3

کرن آرزو کی (۳)

اور پھر یہی ہوا۔ غضنفر صاحب ہسپتال میں داخل ہوگئے اور عائشہ ان کے گھر آگئی۔ فریدہ کے کمرے میں اسے بھی جگہ مل گئی سارا دن وہ مصلے پر بیٹھی رہتی۔ نفل پڑھتی قرآن حکیم کی تلاوت کرتی، سورئہ یاسین پڑھتی اور اپنے دادا کی صحت یابی اور زندگی کے لیے دعائیں کرتی رہتی۔ ہر وقت روتے رہنے سے اس کی آنکھیں سوج گئیں تھیں۔ اماں بی اور لڑکیاں اسے بہت تسلی دیتیں، بے حد سمجھاتیں مگر جو اس کے دل پر گزر رہی تھی اس سے وہ خود ہی باخبر تھی۔ دادا کے سوا اس کا دنیا میں اور تھا ہی کون۔ ان کے بغیر جینے کا تصور اس کے لیے ایک بھیانک خواب تھا۔ چاروں طرف گھٹا ٹوپ اندھیرا تھا اور وہ جو ایک معمولی سادیا تھا وہ بھی ٹمٹما رہا تھا۔ اگر یہ بھی بجھ گیا تو پھر کہاں جائے گی، کہاں رہے گی اور کیا کرے گی۔ خوف نے اپنے شکنجے میں اسے پوری طرح جکڑا ہوا تھا۔ کھانا، پینا، سونا سب چھوٹ گیا تھا۔ ایک وحشت اور گھبراہٹ تھی جس نے اسے اندر اور باہر سے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔

جس روز آپریشن تھا الیاس صاحب اور اماں بی کے ساتھ وہ بھی سویرے سویرے ہسپتال پہنچ گئی۔ غضنفر صاحب آپریشن تھیٹر میں لے جائے جاچکے تھے۔ وہ سب باہر وزیٹرز گیلری میں بچھی ہوئی بنچوںپر بیٹھ گئے۔ وقاص کی گاڑی رکی اور وہ اترکر سیدھے اماں بی اور ابا میاں کے پاس گئے۔ وہ بھی سیاہ برقعے میں لپٹی پاس بیٹھی تھی۔ اس کی سفید انگلیوں کے گرد سیاہ تسبیح لپٹی ہوئی تھی۔ ہاتھوں کی لرزش صاف نظر آرہی تھی، وقاص نے نظریں جھکائیں تو اس کے قدموں میں جاکر ٹھہر گئیں۔ سفید چپلوں میں جیسے کسی نے صندل سے تراش کر دو نازک اور بے داغ پاؤں رکھ دئے ہوں۔

’’آپ گھبرائیے نہیں۔ کوئی اتنا پیچیدہ آپریشن نہیں ہے۔ اللہ نے چاہا تو آپ کے دادا میاں بالکل ٹھیک ہوجائیں گے۔ ہماری دواؤں سے آپ کی دعاؤں میں زیادہ اثر ہے۔ کیا آپ کو یقین نہیں؟ وقاص نے ذرا مسکرا کر پہلی بار اس سے خطاب کیا اور پھر ابا میاں کی طرف مڑگئے۔ لرزتی ہوئی آواز نے جیسے سرگوشی کی ’’آپ کی کامیابی کے لیے مسلسل دعا کررہی ہوں۔ آپ کی کامیابی دراصل میری زندگی ہے۔ ورنہ میں تو جیتے جی مرجاؤں گی۔‘‘

عاشی کی ملتجی نگاہیں ان کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں مگر وہ ان ملتجیانہ نگاہوں سے بے خبر اماں میاں سے باتیں کررہے تھے۔ عاشی کو خدا کے بعد وہ ہر چیز پر قادر نظر آرہے تھے۔ اسے لگ رہا تھا کہ وہ اتنے طاقت ور اور بڑے ہیں کہ ضرور ہی اس کے دادا جان کو زندگی بخش دیں گے جہاں دنیا کا ہر شخص بے اختیار اور مجبور نظر آرہا تھا اور وہ بااختیار اور ہر چیز پر حاوی دکھ رہے تھے۔ ان کے یہ ہاتھ اور یہ انگلیاں مردہ تنوں میں زندگی ڈال سکتے تھے ان کی اس عظمت کے سامنے وہ کتنی عاجز، لاچار اور سرنگوں سی تھی۔

