گفتگو

حسان ایک خاموش طبیعت نوجوان تھا جسے باہر گھومنا پھرنا بہت زیادہ پسند نہیں تھا۔ اور اس نے کالج میں رہتے ہوئے بھی کوئی خاص دوست نہیں بنائے۔ کالج سے جب گھر آتا تواگلے دن جب تک اسے دوبارہ کالج نہیں جانا ہوتاگھر میں ہی رہتا۔

حسان اعلیٰ تعلیم حاصل کر نے کے لئے اپنی باجی کے گھر آیا ہوا تھا۔جو کہ ایک بڑے شہر میں رہتی تھی اور چند سال پہلے ہی شادی کے بعد وہاں منتقل ہوی تھی۔ عموماً نوجوان جب تعلیم کی وجہ سے اپنے آبائی وطن چھوڑ کر بڑے شہروں میں آکر ہوسٹل میں رہتے ہیں تو اکثر نوجوانوں کو شہر کی ہوا بہت جلدی لگ جاتی ہے اور انھیں اس ماحول میں بگڑتے دیر نہیں لگتی۔ لیکن حسان کے ساتھ معاملہ مختلف تھا۔ وہ منتقل ہونے پر بھی اپنے گھر میں ہی تھا، بڑی بہن سلمہ اور اسکا شوہر کامران بھی حسان کا خاص خیال رکھتے۔حسان اپنے بہنوئی ،جنہیں وہ کامران بھائی کہہ کر بلاتا تھا، سے بہت متاثر تھا۔ دونوں میاں بیوی اسکے نزدیک ایک مثالی جوڑا تھے۔ وہ ایک دوسرے کے لئے بہت خوش اخلاق تھے اور حسان کے علاوہ کوئی اور بھی انھیں دیکھتا تو انہیں ایک خوشحال جوڑا ہی کہتا اور گھر کا ماحول ہمیشہ خوشگوار ہی ہوتالیکن آج حسان کو گھر کا ماحول سرد لگ رہا تھا پتہ نہیں کیوں آج گھر کی فضا میں تناؤ تھا۔

شام میں جب سلمہ، کامران اور حسان ساتھ کھانا کھانے بیٹھے تو حسان نے دستر خوان پر بھنڈی کی سبزی دیکھ کر کہا ’’کیا بات ہے؟ بھینڈی سستی ہوگئی ہے کیا؟‘‘ اتنا سننا تھا کہ سلمہ کے منہ سے بے ساختہ ہنسی نکل گئی اور وہ کہنے لگی’’ آپ کے کامران بھائی کو پہلی دفعہ بازار کا کام دیا اور انھوں نے بحسن و خوبی انجام دینے کی کوشش میں دو کلو بھنڈی خرید لی۔‘‘ یہ سن کر حسان بھی ہنسنے لگا۔کامران بھی مسکرا رہا تھا لیکن یہ مسکراہٹ کھسیانی تھی، جیسے کامران کو اسطرح اسکا مذاق بنایا جانا پسند نہ آیا ہو۔ کمرہ کی خوش گوار آب و ہوا میں اچانک خنکی چھا گئی۔ سلمہ کو شاید اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا۔ وہ حسان کی طرف دیکھ کر اس طرح دانت دکھانے لگی جیسے شر مندہ ہو۔کچھ دیر تک اسی طرح خاموشی سے کھانا چلتا رہا پھر اچانک کامران اٹھ کر کہنے لگا کہ میں ٹہل کر آتا ہوں۔ حسان اور سلمہ نے ایک دوسرے کو کن انکھیوں سے دیکھا اور خاموش رہے۔

