے۔ اس ننھی سی جان نے ہمیں جینے کا حوصلہ دیا اس کی دادی زیادہ دیر نہ جی سکی۔ ان کے بعد یہ ذمہ داری میرے ناتواں کندھوں پر آن پڑی اور میں بھی ایسی شمع ہوں جو گل ہونے کے قریب ہے:

اول شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی

رات کو آخر ہوتے ہوتے ختم ہوا افسانہ بھی

ان کو افسردہ دیکھ کر وقاص بھی مغموم سا ہوگیا اور بات بدلنے کو بولا۔

’’کھانا واقعی بے حد لذیذ تھا۔‘‘

’’عاشی کی مرحومہ دادی بہت سلیقہ مند خاتون تھیں۔ ان کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا جو بھی کھاتا تھا انگلیاں چاٹتا رہ جاتا تھا۔ میرے احباب خاص فرمائش کرکے میرے ہاں دعوت کھاتے تھے۔ انھوں نے عاشی کو بچپن ہی میں کھانا پکانا، سینا پرونا وغیرہ سکھا دیا تھا۔‘‘

بڑے میاں کے دماغ پر تو عاشی ہی چھائی ہوئی ہے اس کے ذکر کے سوا انہیں او رکچھ پسند نہیں۔ وقاص نے قدرے کوفت سے سوچا۔

’’چچا جان میں نے اچھی طرح آپ کی کیس ہسٹری دیکھ لی ہے۔ یہ تو طے ہے کہ آپ کا آپریشن ہوگا اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ اگر آپ کی خواہش ہوئی تو میں آپریشن کردوں گا۔ ورنہ کئی اچھے سرجن ہیں جنہیں میں جانتا ہوں۔ اللہ نے چاہا تو کچھ دنوں میں تندرست ہوجائیں گے۔‘‘

غضنفر صاحب نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ عاشی نے ایک ٹرے اندر دھکیل دی جس میں کنواور فروٹ کسٹرڈ تھا۔

’’بیٹا اگر آپریشن ہی کا فیصلہ ہے تو پھر بھلا تم سے اچھا کون ہوگا اور تمہارے ہوتے ہوئے مجھے کسی اور کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘

’’تو بس ٹھیک ہے میں سارا انتظام کرنے کے بعد آپ کو ایڈمٹ کرلوں گا۔ چند روز ٹسٹوں میں لگیں گے پھر آپریشن ہوگا اور پندرہ بیس روز کے بعد آپ اپنے پیروں پر چل کر گھر آجائیں گے۔ بس اتنی سی بات ہے۔‘‘

’’اور تو کوئی بات نہیں بس مجھے عاشی کی فکر ہے۔ اتنے دن وہ گھر میں تنہا کیسے رہے گی۔ جب سے میں زیادہ بیمار ہوا ہوں میں نے اسے کالج تک نہیں جانے دیا۔ میں اسے خود جاکر چھوڑآتا تھا اور خود ہی جاکر لاتا تھا۔ میں اسے گھر میں اکیلا کیسے چھوڑ سکتا ہوں کیا آپریشن کے بغیر علاج نہیں ہوسکتا۔‘‘

پھر وہی عاشی، وقاص نے جھلاّ کر سوچا۔ ’’نہیں چچا جان پتّے کا علاج صرف آپریشن ہے۔ اگر یہ پھٹ گیا تو پھر سب کچھ دھرا رہ جائے گا۔ آخر آپ کے کوئی دور نزدیک کے رشتہ دار تو ہوں گے یا ان میں سے کوئی آکر چند روز رہ سکتا ہے۔ ایسی کیا بات ہے۔‘‘

’’اگر کوئی سچا مخلص رشتہ دار ہوتا تو پھر بات ہی کیا تھی۔ عاشی کی ایک خالہ ہیں انھوں نے بیٹے کا پیغام دیا تھا۔ میرے انکار کے بعد انھوں نے قطع تعلقی کرلی۔ ماموؤں نے بھی بہن کا ساتھ دیا اور ملنا جلنا موقوف کردیا۔ جوان لڑکوں والے گھر ہیں۔ بچی کو بھیجنا پسند نہیں کرتا تھا اس لیے اکثر عزیزوں نے یہ سمجھا کہ شاید میں بڑا بد دماغ اور متکبر ہوں یا پھر انہیں شریف نہیں سمجھتا۔ اس وجہ سے تعلقات میں ایک کھچاؤ سا پیدا ہوگیا ہے۔ ایسی ہی اور بہت سی باتیں ہیں جو میں تمہیں سنا کربور نہیں کرنا چاہتا۔ خدا تمہیں خوش رکھے۔ اپنا قیمتی وقت مجھ ناکارہ بڈھے پر ضائع کیا۔ دیکھو، سوچوں گا۔ پھر جو فیصلہ کیا تمہیں اس سے مطلع کردوں گا۔‘‘

