BOOST

سوال ریزرویشن کا

پارلیمنٹ میں خواتین کے ریزرویشن کے لیے نو سالوں سے تحریک چل رہی ہے۔اس بار بھی ریزرویشن بل ایوان میں داخلہ پانے سے محروم رہا۔لیکن اس بار اہم تبدیلی یہ ہوئی ہے کہ علاقائی جماعتوں نے اس بل پر کچھ لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔اگرچہ تجویز کے مسودے پر اتفاق نہیں ہو سکا لیکن اصولی طور پر سبھی جماعتیں متفق ہو گئی ہیں۔ اس لیے مانا جا رہا ہے کہ خواتین کے لیے ریزرویشن کی منزل اب بہت دور نہیں ہے۔

ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے باوجود خواتین کو پارلیمنٹ میں نشستیں دینے میں کافی پیچھے رہ گیا ہے۔اقوام متحدہ کے سروے کے مطابق دنیا کے 186ممالک کی پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی پر ہندوستان 134 وں مقام پر ہے۔جب کہ پڑوسی ملک پاکستان ہندوستان سے بہت آگے 40یں مقام پر ہے۔پاکستانی پارلیمان کے کل نمائندوں میں خواتین کا فیصد 21.3 جب کہ خانہ جنگی اور بھک مری کا شکار ملک روانڈا میں ایوان کی 48فیصد نشستوں پر خواتین کا قبضہ ہے۔

ہندوستان میں پارلیمنٹ میں کل 556 نشستیں ہیں۔ان میں سے 22 فیصد سیٹیں درج فہرست اور پسماندہ طبقات وغیرہ کے لیے پہلے سے ہی مختص ہیں۔پچھلے دس سالوں سے خواتین تنظیمیںخواتین کے لئیے ایک تہائی ریزرویشن کے لیے تحریک چلا رہی ہیں۔تمام سیاسی پارٹیاں ان سے وعدے کر رہی ہیں۔ اگرخواتین کو 33فیصد ریزرویشن دے دیا جائے تو پارلیمنٹ کی 55فیصد سے زائد سیٹیں ریزرویشن کوٹے میں چلی جائیں گی۔دستور ہند کے مطابق ریزرویشن زیادہ سے زیادہ 55فیصد دیا جا سکتا ہے۔ہندوستانی سیاست پر نظر رکھنے والوں نے دیکھا کہ پچھلے چند ہفتوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن پر وزیر اعظم اور انکی کانگریس پارٹی نے اتفاق رائے بنانے کا ڈرامہ کھیلا۔کہا گیا کہ اصولی طور پر اتفاق ہو گیا ہے۔لیکن سیٹوں کی تحدید پر بات چیت ناکام ہو گئی۔خواتین کے لئے ریزرویشن کے مسئلے پر مختلف پارٹیوں کا موقف الگ الگ ہے۔

کانگریس

سونیا گاندھی کی قیادت میں ہونے کی وجہ سے ریزرویشن کے مطالبے پر خواتین تنظیموں کی امیدوں کا مرکز ہے۔پارٹی چاہتی ہے کہ خواتین کو 33فیصد ریزرویشن دیا جائے۔اور اس ریزرویشن کے اندر کوئی اور ریزرویشن نہیں ہوگا۔

بی جے پی

بی جے پی نے اپنے دور اقتدار میں ریزرویشن بل کی تجویز رکھی تھی۔اب بی جے پی کا رول کانگریس نے لے لیا ہے۔اس لیے بی جے پی ریزرویشن کی کانگریسی تجویز کی مخالفت کر رہی ہے۔اب بی جے پی چاہتی ہے کہ سبھی پارٹیاں اپنے طور پر انتخابات میں 33فیصد خواتین کو امیدوار بنانے کا فیصلہ کریں۔

آر جے ڈی

لالو یادو کو پسماندہ خواتین اور مسلم خواتین کی فکر ہے۔اس لیے وہ بھی اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں۔لیکن اگر اس بل کے اندر تبدیلی کرکے مسلم اور پسماندہ خواتین کے لیے بھی ریزرویشن طے کردیاجائے تولالویادواس بل کی حمایت کریں گے۔ورنہ وہ صرف10سے15فیصد ہی ریزرویشن کی حمایت کریں گے۔

