6

ادبی لطائف

٭ ایک بار ایک نوجوان نے دستخط حاصل کرنے کے لیے آٹو گراف بک کے بجائے تفہیم القرآن مولانا مودودیؒ کے سامنے رکھی اور کہا ’’مولانا دستخط کے ساتھ کوئی نصیحت بھی لکھ دیجیے۔‘‘

مولانا نے تفہیم القرآن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’صاحبزادے نصیحت اس میں موجود ہے دستخط میں کیے دیتا ہوں۔‘‘

٭ کراچی کی ایک مجلس میں ایک صاحب نے شکایت کی کہ ’’اخبارات سرکاری خبر تو دیتے ہیں مگر ہماری خبر نہیں دیتے۔‘‘

سید مودودیؒ بولے: ’’ان کی خبر دیتے ہیں ہماری خبر لیتے ہیں۔‘‘ اس پر ساری محفل کشتِ زعفران بن گئی۔

٭ ایک مرتبہ جوش ملیح آباد علامہ اقبالؒ سے ملنے ان کے گھر تشریف لے گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ قرآن سامنے کھلا ہے اور آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔

جوش ملیح آبادی نے نہایت سنجیدگی سے کہا: ’’حضرت کیا کوئی وکیل قانون کی کتاب پڑھتے ہوئے روتا ہے۔‘‘

٭ ایک مرتبہ مولانا محمد علی جوہر اور گاندھی جی کسی کام سے سیتا پور گئے۔ وہاں پر دونوں حضرات سیتا پھل کھا رہے تھے۔ جوہرؔ صاحب کو سیتا پھل بڑی تیزی کھاتے دیکھ کر بولے:

’’جوہرؔ صاحب اتنی تیزی سے مت کھائیے زیادہ کھانا نقصان دیتا ہے۔‘‘

مولانا بولے: ’’سسرال کا مال نقصان نہیں کرتا۔‘‘

’’سسرال کا مال‘‘ گاندھی جی چونکے۔

’’جی ہاں‘‘ مولانا بولے ’’شریفے سیتاپور کے ہیں اور میں رامپور کا رہنے والا ہوں۔‘‘

٭ گاندھی جی نے جب نمک سازی کی تحریک شروع کی تو مولانا جوہرؔ کو بھی اس میںشامل ہونے کی دعوت دی۔

محمد علی فوراً بولے: ’’مہاتما جی میں نمک کیسے بنا سکتا ہوں میں تو دس سال سے قوم کے غم میں شکر بنا رہا ہوں۔‘‘ (محمد علی ذیابیطیس کے مریض تھے)۔

٭ مولانا محمد علی جوہرؔ کو انگریزی زبان پر غیر معمولی قدرت حاصل تھی۔ وہ کسی اہل زبان کی طرح انگریزی لکھتے اور بولتے تھے۔ ایک موقع پر شملہ کی ایک پارٹی میں ایک معزز لیڈی نے ان کی انگریزی سے متاثر ہوکر حیرت آمیز لہجہ میں سوال کیا: ’’آپ نے اتنی اچھی انگریزی کہاں سے سیکھی؟‘‘

محمد علی نے جواب دیا: ’’میں نے انگریزی کی تحصیل ایک معمولی قصبہ میں کی ہے۔‘‘

خاتون نے اشتیاق سے بے تاب ہوکر پوچھا: ’’کیا نام ہے اس قصبہ کا؟‘‘

محمد علی نے نہایت سادگی سے جواب دیا: ’’آکسفورڈ‘‘!

ساری محفل کشتِ زعفران بن گئی۔

٭ مولانا محمد علی جوہرؔ ایک مرتبہ عربی لباس پہن کر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں تشریف لے گئے۔ وہاں ان کی ملاقات پنڈت مدن موہن مالویہ سے ہوئی۔ پنڈت جی نے مولانا کے عربی لباس کو دیکھ کر بڑے طنزیہ انداز میں فرمایا: ’’اوہو! یہ آپ ہیں میں سمجھا بیگم بھوپال تشریف لارہی ہیں؟‘‘

مولانا بھلا کب چوکنے والے تھے بولے: ’’معاف کیجیے گا مالویہ جی! بیگم بھوپال جیسی شیردل خاتون بھلا اس زنانہ مجلس میں آنا بھلا کب پسند کرسکتی ہیں۔‘‘

مولانا کا جواب سن کر پنڈت مالویہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔

شیئر کیجیے
Default image
فوزیہ آفرین

تبصرہ کیجیے