تھوڑی دیر بعد کامران عمارت کے باغ میں ٹہل رہا تھا، سلمہ موبائیل فون میں لگی ہوئی تھی اور حسان پڑھائی کرنے بیٹھ گیا۔ کافی دیر تک گھر اسی طرح خاموش رہا۔ کامران واپس آکر سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اور سلمہ نے حسان کے پاس آکر اسے فون دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ برابر کام نہیں کر رہا شاید اس میں خالی جگہ نہیں بچی دیکھو کیا مسئلہ ہے۔‘‘ حسان نے اثبات میں سر ہلا کر اس سے فون لیا اور اس میں سے غیر ضروری فائیلس مٹانے لگا۔ میسییج مٹانے کے لئے جیسے ہی ان باکس کھولا اسے سب سے پہلے میسیج کسی ’ک وکیل‘ کا دکھا۔حسان نے شروع میں تو اسے نظر انداز کرنا چاہا۔ لیکن حسان کی ضرورت سے زیادہ سوچنے کی عادت نے بہت سے خیالات اسکے ذہن سے گزرادئے۔ ان میں ایک یہ بھی تھا کہ ’’کہیں دونوں کے درمیان سچ میں کوئی ایسا مسئلہ تو پیدا نہیں ہو گیا کہ انھیں وکیل کرنے کی ضرورت پڑھ گئی!‘‘ اس سے پہلے کہ اسے یہ اندازہ ہو پاتا کہ یہ کتنا مضحکہ خیز خیال ہے ، حسان اسے کھول چکا تھا۔ جیسے جیسے وہ میسیج پڑھتے جا رہا تھا اسکے تاثرات تبدیل ہوتے چلے جارہے تھے۔میسیج کی شروعات ہونے کے وقت سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ وہ کھانے پر ہوئے واقع کے بعد کے ہیں۔گفتگو سلمہ کے میسیج سے شروع ہوئی۔

’’السلام علیکم ، کیا حال ہیں؟‘‘

’’ٹھیک ہوں۔ آپ بتائیں۔‘‘

’’موڈ آف ہے۔‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’کامران غصہ ہیں۔‘‘

’’اب کیا کردیا ؟‘‘

’’مذاق کیا تو برا مان گئے۔‘‘

حسان اتنا تو سمجھ گیا کہ یہ کوئی پیشہ ور وکیل نہیں، شاید نام وکیل ہو۔ لیکن یہ خیال آتے ہی وہ مزید تشویش میں آگیا کہ میری بہن کسی اور شخص سے اسطرح کی باتیں کیوں کر رہی ہے؟ اوراسکی زیادہ سوچنے والی عادت نے اسکی تشویش میں مبتلا کر دیا۔

’’آخر ایسا کون سا مذاق کردیا کہ وہ برا مان گیا؟‘‘

’’کچھ نہیں بس چھوٹی سی بات تھی۔ وہ تین لوگوں کے کھانے کے لئے دو کلو بھنڈی اٹھا کر لے آیا اور حسان نے دوسری مرتبہ دستر خوان پر بھنڈی دیکھ کر حیرت کا اظہارکیا تو مجھ سے ہنسی روکی نہیں گئی اور اس وجہ سے کامران کو برا لگ گیا۔‘‘

’’اتنی سی بات کا برا نہیں مان نا چاہئے۔ ‘‘

’’ہے نا؟ لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہا وہ کیوں اتنے غصہ میں آگئے۔‘‘

’’جس طرح آپ بتا رہی ہیں اس سے تو یقیناًیہ لگتا ہے کہ کامران کو غصہ نہیں ہونا چھاہئے لیکن کچھ اور بھی بات رہی ہوگی جو کامران کو تکلیف دے گئی۔‘‘

’’ ہاں مجھے لگ رہا ہے ایسا ہی کچھ ہوگا۔ اسی لئے آپکو میسیج کیا کہ شاید آپ کچھ مدد کر دیں۔‘‘

’’دیکھیں بظاہر تو یہ بات بہت معمولی لگتی ہے، لیکن ایسا ہوسکتا ہے کے کامران نے بہت جذبات میں آکر یہ کام کیا ہو۔‘‘