وقاص تیز تیز قدم اٹھاتے اندر چلے گئے، ہاتھ دھوتے ہوئے، گلوز پہنتے ہوئے اور آل کی ڈوریاں کسواتے ہوئے مسلسل ان کا کہا ہوا فقرہ ان کے کانوں میں گونج رہا تھا۔ وہ جھنجھلا اٹھے۔

’’کیا مصیبت ہے۔ یہ آواز میرے اعصاب پر کیوں سوار ہوگئی ہے۔ کیا انوکھاپن ہے اس میں۔ کون سا راز ہے۔ یہ کانوں سے سیدھی دل میں کیوں اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ارے بھئی مجھے کیا ہوگیا ہے۔ بتانِ فرنگ کا جادو اس دل پر نہ چل سکا، سب ہار گئیں۔ حسینانِ مشرق کا فسوں بے اثر رہا۔ کتنی ہی مہ جبینوں اور کافر اداؤں سے واسطہ پڑا مگر میں ریشم کے کیڑے کی طرح اپنے خول میں چھپا رہا۔ کئی مہ رخوں نے درِ دل پر دستک دی مگر دروازے نہ کھل سکے۔ پھر آخر اس چھوٹی سی معصوم سی لڑکی کی آواز کی بازگشت کیوں مجھے اپنی روح کی اتھاہ گہرائیوں میں سنائی دیتی ہے۔ اس آواز میں کتنی اپنائیت ہے حالانکہ آواز کی صورت تک میں نے نہیں دیکھی۔ کہیں میں اس کی مظلومیت اور بے کسی سے تو متاثر نہیں ہورہا۔ آواز میں جو ایک غم آلود سی نغمگی ہے کہیں وہ تو میرے دل کے تاروں کو نہیں چھیڑ رہی؟ عجیب ہی معاملہ ہے کچھ۔ انھو ںنے جھرجھری سی لی۔ کن سوچوں میں گم ہوگئے تم۔ تمہاری زندگی میں صنفِ نازک کا کیا دخل۔ میاں وقاص تم اپنی سرجری ہی میں گیان ڈھونڈو تو اچھا ہے۔ تمہاری زندگی تو چیرپھاڑ تک ہی محدود رہنی چاہیے۔ تمہاری کہانی میں کوئی ہیروئین نہیں ہے۔ تمہارے لیے دنیا کی ہر عورت شجرِ ممنوعہ ہے۔ سمجھے تم۔ بھول گئے ان دو کو جوزنجیروں میں جکڑے وحشیانہ قہقہے لگا رہے ہیں۔ وہ چونک اٹھے۔ نرس انہیں ماسک پکڑا رہی تھی اور چند منٹ بعد وہ آپریشن کے لیے تیار ہوچکے تھے۔ اب وہ محض ایک سرجن تھے اور انہیں صرف اتنا یاد تھا کہ ان کو اپنی ساری صلاحیتیں اور سارے علم کا زور لگا کر اپنے مریض کا مرض دور کرنا ہے اوراس کی جان بچانے کی کوشش کرنی ہے۔

تین گھنٹے کے جان لیوا انتظار کے بعد وہ باہر نکلے، عاشی بے چین ہوکر اٹھ کھڑی ہوئی۔

’’آپریشن اللہ کے فضل سے کامیاب رہا۔ مجھے افسوس ہے کہ فی الحال آپ ان سے نہیں مل سکیں گی۔ وہ دو دن آئی، ٹی، سی وارڈ میں رہیں گے۔ ابا میاں آپ لوگ اب گھر جائیں۔‘‘ انھوں نے خشک اور مشینی انداز میں کہا اور اسی لمحے وارڈ بوائز ٹرالی ڈھکیلتے ہوئے نکلے۔ غضنفر صاحب بے سدھ پڑے تھے۔ سفید چادر ان کے کندھوںتک تھی۔ سر پر سفید کپڑے کی ٹوپی تھی، چہرہ بالکل سفید تھا نرس نے ڈرپ کی تھیلی پکڑی ہوئی تھی وہ ان کی طرف لپکی۔

’’ادھر کدھر جارہی ہیں۔ آپ نے سنا نہیں تھا میں نے کیا کہا ہے۔ دو دن آپ لوگ ان سے نہیں مل سکتے۔ جائیے ابا میاں کے ساتھ گھر جائیے۔‘‘ انھوں نے سختی سے کہا۔ وہ سہم کر وہیں رک گئی جیسے قدم زمین میں گڑ گئے ہوں۔ وہ دوبارہ اندر چلے گئے۔

