6

روزہ سچائی کی تربیت ہے

اَلصَّابِرِیْنَ وَالصَّادِقِیْنَ وَالْقَانِتِیْنَ وَالْمُنْفِقِیْنَ وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالأَسْحَارَ۔ (آل عمران:۱۷)

’’ یہ لوگ صبرکرنے والے ہیں، راستباز ہیں، فرمانبردار اور فیاض ہیں اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگا کرتے ہیں۔‘‘

یہ وہ چند صفات ہیں جو سورۃ آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفات کے طور پر بیان فرمائی ہیں اور اس آیت کا سیاق و سباق بتاتا ہے کہ دنیا کی مرغوبات کے مقابلے میں آخرت کے انعامات بہتر ہیں اور وہ اہل ایمان کے لیے ہیں۔

ان ساری خصوصیات میں یہاں سب سے پہلے جس صفت کا ذکر ہوا ہے وہ صبر ہے اور اس کے بعد ’’الصادقین‘‘ کہہ کر سچائی اور راستبازی کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ یہ دونوں صفات مومن کی زندگی کی بنیاد ہیں اور اس کے بعد تقویٰ اور رضائے الٰہی کا جو جذبہ پیدا ہوتا ہے وہ انہی بنیادی صفات پر ترقی پاتا ہے۔ ایمان کا راستہ تو حقیقتاً صبر کی طاقت کے بغیر طے ہی نہیں کیا جاسکتا۔ نبیؐ کے ارشاد کے مطابق ’’صبر روشنی ہے۔‘‘ اور یہی روشنی حق کے راستے کو روشن بھی کرتی ہے اور صابرین کے لیے توانائی اور مقابلہ کی طاقت بھی فراہم کرتی ہے۔

جب ہم اس بات پر غور کرتے ہیں کہ اسلام سچائی کا نام ہے اور حق کا یہ راستہ جس صداقت شعاری کا مطالبہ کرتا ہے تو کیا اہل ایمان میں سچائی کی اس کیفیت کو پیدا کرنے کے لیے اسلام نے کوئی عملی تربیت کا طریقہ کار بھی تجویز کیا ہے؟ اس سوال کا جواب اسلام کے نظام عبادت میں ’’روزے‘‘ کی صورت میں ہمارے سامنے آتا ہے۔

روزہ کے اس تربیتی پروگرام پر ذرا سا غور کرنے سے جوصورت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ روزہ ایک ایسی بندگی ہے جس میں آدمی اپنی رو ز مرہ کی بنیادی ضرورتوں کو چھوڑ کر اور اپنے جسم و جان کے ان سارے تقاضوں سے منھ موڑ کر جو عام دنوں میں اس کے لیے بالکل جائز ہیں، اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ اس نے جس نظام زندگی کو اختیار کیا ہے وہ بھی سچا ہے اور یہ کہ اپنی پوری زندگی کو حق و صداقت اور نیکی کے راستہ پر چلنے کے لیے اللہ تعالیٰ اسے جو بھی احکامات دے گا وہ ان پر عمل کرے گا۔جب تک انسان کے اندر اللہ کی رضا کے حصول کا جذبہ پیدا نہ ہوجائے اس آدمی کے لیے یہ بات نا ممکن ہے کہ وہ محض اپنی زبان سے کہے ہوئے کسی قول کے لیے اتنا ایثار کرسکے کہ اپنے جسم و جان کے تقاضوں سے منھ موڑ لے اور اپنی فطری خواہشات پر خود ہی پابندیاں لگالے۔ مگر روزہ کے ذریعہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کو واقعی رضائے الٰہی چاہیے۔

