3

ڈاکٹر عائشہ عبداللہ

میرا آبائی نام چندر لیلا تھا۔ میں بنگلور (جنوبی ہند) کے ایک ہندو خاندان میں پیدا ہوئی لیکن میرے والد نے مجھے ہندو مذہب کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا تھا بلکہ میرے والد تو سرے سے کسی مندر میں جاتے ہی نہ تھے۔ تاہم بااصول آدمی تھے اور میں نے انہیں کبھی جھوٹ بولتے ہوئے نہیں سنا۔ بلاشبہ ان کے اخلاق کردار کا میں نے گہرا اثر قبول کیا … البتہ میری والدہ باقاعدگی سے مندروں میں جاتی تھی اور میں بھی کبھی کبھی ان کی ہمراہی میں وہاں چلی جایا کرتی تھی۔ خصوصاً امتحان کے دنوں میں مندر میں حاضری بہت بڑھ جاتی اور میری ماں کو ناریل اور اگربتیوں پر بہت کچھ خرچ کرنا پڑتا۔

اکثر ہندؤں میں بتوں کی پرستش کا تعلق محض روایت سے بندھا ہوا ہے اور مذہبی عقائد تمام تر آبا و اجداد اور معاشرے کی جکڑ بندیوں سے منسلک ہیں جو صدیوں سے سوچے سمجھے بغیر ایک ہی انداز میں چلے آرہے ہیں۔ اسے آپ ’’اندھی تقلید‘‘ نہیں کہہ سکتے۔ بدقسمتی سے یہ ’’فطرت ثانیہ‘‘ بن چکی ہے کہ جس پر غور کرنے کی کوئی زحمت گوارا نہیں کرتا۔

مثال کے طور پر اسکول کے زمانے میں میں نے رامائن اور مہا بھارت کی کہانیاں پڑھی تھیں۔ ان میں کچھ اخلاق سبق بھی ہیں اور یہ دلچسپ بھی ہیں۔ لیکن ان میں ایسے واقعات بھی ہیں جن پر کوئی ناسمجھ چھوٹی بچی بھی یقین نہیں کرسکتی۔ مثلاً یہ کہ راون کے دس سر تھے اور کرشن جی مہاراج کی سولہ ہزار بیویاں تھیں۔ میں اس ضمن میں بزرگوں سے سوال بھی کرتی کہ یہ کہانیاں کس حد تک درست ہیں، لیکن کوئی بھی جواب نہ دیتا۔ سب خاموش رہنے کی تاکید کرتے۔ زیادہ کرید کرتی تو ڈانٹ پڑتی کہ گستاخ ہوگئی ہو۔ میں نے اندازہ کرلیا کہ دراصل خود بزرگوں کے ذہن بھی ان سوالات کے معاملے میں صاف نہیں ہیں۔ وہ بھی جہالت اور کم علمی کے اندھیروں میںبھٹک رہے ہیں۔

ہندو مت میں خداؤں کی بے انتہا کثرت نے بھی مجھے بہت پریشان کیا۔ اس مذہب میں بلا مبالغہ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں خدا ہیں۔ کچھ خدا بُرے ہیں کچھ اچھے ہیں۔ بروں سے ڈرنا چاہیے جب کہ اچھوں کے بارے میں ممنویت کا جذبہ ہونا چاہیے۔ میں جب بھی اس حوالے سے غور کرتی، الجھ کر رہ جاتی، لیکن سوال کرنے کی ہمت نہ پڑتی۔ ڈانٹ پھٹکار سے خوف آتا تھا۔

اس صورت حال کا بالآخر نتیجہ یہ ہوا کہ مذہب سے میرا اعتقاد اٹھ گیا۔ اس زمانے میں میں کالج میں پری میڈیکل کی طالبہ تھی۔ ڈارون کا نظریہ ارتقا کورس میں تھا۔ اس سے بہت متاثر ہوئی اور سب خداؤں سے منکرو بیزار ہوگئی۔ چنانچہ اگلے کئی برسوں تک میں مکمل طور پر دہریہ بنی رہی۔ اسی دوران میں قلبی طور پر ایک مسلمان کلاس فیلو سے وابستہ ہوگئی اور یہ تعلق اتنا بڑھا کہ ہم نے شادی کرلی۔