دو دن عاشی نے جیسے انگاروں پر بسر کیے۔ وہ دو دن کچھ ایسے طویل ہوئے کہ صدیاں ان کے سا منے سمٹ گئیں۔ رات کسی طور ڈھلنے کا نام نہیں لیتی تھی۔ اس کی آنکھیں جلنے لگتیں، ان میں ریت سی بھر جاتی، سر چکرانے لگتا اور بدن ٹوٹنے لگتا۔ مگر نیند آتی نہ سورج طلوع ہوتا۔ اس دن کی ڈانٹ کے بعد اس کی ہمت نہیں پڑتی تھی کہ وہ اپنے دادا کا حال تفصیل سے پوچھتی۔ سوال جواب کرتی۔ وہ پچھواتی کیسے ہیں۔ جواب ملتا ٹھیک ہیں۔ اللہ اللہ خیر صلاَّ۔ نہ اس سے زیادہ پوچھنے کا یارا تھا نہ اس سے زیادہ جواب ملنے کی توقع تھی۔

دو دن بعد جب وہ پرائیویٹ کمرے میں آگئے۔ تب کہیں جاکر اس نے ان کی صورت دیکھی۔ پہلے ہی دبلے پتلے تھے اب تو اور بھی ہڈیوں کا ڈھانچہ لگ رہے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے کسی نے سارا لہو نچوڑ لیا ہو۔ مگر وہ زندہ تھے اور مسکرارہے تھے۔ وہ بھی ہنس رہی تھی مگر آنکھیں آنسوؤں کی شبنم لٹا رہی تھیں۔ بھری بارش میں دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ اس نے فوراً دو نفل شکرانے کے ادا کیے۔ غضنفر صاحب کی زندگی اور ان کی مسکراہٹ اس کے نزدیک وقاص کی مرہونِ منت تھی۔ اس کا دل ان کے لیے عقیدت اور شکر گزاری کے جذبے سے معمور تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اتنے بڑے احسان کا بدلہ کیونکر چکا سکے گی۔ وہ سیدھی سادھی، معصوم، بے یارومددگار اور تہی دامن لڑکی تھی، آخر اس کے پاس تھا ہی کیا جو اس کو پیش کرسکتی۔

شام ہوچکی تھی اس نے دادا جان کو سوپ پلایا اور خود مغرب کی نماز کے لیے کھڑی ہوگئی۔ابھی اس نے سلام نہیں پھیرا تھا کہ ڈاکٹر وقاص ایک دو نرسوں اور ڈاکٹروں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے۔ ایک لمحے کے لیے وہ ٹھٹک کر رہ گئے۔ آج پہلی بار اس چہرے کو بے نقاب دیکھ رہے تھے جس کی آواز نے ان کی دل کی دنیا میں ہلچل مچادی تھی۔ وہ یہ فیصلہ نہیں کرپا رہے تھے کہ آواز زیادہ سحر انگیز ہے یا صورت، گلابی دوپٹے کے ہالے میںچمپئی چہرہ آب دار موتی کی طرح دمک رہا تھا۔ انھوں نے زبردستی اپنی نظریں ہٹائیں اور غضنفر صاحب کی متوجہ ہوگئے۔ عاشی نے سلام پھیرا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی بے اختیار ان کی نگاہیں پھر اس طرف اٹھ گئیں۔ باریک کھچی ہوئی نفیس بھنوؤں کے نیچے سیاہ کٹورا سی بھیگی بھیگی آنکھیں انہیں دیکھ رہی تھیں۔ کتنی گہرائی اور حزن تھا ان آنکھوںمیں، آواز کی طرح آنکھیں بھی سیدھی نہاں خانۂ دل میں اترتی چلی جاتی تھیں۔ کتنی بڑی اور روشن آنکھیں تھیں جیسے دو چراغ جل رہے ہوں۔ آنکھیں چار ہوتے ہی پلکوں کی چلمن گر گئی۔ اس نے پیٹھ موڑلی، اٹھنے اور چھپنے کا موقع نہ تھا۔