ایس پی

ملائم سنگھ یادو کا کہنا ہے کہ موجودہ بل مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کے لیے سازش ہے۔جب تک مسلمانوں اور پسماندہ طبقے کی خواتین کے لیے بات نہیں ہوگی وہ اس بل کی کبھی حمایت نہیں کریں گے۔ویسے ملائم سنگھ یادہ خواتین کو فراخ دلی سے امید وار بناتے ہیں۔

کمیونسٹ جماعتیں

بائیں بازو کی سبھی جماعتوں نے اعلان کر دیا ہے کہ جس تجویز پر بھی اتفاق رائے ہو جائے گا اس کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

حالانکہ ابھی تک کسی تجویز پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے لیکن الیکشن کمیشن نے بھی اپنی طرف سے یہ تجویزپیش کی ہے کہ پارلیمنٹ نشستوں میں ریزرویشن دینے کی بجائے سبھی سیاسی جماعتیں اپنی پارٹی میں ٹکٹ کی تقسیم میں ریزرویشن دیں۔اس طرح سے ممکن ہیں کہ خواتین کو کہیں زیادہ نمائندگی ملے۔اور اس سے انہیں مساوی طور پر سیاسی جدو جہد سے گذرنا پڑے گا۔ بی جے پی نے اپنے پرانے موقف سے ہٹ کر فوراًب اس تجویز کا دامن تھام لیا ہے۔اور سبھی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کی تجویز پر متفق ہو جائیں۔لیکن اصل مسئلہ تو یہی ہے کہ کوئی پارٹی اپنی طرف سے 33فیصد ٹکٹ عورتوں کو دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔اگر سیاسی جماعتیںیہی کر رہی ہوتیں تو پارلیمنٹ کے نقشے میں خواتین کی نمائندگی واضح طور پر دیکھی جا سکتی تھی۔

مسلمان کہاں جائیں؟

اس وقت پارلیمنٹ میں صرف دو مسلم خواتین ہی ہیں۔ایک بہرائچ کی محترمہ رباب سعید اور دوسری جمو ںو کشمیر کے وزیر اعلی کی بیٹی محبوبہ مفتی ہیں۔جب کہ کل مسلم ممبران پارلیمنٹ 28ہیں۔اگر مسلمانوں کی آبادی کا خیال کیا جائے تو یہ تعداد 80سے زیادہ ہونی چاہیے۔اس لیے مسلم ممبران پارلیمنٹ کا ایک وفد گذشتہ دنوں صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم سے ملا۔وفد نے کہا کہ اس ریزرویشن کے بعد ایوان میں مسلمانوں کی نمائندگی مزید متاثر ہوگی۔اس لیے اس بل کو موجودہ شکل میں نہیں آنا چاہیے۔ویسے بھی سیاست میں مسلم خواتین کافی پیچھے ہیں۔اس بل کے پاس ہونے سے مسلم خواتین کے لیے اگرچہ کچھ امکانات پیدا ہونگے۔ لیکن وہ اسی وقت جب مسلم خواتین سیاسی سرگرمیوں میں آنے کے لیے’’ بڑی قیمتیں ‘‘ادا کر سکیں۔ اس بل سے مسلمانوں کے لیے دو طرفہ مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔اول تو مسلم سیاست ابھی ٹھیک سے ایام طفلی سے بھی نہیں نکلی ہے۔مسلمانوں کی سیاسی جماعت تو دور کی بات غیر تنظیمی طور پر بھی مسلم سیاستداں پارٹی نوازی سے باہر نہیں نکلتے۔17فیصد کی سب سے بڑی اقلیت سیاسی اعتبار سے بے اثر اقلیت ہے۔ایسے میں مسلم خواتین کے لئیے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا قدم کانٹوں کا سفر ہوگا۔

اصل بحث غائب ہے!

