2

حضرت امیمہؓ – امِّ ابی ہریرہؓ

امیمہ نام تھا لیکن عام طور پر اپنی کنیت ام ابی ہریرہؓ سے مشہور ہیں۔ باپ کانام باختلافِ روایت صبیح یا صفیح بن الحارث تھا۔ جلیل القدر صحابی حضرت ابوہریرہؓ دوسی کی والدہ تھیں۔ ان کا نکاح عامر بن عبد ذی الشریٰ دوسی سے ہوا، انھوں نے جوانی میں وفات پائی، اس وقت حضرت ابوہریرہؓ کم سن تھے۔ ماں نے بڑے مشکل حالات میں ان کی پرورش کی۔ حضرت ابوہریرہؓ ہجرت نبویؐ سے چند سال پہلے حضرت طفیلؓ بن عمرو دوسی کی تبلیغ سے مسلمان ہوگئے تاہم ان کو غزوۂ خیبر کے موقع پر سرورِ عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔ والدہ بھی ساتھ تھیں لیکن وہ مدینہ منورہ آنے کے بعد بھی کفروشرک کی بھول بھلیوں میں بھٹک رہی تھیں۔ حضرت ابوہریرہؓ والدہ کے بے حد اطاعت گزار تھے لیکن ان کے شرک کی وجہ سے دل ہی دل میں کڑھتے رہتے تھے۔ ان کی تمنا تھی کہ والدہ بھی اسلام کی نعمتِ عظمیٰ سے بہریاب ہوجائیں لیکن والدہ کی اسلام سے نفرت کا یہ عالم تھا کہ ایک دن حضورؐ کی شان میں کچھ نامناسب الفاظ کہہ بیٹھیں۔ حضرت ابوہریرہؓ کو سخت صدمہ پہنچا۔ ر وتے ہوئے حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ’’یا رسول اللہ میری ماں کے لیے دعا کیجیے کہ اللہ انہیں قبولِ حق کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘رحمتِ عالم ﷺ نے دعا کی: ’’الٰہی ابوہریرہؒ کی ماں کو ہدایت فرما۔‘‘حضرت ابوہریرہؓ خوش خوش گھر واپس آئے تو دیکھا کہ کواڑ بند ہیں اور ماں غسل کر رہی ہیں۔ غسل سے فارغ ہوکر کواڑ کھولے اور بولیں:

’’اے فرزند گواہ رہنا کہ میں اللہ اور اس کے سچے رسول پر صدقِ دل سے ایمان لاتی ہوں۔‘‘ حضرت ابوہریرہؓ فرطِ مسرت سے بے خود ہوگئے اور خوشی کے آنسو بہاتے ہوئے کاشانۂ نبویؐ پر حاضر ہوکر عرض کی: ’’یا رسولؐ اللہ بشارت ہو کہ آپ کی دعا قبول ہوئی اور میری ماں کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت بخشی۔‘‘ حضورؐ بھی یہ خبر سن کر بہت مسرور ہوئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔حضرت امیمہؓ نہایت خوش قسمت تھیں کہ اللہ نے انہیں ابوہریرہؓ جیسا سعادت مند فرزند بخشا تھا۔ وہ گھر آتے تو کہتے ’’السلام علیکم یا امتاہ و رحمۃ اللہ وبرکاتہ‘‘ وہ جواب میں کہتیں: ’’وعلیک یا بنی و رحمۃ اللہ و برکاتہ‘‘ پھر حضرت ابوہریرہؓ کہتے ’’اللہ تعالیٰ آپ پر اسی طرح رحمت نازل فرمائے جس طرح آپ نے بچپن میں میری پرورش کی۔‘‘ وہ جواب دیتیں ’’اے بیٹے اللہ تعالیٰ تم پر بھی اسی طرح رحمت نازل فرمائے جس طرح تم نے جوان ہوکر مجھ سے برتاؤ کیا۔‘‘ حضرت ابوہریرہؓ کو والدہ سے اس قدر تعلقِ خاطر تھا کہ

شیئر کیجیے
Default image
طالب الہاشمی

تبصرہ کیجیے