غضنفر صاحب سے فارغ ہوکر جاتے ہوئے وہ عاشی کی طرف مڑے۔ پشت پر سیاہ گھنے اور ہلکے لہرئیے بالوں کا ڈھیر جانماز کو چھورہا تھا ’’ان کی غذا کا خیال رکھئے گا۔ خوب کھلائیے گا پرہیز نہیں ہے۔ پھلوں کا جوس دیں، زبردستی کرنی پڑے تو دریغ نہ کیجیے گا۔ تاکہ جلدطاقت بحال ہوجائے۔‘‘

یہ کہہ کر وہ جلدی سے باہر نکل گئے۔ وہ ان سیاہ بل کھاتی ناگنوں سے ڈسے جانے کے لیے تیار نہ تھے۔ وہ کہاں ساری عمر اس زہر کا تریاق ڈھونڈتے رہتے مگر اس کے بعد ان کا دل ہسپتال میں نہ لگا۔

اس کے بعد عائشہ نے خاص طور پر یہ کوشش کی کہ راؤنڈ کیے وقت کمرے میں نہ ہوا کرے تاکہ پھر سامنا نہ ہوسکے۔ وہ ویسے بھی ان سے کچھ خائف سی رہتی تھی۔ ایک ہفتہ اسی طرح گذر گیا۔ اتوار کے دن اس نے دادا جان کو سپنچ کیا، کپڑا بدلوائے، ناخن وغیرہ کاٹے اور تکیوں کا سہارا دے کر بٹھادیا۔ خود پاس کرسی پر بیٹھ کر سنڈے ایڈیشن میںسے مضمون سنانے لگی۔ اچانک خلاف توقع وقاص آگئے۔ وہ آج تنہا تھے۔عائشہ ہڑبڑا کر کھڑی ہوگئی، اس نے سامنے پڑی ناگن جیسی چوٹی پیچھے پھینکی اور غسل خانے کی طرف لپکی۔

’’کدھر جارہی ہو بیٹا، بیٹھی رہو۔ وقاص میاں سے کیا پردہ یہ تو اب میرا بیٹا بن گیا ہے۔ جس طرح اس نے میری خبر گیری او رنگہداشت کی ہے کوئی سگا بھی ہوتا تو نہ کرسکتا۔‘‘

عائشہ نے سر پر آنچل ڈال لیا۔ سیاہ بالوں میں باریک کہکشاں سے جگمگاتی مانگ سفید دوپٹے کے بادل تلے چھپ گئی۔ وہ نظریں جھکائے سمٹ کر کرسی پر بیٹھ گئی۔ وقاص بڑی بے تکلفی سے غضنفر صاحب کے پہلو میں بستر پر بیٹھ گئے۔ غضنفر صاحب بڑے خوشگوار موڈ میں تھے۔ بات سیاست سے ہوئی ہوئی شعرو ادب کے چمنستان تک جا پہنچی۔ وقاص کی کوشش کے باوجود نظریں کبھی کبھار نظریں بھٹک کر سفید کپڑوں میں ملبوس لڑکی پر جا پڑتی تھیں۔ آج کل کے دور میں کیا اتنی شرمیلی اور بھولی بھالی لڑکیاں ہوتی ہیں یا یہ محض اداکاری کررہی ہے وقاص نے سوچا۔ عائشہ ان کی نگاہوں سے بے خبر نہیں تھی۔ اس کی منّی سی خوبصورت ناک میں سفید لونگ ستارے کی طرح چمک رہی تھی باقی چہرہ آنچل میں چھپا ہوا تھا۔ کالی رات سی آنکھیں وقاص کے چہرے کا طواف کرتیں مگر جیسے ہی وہ متوجہ ہوتے نگاہیں فرش پر گڑ جاتیں۔ اس معصومیت کے باوجود اس حسن میں عجب شانِ دلربائی اور رعنائی تھی۔

’’میاں میں تمہار کس منہ سے شکریہ ادا کروں۔ کیا یہ کم ہے کہ تمہارے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا بخشی۔ مگر اب ایک بات تم بھی مان لو۔ ہسپتال کا خرچ وغیرہ … دیکھو بیٹا میںاتنا امیر تو نہیں مگر مفت …‘‘‘

’’کیسی باتیں کررہے ہیں آپ۔ ایک طرف مجھے بیٹا کہتے ہیں دوسری طرف خرچ کی بات کرتے ہیں۔ براہ کرم اس قسم کی بات مجھ سے نہ کیجیے گا۔‘‘