ظاہر بات ہے کہ جسم میں طلب غذا کا سارا نظام اپنی فطری اعتبار سے اتنا خود کار اور شدید نوعیت کا ہے کہ بغیر مضبوط ایمان کے آدمی کے بس میں نہیں ہے کہ وہ ایک ایسی حالت میں کہ جب اسے کوئی دیکھ نہ رہا ہو اور کسی بھی قسم کی کوئی ظاہری قوتِ محاسبہ کہیں موجود ہی نہ ہو ایسی حالت میں بھی اپنی بھوک اور اپنی پیاس کی تشنگی کو برداشت کرتا رہے۔ چنانچہ ہم اپنے معاشرے میں دیکھتے ہیں کہ کتنے ہی ہٹے کٹے اور تندرست مرد وخواتین روزے کی بھوک پیاس کو برداشت کرنے سے معذرت ظاہر کرتے ہیں، جبکہ وہیں بہت سے چھوٹے بچے اور کمزور ضعیف مرد و خواتین روزہ کی حالت میں سخت موسم میں بھی بھوک پیاس کی اس شدت کو برداشت کرتے ہیں۔ کیا اللہ کی رضا کے علاوہ بھی کوئی اور بات ہوسکتی ہے جو انہیں اس بات کے لیے آمادہ کرے۔

جس طرح ایک روزہ دار اپنے عمل سے اپنے دین کی سچائی کا اظہار کرتا ہے اس طرح خود روزہ دار آدمی کی صداقت کا ثبوت فراہم کردیتا ہے کیونکہ روزہ کا عمل اور روزہ دار حقیقتاً دونوں ہی سچائی کے مظہر ہیں۔ ایک اپنی آزمائشی خصوصیت کے اعتبار سے اور دوسرا اپنی رضاکارانہ اطاعت کے لحاظ سے۔

جس طرح کوئی شخص کسی جھوٹ بات یا غلط تصور کے لیے کوئی بڑی قربانی نہیں دے سکتا اسی طرح یہ بات بھی تو کسی جھوٹے آدمی کے بس کی نہیں ہے کہ وہ کسی سچائی کے لیے کوئی بہت بڑا عملی ایثار کرسکے۔ اور خاص طور پر اپنی ان بنیادی ضرورتوں سے بھی دست کش ہوجائے جنھیں پورا کرنے کے لیے ہر آدمی فطرت کے ہاتھوں اتنا مجبور ہے کہ اگر اچھی اور خوش ذائقہ غذا میسر نہ آرہی ہو تو پیٹ بھرنے کے لیے اور بھوک کی شدت کو کم کرنے کے لیے بعض اوقات ایسی چیزیں بھی کھا جاتا ہے جن کا عام حالات میں تصور بھی نہیں کیاجاسکتا۔

لہٰذا اس نقطۂ نظر سے روزے کے دائرہ کار میں اطاعت الٰہی کا جو جذبہ کارفرما ہے وہ دوہرے عمل کا آئینہ دار ہے۔ ایک طرف روزہ دین اسلام کی سچائی کا مظہر ہے۔ اوردوسری طرف یہ روزے دار کی راست بازی کا عملی گواہ اور اس کے جذبہ ایمانی کی صداقت کا نشان بھی ہے۔

پھر روزے کی اس عبادت کی تشکیل و تکمیل کے سلسلے میں حضور اکرم ﷺ نے جو ہدایات ارشاد فرمائی ہیں ان میں بطور خاص اس بات کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ روزے کی عبادت کو پورے شعور کے ساتھ ادا کیا جائے۔

اسلام نے روزہ کو اپنے تربیتی نظام میں اہم درجہ دیا ہے اور حقیقت میں روزہ مومن اور غیر مومن کے درمیان حدِ فاصل ہے۔ اور ایسا اس لیے کہ روزہ کی بنیاد اخلاص اور نیک نیتی اور سچائی ہے۔ اسی قدرومنزلت کے سبب یہ بات ہمارے سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روزہ کے اجر کو محدود نہیں کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ’’روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں اس کا جتنا اور جس قدر چاہوں گا اجر دوں گا۔‘‘ اور اس اجر کی بنیاد صرف اور صرف اخلاص اور نیت کی پاکیزگی ہوگی۔

دوسری طرف اس بات سے بھی آگاہ کیا گیا ہے کہ ’’جو لوگ روزہ کی حالت میں فسق و فجور اور برائیوں سے نہیں بچے تو انہیں بھوک پیاس کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔‘‘

جو لوگ واقعی رمضان کے بابرکت مہینے کا استقبال کرنا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ ابھی سے اپنے آپ کو اللہ کی رضا کے حصول اور برائیوں سے بچنے کے لیے آمادہ کریں تاکہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ روحانی فیض حاصل کرسکیں۔

شیئر کیجیے
Default image
عافیہ ادیب

تبصرہ کیجیے