BOOST

زکوٰۃ کی حکمت کیا ہے؟

بخل انسانی طبیعت کا پرانا مرض ہے۔جس کا سبب آدمی کی خود پسندی و خود غرضی اور اپنے مفاد سے محبت نیز مستقبل کے بارے میں شک و شبہ ہے۔ دین یہ نہیں چاہتا کہ انسان اپنے آپ سے نفرت کرے یا اپنے مفاد سے بے نیاز ہوجائے لیکن وہ اس بات کو مسترد کرتا ہے کہ دوسروں کو نظر انداز کردیا جائے اور ان کے وجود و حقوق کا احساس نہ کیا جائے کیوں کہ یہی احساس انسان اور جانور کے درمیان فرق پیدا کرتا ہے۔ اسلام آیا تو اس نے فرد کو یہ سمجھایا کہ ایمان دوسروں سے محبت، ان پرر حم، ان کے مفادات کے احترام کا تقاضاکرتا ہے بلکہ کبھی کبھی تو ایثار اور بغیر احسان جتائے عطا و نوازش کا مطالبہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’جو اپنے دل کی تنگی سے محفوظ رہ گئے بس وہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ (التغابن:۱۶)، ’’اور اس سے دور رکھا جائے گا وہ نہایت پرہیز گار جو پاکیزہ ہونے کی خاطر اپنا مال دیتا ہے اس پر کسی کا احسان نہیں جس کا بدلہ اسے دینا ہو وہ صرف اپنے رب ِ برتر کی رضا جوئی کے لیے کام کرتا ہے۔‘‘ (۱۷:۲۰)

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی خود پرستی اور دوسروں کو نظر انداز کردینے کا رجحان ہی اس چیز کے پیچھے کارفرما ہوتا ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ پیٹ بھرلے اور دوسرے بھوکے رہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ حاصل کرے اور دوسرے نہایت ضروری چیزوں سے بھی محروم رہیں۔ اس فرق سے زیادہ کوئی چیز کینہ پیدا کرنے والی نہیں۔ یہ انسانی گروہوں کو وحشی جانوروں کے غول بنادیتی ہے۔

زکوٰۃ طبیعتوں کا بخل دور کرتی ہے اور اخوت اور محبت اور ہمدردی و رحمدلی کے بیج بوتی ہے میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو کچھ نہیں کرتے، بیٹھے رہتے ہیں اور ناجائز طریقوں سے لوگوں کے منافع میں شریک ہوجاتے ہیں۔ میں نے ایک عرب کو دیکھا وہ دس مزدروں کا کفیل بنا ہوا تھا اور سب کی نصف تنخواہ ہڑپ کرجاتاتھا ظاہر ہے اسلام اس طرح کی حرکتوں کی اجازت نہیں دیتا۔

زکوٰۃ کا کردار معاشرے میں حلال و حرام کے قوانین و قواعد کو مستحکم کرنے کے بعد آتا ہے۔ منصفانہ نظام کے نفاذ کے بعد جب معاشرہ میں کچھ خامیاں رہ جائیں تو زکوٰۃ لوگوں کے دکھ درد کو دور کرتی ہے، رحمدلی اور ہمدردی پیدا کرتی ہے۔ یہ مادی امداد سے پہلے نفسیاتی و سماجی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔

’’اے نبی! تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک کرو اور (نیکی کی راہ میں) انہیں بڑھاؤ اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو کیونکہ تمہاری دعا ان کے لیے وجہ تسکین ہوگی۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔‘‘ (التوبہ: ۱۰۳)

شروع سے آج تک کسی دینی نظام نے زکوٰۃ صدقات کا اہتمام اسلام کی طرح نہیں کیا۔ کتاب و سنت میں بہت ساری ہدایات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کس طرے مال و دولت کو عام کرنا اور نعمتوں کو پھیلانا چاہتا ہے اور تنگ دستی و پریشان حالی کو دور کرنا چاہتا ہے اور سب کچھ خوشدلی کے ساتھ۔ قدیم زمانے سے لوگ مال جمع پسند کرتے تھے اور یہی چاہتے کہ ساری دولت انہی کے پاس رہے۔ اسلام اس خواہش کی مزاحمت کرتا ہے اور اگر اس طرح کے لوگ سرکشی کریں تو ان کے خلاف اعلان جنگ تک کرتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکرؓ کرچکے ہیں۔ حضرت ابوذرؓ کی ایک روایت یہ ہے کہ میں رسولؐ اللہ ﷺ کے پاس پہنچا۔ آپؐ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے، آپؐ نے فرمایا ربِ کعبہ کی قسم وہ لوگ آخرمیں ہوںگے۔ میں نے عرض کیا، میرے ماں باپ آپؐ پر فدا ہوں یا رسول اللہﷺ وہ لوگ کون ہوں گے۔ آپؐ نے فرمایا وہ زیادہ مال و دولت والے ہوں گے سوائے اس شخص کے جس نے (آپ نے ہاتھ اٹھا کر دینے کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا) دائیں بائیں آگے پیچھے ہر طرف دیا اور ایسے لوگ کم ہی ہوں گے۔

