5

ایمان کا درجۂ کمال

قال رسول اللہ ﷺ:

مَنْ اَحَبَّ لِلّٰہِ وَأَبْغَضَ لِلّٰہِ وَاَعْطیٰ لِلّٰہِ وَمَنَعَ لِلّٰہِ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ الْاِیْمَانُ۔

(ترمذی، کتاب القیامۃ)

’’جس نے اللہ کے لیے محبت کی، اللہ کے لیے نفرت کی، اللہ کے لیے ہی کسی کو کچھ دیا اور اللہ ہی کے لیے کسی کو کچھ دینے سے باز رہا، تو اس نے ایمان کا درجۂ کمال حاصل کرلیا۔‘‘

یہ نہیں فرمایا کہ اس کا ایمان مکمل ہوگیا بلکہ یہ فرمایا کہ ایمان کے کمال درجے کو حاصل کرلیا۔ کیونکہ ایمان تو کلمہ لا الہ پڑھنے اور بنیادی عقاید پر ایمان لے آنے سے ہی مکمل ہوجاتا ہے لیکن نیک اعمال اس ایمان کو کمال درجے تک پہنچا دیتے ہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھ لیجیے۔ ایک عمارت کی بنیاد رکھی گئی، دیواریں اور چھت بھی بن گئی، دروازے بھی لگ گئے، عمارت مکمل ہوگئی، اب اس میں رہا جاسکتا ہے۔ لیکن عمارت پر رنگ و روغن ہوجائے، دروازوں پر پالش ہوجائے، ٹائل وغیرہ لگ جائیں، فرش کردیا جائے، قالین بچھا دئیے جائیں تو عمارت اپنے کمال کو پہنچ گئی۔ یہی مفہوم ہے اس حدیث کا۔ مومن کا ایمان تو مکمل ہے لیکن اگر وہ اپنے اعمال کی بنیاد صحیح معنوں میں اللہ کی رضا کو بنالے، ہر کام میں اللہ کی خوشنودی کو پیش نظر رکھے کسی سے محبت کرے یا نفرت، یا کسی کی مدد کرے یا کسی کو کچھ دینے سے باز رہے اوراس سے صرف اور صرف اللہ کو خوش کرنا مقصود ہو، اپنا ذاتی مفاد پیش نظر نہ ہو تو سمجھ لیجیے کہ اس نے ایمان میں کمال حاصل کرلیا۔ اپنے ایمان کو کمال تک پہنچادیا۔

لین دین کا تعلق انسان کے باہمی معاملات سے ہے، محبت اور نفرت کا تعلق انسان کے جذبات سے ہے۔ گویا اندرون و بیرون، جذبات و معاملات سب کی بنیاد اللہ کی رضاہونی چاہیے اور جب اندرون اور بیرون پر اللہ کی رضا کا خیال چھا جائے حقیقت میں ایمان درجۂ کمال کو اسی صورت میں پہنچ سکتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
تنویر عالم فلاحی

تبصرہ کیجیے