5

بچپن سے محروم بچے

محمد عتیق کی عمر رکشہ کھینچنے کی نہیں تھی۔ لیکن پچھلے ایک مہینے سے وہ جامعہ نگر میں رکشہ کھینچ رہا ہے۔ کھانسی نے سینہ چھلنی کردیا ہے۔ علاج کے لیے سستی اور کام چلاؤ دوائیں کھا رہا ہے۔ عتیق اکیلے نہیں آیا اس کے گاؤں سے چھ لڑکے اور آئے ہیں۔ دو لڑکے مرادآباد میں ایک علی گڑھ اور دو لڑکے بھدوہی میں پیتل، تالا اور قالین کے کارخانوں میں چلے گئے ہیں۔ تیرہ چودہ سال کے ان لڑکوں نے استحصال کی دنیا خوب دیکھی ہے۔ لکھنؤ تو کافی مہذب شہر تھا۔ وہاں کے ہوٹلوں میں گدیوں پر بیٹھے مالکوں کی نمازیں شاید ہی چھوٹتی ہوں۔ لیکن ان کے ہوٹل بھی معصوم کلیوں کو پیس کر چل رہے ہیں۔ نفع نقصان کی بات کریں تو کم عمر بچوں سے مزدوری کرانے اور کام لینے میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔ سرمایہ پرست کو اور کیا چاہیے۔ سرمایہ پرست خواہ کوئی ہو کسی بھی شہر کا ہو یا کسی بھی مذہب کا وہ یہی دیکھتا ہے اور یہی کرتا ہے۔

۱۴؍نومبر کو ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کا یوم پیدائش ہے۔ بچوں سے ان کی دلچسپی کی وجہ سے ۱۴ نومبر کو یوم اطفال کے طور پر منایا جاتا ہے جبکہ ۲۰ نومبر اقوام متحدہ کے ذریعہ متعین کردہ عالمی یوم اطفام ہے۔ تاریخ اہم نہیں ہے جس دن انھیں ظلم سے رہائی ملے وہی ان کی خوشی کا دن ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ۱۴؍نومبر کو روایتی خانہ پوری کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ لیکن پھر بھی ملت اسلامیہ کے بچوں کی حالت زار پر ایک بار دل میں تکلیف ہی پیدا ہو تو اس یوم کا مقصد پورا ہوجائے گا۔

ملک بھی میں تقریباً ۴ کروڑ بچے مزدوری کررہے ہیں۔ اکیلے نئی دہلی میں ۵ لاکھ بچے اپنا معصوم بچپن کھو رہے ہیں۔ مرزا پور اور بھدوہی کی قالین صنعت میں ۱۵ سال سے کم عمر کے ایک لاکھ سے زیادہ بچے کام کررہے ہیں۔ فیروزآباد کی چوڑی اور شیشہ صنعت میں تقریباً ۷۰ ہزار بچے، لکھنؤ کے زری کاروبار میں ۷۰ ہزار بچے۔ علی گڑھ مرادآباد میں ۷۰ ہزار کے قریب بچے کام کرتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ یہ سبھی صنعتیں اکثر مسلمانوں کے زیر انتظام ہیں (گھروں میں کام کرنے والے، آفس بوائے، چائے کی دکانوں وغیرہ کی تعداد نہیں شمار کی گئی ہے۔) ۱۹۹۷ء میں ایک خبر آئی تھی کہ ۷۶ بچے جن میں اکثر لڑکیاں تھیں غیر قانونی طور پر سعودی عرب میں بھیک مانگتے تھے۔ انھیں سعودی حکومت نے واپس بھیجا۔ اس خبر نے بڑے بڑوں کے کان کھڑے کردئے۔ ان بچوں کو سعودی عرب کس نے بھیجا۔ کیسے بھیجا اور ان بچوں کا وہاں کیا استعمال ہورہا تھا۔ انھیں کون ڈیل کرتا تھا۔ کل ملا کر یہ قصہ چائلڈ ٹریفکنگ کا نکلا جو آج بھی پوری رفتارسے جاری ہے۔

بچہ مزدوری کا یہ نیٹ ورک ملک گیر ہے۔ آندھرا پردیش میں سب سے زیادہ یعنی ۲۱ فیصد بندھوا مزدور ہیں۔ کرناٹک میں ۱۰ فیصد سے زیادہ اور تمل ناڈو میں ۹ فیصدہیں۔ اڑیسہ جیسی ریاستوں کا معاملہ اور آگے ہے۔ یہاں بندھوا مزدوری کرنے کے بجائے بچے کی خریدوفروخت کی جاتی ہے۔ کان کنی کے لیے چھوٹے بچوں کا استعمال آج بھی جاری ہے۔ بچے ہونے کی وجہ سے یہ آسانی کے ساتھ گہری کانوں میں داخل ہوجاتے ہیں۔ اس کے بدلے کمپنیاں انہیں معمولی معاوضہ دے کر چلتا کرتی ہیں۔

بچوں کے استحصال کا دوسرا مرکز خود ان کا اپنا گھر اور ماحول ہوتا ہے۔ بچوں کا جسمانی، جنسی اور جذباتی استحصال ہوتا ہے۔ ماں باپ، رشتہ داروں اور دوسرے متعلقین کا پرتشدد رویہ بچے کے دہنی ساخت کو بگاڑتا ہے۔ غربت اور بے روزگاری سے پریشان حال علاقوں کے بچے اچھی تعلیم و تربیت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ خاص طور پر مسلم علاقوں کی صورتحال افسوسناک ہے۔ بچہ مزدوری کی لعنت مسلمانوں میں پیر پھیلارہی ہے۔