اس حدیث سے فرض حقوق کی ادائیگی اور معاشرے میں پیدا ہونے والی ضرورت کو پورا کرنے کے سلسلے میں پیش قدمی کا پتہ چلتا ہے یہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

’’جو لوگ اپنے مال رات و دن اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں ان کے لیے ان کے رب کا بڑا اجر ہے اور انہیں کوئی خوف ہوگا نہ غم ۔‘‘ (التوبہ:۲۷۴)

خرچ کرنے کایہ مطلب نہیں کہ آدمی خرچ کرتا ہی چلا جائے یہاں تک کہ مفلس ہوجائے یہ غیر دانشمندانہ سوچ ہوگی۔ مقصد بخل پر قابو پانا اور اچھی طرح ہمدردی کرنا ہے۔ حضرت جابرؓ بن عبداللہ کی ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک شخص رسولؐ اللہ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ایک جگہ سے مجھے یہ مال ملا ہے۔ اس کے علاوہ میرے پاس کوئی مال نہیں ہے تو اسے صدقہ ہی میں قبول فرمالیجیے۔ اس نے بار بار اصرار کیا لیکن آپؐ نے قبول نہیں فرمایا اور کہا کہ تم میں سے ایک شخص اپنا سارا مال لاتا ہے اور کہتا ہے یہ صدقہ ہے۔ پھر وہ لوگوں سے مانگتا پھرے گا۔ بہترین صدقہ وہی ہے جو تونگری میں سے دیا جائے۔ زکوٰۃ کے سلسلہ میں حدیث نے مقدار متعین کردی ہے جمع مال و دولت اور سامان تجارت میں ڈھائی فیصد سینچائی وغیرہ والی فصلوں میں پانچ فیصد بغیرسینچائی وغیرہ والی فصلوں میں دس فیصد۔ اسی طرح مویشیوں اور سونے چاندی وغیرہ میں بھی مقررہ مقدار ہے۔

زکوٰۃ ہمارے دین کا بہترین عمل ہے جس نے معاشرے کو بہت سی مصیبتوں سے بچایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حقوق میں پہلا اور سب سے اہم حق ہے اور زکوٰۃ نکالنے کی بنیاد اللہ تعالیٰ سے قربت حاصل کرنے اور اس کے حکم کی اطاعت اور ثواب کی طلب پر ہے۔

حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ قبیلہ تمیم کا ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! میں کافی دولت و جائیداد اور اہل و عیال رکھتا ہوں مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیسے خرچ کرنا چاہیے؟ آپؐ نے فرمایا: اپنے مال سے زکوٰۃ نکالو وہ تمہیں پاک کرے گی، اپنے رشتہ داروںکے ساتھ سلوک کرو اور مسکین، پڑوسی اور سائل کا حق پہچانو(احمد)۔ بہر صورت مسلمانوں کو کشادہ حالی میں بھی خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور تنگ دستی میں بھی لوگوں کی مصیبت دور کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

’’دوڑ کر چلو اس راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین و آسمان جیسی ہے اور وہ ان خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی ہے جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بدحال ہوں یا خوش حال۔ (آل عمران: ۱۳۳-۱۳۴)

خوشحالی میں تو خرچ کرنے کی بات واضح ہی ہے۔ تنگ دستی میں اس صورت میں خرچ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جب دوسرے لوگوں کی حالت قابل رحم حد تک بری ہوجاتی ہے۔ ایسی حالت میں اپنے کھانے تک میں سے دے دینا چاہیے اور وہ بھی خوشدلی کے ساتھ۔ یہ آسمانی ہدایت ہے اور ہمیشہ سے چلی آرہی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
علامہ محمد الغزالیؒ

تبصرہ کیجیے