4

عراقی خواتین کی حالت زار

مسلمان اور قبائلی معاشرے عورتوں کے لیے سب سے محفوظ

اقوام متحدہ نے تولیدی صحت اور جنسی تفریق سے متعلق صدی، اہداف پر مشتمل سال ۲۰۰۵ کی رپورٹ جاری کردی ہے۔ سن ۱۹۹۱ میں ۱۰۰۰ مردوں پر ۹۴۵ خواتین تھیں۔ لیکن اب یہ گنتی مزید بدتر ہوگئی ہے۔ ایک ہزار مردوں کے مقابلے میں صرف ۹۲۷ خواتین ہیں۔ اس رپورٹ نے اس جنسی تفریق کے پیچھے سب سے زیادہ دوران حمل جنس کی شناخت کرکے بچیوں کے قتل کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بچیوں کی ٹریفکنگ، گھریلو تشدد، عصمت ریزی کے واقعات بھی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے نے مردوں سے اپیل کی ہے کہ اس مسئلے پر Zero tolerance قطعی عدم رواداری کا مظاہرہ کریں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال ۸ لاکھ افراد کو غریب ملکوں سے امیر ملکوں میں ٹریفک کیا جاتا ہے۔ اس میں ۸۰ فیصد خواتین اور بچیاں ہوتی ہیں۔

(دی ہندو، ۱۴؍اکتوبر۲۰۰۵ء)

ادھر ہندوستان ٹائمس نے انکشاف کیا ہے کہ جنسی تفریق کے سلسلے میں مسلمانوں کی حالت ملک میں عیسائیوں کے بعد سب سے اچھی ہے۔ عیسائی آبادی میں مرد و خواتین کا تناسب ایک ہزار میں ۹۶۴ جبکہ مسلمانوں میں ۹۵۰ اور بودھ میں ۹۴۲ ہے۔ لڑکیوں کے لیے سب سے بے رحم اور بدترین معاشرہ سکھ آبادی کا ہے جہاں ایک ہزار میں صرف ۷۸۶ خواتین زندہ رہ پاتی ہیں۔ عدم تشدد کے لیے معروف جین مذہب کی آبادی جنسی تفریق کے جرم میں شامل ہوگئی ہے۔ یہاں ۸۷۰ خواتین جبکہ عام ہندوؤں میں ۹۲۵ خواتین پائی جاتی ہیں۔

ہندوستا ن کی رپورٹر سچیتا شرما نے لکھا ہے کہ ’’اعلیٰ تعلیم یافتہ معاشرے لڑکیوں کے لیے سب سے ’’کمینے‘‘ واقع ہورہے ہیں۔‘‘ جبکہ جنگلوں میں بسنے والے قبائلی آدی باسی اور مسلمان معاشرے عورتوں کے لیے زیادہ محفوظ معاشرے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی بھی جنس کو رحم مادر میں یا پیدائش کے بعد قتل کرنا شدید جرم ہے اور اس پر جہنم کی وعید ہے۔ حکومت ہند نے Prenatal Diagnostic Techniques Actبنا کر جنسی تفریق پر پابندی عائد کردی ہے۔ لیکن حالات قانون کے قابو سے باہر ہیں۔

دیہی خواتین کے لیے کام کرنے والا گروپ نریندر مودی کے نشانے پر

گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو ابھی تک مسلم دشمن لیڈر کی شناخت حاصل ہے۔ اب انھوں نے گجرات زلزلے سے متاثرہ دیہی خواتین کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم سیوا SEWAکو اپنا نشانہ بنایا ہے۔ ’’سیلف ایمپلائڈ وومین ایسوسی ایشن سیوا‘‘ نام کی اس تنظیم کو اقوام متحدہ نے ۱۱۳ کروڑ روپئے سات سال کے ایک اہم پروجیکٹ کے لیے فراہم کیے تھے۔ یہ روپے اسے مرکزی اور ریاستی حکومت کے واسطے سے ملتے ہیں۔ گجرات حکومت نے سیوا پر الزام عائد کیا ہے کہ سیوا کی ایک بڑی ذمہ دار نے اپنی رشتہ دار کو ایک روپیہ فی صفحہ کے لیے فوٹو کاپی کی قیمت ادا کی ہے۔ اس کے نتیجے میں مودی حکومت نے سیوا کے ۸ کروڑ روپئے کا اگلا پیکج روک دیا ہے۔ اس پروجیکٹ کے ذریعہ زلزلے سے متاثر ۱۲۰۰۰ خواتین کو روزی روٹی کے کاموں سے جوڑا جانا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مودی سرکار کی نظر عنایت اس تنظیم پر کب ہوگی۔

