2

رمضان کی منصوبہ بندی

سال میںکئی موسم آتے ہیں ، محنتی قدر شناس اور ترقی کے خواہاں لوگ ان موسموں سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔۔۔۔ ایک کسان بارش کے موسم کا منتظر رہتا ہے جیسے ہی ہلکی پھوار شروع ہوتی ہے اپنی محنت تیز کردیتا ہے ۔خود رو پودے اکھاڑنے ، خاریاں دور کرنے اور زمین کو نرم کرنے میں انتہا درجے کی چابکدستی کا مظاہرہ کرتا ہے اور برسات سے فائدہ اٹھاتا ہے ۔ محنت رنگ لاتی ہے اور کھیتی فصل لاتی ہے۔ اسی طرح ایک طالب علم کے امتحانات کا زمانہ آتا ہے تو اوقات کو منظم کرلیتا ہے، بیکار کی مشغولیات ، دوستوں یاروں میں گپ شپ کو ترک کردیتا ہے ، کھیل کود کو لپیٹ کر بالائے طاق رکھ دیتا ہے۔ قلم وکتابیں جمع کرلیتا ہے پھر صبح و شام خوب محنت کرتا ہے۔ نتیجہ ! کامیاب ہو کر نکلتا ہے۔ اسی طرح ایک تاجر ، ایک سیاست داں ، ایک سیاح اپنی اپنی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور اپنے اپنے سیزنس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔

خود اپنے حال پر غور کرلیجئے ، شوال سے جو شادیوں کا سیزن شروع تو ذی الحجہ پر جاکر رکتا ہے۔ خواتین پوری منصوبہ بندی کرتی ہیں ، الگ الگ شادی کے لئے الگ الگ ڈریس کا انتخاب ذہن میں کرلیتی ہیں ، قریبی رشتہ دار ہوں تو خریداری شروع ہوجاتی ہے ، تحفہ کا بجٹ طے ہوجاتا ہے اگر ایک ہی دن دو شادیاں ٹکر مارلیں تو انصاف کا تقاضہ پورا کرتے ہیں ، ایک رشتہ دار کے ہاں نکاح کی دعوت ، دوسرے کے ہاںولیمہ کی دعوت کھانے کا منصوبہ بنالیاجاتا ہے ۔ اسی طرح موسم گرما کی چھٹیوں کے سفر کے لئے سرما سے منصوبہ بندی اور تیاری شروع ہوجاتی ہے ۔

آئیے ! ! آج ہم ایک ایسی منصوبہ بندی پر سوچیں جس کی فصل قیمتی ، جس کا رزلٹ فتح مندی اور جس کی لذت جاویداں ہوجائے ۔

رمضان المبارک ایک عظیم مہینہ ہے ، برکتوں سعادتوں اور رحمتوں کی بارش ہونے لگتی ہے ۔ نیکیوں کی دھوم ہوتی ہے ، تلاوت و عبادت ، صدقہ و دعا کی کثرت ہوتی ہے ۔ پھر طاق راتیں آتی ہیں ، پھر آہستہ آہستہ رمضان ختم ہونے لگتا ہے۔ پھر ایک بڑی رات آتی ہے جو رمضان کے رخصت ہونے کی گھنٹی بجا دیتی ہے ۔ عید کا دن طلوع ہوا ،کپڑے اورکھانے کی خوشی میں اس درجہ منہمک کہ مہینہ بھر کا کمایا ہوا سرمایہ لٹنے لگتا ہے ، پھر ہم روحانی اور دینی لحاظ سے جہاں تھے وہیں جاکھڑے ہوتے ہیں ۔ یہ بھرنے اور خالی ہونے کا عمل زندگی میں کئی کئی بار ہم دہراتے ہیں۔ پانے کی منصوبہ بندی اور پانے کے بعد سنبھال کر رکھنے کی فکر مندی اس کے لیے ایک شعوری کوشش کی ضرورت ہے ۔ایک ڈائری اور پن لے کر کسی رات سونے سے پہلے یا حسب توفیق تہجد کے بعد بیٹھ کر رمضان کی منصوبہ بندی کیجئے یہ اوقات زندگی کی ہمہ ہمی سے فارغ اور ذہنی قوتوں کو یکجا کرنے کے بہترین اوقات ہیں ۔ اس منصوبہ بندی کا مقصد یہ ہے کہ پچھلے رمضانوں کی طرح نہیں بلکہ یہ رمضان ہمارے لئے ایک نیا موڑ ثابت ہو ، ’’زندگی میں تبدیلی برائے بہتری‘‘ آئے۔ خدا سے ہم زیادہ قریب ہوں اور انسانوں کا درد ایک مستقل درد بن جائے ۔آخر کار اختتام رمضان پر ہمارا دل گواہی دے کہ اس رمضان کا حاصل فلاں فلاں تبدیلیاں ہیں ۔منصوبہ بندی کا ایک ہلکا سا خاکہ پیش خدمت ہے ، ہر شخص اپنے حالات و ضروریات کے لحاظ سے اپنا الگ منصوبہ بنائے۔