’’بیٹا تم جو میرا خیال کرتے ہو اور تمہارا اسٹاف جس طرح مجھے ٹریٹ کرتا ہے جیسے میں کوئی بہت ہی عظیم ہستی ہوں، بولو تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو اس طرح کی وی آئی پی ٹریٹ منٹ مجھے مل سکتی تھی؟ اور کتنا زیربار کرنا چاہتے ہو۔ کاش میری آخری خواہش بھی پوری ہوجائے اور میں اتنے دن اور جی لوں کہ عاشی کو اپنے گھر رستا بستا دیکھ لوں۔‘‘

وقاص نے عاشی کو دیکھا جو اور جھک گئی تھی۔ وہ اچانک کھڑے ہوگئے۔ ’’میں نے جو کچھ کیا ہے چچا جان وہ میرا فرض تھا۔ آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تب بھی بحیثیت ڈاکٹر کے میں یہی کرتا۔ زندگی اور شفا دینے والا خدا ہے۔ ڈاکٹر بے چارے تو خود اس کے سامنے بے بس اور مجبور ہیں۔ باقی رہ گئے آپ تو انشاء اللہ بہت دن جئیں گے اور بہت کچھ دیکھیں گے۔ آپ کی ساری خواہشیں پوری ہوں گی۔ آپ اطمینان رکھیں۔‘‘

وقاص کا مسکراتا چہرہ ایک دم بجھ سا گیا اور آنکھیں سوگوار ہوگئیں۔

’’کیا ہوا صاحبزادے میری تو کوئی بات ناگوار نہیں گذر گئی۔‘‘ غضنفر صاحب ان کی بدلی ہوئی کیفیت سے گھبراگئے۔

’’نہیں جی آپ کی کوئی بات بھلا کیسے ناگوار گذرسکتی ہے۔ آپ کی باتیں تو بخدا اتنی اچھی ہوتی ہیں کہ جی چاہتا ہے آپ بولتے جائیں اور میں سنتا رہوں۔ بس مجھے اپنا ایک مریض یاد آگیا۔ باتوں میں خیال ہی نہ رہا۔ اچھا اب اجازت چاہتا ہوں۔ ‘‘ اور وہ کمرے سے نکل گئے۔ دو کالی کالی بھونرا سی آنکھیں دیر تک اس دروازے پر گڑی رہیں جس سے وہ نکل کر گئے تھے۔

وقاص ابھی ابھی ہسپتال سے لوٹے تھے۔ گھر میں ایک ہنگامہ سا برپا تھا۔ راشدہ رو رہی تھی وہ پریشان سے ہوگئے۔

’’کیا ہوا؟‘‘

’’اماں بی زخمی ہوگئی ہیں۔‘‘

’’کیا!‘‘ وہ چلا اٹھے ’’کیسے؟ کہاں ہیں وہ؟‘‘

’’اپنے کمرے میں ہیں۔ میں ان کے لیے دودھ لینے جارہی ہوں۔‘‘

وہ تیزی سے اماں بی کے کمرے میں داخل ہوئے۔ وہ بستر پر نیم دراز تھیں۔ ماتھے پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ عائشہ پائنتی بیٹھی ان کے پاؤں دبا رہی تھی۔ ’’کیا ہوا اماں بی؟‘‘ وہ بے چین سے ہوکر ان پر جھک گئے۔ اماں بی نے آنکھیں کھولیں۔ ہاتھ اٹھا کر بڑی شفقت سے ان کے چہرے پر پھیرا۔

’’کچھ نہیں چندا، بس چوٹ لگ گئی ہے، معمولی سی ہے۔‘‘

’’آخر کیسے لگ گئی، کچھ پتہ بھی تو چلے۔‘‘

’’چوٹ کیسے لگتی ہے؟‘‘ انھوں نے مسکرا کر پوچھا۔

’’آپ مجھ سے کچھ چھپارہی ہیں۔ ٹھہرئیے میں دیکھوں تو ذرا زخم کیسا ہے۔ یہ کس اناڑی نے پٹی کی ہے۔‘‘

عائشہ کے رخسار سرخ ہوگئے ’’عائشہ نے کی ہے بیٹا۔‘‘

’’ہسپتال میں چند روز تیمار داری کرکے یہ غالباً خود کو ڈاکٹر سمجھنے لگی ہیں۔ اتنا گہرا زخم ہے اس میں تو کم از کم دو یا تین ٹانکے لگیں گے۔ فریدہ کہاں تھی؟‘‘

