3

عہدِ نبوی میں خواتین

ظہورِ اسلام سے عورت تو بس یوں سمجھئے کہ پس کر رہ گئی تھی۔ اسلام جب طلوع ہوا تو رفتہ رفتہ حالات بہتر ہوگئے۔ نظامِ حیات کی تبدیلی کا اثر عورت پر بھی پڑا اور اس کے دن بھی پھر گئے، اسلام نے انسانیت کے نصف آخر کی حیثیت سے ان کا تعارف کرایا اور مقام و احترام کے لحاظ سے مردوں کا شریک و سہیم قرار دیا، اسلام نے اس کے چھینے ہوئے حقوق واپس دلائے اور و ہ اسلام کے سائے میں آکر تعمیر انسانیت کا بنیادی پتھر تسلیم کی گئی، چنانچہ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں:

’’خدا کی قسم ہم ایام جاہلیت میں عورتوں کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے ان کے بارے میں اپنے احکام نازل کیے اور ان کے لیے وہ حصہ مقرر کیا جو کچھ مقرر کرنا تھا۔‘‘ (مسلم ، کتاب الطلاق)

مگر جب مسلمان، اسلام اور اسلامی تعلیمات سے دور ہوئے اور اسلامی معاشرہ پر زوال آیا تو عورت بھی اس کی زد میں آگئی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ موجودہ مسلم معاشرہ میں عورت گویا دوسرے درجہ کی شہری بن گئی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ غیروں نے اسے موضوعِ سخن بنالیا، اس کی آڑ میں اسلام کو نشانۂ ملامت بنانا شروع کردیا اور مسلمان اس کی معذرت خواہانہ تاویل کرنے لگے، اس لیے عہد نبوی کی خواتین کے کچھ واقعات حدیث اور تاریخِ اسلامی سے بیان کیے جاتے ہیں، تاکہ اسلامی تعلیمات کی اہمیت کا اندازہ ہو، ہماری مسلم خواتین کے اندر ایسی صفات پیدا کرنے کا جذبہ جاگے اور ماضی کی بنیاد پر حال کی اصلاح کی جاسکے اور مستقبل کی عمارت بنائی جاسکے۔

عورت تعلیمی میدان میں

اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ علم حاصل کرنا مرد و عورت دونوں پر فرض ہے، نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:

طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم۔ (مشکوٰۃ، کتاب العلم)

’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان (مرد و عورت) پر فرض ہے۔‘‘

اس تعلیم کا نتیجہ یہ نکلا کہ صدرِ اسلام میں مردوں کی طرح خواتین میں بھی علم حاصل کرنے کا بڑا ذوق و شوق پیدا ہوگیا، گو کہ حصولِ علم کے لیے مواقع مردوں کی طرح عورتوں کو حاصل نہ تھے، تاہم وہ ایسا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتی تھیں جن سے وہ اپنی تعلیمی ضروریات پوری کرسکیں اور دین میں سمجھ بوجھ پیدا کرسکیں، بلکہ بعض اوقات وہ مواقع نہ ملنے کی آنحضور ﷺ سے شکایت بھی کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ انھوں نے عرض کیا:

’’یا رسول اللہ! یہ مرد حضرات تو ہم سے آگے بڑھ گئے، آپؐ ہمیں بھی اپنی طرف سے ایک دن متعین کردیں، تاکہ ہم آپ سے علم دین حاصل کریں، چنانچہ آپؐ نے وعدہ فرمالیا اورآپؐ کا یہ معمول ٹھہرا کہ آپؐ ایک دن ان سے ملاقات کرتے، ان کو تعلیم دیتے، نصیحت کرتے اور احکام دیتے۔‘‘

(بخاری، الاعتصام بالکتاب و السنۃ)

اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت

صدرِ اسلام کی خواتین میں ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اسلام پر پورے طور پر عمل کرتی تھیں، مشکلات اور رکاوٹیں ان کو اس سے ہٹا نہیں سکتی تھیں، وہ اپنے معاملات میں صرف اللہ اور اس کے رسولؐ کو فیصل مانتی تھیں، ان کی ناراضگی مول لینا کبھی گوارا نہیں کرتی تھیں اور اپنے مسائل نبی کریم ﷺ کے پاس لے جاکر شرعی فیصلہ حاصل کرتی تھیں۔ قرآن کی سورئہ مجادلہ کی شانِ نزول ہی یہ ہے کہ : خولہ بنتِ ثعلبہ اپنے شوہر اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کا معاملہ آنحضورﷺ کی عدالت میں لے کر آئی تھیں۔ اور پھر اللہ نے ان کے بارے میں یہ سورئہ نازل کی:

قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا وتشتکی الی اللہ و اللہ یسمع تحاورکما ان اللہ سمیع علیم۔ (المجادلہ:۱)

’’اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو شوہر کے بارے میں آپ سے تکرارکررہی ہے اور اللہ سے فریاد کیے جاتی ہے، اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے۔ وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔‘‘

حق گوئی اور بے با کی

صدرِ اسلام کی خواتین میں حق گوئی اور بے باکی قابلِ تعریف حد تک پائی جاتی تھی۔

ایک مرتبہ خلیفۂ دوم حضرت عمرفاروقؓ خطاب فرمارہے تھے، حاضرین میں مرد و عورت بھی شامل تھے، حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم لوگ عورتوں کے مہر زیادہ رکھتے ہو جب کہ نبی ﷺ اور ان کے اصحاب چار سو درہم سے زیادہ مہر مقرر نہیں کرتے تھے، زیادہ مہر مقرر کرنا ثواب کا کام ہوتا تو وہ ضرور ایسا کرتے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ خطبہ سے فارغ ہوئے تو قریش کی ایک عورت نے اعتراض کیا اور کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ نے لوگوں کو اپنی بیویوں کا مہر چار سو درہم سے زیادہ رکھنے سے منع کردیا ہے؟ عمر رضی اللہ نے کہا: ہاں، تو عورت نے پوچھا: کیا اللہ نے اس سلسلہ میں جو کچھ نازل کیا ہے وہ آپ نے نہیں سنا؟ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا وہ کیا؟ تو خاتون نے یہ آیت پڑھی:

واتیتم احداہن قنطاراً فلا تاخذوا منہ شیئاً۔ (النساء: ۲۰)

’’اور خواہ تم ان عورتوں میں کسی کو ڈھیر سا مال بھی دے دیا ہو تو اس میں سے کچھ نہ لو‘‘

یہ سن کر حضرت عمرؓ بولے سب لوگ عمر سے زیادہ فقیہ ہیں اور پھر منبر پر چڑھے اور لوگوں کو مخاطب کرکے کہا لوگو! میں نے تم کو چار سو درہم سے زیادہ مہر مقرر کرنے سے منع کیا تھا، اب جس کا جتنا جی چاہے مہر مقرر کرلے۔

اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کے اجتہاد کو ایک خاتون نے چیلنج کردیا اور حضرت عمرؓ کو اپنی غلطی تسلیم کرنی پڑی۔ اس میں ایک طرف تو اس زمانہ کی خاتون کا علم نظر آتا ہے اور دوسری طرف ان کی جرأت کا ثبوت ملتا ہے کہ انھوں نے کہنے والے کا خیال کیے بغیر اور مقرر موصوف کی عرفی اور سماجی پوزیشن کی رعایت کیے بغیر غلط بات کی اصلاح کی۔

عورت میدانِ عمل میں

ابتدائِ اسلام کی خواتین ضروریاتِ زندگی کے لیے جدوجہد کرتی تھیں، گھر کی دیکھ بھال کے ساتھ باہر کے ضروری کام بھی کرلیا کرتی تھیں، گویا ذریعۂ معاش کی فراہمی میں وہ مردوں کا تعاون بھی کرلیا کرتی تھیں۔

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ ایک خاتون کا ذکر کرتے ہیں جن کی اپنی کھیتی باڑی تھی اور وہ پانی کی نالیوں کے اطراف میں چقندر کی کاشت کیا کرتی تھیں، جمعہ کے دن سہل بن سعد رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہؓ ان سے ملنے کے لیے جایا کرتے تو وہ چقندر اور آٹے سے تیار کیا ہوا حلوہ ان حضرات کو پیش کرتیں۔