’’نہیں سمجھا۔‘‘

’’ جب آپنے کامران سے سبزی لانے کے لئے کہا تو کیا یہ بات اسکے لئے عام تھی؟ ‘‘

’’نہیں، بلکہ میں نے پہلی مرتبہ انھیں اس طرح کا کوئی کام بتایا تھا۔‘‘

’’تو آپ سوچیں کہ آپکو کوئی شخص ایسا کام دے جو آپ سے عام طور پر متوقع نہیں ہوتا، تو آپ کوشش کرتے ہیں کہ اس کام میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ ہے نا؟‘‘

’’جی۔‘‘

’’تو کامران کے نظریہ سے سوچیں کہ اسے اپنی بیگم سے ایک بالکل ہی غیر متوقع کام ملے اور وہ نہ صرف اسکی امیدوں پر پورا اترنے بلکہ اسے خوش کرنے کے لئے کوئی کام کرے، اس معاملہ میں دو کلو بھنڈی اٹھا کر لالے آئے اور اسکی بیگم خوش ہونے کے بجائے اسکی ہنسی اڑائے تو اسے کیسا محسوس ہونا چاہئے ؟‘‘

’’ہاں۔۔۔ ان کا تو دل ٹوٹ گیا ہوگا میرے اس طرح مذاق کرنے سے۔‘‘

’’جی وہ بھی اپنے چھوٹے بھائی کے سامنے۔‘‘

’’یقینااچھا نہیں کیا میں نے، مجھے معافی مانگنا چاہئے ‘‘

اتنا سب پڑھ کر حسان کے ہوش اڑ گئے اور اسکے ذہن میں کافی سوالات اٹھنے لگے۔ جیسے،’’آخر یہ وکیل ہے کون؟‘‘ یا ’’ یہ میری بہن سے اتنا قریب کیوں ہے کہ وہ ساری چیزیں اس سے شیئر کر رہی ہیں۔‘‘

’’ اور اسنے اتنا صحیح مشورہ کیسے دیا؟ اسے کیسے پتا کہ کامران بھائی کیا محسوس کر رہے ہیں‘‘ اور سب سے عجیب بات’’ اسے کیسے پتہ کے یہ واقعہ میرے سامنے ہوا؟ باجی نے تو اسے نہیں بتایا‘‘

حسان کا دماغ ان سب باتوں میں لگا ہوا تھا کہ اچانک پیچھے سے سلمہ کی آواز آئی، ’’فون خالی ہو گیا؟‘‘

یہ سنتے ہی حسان بری طرح ہل گیا جیسے اسنے کوئی جرم کیا ہو۔ ویسے دوسروں کے میسیج پڑھنا جرم ہی ہے ، لیکن اسکی بہن جو کر رہی ہے کیا وہ جرم نہیں؟ پیچھے پلٹ کر دیکھا تو سلمہ اسکے ٹھیک پیچھے نہ جانے کب سے کھڑی اسے میسیج پڑھتے دیکھ رہی تھی۔

’’جی۔۔۔‘‘ حسان نے تھوک نگلتے ہوئے کہا اور خاموشی سے اسے فون پکڑا دیا۔

اگلی دن ناشتہ کی میز پر سلمہ اور حسان خاموشی سے ناشتہ کرنے بیٹھے تھے، کامران تو آفس میں تھا۔ صبح سے حسان اپنی باجی سے نظریں چرا رہا تھا جیسے اس سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہو، حالانکہ ایسا سلمہ کو کرنا چاہئے لیکن حسان تھا ہی ایسا۔ در اصل وہ سلمہ کو اسکے احساس جرم کی بنا پر شرمندہ نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ ماحول میں عجیب سی خاموشی تھی۔

’’یہ وکیل کون ہے؟‘‘ آخر حسان سے رہا نہ گیا اور وہ پوچھ بیٹھا۔

’ ’آہ! آخر کار تم نے پوچھا تو صحیح۔‘‘ سلمہ جیسے انتظار میں بیٹھی تھی کہ کب حسان یہ بے چین خاموشی کو توڑے اور وہ کچھ کہے،’’ایسی فکر ہے تہیں اپنی بڑی بہن کی؟پوری رات گزر گئی اور تم اتنی دیر سے اٹھنے کے بعد اب پوچھ رہے ہو کہ کون ہے وہ انجان آدمی جسے میری پیاری بڑی بہن اسکے شوہر سے ہوئی تلخ باتوں میں شامل کرتی ہے؟‘‘ سلمہ ایک سانس میں بول پڑی۔