ایسا نہیں کہ پارلیمنٹ میں خواتین کا پہونچ جانا اس بات کی علامت ہے کہ اس ملک میں خواتین اور دوسرے قومی مسائل بڑی آسانی سے حل ہونے لگیں گے۔اصل بحث سماجی اور سیاسی قدروں کی ہے۔ہم اور ہمارا سماج جیسی کچھ قدروں کا ماننے والا ہو گا اس سے ملک کی خواتین بھی متاثر ضرور ہوں گی۔اس لیے اس خوش فہمی میں رہنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے کہ ریزرویشن ہر طرح کے مسائل کا حل ہے۔مثال کے طور پر جنوبی ایشیا میں خالدہ ضیاء ‘شیخ حسینہ واجد‘اندرا گاندھی‘ بے نظیر بھٹو‘ اور چندریکا کمار تنگے جیسی اہم خواتین ماضی میں حکومت کے اعلی ترین مناصب سے وابستہ رہ چکی ہیں۔ اور ان میں تین خواتین آج بھی وزیر اعظم صدر اپوزیشن لیڈر کے طور پر اپنے ملک میں سرگرم ہیں ۔اپنے ملک میں موجود خواتین میں سونیا گاندھی آٹھ سالوں سے سرگرم سیاست میں ہیں۔لیکن اس کے باوجود اس خطے میں خواتین کے حالات امریکہ اور برطانیہ کی خواتین کے مقابلہ میں کافی خراب ہیں۔یہ تجزیہ صرف سماجی اور سیاسی صورتحال کا ہے جو ریزرویشن کا واحد مقصد ہے۔خواتین کو مختلف قسم کی مراعات دی جا رہی ہیں۔ لیکن معاملہ یہ ہے کہ آج ایک عورت کے لیے آبرو بچانے کا مسئلہ سب سے اہم ہے۔خواتین کے خلاف جرائم میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔یہ ہمارے معاشرے کی تیزی سے بگڑتی ہوئی تصویر ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری حکومتوں، سیاسی اداروں اور خواتین تنظیموں کی ساری دوڑ بھاگ چند اختیارات کے لیے سمٹ کر رہ گئی ہے۔جب بات بے حیائی بدکاری‘ عریانیت‘ شراب نوشی اور بیہودہ کلچر کی آتی ہے توسب کی زبانیں بند ہو جاتی ہیں۔شخصی آزادی کے نام پر ہر طرح کے جسمانی استحصال کو روا رکھا جاتا ہے۔بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ حکومت کی خواہش جرائم اور فحاشیت کو روکنے کی نہیں ہے۔صرف انہیں قانونی دائرے میں شامل کرنے کی ہے۔گاؤں کا آدمی دیسی شراب پیے تو مجرم ہے لیکن ہوٹلوں اور بار میں شراب پی جائے تو یہ قانون کی پابندی ہے۔ جسم فروشی کھلے عام نہ کی جائے لیکن اگر اس میں باہمی رضامندی ہو تو فوراً ہماری عدالتیں اسے جائز قرار دے دیتی ہیں۔جرائم کو اداروں کے تحت انجام دیا جائے۔تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔اسلام کا سیاسی نظریہ یہیں آکر جدید نظریوں سے ٹکراتا ہے۔

ریزرویشن ہو یا نہ ہو، مسلم عورتوں کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اہل ملک کو یہ باور کرائیں کہ خواتین کی اصل ضرورتیں کیا ہیں۔ اس کے اصل مسائل کیا ہیں۔جرائم سے پاکیزہ معاشرے کا قیام کیسے ممکن ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک عورت صنعاء سے مدینے کا سفر اونٹ پر سوار ہو کر تنہا کرے گی۔راستے میں اسے اللہ اور بھیڑیئے کے سوا کسی اور کا خوف نہ ہوگا۔ایسے پر امن معاشرے کا فارمولہ صرف مسلمانوں کے پاس ہے۔لیکن مسلمان مرد اورخواتین ملک کے اہم مذاکروں اور مباحثوں سے دور بہت دور کھڑے ہیں۔ان بحثوں میں کہیں بھی یہ نہیں سنائی دیا کہ اسلامی نقطہ نظر کیا ہو سکتا ہے۔ملک کے مفاد میں نہیں تو کم سے کم ملی مفاد میں کچھ آوازیں تو اٹھائی جاسکتی ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
عمیر انس

تبصرہ کیجیے