’’وہ ابھی تک واپس نہیں آئی‘‘ عائشہ کی آنکھوںمیں آنسو جھلملا رہے تھے۔

’’چلئے پھر اٹھئے میں پہلے آپ کو اسپتال لے کر جاؤں گا، غضب خدا کا، کوئی دودھ گرم کررہا ہے، کوئی ٹانگیں دبا رہا ہے، یہ نہیں کہ مجھے فون کردیا جاتا۔‘‘

’’میں نے خود منع کردیا تھا ورنہ عائشہ تو تمہیں فون کرنے لگی تھی۔‘‘

ان کی نگاہ چھلکتے پیمانوں پر پڑی۔ گوانہیں وہ زخم نظر نہ آیا جو ان کے الفاظ نے دل نازک پر لگایا تھا۔ بہرحال ان کی یہی خواہش تھی کہ ان کی وجہ سے لڑکیوں کے رخساروں پر گلاب کھلنے کی بجائے موتیوں کی لڑیاں ہی ٹوٹا کریں تو اچھا ہے۔

’’چلئے اٹھئے اماں بی۔‘‘

’’میں کہیں نہیں جاتی۔ یہ زخم خود ہی بھر جائے گا۔ تم جاؤ ہاتھ منھ دھو کر کھانا کھاؤ۔‘‘

’’اس وقت میں آپ کا بیٹا نہیں ہوں اس لیے آپ کا حکم ماننے سے انکار کرتا ہوں۔ میں ایک ڈاکٹر ہوں آپ مریضہ۔‘‘

وہ زبردستی انہیں ہسپتال لے گئے۔ ٹانکے لگائے، واپس لائے۔ دوا دی، اور جب تک وہ سو نہیں گئیں ان کی پٹی سے لگے رہے اسی میں شامل گہری ہوگئی انھوں نے اب تک کھانا نہیں کھایا تھا۔ اپنے کمرے میں تھکن سے چور کرسی پر نیم دراز تھے۔ پاؤں سامنے میرز پر پھیلائے ہوئے تھے۔

’’کھانا لے آؤں‘‘ وہی سات سروں کے رس میں بھیگی آواز گنگنائی۔

’’کیوں، کیا اور کوئی گھر میں نہیں ہے۔ کسی نوکر کو کہہ دیجیے۔‘‘ انھوں نے اسی طرح آنکھیں موندے موندے کہا۔

’’اس وقت تو کوئی نوکر گھر پر نہیں ہے۔‘‘

’’راشدہ یا فریدہ سے کہہ دیجیے۔‘‘

’’فریدہ باجی کی رات کی ڈیوٹی ہے وہ سورہی ہیں۔ راشدہ باجی کا کل ٹسٹ ہے وہ کسی سہیلی سے نوٹس لینے گئی ہیں۔‘‘

انھوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ چند لمحے انتظار کرکے عاشی آہستگی سے لوٹ گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ کھانے کی ٹرے لے کر اندر آئی اور میز کے پاس کھڑی ہوگئی کہ وہ پاؤں ہٹائیں تو ٹرے رکھے۔ وہ آنکھیں بند کیے اپنے خیالات کی اندھیری گلیوں میں بھٹک رہے تھے۔ ’’کھانا کھالیجیے۔‘‘

’’رکھ دیجیے۔‘‘

’’میز سے پاؤں ہٹائیں تو رکھوں۔‘‘ انھوں نے ٹانگیں سمیٹ لیں۔ عائشہ نے ٹرے میز رکھ دی۔

’’آپ کھانا کھائیے میں چائے بھی لے آتی ہوں۔ تھکن دور ہوجائے گی۔‘‘

اس کو میری تھکن کی کیا فکر ہے۔ مجھے میرے حال پر کیوں نہیں چھوڑ دیتی۔

اور جب عائشہ چائے رکھ کر جانے لگی تو انھوں نے کہا ’’ذرا ٹھہرئیے۔‘‘

’’جی‘‘

عائشہ ایک دم حیران سے رہ گئی اور اس کا دل بری طرح دھڑک اٹھا۔ پتہ نہیں کیوں روکا ہے جانے کیا کہیں گے۔ کیا پھر مجھ سے کوئی جرم سرزد ہوگیا ہے۔ کیا پھر کوئی تازہ نشتر دل پر لگائیں گے۔