’’یقین مانیں دیر رات تک اسی بات نے مجھے جگائے رکھااور اسی وجہ سے اتنی نیند تھی کہ میں فجر پڑھ کر دوبارہ سوگیا اور جلدی اٹھ نہیں پایا جسکی وجہ سے میری صبح کی کلاس بھی چھوٹ گئی۔‘‘ حسان نے بھی اپنے جذبات بیان کر ڈالے۔

’’تمہیں پتہ ہے نا تمہارے کامران بھائی کتنے دین دار ہیں اور دین کا کتنا گہرا شعور رکھتے ہیں؟‘‘سلمہ نے اصل گفتگو شروع کرتے ہوئے کہا۔’’انکے نزدیک اختلاف کی سب سے بڑی وجہ غلط فہمی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایسے افراد جو قریبی ہوں اور اچانک کسی وجہ سے انکے درمیان کوئی اختلاف ہو جائے یا وہ جھگڑ بیٹھیں تو انکے درمیان اس رنجش کو ختم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ آپس میں بیٹھ کر اس مسئلہ پر گفتگو کریں لیکن اکثر دفعہ اس طرح کے معاملات کے بعد دونوں یا ان میں سے کوئی ایک اتنا خفا ہوتا ہے کہ وہ اگر چاہے بھی تو اس مسئلہ پر گفتگو کرنے کے موڈ میں نہیں ہوتا۔ تو ایسی صورت میں ایک حل یہ ہو سکتا ہے کہ کسی تیسرے فرد سے اس معاملہ پر بات کی جائے جو غیر جانبداری کے ساتھ اسکا حل تلاش کرے یا ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد کرے۔‘‘اتنا کہہ کر سلمہ تھوڑی دیر خاموش رہی اور پھر کہنے لگی:’’تمھیں پتہ ہے نا اسلام نے میاں بیوی کے رشتہ کو کتنا حساس بتایا ہے کہ اسکی حفاظت کے لئے شریعت میں کیا کیا اصول بنائے۔اور شیطان بھی اپنے چیلوں میں سے سب سے زیادہ اسی سے خوش ہوتا ہے جو کسی میاں بیوی میں جھگڑا کرواتا ہے۔‘‘

’’ہاں۔۔۔ اور اسے اعزاز سے بھی نواز تا ہے۔‘‘ حسان نے حامی بھرتے ہوئے کہا۔

’’تو سوچو میاں بیوی کے درمیان ایسے فرد کا ہونا کتنا ضروری ہے جو ان دونوں کے بیچ ہوئے اختلاف کو سمجھنے اور اسے سلجھانے میں مدد کرے۔‘‘

’’لیکن ہر چھوٹی بات کو تو کسی اور کو بتانا مناسب نہیں اور کسی انجان شخص کا تو سوال ہی نہیں۔اسے ساری باتوں کا کیا پتہ اور کیا بھروسہ کہ وہ اس ’اخلاقی حمایت‘ کا غلط فائدہ اٹھائے۔‘‘ حسان نے تفکر آمیز لہجہ میں کہا۔

’’یقین مانو، جس شخص کو میں ساری باتیں بتاتی ہوں وہ کبھی ایسا کچھ کر ہی نہیں سکتا اور اس سے بہتر ہمیں کوئی اور جان بھی نہیں سکتا۔‘‘

’’ایسا کسی شخص کے وجود کا علم مجھے نہ ہو ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘ حسان نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

’’جی عالی جناب ! آپکی اجازت لیکر وجود میں آنا چاہئے تھا اس شخص کو۔‘‘ سلمہ نے مضحکہ خیز انداز میں کہا۔