اسی طرح حضرت اسماء بنتِ ابی بکررضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ زبیرؓ سے میرا نکاح ہوچکا تھا، مگر پانی لانے والے اونٹ اور ایک گھوڑے کے سوا ان کے پاس نہ کوئی مال تھا اور نہ خادم وغیرہ۔ میں خود ہی ان کے گھوڑے کو چارہ دیتی، پانی پلاتی، مجھے ہی آنا گوندھنا پڑتا اور روٹی پکانا پڑتی، میں روٹی اچھی نہیں پکاسکتی تھی، پڑوس کی انصار عورتیں میرے لیے مخلص ثابت ہوئیں، وہ میرے لیے روٹی پکا دیا کرتیں، آنحضورﷺ نے دو میل کے فاصلہ پر زبیرؓ کو ایک زمین فائدہ اٹھانے کے لیے دے رکھی تھی، میں وہاں سے کھجور کی گٹھلیاں لایا کرتی، ایک دن میں اپنے سر پر گٹھلیوں کی ٹوکری لیے آرہی تھی کہ راستہ میں رسول اللہ ﷺ سے ملاقات ہوگئی، آپؐ نے مجھے بلایا تاکہ اپنی سواری کے پیچھے بٹھالیں، (آنحضورﷺ اسماءؓ کے بہنوئی تھے)۔ لیکن چوں کہ بعض انصار بھی آپؐ کے ساتھ تھے اس لیے مجھے مردوں کے ساتھ چلنے میں شرم محسوس ہوئی اور زبیرؓ کی غیرت بھی یاد آگئی جو اس کو ہرگز پسند نہیں کرتے، چنانچہ میں پس و پیش کرنے لگی، حضورﷺ صورت حال سمجھ گئے اور آگے بڑھ گئے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب نبی ﷺ نے فرمایا:

تصدقن یا معشر النساء و لو من حلیکن۔

’’اے گروہِ خواتین! صدقہ کرو اگرچہ اپنے زیور ہی میں سے دو۔‘‘

تو میں اپنے گھر سے نبی ﷺ کی طرف نکلی، راستہ میں ایک انصار عورت ملی، اس کی ضرورت بھی میری جیسی تھی، ہم دونوں نبی ﷺ کے دروازہ پر پہنچے، حضور ﷺ کی شخصیت بڑی بارعب تھی، بلالؓ ہمارے پاس نکل کر آئے، تو ہم نے پوچھا کہ رسولِ خدا کہاں ہیں؟ ان کو اطلاع کردو کہ دو عورتیں دروازے پر کھڑی آپ سے یہ معلوم کررہی ہیں کہ اگر ہم اپنے شوہر اور زیر کفالت یتیم بچوں پر خرچ کریں تو ادا ہوجائے گا؟ اور آپؐ کو یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں۔ بلالؓ اندر گئے اور آپؐ کو خبر دی، آپؐ نے پوچھا: وہ کون ہیں؟ تو بلالؓ نے بتادیا کہ ایک انصاری خاتون اور دوسری زینب زوجۂ عبداللہ بن مسعود، آپؐ نے فرمایا: ان کے لیے دو اجر ہے: ایک اجر رشتہ کا، دوسرا اجر صدقہ کا۔

مجاہدین کی تربیت

صدرِ اسلام کی خواتین میں جو بہادری اور دلیری اسلام کی وجہ سے پیدا ہوگئی تھی اس سے غزوات اور جنگوں میں اسلام کی بڑافائدہ پہنچا، وہ مردوں کی حوصلہ افزائی کرتیں اور ان کو اسلام کی راہ میں جان و مال کی قربانی دینے پر آمادہ کرتیں۔

حضرت خنساء رضی اللہ عنہا جو مشہور شاعرہ تھیں، جنگ قادسیہ میں اپنے چار نوجوان بیٹوں کے ساتھ شریک ہوئیں اور جنگ سے پہلے ان چاروں کو جمع کرکے اس طرح نصیحت کی:

’’میرے بیٹو! تم نے خوشی سے اسلام قبول کیا ہے اور اپنی مرضی سے ہجرت کی ہے، ورنہ تم اپنے ملک کو بھاری نہ تھے، جس طرح تمہاری ماں ایک ہے تمہارا باپ بھی ایک ہے، تمہاری ماں نے تمہارے باپ کے ساتھ خیانت نہیں کی اور نہ تمہارے نانہال کو رسوا کیا، تمہیں معلوم ہے کہ خدا نے کفار سے جہاد کے بدلہ میں کس قدر ثواب عطا کیا ہے، خوب سمجھ لو کہ اس فانی دنیا سے آخرت بہتر ہے، کیوں کہ اللہ کا فرمان ہے:

یایہا الذین آمنوا اصبروا و صابروا ورابطوا واتقوا اللہ لعلکم تفلحون۔ (آل عمران: ۲۰۰)

’’اے ایمان والو! ثابت قدم رہو اور ثابت قدم رہنے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرو، حق کی راہ میں جمے رہو اور اللہ سے ڈرو، شاید تم کامیاب ہو۔‘‘

اگر تم صبح تک سلامت رہے تو اللہ سے مدد مانگتے ہوئے دشمنوں کے مقابلے پر نکل جاؤ، جب جنگ کے شعلے بھڑک اٹھیں تو تم اس کی بھٹی میں کود پڑو، جب دشمنوں کا لشکر بے جگری سے لڑ رہا ہو تو تم اس کے سر پر حملہ کرو۔‘‘

ماں کی ولولہ انگیز تقریر سنی اور چاروں نوجوان اشعار پڑھتے ہوئے رن میں آنکلے، جب مسلمانوں نے میدان جیت لیا تو چاروں نوجوان شہیدوں کی مبارک لاشیں ناظرین سے خراجِ شجاعت وصول کررہی تھیں، نوجوان بیٹوں کی اجتماعی شہادت دیکھ کر حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کا کلیجہ نہیں پھٹا، ان کی آنکھوں نے آنسو نہیں بہائے، بلکہ انھوں نے اس پر فخر کیا کہ وہ چار شہدائے اسلام کی ماں ہیں، ان کا چہرہ خوشی سے کھلا ہوا تھا، حالانکہ اسی خنساءؓ نے اسلام سے پہلے اپنے بھائی کی وفات پر انتہائی دردناک مرثیہ کہا تھا اور اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا:

’’اے صخر! تادمِ حیات تجھے نہیں بھول سکتی، جب سورج طلوع ہوتاہے تو مجھے صخرکی یاد ستاتی ہے اور جب سورج غروب ہوتا ہے تو مجھے رلایا جاتا ہے اور اگر میرے گرد اپنے بھائیوں پر رونے والوں کی کثیر تعداد نہ ہوتی تو ضرور میں خود کشی کرلیتی۔‘‘

اسلام کا دفاع

مجاہدین کی ہمت افزائی، خدمت اور تربیت کے ساتھ اس دور کی خواتین اسلام کی حفاظت اور دفاع میں حسبِ ضرورت خود بھی حصہ لیتی تھیں اور دشمنوں کا مقابلہ کرتی تھیں۔ ام عمارہؓ ایک صحابیہ ہیں جنھوں نے جنگ احد میں غیر معمولی شجاعت کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس واقعہ کے متعلق جب ام سعد بنتِ سعد بن ربیع نے ان سے دریافت کیا تو انھوں نے بتایا کہ:

’’میں صبح سویرے مجاہدین کی خدمت کے لیے محاذِ جنگ پر پہنچ گئی تھی، میں صورتِ حال کا جائزہ لے رہی تھی، میرے ساتھ پانی کا مشکیزہ تھا اور میں نبی ﷺ تک پہنچ گئی، اس وقت آپؐ صحابہؓ کے درمیان تھے، ابتداء میں مسلمانوں کو غلبہ حاصل تھا، بعد میں وہ شکست کھا گئے، میں اس وقت حضور ﷺ کے قریب پہنچ کر آپؐ کہ دفاع میں تلوار اور تیر چلانے لگی، یہاں تک کہ دشمن کی ضرب مجھ پر آپڑی۔ ‘‘ ام سعد کہتی ہیں کہ میں نے ان کے کندھے پر بہت گہرے زخم کا نشان دیکھا اور پوچھا اتنا سخت حملہ کس نے کیا تھا؟ انھوں نے جواب دیا: ابن قمیہ نے،اللہ اسے غارت کرے، جب مسلمان شکست کھا کر حضور ﷺ کے پاس سے بھاگ کھڑے ہوئے تو یہ پکارتا ہوا آیا بتاؤ محمد کہا ںہے؟ اگر آج وہ بچ گیا تو میری نجات نہیں، یہ سن کر میں،مصعب بن عمیرؓ اور چند دوسرے اصحابؓ نے جو آپؐ کے ساتھ جمے ہوئے تھے اس کا سامنا کیا، اس مقابلہ میں اس نے مجھ پر وار کیا، جس کا نشان تم دیکھ رہی ہو، میں نے بھی تلوار سے کئی حملے کیے، مگر دشمنِ خدا دو دو زرہیں پہنے ہوئے تھا۔‘‘