میں میڈیکل کالج کے تیسرے سال میں پڑھتی تھی جب ایک دن ایک مسلمان کلاس فیلو ڈاکٹر ضیاء الحق (آج کل سعودی عرب میں مقیم ہیں) نے تجسس سے اور حیرت سے سوال کیا ’’تم ایک مسلمان کی بیوی ہو، لیکن تمہارا نام ہندوانہ ہے۔‘‘ میں نے اعتماد سے جواب دیا کہ میں اس وقت تک اسلام قبول نہیں کروں گی جب تک میرا ذہن مکمل طور پر صاف نہ ہوجائے۔ اس وقت کیفیت یہ ہے کہ میں نہ صرف اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتی ہوں بلکہ کسی بھی مذہب کو قبول کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔ تب ڈاکٹر ضیاء الحق نے مجھے اپنی والدہ سے ملنے کا مشورہ دیا۔ ان کی والدہ استاذہ لطیف النساء ایک عالمہ اور مبلغہ تھیں۔

اللہ تعالیٰ اس عظیم خاتون پر بہترین رحمتیں فرمائے، وہ مجھ سے بڑی ہی محبت اور اپنائیت سے پیش آئیں اور دلائل و براہین کے ساتھ ایک ماہ کے اندر ہی اندر میرے ذہن سے سارے کانٹے نکال دئیے۔ انھوں نے مجھے اسلام کی ایک ایک تعلیم سے آگاہ فرمایا اور روز مرہ میری زندگی میں اسلام کی برکات سے روشناس کرایا۔ میں نے جوسوال کیا، جس اعتراض کا اظہار کیا، انھوں نے کمال شفقت سے اس کا جواب دیا اور دلائل سے میرے شکوک و شبہات رفع کیے۔ وہ ایک انتھک مبلغہ تھیں۔ محترمہ لطیف النساء کی توجہ کا مرکز صرف مسلمان خواتین تھیں۔ ان کاخیال تھا کہ اگر مسلمان خواتین صحیح معنوں میں اسلامی تعلیمات کو اختیار کرلیں،تو اسلام کو غیر مسلموں میں بھی پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ اس تبلیغی مہم میں بعض خواتین ہمیں اپنے گھروں میں چلنے کی دعوت دیتیں تاکہ وہاں بہت سی دوسری عورتوں تک بھی دین کی باتیں پہنچ جائیں۔

میں محترمہ استاذ لطیف النساء کے کردار، محبت، خلوص اور دین کے لیے ان کی ان تھک کوششوں سے بے حد متاثر ہوئی اور آخر کار دسمبر ۱۹۷۳ء میں مسلمان ہوگئی۔ یاد رہے کہ میں نے ۱۹۶۶ء میں ایک مسلمان نوجوان سے شادی کرلی تھی۔

میں الحمدللہ مسلمان تو ہوگئی مگر ہندوؤں کی سوسائٹی میں یہ اقدام بے حد خطرناک تھا، اس لیے میں نے اپنے قبولِ اسلام کا عام اظہار نہ کیا کہ اس کی خبر ہوتے ہی ساری پارٹیاں میرے درپے آزار ہوجاتیں۔ پوری برادری سوشل بائیکاٹ کردیتی اور مجھ سے وہ سلوک روا رکھا جاتا جو ایک اچھوت یا کوڑھ کے مریض سے رکھا جاتا ہے۔

لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ جوں جوں میں شعوری طور پر اسلام کے قریب ہوتی گئی اور عبادت کی عادت راسخ ہوئی، میرا خوف کم ہوتا گیا، اس احساس نے مجھے نئے اعتماد سے روشناس کیا کہ میرے ہر عقیدے اور عمل کے ساتھ دلیل موجود ہے، میرا یقین پختہ ہوگیا کہ قرآن خدا کی سچی کتاب ہے اور میری روح یہ سوچ کر نئے عرفان سے آشنا ہوئی کہ میں نے سینکڑوں خداؤں کی بجائے اللہ تعالیٰ وحدہٗ لا شریک کے سایۂ رحمت میں پناہ لے لی ہے۔ توحیدِ خداوندی کا عقیدہ یقینا وہ سب سے بڑا تحفہ ہے جو اسلام نے مجھے عطا کیا چنانچہ میں کتنی خوش نصیب ہوں کہ اب اپنے رب سے براہِ راست رابطہ کرسکتی ہوں، اس سے تعلق کے لیے اب نہ کسی برہمن یا پروہت کی ضرورت ہے نہ ناریل اٹھانے کی نہ مندروں میں پھول لے جانے کی۔ میں بہت خوش ہوں کہ اسلام میں توہم پرستی کا کوئی گذر نہیں۔ اب میں باہر جاتی ہوں یا کسی سفر پر جانے کی ضرورت پڑتی ہے تو کسی خاص گھڑی یا دن کا انتظار نہیں کرتی۔ ہندو سوسائٹی میں تو قدم قدم پر بے بنیاد مضحکہ خیز توہمات،رسموں اور عقیدوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ جب کہ اسلام اس نوعیت کی جکڑ بندیوں سے قطعی آزاد ہے۔

جہاں تک ہندو مذہب میں عورت کی حیثیت کا تعلق ہے، تو صورت حال بڑی ہی تکلیف دہ ہے۔ اسلام میں ماشاء اللہ عورت ہر اعتبار سے احترام اور تقدس کی حامل ہے اور خصوصاً بیوہ عورتوں کے لیے ہمدردی اور خیرخواہی کا خاص سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ لیکن ہندو معاشرے میں بیوہ کے ساتھ مجرمانہ برتاؤ کیا جاتا ہے۔ وہ عام تقریبات خصوصاً شادی بیاہ کے اجتماعات سے دور رکھی جاتی ہے۔ اگر بیوہ کسی راہ چلتے آرمی کا راستہ کاٹ دے تو وہ آدمی فوراً رک جاتا ہے اس عمل کو نحوست پر محمول کرتا ہے اور کچھ شگن اشلوک پڑھ کر دوبارہ آگے بڑھتا ہے۔ غرض بیوہ کو ہر اعتبار سے منحوس سمجھا جاتا ہے اور پوری عمر اسے نفرت اور حقارت کے انگاروں پر زندگی گزارنی ہوتی ہے۔

مجھے اسلام میں عبادات کی سادگی اور یک رنگی نے بھی بہت متاثر کیا ہے۔ ہر وہ شخص جو کلمہ طیبہ پڑھ لیتا ہے، اخوت اور بھائی چارے کے رشتے سے منسلک ہوجاتا ہے اور رنگ و نسل سے بالاتر ہوکر ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر ایک طرف منہ کرکے، عبادات کرنے لگتا ہے۔ قبولِ اسلام سے قبل مجھے برابری کی یہ حیثیت حاصل نہ تھی اور حالانکہ میں مستند ڈاکٹر تھی، میڈیکل سائنس کی اعلیٰ ترین ڈگری رکھتی تھی، لیکن غیر برہمن ہونے کی وجہ سے میں معاشرتی اعتبار سے کمتر درجے کی حامل تھی۔ چنانچہ اب بھی ہندوستان کے معاشرے میں یہ منظر عام طور پر نظر آتا ہے کہ ایک ’’فیاض‘‘ اور ’’رحم دل‘‘ برہمن کمتر ذات کے ہندو کو اس کے ’’ہاتھوں کے پیالے‘‘ میں پانی پلائے گا۔ اپنے گلاس یا برتن میں اسے پانی پینے کی اجازت ہرگز نہیں دے گا۔ اسی طرح صرف برہمن ہی ویدوں کی تعلیم حاصل کرتا اور پجاری بننے کا اعزاز حاصل کرتا ہے ۔ دوسری ذات کے ہندوؤں کو اس لائق نہیں سمجھا جاتا۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر عبدالغنی فاروق