’’ بتائیں نا، کون ہے یہ وکیل ؟‘‘ حسان نے برا سا منہ بنا کر کہا۔

’’سوچو، کون ہو سکتا ہے جسے ہمارے درمیان ہونے والی ساری باتیں اور معاملات کا علم ہواور جس سے بات کرتے ہوئے میں عار محسوس نہ کروں۔‘‘

’’آپکی بتائی گئی تعریف کی رو سے یہ شخص تو کامران بھائی کہ علاوہ اور کون ہو سکتا ہے ؟‘‘ حسان نے ہنستے ہوئے کہا۔

’’ما شاء اللہ ، میرا چھوٹا بھائی تو کافی عقل مند نکلا۔ خیر۔۔۔ تمہاری بات آدھی تو صحیح ہے۔‘‘ سلمہ نے اپنی مسکراہٹ کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا۔

’’صحیح ہے؟ آدھی بات؟ میں سمجھا نہیں۔‘‘ حسان کی ہنسی حیرت میں تبدیل ہو گئی۔

’’تمہیں پتہ ہے نہ میرے کامران کتنے عقل مند ہیں اور انکی تخلیقیت کتنے نئے نئے اور جدید خیالات کو جنم دیتی ہے۔‘‘ سلمہ کی مسکراہٹ تو برقرار تھی لیکن اس میں تھوڑی سی حیا کا اضافہ ہو گیا۔

’’جی ہاں ! آپ کے کامران کا تو جواب ہی نہیں۔‘‘ حسان نے ’آپ‘ پر زور دیتے ہوئے کہا۔’’ تو کیا انھوں نے اپنا کلون بنا کر اسے وکیل نام دیا ہے؟‘‘

’’بالکل! بس فرق اتنا ہے کہ یہ کلون مجازی ہے اور اسکا حقیقی دنیا میں صرف اتنا ہی وجود ہے جتنا آپ دیکھ چکے ہیں۔‘‘

’’مطلب صرف ٹیکسٹ میسیج کی حد تک؟‘‘ حسان کی حیرت برقرار تھی۔

’’جی۔ صرف میسیج کی حد تک۔‘‘

’’مجھے بہت الجھن محسوس ہو رہی ہے۔ اب بتا بھی دیں کہ اصل معاملہ کیا ہے؟‘‘ بالآخر حسان سے رہا نہ گیا۔

’’اچھا ٹھیک ہے بتاتی ہوں۔ بات در اصل یہ ہے کہ ’ک وکیل‘ کامران ہی کا دوسرا نمبر ہے۔ اور انھوں نے اسے اسی کام کے لئے مختص کر رکھا ہے کہ جب بھی ہمارے درمیان کچھ گڑ بڑ ہو جائے اور وہ مجھ سے ناراض ہوجائیں تو میں انکے ’وکیل‘ سے رابطہ قائم کروں جو مجازی طور پر کامران نہیں بلکہ انکا حمایتی ،انکا وکیل ہوگا اور کامران کی صورت حال سمجھنے میں میری مدد کرے گااور اتنا ہی نہیں۔۔۔‘‘ سلمہ نے مزید وضاحت کر تے ہوئے کہا کہ میرا بھی ایک متبادل نمبر انکے پاس غالباً ’س وکیل ‘ کے نام سے محفوظ ہے ، کہ جب بھی میں ان سے ناراض ہوتی ہوں اور انھیں مجھے منانا ہوتا ہے تو وہ اس نمبر پر میسیج کرکے اصل ’سلمہ‘ کی صورت حال جانتے ہیں۔‘‘

’’واہ!‘‘ حسان کے زبان سے وقتی طور پر صرف یہی نکل پایا۔’’کامران بھائی کہ لئے پہلے سے میرے دل میں عزت تھی ،لیکن آج وسیع مقدار میں مزید اضافہ ہوا ہے۔‘‘ فوجیوں کی طرح سلامی دیتے ہوئے حسان نے کہا اور میز سے اٹھ کر سلمہ کو اکیلا مسکراتا چھوڑ کر کالج کی تیاری کرنے نکل گیا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
احمد جبران