’’اماں بی کے یہ چوٹ کیسی لگی تھی کیا وہ گرگئی تھیں۔‘‘

وہ خاموش رہی۔ وقاص نے قدرے سختی سے پوچھا۔

’’جواب دیجیے نا‘‘

’’آپ ان سے ہی پوچھ لیں نا۔‘‘

’’میں آپ سے پوچھ رہا ہوں اور صحیح جواب چاہتا ہوں۔‘‘

عائشہ نے سوچا نزلہ ہمیشہ عضوِ ضعیف پر ہی گرتا ہے۔ سارے گھر میں مجھ سے بڑھ کر بھلا کون ہوسکتا ہے جسے آسانی سے دھمکایا جاسکے۔

’’وہ چھوٹے والے کی کنگھی کررہی تھیں۔ بڑے والے نے پاس پڑا ہوا تانبے کا گلاس اٹھا کر ان کے سر پر دے مارا اور پھر ان کا گلا گھونٹنے لگا۔ وہ تو ہم سب پہنچ گئے اور عبدالرحیم کی مدد سے بمشکل ان کو چھڑایا۔ آپ نے ان کا گلا نہیں دیکھا۔ انگلیوں کے نشان پڑگئے ہیں۔‘‘

وقاص کرسی دھکیل کر اٹھ کھڑے ہوئے ان کا چہرہ غصے سے سرخ ہورہا تھا عاشی سہم کر دیوار سے جالگی۔

’’بہت ہوچکا اب ان دونوں کو یہاں سے چلے جانا چاہیے۔ ان کا مزید ٹھہرنا خطر ناک بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کی نحوست کا جو سایہ ہماری زندگی پر پڑچکا ہے وہ نہیں مٹ سکتا۔ مگر کم از کم یہاں کے مکینوں کی زندگیاں تو خطرے سے نکلنی چاہئیں۔ اگر وہ اماں بی کو مار ڈالتا تو کیاہوتا۔ اف میرے خدا میں کیا کروں۔‘‘

وہ اپنی مٹھی بار بار ہتھیلی پر مار رہے تھے۔ عائشہ ان کی بے چینی اور اضطراب سے خائف تھی مگر یہ کہے بغیر نہ رہ سکی۔

’’اماں بی ان کی جدائی برادشت نہیں کرسکیں گی۔‘‘

’’اور اگر کسی وقت وہ کھل گئے یا زنجیر ٹوٹ گئی اور انھوں نے گھر کے کسی فرد کی جان لے لی تو پھر کیا ہوگا۔ نہیں ، نہیں اب انتظار نہیں کیا جاسکتا۔ ان کو جانا ہی ہوگا۔ یہ بات طے ہے میں کل ہی بھجوانے کا بندوبست کرتا ہوں۔‘‘ وہ جیسے اپنے آپ سے باتیں کررہے تھے۔

’’پہلے اماں بی سے پوچھ لیجیے گا۔‘‘ عائشہ نے آہستگی سے کہا۔

’’نہیں میں ان سے اب اور کچھ نہیں پوچھوں گا۔ ہم سب نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کی کوئی حد کوئی انتہا نہیں ہے۔ آپا کے بالوں میں سفیدی آگئی ہے۔ راشدہ اور فریدہ تمام عمر اماں بی کی چوکھٹ سے لگی بیٹھی رہیں گی اور میں …‘‘ وہ کھڑکی میں جا کھڑے ہوئے۔

’’میں ہمیشہ تنہائی کی اس کال کوٹھری میں قید رہوں گا۔ میرے لیے سورج کی کوئی کرن ہے نہ چاند کی ٹھنڈی لو۔ نہ ستاروں کی جگمگاہٹ ہے نہ چراغوں کی جھلملاہٹ۔ دولت عزت اور شہرت میرے قدموں میں ڈھیر ہیں مگر کیا یہ چیزیں میرے دکھ سکھ کی ساتھی بن سکتی ہیں۔ اب اماں بی کی باری ہے وہ قربانی دیں گی۔ ہماری خاطر اپنی خاطر، ساری عمر اپنی ممتا ان پر بے دریغ لٹاتی رہیں۔ بنجر زمین میں محبت کی فصل کاشت کرتی رہیں۔ ہمارے لیے ان کے پاس وقت بچتا ہی نہیں تھا۔ وہ اتنا تھک جاتی تھیں کہ کسی اور کی طرف توجہ دینے کے قابل ہی نہیں رہتی تھیں ماں ہوتے ہوئے بھی ہم ان کی محبت اور شفقت سے محروم رہے۔‘‘ وہ پلٹے اور عائشہ کی طرف دیکھ کر چونک اٹھے۔