کام کرنے والی خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بل

خواتین کمیشن نے خواتین کو ہراساں کیے جانے سے روکنے کے لیے مجوزہ بل پر نظر ثانی مکمل کرلی ہے۔ اب یہ بل جلد ہی پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ یہ بل سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ یہ بل پہلے خواتین کو جنسی ستم رسانی سے تحفظ کے نام پر پیش کیا گیا تھا لیکن اسے بعض تبدیلیوں کے لیے خواتین کمیشن کو نظر ثانی کے لیے واپس کردیا گیا تھا۔ بل میں تجویز دی گئی ہے کہ کام کرنے کے مقامات پر خواتین کو استحصال سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ مظلوم خاتون کو اپنی شکایت کمپنی میں ایک انٹرنل کمپلینٹ کمیٹی سے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس بل سے ان خواتین کو بھی تحفظ ملے گا جو غیر منظم شعبوں میں کام کررہی ہیں۔ خواتین کمیشن کی چیئرمین محترمہ گرجا ویاس نے بل کے بارے میں نئی دہلی میں صحافیوں کو معلومات فراہم کیں۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں مرکزی حکومت نے عورتوں کو رات کی ڈیوٹی انجام دینے کی اجازت دے دی ہے۔ اور ریاستی حکومتیں بھی اس پر عمل پیرا ہورہی ہیں۔

گیارہ فیصد عراقی خواتین سخت نفسیاتی دباؤ میں

بغداد میں عربی صحافی ابتسام کریم اور نصیر علی نے حال ہی میں عراقی خواتین کی حالت زار پر اپنی رپورٹ شائع کی ہے۔ عراق کی خواتین سخت نفسیاتی دباؤ اور خوف کے ماحول میں سانس لے رہی ہیں۔ نتیجتاً گھر کی معاشی کفالت سے لے کر سارے کام عورتوں کو انجام دینے پڑ رہے ہیں۔ امریکی فوجیوں کی طرف سے عام عراقیوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے۔ ایسے میں ان خواتین کو سخت سے سخت حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بعض لوگ ان خواتین کی محنت کشی اور پُر خطر زندگی کو دیکھ کر محسوس کرتے ہیں کہ گویا یہ عورتیں اب کبھی اپنی نسوانیت کے محفوظ دور میں واپس نہیں جاسکتیں۔ اس وقت عراق کے گیارہ فیصد خاندانوں کی کفالت خواتین کررہی ہیں۔ ان میں ۷۳ فیصد وہ بیوہ خواتین ہیں جن کے شوہر امریکی جنگ کے نتیجہ میں ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ عورتیں سخت محنت اور جدوجہد کے بعد بھی اپنے گھر اور بچوں کی کفالت کرنے سے قاصر ہیں اور ان کی ہفتہ وار آمدنی ۸۰ ڈالر سے بھی کم ہے۔

دہلی میں جرائم روکنے کے لیے خواتین افسران تعینات

دہلی کا شمال مغربی ضلع خواتین کے خلاف جرائم کا سب سے بڑا مرکز بن گیا ہے۔ اس سال ۴۰۰ عصمت دری کے واقعات میں ۱۰۰ سے زیادہ واقعات صرف اس ضلع میں پیش آئے ہیں۔ ۷۸ معاملے چھیڑ چھاڑ کے اور ۱۶۲ معاملے جہیز کے لیے تشدد کے استعمال کے سامنے آئے ہیں۔

دہلی پولیس علاقے کے جرائم پر حیرت زدہ ہے۔ اب اس نے ضلع کے ۲۰ تھانوں کا انتخاب کیا ہے اور یہاں ۴۰ سے زائد خواتین پولیس اہل کار تعینات کردئے ہیں۔ امید تو یہی لگائی جارہی ہے کہ خواتین کو تعینات کرنے سے واقعات میں کمی آئے گی۔ بعض غیر سرکاری تنظیموں اور ماہرین سماجیات نے دہلی پولیس کو خواتین افسران کو تعینات کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

فرح اور سبا اب الگ ہوں گی

پٹنہ، بہار کی فراح اور سبا عام لڑکیوں کی طرح باتیں کرتی ہیں۔ زندگی میں بہت سی خوشیاں ہیں اور غم بھی۔ یہ دونوں دو جسم ہیں، دو وجود ہیں لیکن کبھی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوسکتے۔ دونوں کا سر آپس میں جڑا ہے۔ سر میں ایک رگ ایسی ہے جو دونوں کے دماغوں میں خون سپلائی کرتی ہے۔ سبا کے جسم میں گردے ہی نہیں ہیں اس کا کام فراح کے گردوں سے چلتا ہے۔ ۱۰ سال کی دونوں بچیاں ایک دوسرے سے الگ ہونے کی تیاری کررہی ہیں۔ دونوں کی علیحدگی پر تقریباً چار کروڑ خرچ آسکتا ہے۔ یہ خرچ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زائد النہیان نے برداشت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دارالحکومت دہلی میں ہندوستان کے ماہر ڈاکٹرس کی ٹیم نے دونوں بچیوں کا معائینہ کیا۔ اس سلسلے میں امریکہ کے جانس ہاپکنس چلڈرن سینٹر کے ڈاکٹر بنجامن کارسن سے مشورہ لیا جارہا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دونوں بحفاظت علیحدگی ان کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔ فی الحال بچیوں کے والد محمد شکیل دونوں کو واپس پٹنہ لے گئے ہیں۔ یہ آپریشن دنیا کے خطرناک آپریشن میں سے ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ انھیں بہتر زندگی عطا فرمائے اور ان کا علاج کامیابی سے گذار دے۔ آمین۔

شیئر کیجیے
Default image
ترتیب: عمیر انس

تبصرہ کیجیے