’’وقاص رخصت ہوکر باہر نکلے کہ اسی غمگین سی سریلی آواز نے اُن کے قدم تھام لیے۔‘‘

’’ڈاکٹر صاحب ایک ذرا آپ کو زحمت تو ہوگی مگر میری دو باتیں سنتے جائیے۔‘‘

’’فرمائیے، وقاص حیرت زدہ سے رہ گئے۔ کیا کہنا چاہتی ہیں آپ؟‘‘

’’ڈاکٹر صاحب! آپ میرے دادا جان کی باتوں کا کچھ اثر نہ لیجیے گا۔ ان کی صحت اور زندگی زیادہ قیمتی اور ضروری ہے۔ وہ مجھے اب تک چھوٹی سی بچی سمجھتے ہیں۔ میں اپنی حفاظت اپنی دیکھ بھال خود کرسکتی ہوں۔ اکیلے پن سے میں نہیں گھبراتی۔ اتنے دن مائی میرے پاس رہ لے گی۔ خود سوچئے وہ میری چند روز کی تنہائی سے گھبراتے ہیں اور اگر خدانخواستہ انہیں کچھ ہوگیا تو؟‘‘ ایک ہلکی سی سسکی کی آواز آئی جیسے کانچ کا نازک برتن ٹوٹا ہو۔ وہ خاموش کھڑے تھے۔

’’اب جائیے آپ یہ سب ہماری درد سری ہے۔ آپ کا کام علاج کرنا ہے۔ آپ للّٰلہ اس میں کوتاہی نہ کیجیے گا اور دادا جان کی کوئی بات اس بارے میں نہ سنئے گا۔‘‘

وقاص جواب دئے بغیر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے گیٹ سے باہر آگئے۔ گھر پہنچتے پہنچتے پانچ بج گئے تھے۔ اماں بی سارے گھر میں بولائی بولائی پھر رہی تھیں۔ ’’پتہ نہیں کہاں رہ گیا۔ میری بات بری لگ گئی شاید، اب کیا ہوگا۔‘‘ انہیں واپس آتا دیکھ کر ان کی اڑی ہوئی رنگت بھی واپس آئی۔

’’کہاں رہ گئے تھے بیٹا؟ میرا تو جی دہلا جارہا تھا۔ آج کل سڑکیں ذرا بھی تو محفوظ نہیں۔ اللہ اپنے حبیب کے صدقے میں تمہاری ساری بلائیں دور رکھے۔ اتوار کے دن تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ تم نے ہمارے ساتھ کھانا نہ کھایا ہو۔‘‘

’’میں غضنفر صاحب کو دیکھنے گیا تھا۔ انہی نے اصرار کرکے کھانا کھلادیا۔‘‘

’’ان کی پوتی دیکھی بڑی پیاری اور سگھڑ بچی ہے۔ اتی سی عمر میں سارا گھر سنبھالا ہوا ہے۔‘‘

’’میں لڑکی دیکھنے تو نہیں گیا تھا۔‘‘

’’آپ دیکھ بھی نہیں سکتے تھے۔ وہ بڑا سخت پردہ کرتی ہے۔ فرشتوں نے بھی شاید پوری صحت نہ دیکھی ہو۔‘‘ فریدہ ہنس کر بولی۔

’’ویسے ہی بڑی معصوم اور بھولی بھالی سی۔ کالج گرل تو لگتی نہیں۔ نہ میک اپ نہ فیشن نہ نت نئے لباس۔ پرانے زمانے کی روح ہے اس میں تو شاید۔‘‘ راشدہ نے بھی اپنی رائے ظاہر کی۔

’’اسے ان مصنوعی سہاروں کی ضرورت بھی نہیں ہے۔‘‘ فریدہ نے کہا۔

’’صورت کی جتنی اچھی ہے نصیبوں کی اتنی کھوٹی۔ نہ ماں نہ باپ، نہ بہن نہ بھائی۔ ایک بوڑھے دادا کا دم ہے۔ ان کا بھی نہ جانے کب تک کا ساتھ ہے۔‘‘ اماں بی نے ٹھنڈا سانس بھرا۔

’’نصیب صورتیں دیکھ کر نہیں بنائے جاتے اماں بی‘‘ فریدہ نے افسردگی سے کہا۔

’’اس لڑکی کا قصہ ختم ہوگا یا نہیں‘‘ وقاص کندھے جھٹک کر کھڑے ہوگئے۔ انہیں اس ساری گفتگو سے سخت کوفت ہورہی تھی نہ جانے کیوں۔ ’’میں ذرا ابا میاں کو ساری سچویشن بتا آؤں۔ ‘‘ اونہہ مجھے کیا کسی کی صورت یا نصیبوں سے۔ میری بلا سے۔ انھوں نے تلخی سے سوچا۔ مگر اس کی آواز کی نغمگی کیوں ان کے اندر رس سا گھول رہی تھی کیوں ان کا پیچھا کررہی تھی۔ ان کے آس پاس سرسرا رہی تھی۔ کان میں گنگنارہی تھی۔ اُف خدایا کیا مصیبت ہے۔ انھوں نے جھلا کر سوچا اور ابا میاں کے کمرے میں داخل ہوگئے اور سارا معاملہ ان کے گوش گزار کردیا۔

’’تو بس تم آپریشن کی تیاری کرو۔ جب علاج یہی ہے تو پھر مجبوری ہے دیر مناسب نہیں۔ عاشی تو میری بچیوں کی طرح ہے۔ میں اسے اپنے ہاں لے آؤں گا۔ امید ہے غضنفر کو کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ میں اسے کسی نہ کسی طرح منالوں گا بیٹا تم اپنا کام کرو۔‘‘

(جاری)

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ یاسمین نجمی