3

رمضان المبارک

رمضان کا چاند نظر آنے کے ساتھ ہی اس مبارک مہینہ کا آغاز ہوتا ہے اور ہر طرف ایک عجیب قسم کی بیداری، ذوق و شوق اور اللہ کے احکامات پر عمل کا ایک نیا جذبہ نظر آتا ہے۔ عبادت، تسبیح اور تلاوت قرآن کی بہار سی آجاتی ہے۔

ماہِ صیام میں گناہوں سے اجتناب، نفس پر قابو اور خواہشات پر پابندی کی مشق کرائی جاتی ہے۔ یہ عمل مسلسل ایک ماہ تک جاری رہتا ہے۔ اور توقع یہ کی جاتی ہے کہ اس سے تقویٰ پیدا ہوجائے۔ تمام انبیائے کرام کے دور میں یہ روزوں کا سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ حضرت آدمؑ سے لے کر آج تک جتنی بھی امتیں گذری ہیں سب نے اس پر عمل کیا ہے۔ اور محسنِ انسانیت نبی اکرمؐ کے تشریف لانے کے بعد یہ روزے اپنے آخری شکل میں قیامت تک کے لیے جاری و ساری ہوگئے۔ قرآن کے مطابق:

یٰٓا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔

’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے کہ تم سے پہلے کے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہوسکے۔‘‘

روزے رکھنے کی غرض و غایت یہ ہے کہ ہمارے اندر تقویٰ پیدا ہو، نفس پر قابو ہو، ہماری خواہشات اللہ کی مرضی کے تابع ہوجائیں۔ اس کی خوشنودی ہمارا مقصد ہو، اس کی ناراضگی ہمیں خوف زدہ کردے، ہم اس کے احکامات پر سرِ تسلیم خم کردیں۔ ہمارا جینا، مرنا، قربانی سبھی کچھ اس مالک کے لیے ہو جس کی رحمت اور سرپرستی میں ہماری زندگیاں قائم ہیں۔

ماہِ رمضان کی سال بہ سال آمد اس بات کی تیاری کے لیے ہے کہ ہم مکمل طور پر اس کے سپاہی اور غلام بن جائیں۔ اس کا خوف اور ڈر ہمیں ہر برائی سے روک دے اور پورے ماہ یہ ٹریننگ کورس کرنے کے بعد ہم مخلص بندے اور مجاہدِ اسلام بن جائیں اور احکم الحاکمین کی ہر پکار پر لبیک کہیں۔ اس ماہ کے روح پرور ایام ہمیں ضابطۂ اسلامی سکھلاتے ہیں۔وقت کی متعین حدود میں رہ کر محض اللہ کی رضا کی خاطر متعینہ وقت کے لیے جائز خواہشات سے رکنا، حلال و طیب چیزوں کے کھانے پینے سے بچنا، عبادت کا خاص اہتمام، سحرو افطار – یہ سبھی کچھ ہمیں درس دیتے ہیں، کسی خاص مقصد کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور ان تمام ظاہر داریوں کی پابندیوں کے ساتھ حقیقتِ صیام کا شعور پیدا کرتے ہیں۔ کاش کہ ہم سمجھتے۔

یہی وہ ماہِ مقدس ہے جس کی ایک رات کو خیرمن الف شہر فرمایا گیا ہے۔ جس میں تمام انسانوں کے لیے سرچشمۂ ہدایت کی تنزیل کی گئی۔ مسائل کی گتھیاں سلجھائی گئیں اور رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لیے ان کے خالق کی طرف سے ضابطۂ حیات عطا کیا گیا۔ یہ کتاب انسانوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے والی اور سب سے سیدھے اور بہترین راستے کی طرف رہنمائی کرنے والی ہے۔

اس لیے یہ ضروری ہوجاتاہے کہ ہم اس ماہ میں قرآن مجید سے اپنی زندگی کا مضبوط رشتہ قائم کریں، اس کے لفظ لفظ پر غور کریں، معنی و مفہوم کو سمجھیں اور اس پر عمل کا عہد کریں۔ ماہِ رمضان میں نمازِ تروایح میں ایک قرآن کا سننا سنت ہے۔ اس کا بھی اہتمام کریں اور پورے خشوع و خضوع کے ساتھ کلامِ ربانی کو سنیں اور سمجھیں۔ کیوںکہ اس سے ہماری نجاتِ اخروی وابستہ ہے اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ قرآن فرماتا ہے کہ :

… ہُدیً لِلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِنَ الْہُدَی وَالْفُرْقَانِ۔

’’… قرآن وہ کتاب ہے جو لوگوں کے لیے سراسر ہدایت اور ایسی تعلیمات پر مبنی ہے جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے۔‘‘

اس ماہِ محترم و متبرک میں خاص طور پر ہمیں تمام بے کار اور غلط باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے، جھوٹ، گالی گلوج، غیبت و بدکلامی سے دور رہنا چاہیے اور اگر کوئی جھگڑے پر آمادہ نظر آئے تو اس سے کہے کہ میں روزے سے ہوں اور جھگڑے سے بچے۔

یہ روزے اللہ تعالیٰ کی نظر میں تمام عبادتوں سے افضل ترین عبادت ہے اس لیے رسول ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ہر نیکی کا اجر دس گنے سے سو گنے تک ہے۔ لیکن روزہ اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ میرے لیے ہے، اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔ انسان اپنی شہوتِ نفس اور اپنا کھانا پینا میری ہی خاطر توبند رکھتا ہے۔‘‘

اس ماہ کی نوافل فرض کے برابر اور فرض ستر فرض کے برابر ہوجاتے ہیں۔ اس لیے ہمیں نیکیوں کی اس بہار میں اللہ کے خزانۂ رحمت سے قیمتی موتی چن لینے چاہئیں۔ اپنے نفس کو تمام بے اعتدالیوں سے بچا کر اس سنہری موقع کا بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ماہ رمضان ہمیں اللہ کی حاکمیت کا حق الیقین عطا کرتا ہے اور تقویٰ کا وہ مطلوبہ جوہر عطا کرتا ہے جو ہماری زندگی کو منور کرتا ہے۔ اس ماہ میں قواعد و ضوابط کی مسلسل تیس دن کی تربیت ہمیں مطیع و فرمانبردار بناتی ہے اور اللہ کے لیے مرمٹنے کا درس دیتی ہے۔ اس سنہری موقع پر ہمدردی اور مواساۃ کے جذبات پروان چڑھتے ہیں، بھوک اور پیاس ضرورتمندوں کی تکالیف کا احساس دلاتی ہے جس سے انفاق فی سبیل اللہ کی آمادگی پیدا ہوتی ہے۔ حضورؐ نے اسے شہر المواساۃ اور شہر الصبر بھی فرمایا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد سلیم صدیقی