(۱)خامیاں دور کرنا

انسان خامیوں اور کمزوریوں کو غیر شعوری طور پر پالتا ہے۔صرف خدا کی ذات کمزوریوں سے مبرا ہے۔ انبیائے کرام انسانوں میں نہایت پاک اور اعلیٰ صفات کے ہوتے ہیں ۔رہے ہم جیسے عام انسان تو انہیں اسوہء رسول کی روشنی میں بلند ہونے کے لئے اپنی ذات سے کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا۔ کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے سب سے پہلے اپنی کمزورریوں کا ادراک ہونا چاہئے۔ پھر ان کا اقرار ہونا چاہئے۔ ہم اپنی غلطیوں پر مصر ہوں تو پھر قبر ہی شاید ہماری اصلاح کرسکے مگر وہاں اصلاح کا کوئی موقع نہ ہوگا۔ کمزوریوں کے اقرار کے بعد اس کی نشاندہی ہو کہ اس رمضان کے بعد ایسی کمزوری کا صدور انشاء اللہ نہیں ہوگا ۔

روزہ بعض کمزوریوں کوخودسے دور کردیتا ہے مثلاً گالی ، جھگڑا ، جھوٹ، دکھاوا وغیرہ۔ اس سے متعلق احادیث ملاحظہ ہوں ۔

٭آپؑ نے فرمایا کہ ’’ روزہ ڈھال ہے اور جب تم میں سے کسی کا روزہ کا دن ہو تو اپنی زبان سے فحش بات نہ نکالے اور نہ شور و ہنگامہ کرے اور اگر کوئی اس سے گالی گلوچ کرے یا لڑائی کرنے پر آمادہ ہو تو اس روزہ دار کو سوچنا اور یاد کرنا چاہئے کہ میں تو روزہ دار ہوں( بھلا میں کس طرح گالی دے سکتا ہوں اور لڑسکتا ہوں ) ( بخاری و مسلم )

٭آپؑ نے فرمایا جس شخص نے ( روزہ رکھنے کے باوجود ) جھوٹ بات بولنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھورا تو اللہ کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ وہ بھوکا اور پیاسارہتا ہے ( بخاری ۔ ابوہریرہ )

٭ جس نے دکھاوے کے لئے نماز پڑھی اس نے شرک کیا ، جس نے دکھاوے کے لئے روزہ رکھا اس نے شرک کیا ، جس نے دکھاوے کے لئے خیرات کی اس نے شرک کیا ‘‘ ( احمد )

خواتین کی بعض عمومی کمزوریوں کی فہرست حسب ذیل ہے ان میں سے اگر ہوں تو دو تین کا انتخاب کرلیں اور انہیں ترک کرنے کی شعوری کوشش کریں۔

(۱)نمازوں کا قضا ہونا

(۲) TVاور فلم بینی

(۳)فحش اور لغو ناولوں کا پڑھنا

(۴)گپ شپ کی گفتگو کرنا

(۵)ساس ، نند ، دیورانی ، جٹھانی وغیرہ کی برائیاں بیان کرنا

(۶)بچوں کو گالیاں دینا

(۷)بچوں کو مارنا پیٹنا

(۸)شوہر سے منہ زوری کرنا

(۹)اسراف کرنا

(۱۰)بخل کرنا

(۱۱)پڑوسیوں سے جھگڑا

(۱۲)جھوٹ

(۱۳)دکھاوا وغیرہ

(۲)خوبیوں میں اضافہ

انسان اپنے ذہن سے حسین اور اپنے اعمال سے باوزن ہوتا ہے ۔ خوبیاں اس کا روحانی سرمایہ ہوتی ہیں۔ اچھائیاں اور خوبیوں کو اپنانے اور پروان چڑھانے کی کوئی حد متعین نہیں ہے۔ خوبیاں اور بھلائیاں ، اچھی عادتیں اور اخلاق حسنہ کسبی ہیں ، نہ کہ وہبی یعنی انسان اپنے ہاتھ سے ان بھلائیوں کو کماتا ہے۔