ناانصافی ہوگی کہ عالم اسلام کا تذکرہ نہ کیا جائے۔ بچوں کے لیے قائم اقوام متحدہ کا فنڈ اور امریکی ایجنسیاں بچوں پر کافی کچھ لکھتی پڑھتی ہیں۔ان کے مطابق عراق میں امریکی بربریت کے نتیجہ میں ۱۲ لاکھ بچے جاںبحق ہوگئے۔ ایک صحافی نے کہا تھا کہ عراق پر امریکی پابندیاں اپنے آپ میں وسیع تباہی کے ہتھیار تھے ۔ دوا، تعلیم اور صحت کی حالت خستہ ہے۔ فلسطینی بچوں کی حالت ناقابل بیان ہے۔ اسرائیلی حملوں نے فلسطین کا تعلیمی و تربیتی نظام تباہ کردیا ہے۔ معذور بچوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ پچھلے سال اسرائیل ہیومن رائٹس تنظیم ’’بی تسلیم ‘‘نے خود اپنی ہی حکومت کو مجرم قرار دیا تھا۔ افریقی ممالک میں نائیجیریا کی صورتحال دھماکہ خیز ہے۔ شدید قحط سالی نے ۱۳ لاکھ سے زیادہ بچوں کی جان لی ہے۔

خود ساختہ مہذب ملک امریکہ میںبچوں کی اخلاقی اور دماغی حالت بدتر ہے۔ پچھلے دنوں ایک بچے نے اسکول میں اپنی رائفل سے متعدد بچوں کو ہلاک کرڈالا ۔ کم عمر بچیاں وقت سے پہلے ماں بن رہی ہیں۔ ناجائز تعلقات کی وبا بچوں میں پھیل چکی ہے۔

پلٹو اپنے رب کی طرف

دنیا کا کوئی خطہ آج بچوں کے لیے محفوظ نہیں ہے۔ تمام تر ترقیات کے باوجود اخلاقی پسماندگی اور غربت نے بچوں کے استحصال کو ایک تجارتی شکل دے دی ہے۔ لیکن ساری ترقیات سے بہت پہلے مدینے میں آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ آپؐ نے کبھی حضرت انسؓ کو اف تک نہیں کہا۔ حضرت زید آپ کے غلام تھے لیکن انھوں نے اپنے والد کے ساتھ جانے سے انکار کردیا۔ اور ان کی بعض تعلیمات بچوں کے حقوق کی بات کرنے والوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ فرمایا:

٭ اکرموا اولادکم واحسنوا ادبہم۔ (ابن ماجہ)

’’اپنی اولاد کی عزت نفس کا خیال رکھو اور ان کی بہترین تربیت کرو۔‘‘

٭علموا اولادکم واہلیکم الخیر و ادبوہم (مصنف عبدالرزاق)

’’اپنے بچوں اور گھر والوں کو بھلائی کی تعلیم دو اور ان کی تربیت کرو۔‘‘

٭الرجل راعٍ فی اہلہ ومسئول عن رعیتہ (بخاری و مسلم)

’’مر داپنے گھر بار کا ذمہ دار ہے۔ اس سے اپنے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘

٭حدیث شریف میں بتایا گیا ہے کہ بچہ اپنے ماں باپ کی وجہ سے صحیح اور غلط راستے پر جاتا ہے:

کل مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ ویہودانہ او ینصرانہ او یمجسانہ (بخاری)

’’ہر بچہ فطر پرپیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین اس کو یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔‘‘

٭ والدین کے لیے بہترین تربیت پر خوشخبریاں سنائی گئی ہیں:

إذا مات الانسان انقطع عملہ الا من ثلاث: صدقۃ جاریۃ او علم ینتفع بہ او ولد صالح یدعو لہ۔ (مسلم)

’’جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے۔ صرف تین اعمال کا اجر جاری رہتا ہے۔ (۱) صدقہ جاریہ (۲) علم نافع (۳) نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔

٭بالخصوص لڑکیوں کی تربیت پر نبی اکرم ﷺ نے متعدد بشارتیں فرمائی ہیں۔

ان احادیث اور اسوئہ رسول کے تذکرے کے بعد اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارا موجودہ مسلم معاشرہ بچوں کے تعلق سے کس قدر غفلت کا شکار ہے۔ ایک طرف ملک کے عام انسانوں او ر عام بچوں کو جہنم سے بچانے کی ذمہ داری، پھر اپنے نو نہالوں کی تربیت کی ذمہ داری ہر مسلمان پر عائد کی گئی ہے۔ وہ ماں باپ کوجو اپنے بچوں سے صرف پیسہ کمانے کا کام کراتے ہیں، ان کی تعلیم و تربیت کے لیے وہ ادنی مشقت برداشت نہیں کرتے جہاں کل روز آخرت میں وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہوں گے وہیں وہ لوگ جنھیں اللہ نے نوازا ہے لیکن نوازش کی وجہ سے غفلت میں ہے اور اپنے بچوں کو معصیت اور بداخلاقی کی طرف چھوڑ رکھا ہے۔ اس کے بارے میں بھی حساب ہوگا۔

شیئر کیجیے
Default image
عمیر انس

تبصرہ کیجیے