’’ارے آپ یہاں کھڑی کیا کررہی ہیں۔ آپ کو ہمارے ذاتی مسائل میں دلچسپی نہیں لینی چاہیے۔ خدا کے لیے یہاں سے چلی جائیے۔‘‘

عائشہ کمرے سے باہر نکل آئی وہ کچھ کچھ ان کی کیفیت سمجھ رہی تھی۔ بیٹھے بیٹھے کھوجانا۔ ہنستے ہنستے یک لخت خاموش ہوجانا۔ اچانک اٹھ کر چل پڑنا۔ بولتے بولتے چپ ہوجانا اور پھر جنس مخالف میں ہوّا سمجھے جاتے تھے۔ ساری نرسیں اورلیڈی ڈاکٹرز ان کے خشک رویے اور لا تعلقی کی بنا پر ان سے گھبراتی تھیں۔ خواتین کی نزاکت، لطافت، ناز اور ادائیں ان پر بے اثر ہوتی تھیں۔ بات کرنا تو دور کی بات ہے وہ ان کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔ دوسروں کی مسیحائی کرنے والا خود اپنے دکھ کی دوا کرنے سے قاصر ہے، عائشہ نے بڑے دکھ سے سوچا۔ دوسروں کو خوشیاں بخشنے والا خود اپنے لیے خوشیاں حاصل نہیں کرسکتا۔ ان کا نشتر ہر ناکارہ چیز کو کاٹ سکتا ہے، ہر زخم پر مرہم رکھ سکتا ہے۔ مگر اپنے زخموں کے لیے ان کے پاس کوئی مرہم نہیں۔ وہ اسے ناسور بننے سے نہیں روک سکتے۔ دوسروں کے گھروں کے چراغ بجھنے سے بچالیتے ہیں، مگر اپنے اندر گھور اندھیرا ہے۔ اپنے لیے روشنی کی تلاش ا کے لیے ممکن نہیں۔ تم جو اس طرح سوچ رہی ہو عائشہ مظفر علی بھلا تم اس معاملے میں کیا کرسکتی ہو۔ تم جو اتنی ناتجربہ کار، کمزور، نادان اور بے بس سی لڑکی ہو۔ تمہارے بس میں ہوتا تو شاید تم اس کال کوٹھری کی ساری دیواریں گرادیتیں۔ سورج کی ساری کرنیں سمٹ کر ان کی روح تک میں اجالا بکھیر دیتیں۔ ان کے دل کے اندر ستاروں کی قندیلیں روشن کردیتیں۔ آسمان سے چاند نوچ کر ان کے دامن میں ڈال دیتیں۔ قربانی دینا تو تم بھی جانتی ہو۔ تمہارا اتنا بڑا جگر ہے مگر تمہارے راستے میں تمہاری انا اور خودی کی دیوار کھڑی ہے جس کو گرانا تمہارے اختیار کی بات نہیں۔ تم خود پہل نہیں کرسکتیں۔ تم خود اپنے اس خیال کا اظہار نہیں کرسکتیں۔ یہ تم کیا سوچ رہی ہو عائشہ، پاگل تو نہیں ہوگئی ہو۔ اپنی اوقات سے بڑھ کر نہیں سوچنا چاہیے۔ ان کے لیے کیا دنیا میں لڑکیاں ختم ہوگئیں ہیں جو تم جیسی بے وقوف لڑکی کی تمنا کریں گے۔ وہ تو ویسے بھی تم سے سو فی صد بیزارنظر آتے ہیں۔ وہاں نو لفٹ کا نیون سائن مسلسل جل بجھ رہا ہے اور یہاں تم اپنا دل اپنی جان ساری آرزوئیں اپنے مستقبل کے سارے خواب ان کی بارگاہ میں نذر کرنے کو تیار ہو۔ کیسی نادان اور بے سمجھ لڑکی ہو تم، تمہارا بھی جواب نہیں ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ یاسمین نجمی

تبصرہ کیجیے