رمضان دونوں ہاتھوں سے نیکیاں سمیٹنے کا موسم ہے ۔بد قسمت ہے وہ جو موسم بہار پائے اور اپنے دامن کو پھولوں سے خالی رکھے۔

خوبیوں کو اپنانے میں ایک آسان اصول پیش نظر رہے ایک لخت کسی نئی خوبی کو پیدا کرنا قدر سے مشکل ہوتا ہے البتہ ہمارا میلان ، رجحان اور غیر مستقل جس کی عادت ہو ان بھلائیوں کو پروان چڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

مثلاً : ٭ہم نماز پڑھتے تو ہیں مگر وقت کی پاپندی اور خشوع و خضوع کی کمی ہوتی ہے یا 5وقت کے نماز کے ہم پابند ہیں مگر تہجد کی بھی عادت پڑجائے تو کیا کہنا۔ رمضان میں ویسے بھی سحری کے لئے اٹھتے ہیں مگر 20منٹ قبل اٹھنے سے ایک نیکی کو ہم اپنی عادت بنا سکتے ہیں،

٭اسی طرح رمضان میں تلاوت کی کثرت تو ہوتی ہے مگر تھوڑی سی کوشش سے زبان پر آسان اور رواں سورتوں کو یاد کرلیا جاسکتا ہے۔

٭دعائیں طویل پر سوز اور پراثر اس وقت ہوتی ہیں جب مسنوں دعائیں یاد ہوں ۔ کیارمضان ایک بہتر موقع فراہم نہیں کرتا کہ زیادہ سے زیادہ مسنوں دعائیں حفظ کی جائیں؟

٭ لوگوں سے ملنا ، دینی موضوعات پر بلا جھجک گفتگو کرنا، تقریر کرنا، در س دینا ، نغمہ گوئی ، قرآت ، مطالعہ کی عادت وغیرہ جیسی خوبیاں قابل ِ رشک تو ضرور ہیں مگر یہ خوبیاں کسبی ہیں۔ اس کیلئے رمضان بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔بعض خوبیاں جن کی منصوبہ بندی پیشِ نظر ہے اس طرح ہوسکتی ہیں۔

.1نمازیں وقت پر پڑھنا .2دعائیں یاد کرنا

.3قرآنی صورتیں حفظ کرنا .4اذکار کی پابندی

.5تقریر کی صلاحیت کو فروغ دینا .6دعوتی ملاقاتیں کرنا وغیرہ

(۳)مواساۃ

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

انسان انسان کا درد نہ سمجھے تو پھر وہ انسان نہیں ۔ انسانوں کی مدد سے خدا ملتا ہے ۔بھوکوں، پیاسوں اور محتاجوں کی خبر گیری کو عظیم نیکی کہا گیا

وَ مَا ادْرَاکَ مَاالْعَقَبَۃ۔ فَکُّ رَقَبَۃٍ اَوْ اِطْعَامٌ فِی یَومٍ ذِیْ مَسْغَبَۃ۔یَتِیْماً ذَا مقْرَبَۃ۔ اَوْ مِسْکِیْناً ذَا مَتْرَبَۃ ۔( البلد: 12-16)

’’اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دشوار گذار گھاٹی ؟ کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا یا فاقے کے دن کسی قریبی یتیم یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا ۔‘‘

روزے کی بھوک پیاس کی ایک حکمت یہ بھی ہے غریبوں کی صورت حال سے واقفیت ہو، رمضان کے سلسلے کی ایک طویل حدیث کے اختتام میں آپؑ نے فرمایا

’’ وَ شَہْرُ الْمُواساۃ ‘‘ اور یہ مہینہ سوسائٹی کے غریب اور حاجت مندوں کے ساتھ ہمدردی کا مہینہ ہے۔

مواساۃ ہی کا ایک اظہار افطار کرانا ہے ۔ زکوۃ حالانکہ کسی بھی مہینے میں نکالی جاسکتی ہے مگر عموماً رمضان میں زکوٰۃ کی تقسیم ہوتی ۔ یہ عمل بھی مواساۃ ہی ہے۔

مواساۃ کے ضمن میں کچھ منصوبہ بندی اس طرح ہوسکتی ہے:

(۱) 10 پرانے جوڑے راہِ خدا میں نکالنا

(۲) ۲ رشتہ داروں کے لئے نئے کپڑے سلوانا

(۳) ۳ روزہ داروں کے لیے سحری اور افطاری کا انتظام کرنا

(۴) جماعت کی ایک افطار پارٹی کی ذمہ داری سنبھالنا

(۵) 1,000/=صدقہ کرنا

(۶) ماہِ رمضان میں دستک دینے والے کسی بھی فقیر کو 2/=روپیئے دینا

(۷) 30دن پڑوسی اور رشتہ داروں کے ہاں افطار میں ہلکا سا تحفہ بھیجنا وغیرہ

تحریکی سرگرمیاں:

داعیِ امت کے فرد ہونے کی حیثیت سے ہر مرد اور عورت پر اسلام کی دعوت فرض ہے۔ اس کی منظم کوشش اور اجتماعی طور پر اس کی انجام دہی کے لیے ہمیں مستقل طور پر متوجہ ہونا ہے۔ رمضان میں دعوت و اصلاح کے ضمن میں کئی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں ، سوال یہ ہے کہ ان میں ہمارا کیا کردار ہوگا ۔

امت قرآن کی عظمت سے غافل ہے، مسلم خواتین کو بالخصوص یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ قرآن ایک کتابِ ہدایت ہے اسے سمجھ کر پڑھنے کی ضرورت ہے ۔اسی طرح زکٰوۃ کا غریبوں اور مسکینوں کے علاوہ دینی سرگرمیوں میں بھی ایک حصہ لگنا چاہئے۔ مگر امت اس کی اہمیت سے بے خبر ہے ہمارے گھر والوں اور بچوں کو بھی S.I.O.اور G.I.Oسے وابستہ کرنے کی کوشش ، رمضان کے ماحول کے طفیل رنگ لائے گی ۔ غیر مسلم حضرات بھی رمضان کی بڑی قدر کرتے ہیں ، روزہ دارو ںکا احترام کرتے ہیں ، مگر کبھی ہمیں توفیق نہیں ہوتی کہ کچھ غیر مسلمانوں کو اپنے گھر افطار پر بلائیں ، اور مختصر بتائیں کہ رمضان ، روزہ اور نزولِ کتاب کے مقاصد کیا ہیں ۔ یہ اور اسی طرح کی بیسوں سرگرمیاں انجام دینے کے لئے رمضان ایک سازگار مہینہ ہے ۔

تحریکی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کے اجزاء اس طرح ہوسکتے ہیں:

(۱) ’’کیا قرآن کو سمجھ کر پڑھنا ضروری نہیں ‘‘کتابچہ 10رشتہ داروں میں تقسیم کرنا۔

(۲) ’’ حقیقتِ روزہ ‘‘ یا سوچنے کی باتیں 25خواتین میں تقسیم کرنا۔

(۳) درسِ قرآن کے پروگرام میں ہر رات پڑوسیوں کو ساتھ لے جانا۔

(۴) G.I.Oکی ایک افطار پارٹی کے لئے انتظام کرنا۔

(۵) گھر میں محلے کے خواتین کے لئے ’’ مطالعہ قرآن‘‘ کا حلقہ قائم کرنا۔

(۶) ’’ زکوٰۃ کا اجماعی نظام ‘‘ فولڈر 50لوگوں تک پہنچانا۔

(۷) محلہ کی 4صاحبہ بیگمات سے 10,000روپئے زکوٰۃفی سبیل اللہ جمع کرنا۔

(۸) شوہر کے ساتھ کام کرنے والے 4غیر مسلم احباب کے لئے افطار کا انتظام کرنا۔

(۹) چھوٹی بہن کو تفہیم القرآن /دعوۃ القرآن کا سیٹ فراہم کرنا۔

(۱۰) مولانا مودودیؒ کا ترجمہ مع تلاوت CDسمندھنوں کو بھیجنا۔

دعا

آخری بات مگر اہم ترین بات یہ ہے کہ رمضان میں دعا کی قبولیت کے اوقات میسر آتے ہیں، جیسے سحری کے وقت ، افطار کے وقت ، طاق راتوں میں ان مواقع کو غنیمت جاننا اور دعا کا کثرت سے اہتمام کرنا چاہئے ۔ دعا تقدیر کو بدل دیتی ہے۔ دعا عبادت کا مغز ہے ۔ دعا بندگی کا اظہار ہے ۔ دعا محتاجی کو دور کرتی ہے ۔ دعا اپنے آپ کو خدا کی چوکھٹ میں ڈال دینا ہے ۔ دعا سے سکون و طمانیت ملتی ہے ۔ دعا ہی سے مشکل کام آسان ہوتے ہیں ۔دعا انہونی کو ہونی کردیتی ہے ۔ دعا دلوں کو جوڑ ددیتی ہے ۔ دعا خدا کو خوش کردیتی ہے ۔ دعا سے رقت قلبی پیدا ہوتی ہے ۔ آہ سحر گاہی کی لذت و کیفیت اور ٹھنڈک پراگندہ ذہن کو مرتکز کردیتی ہے۔دعا انبیاء کی سنت ہے۔دعا خدا کی تعلیم ہے۔ خدا ہی سے کائنات کی ہرشے اپنی احتیاج مانگتی ہے۔ دعا سے انسان پوری کائنات سے ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔دعا سے بلائیں ٹلتی ہیں۔ دعا ذکر ہے ۔ دعا زندگی ہے ۔دعا ہی سے خدا کی مدد ملتی ہے ۔ تمام شرور سے پناہ ملتی ہے ۔دعا سے غم اور پریشانیاں دور ہوتی ہیں ۔دعا سے بندہ اپنے تمام معاملات خدا کے سپرد کردیتاہے پھر ہرکام بن جاتا ہے۔ دعا سے اندرونی طاقت ملتی ہے ۔ غم دل جو کسی کو سنا نہ سکیں دعا ہی سے وہ غم ہلکا ہوتا ہے۔ الغرض دعا مومن کا ہتھیار ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس دعا کے لئے کوئی ذہنی تیاری ہم کر نہیں پاتے ۔

رمضان المبارک میں 10.10منٹ کی 60خصوصی دعائیں ہوسکتی ہیں ، ہر سحر اور ہر افطار میں۔ اس کے علاوہ طاق راتیں بھی میسر ہیں ۔ ایک تجویز پر اس سال عمل کرکے دیکھیں تھوڑا غور و فکر کرکے 60ضروریات کو نوٹ کرلیں ہر سحر ایک مسئلہ پر مفصل دعا اور ہر افطار ایک دعا کریں ہماری ضروریات و حاجات کچھ اس طرح ہوسکتی ہیں

(۱) دین پر چلنے کی توفیق (۲) قرآن سے شغف

(۳) زوجین کے درمیان انتہائی محبت(۴) فلاں بچہ کا فلاں مسئلہ

(۵) فلاں بیٹی کی فلاں پریشانی (۶) غصّہ دور ہو

(۷) رزق میں برکت (۷) ایک خاص گھر

(۹) ایک سواری چاہئے (۱۰) حج پر بلائے

(۱۱) ساس کے دل میں میرے لئے محبت

(۱۲) نند سے بگڑے تعلقات کی استواری

(۱۳) غریب رشتہ دار کا دکھڑا (۱۴) فلاں بیماری سے شفا

(۱۵) فلاں بری عادت سے نجات (۱۶) خدا کی حمد وثنا صرف

(۱۷) اعضا کی سلامتی (۱۸) بڑھاپا

(۱۹) قبر (۲۰) آخرت وغیرہ

ماڈل رمضان پلانر

نام : ام کلثوم تاریخ :4-10-05

مد

مسئلہ

مقدار

متعینہ فرد / ٹارگیٹ

خامیاں دور کرنا

(۱) ٹی وی اور فلم بینی بند

(۲) بچوں کو گالیاں بند

بالخصوص روشن کو

خوبیوں میں اضافہ کرنا

(۱) قرآن حفظ کرنا

(۲) سادگی اختیار کرنا

۴ سورتیں

۲

یٰسین، واقعہ، فتح، نبا

پہننے اور سنگارنے میں

مواساۃ

(۱) پرانے جوڑے نکالنا

(۲) روزہ داروں کو سحری و افطاری کا انتظام کرنا

۱۰

۳

میرے ۲ ، شوہر کے ۲، لڑکوں کے ۴، لڑکی کے ۲،

مستفیدین: شماما کو ۴، خالہ بی کو۱ متوکو ۱، رضوان کو ۱، پروین کو ۲

تحریکی سرگرمی

(۱) زکوٰۃ کی رقم جمع کرنا

(۲) غیر مسلم حضرات کی افطار پارٹی

۴

۵

(۱) مسجد میں مقیم داؤد بھائی

(۲) جماعت کی کارکن صفیہ

(۳) راشدہ

مہرن آپا:۲۵۰۰، زیبن آپا:۲۵۰۰، عرب آپا: ۲۵۰۰، زینت آپا:۲۵۰۰،

ساتھ کام کرنے والے

دعا

(۱) سحر کی دعائیں

(۲) طاق راتوں کی دعائیں

۳۰

۳ کتابیں

(۱)… …(۲)……

(۳)……(۴)……

(۱) آنحضورؐ کی دعائیں: مولانا فاروق صاحب (۲) مسلم کی دعائیں: ام حبیب (۳) حصن المسلم

شیئر کیجیے
Default image
ایس امین الحسن

تبصرہ کیجیے