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی پھوپھی اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں، جنگِ احد میں بھی شریک ہوئی تھیں، جب مسلمان کفار کے عقبی حملہ سے گھبرا کر بھاگنے لگے تو وہ برچھا ان کے منہ پر مار کر میدانِ جنگ میں واپس کرتیں۔ جنگِ خندق میں نبی ﷺ نے ساری عورتوں کو ایک قلعہ میں بند کردیا تھا اور حسان بن ثابتؓ کو اس کا محافظ مقرر کردیا تھا، یہود موقع کی تاک میں تھے، جب دیکھا کہ مسلمان مدینے کے سامنے کی طرف خندق کے قریب دشمنوں سے برسرپیکار ہیں تو انھوں نے عقبی حصہ سے اس قلعہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا اور اس کے لیے پہلے ایک شخص کو قلعہ پر بھیجا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے اسے دیکھ لیا اور حسان رضی اللہ عنہا سے کہا: اچھا موقع ہے باہر نکل کر اسے ختم کردو، مگر وہ کمزور دل تھے، ایسا نہ کرسکے، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے خود خیمے کا ایک کھونٹا اکھاڑا اور یہودی کو اس سے قتل کردیا اور اس کا سر قلم کرکے حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے کہا: اس سر کو قلعہ کے نیچے یہودیوں کے بیچ پھینک دو، مگر وہ یہ بھی نہ کرسکے، چنانچہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے خود اسے دیوار کی اوٹ سے یہودیوں کے مجمع میں پھینک دیا، جس سے ان میں خوف و ہراس پیدا ہوگیا اور حملہ کا ارادہ ترک کرکے یہ کہتے ہوئے واپس چلے گئے کہ محمد (ﷺ) خواتین کو تنہا نہیں چھوڑسکتے، ضرور ان کے ساتھ مرد ہیں۔‘‘

عزیمت اور شہادت

اسلام کی تبلیغ اور اشاعت میں مسلمانوں کی تلوار نہیں ان کا کردار، خلوص، قربانی اور ان کی استقامت اور عزیمت کار فرما رہی ہے۔ جب اسلام کی دعوت بطنِ مکہ سے طلوع ہوئی تو مشرکین نے اسے اپنے مفادات اور آبائی مذہب کے خلاف ایک چیلنج باور کیا اور اس پر روک لگانے کے لیے مسلمانوں پر سنگین قسم کے مظالم ڈھائے، مگر اسلام کے شیدائیوں نے بھی جس تحمل اور استقلال کا مظاہرہ کیا وہ شاید انہی کا حصہ تھا۔ یہ قربانیاں صرف مردوں نے نہیں دیں، بلکہ پاک نفوس خواتین نے بھی دیں۔ انہیں خواتین میں ایک پاکیزہ نام حضرت سمیہ بنتِ خیاط رضی اللہ عنہا کا ہے۔ جب اسلام کی دعوت ان تک پہنچی تو انھوں نے آگے بڑھ کر اسے قبول کیا اور نتیجہ میں ان مصائب کو جھیلنے پر آمادہ ہوگئیں جو اس راہ میں ناگزیر تھے، کفارِ مکہ ان کو چلچلاتی دھوپ میں تپتی ہوئی ریت پر لوہے کی زرہیں پہنا کر ناقابلِ برداشت اذیت دیتے، تاکہ وہ اسلام سے پھر جائیں، مگر وہ سب کچھ اسلام کے لیے برداشت کرتیں رہیں، ایک رات ایسا ہوا کہ ابوجہل نے ان کو فحش قسم کی گالیاں دی اور اس زور کا نیزہ مارا جو ان کی ناف پر لگا اور اسی ضرب میں وہ شہید ہوگئیں۔ اسلام کی راہ میں یہ پہلی شہادت تھی، جو ایک خاتون کے مقدر میں تھی۔ (الاصابہ فی تمییز الصحابہ سمیہ بنت خیاط ۴/۳۳۴)

شیئر کیجیے
Default image
مولانا محمد سعود عالم قاسمی

تبصرہ کیجیے