4

سفر

کئی دنوں بعد آخر اس نے ہمت جمع کرلی۔ گھر میں سناٹا ہوا تو اس نے دروازہ بند کیا اپنے کمرے میں اسٹول لاکر پنکھے کے نیچے رکھا کمرے کا دروازہ بند کیا پنکھے میں رسی لٹکا کر رسی کے دوسرے سرے پر پھندہ بنایا اور گلے میں ڈال لیا۔ دل کچھ دیر کو ڈگمگایا پھر پریشانیاں یاد آئیں تو اسٹول کو لات ماردی۔ دھڑام کی آواز آئی، اور پھر خاموشی، ہمیشہ کی خاموشی۔ اس کے بعد کیا ہوا میں بھی کچھ نہیں جانتی۔ میں اس کی کہانی سنا رہی ہوں۔ جب اس نے اسٹول گرایا تو اسے بہت تکلیف ہوئی ہوگی۔ رسی نے اس کے گلے کو بری طرح جکڑ دیا تھا۔ لیکن اس کے بعد اسے کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ تکلیف تو وہ تھی جب اس کی دن رات کی محنت ناکام ہوگئی اور لگاتار دوسری بار بھی وہ انٹر میں ناکام ہوگئی۔ محلے والے اور پاس پڑوس تودور خود گھر والوں کے طعنے سن سن کر اس کے زخم بڑھتے جارہے تھے۔ آخر کار اس نے ان زخموں سے چھٹکارہ پانے کا راستہ چن لیا۔ اور ایک پرچے میں ساری داستان لکھ چھوڑی۔ میں اس کے بارے میں سوچ ہی رہی تھی کہ زور کا دھماکہ اور دہشت ناک آوازوں سے میں سہم گئی۔ قوی ہیکل دو لوگ اسے گھسیٹ کر بے دردی سے لے جارہے تھے۔

مجھے جستجو ہوئی میں آگے پھر اور آگے جانے لگی۔ مجھے روک دیا گیا اور اسے میرے برابر والی کوٹھری میں بند کیا گیا لیکن اس کی کوٹھری کالی تھی اس میں سے اس کے چیخنے چلانے کی آواز آرہی تھی۔ جانے کیا ہوا پھر کئی دن بیت گئے۔ وہ کہتا ہے لیکن مجھے تو لگتا ہے کہ کچھ ہی دن بیتے۔ شاید یہ فرق ہمارے معمول کے فرق کی وجہ سے تھا۔ میرے شب و روز بلکہ میرا وقت اچھا گذر رہا تھا اس لیے جلدی گذر گیا۔ اس کے حالا ت کے مطابق اس وقت دیر سے گزرتا تھا۔ پھر کئی دنوں بعد ایک آواز سنائی دی تو محسوس ہوا کہ سب طرف خاموشی چھاگئی ہے۔ یک بیک ہنگاموں کی آواز ختم ہوگئی۔ پھر دوسری آواز سنی تو لگا کہ میری کوٹھری بھی کھل گئی ہے لوگ ایک سمت بھاگے جارہے ہیں میںبھی بھاگنے لگی یہاں تک کہ سب ایک جگہ جمع ہوگئے۔ اب سمجھ میں آیا کہ قیامت کا دن ہے اور سب میدانِ حشر میں جمع ہیں۔ اب تو میرے بھی پسینے آنے لگے۔ کتابوں میں پڑھا تو تھا لیکن وہ اور آنکھوں دیکھا کتنا مختلف لگ رہا تھا۔ کاش کہ اس منظر کا تصور میرے ذہن میں اور پہلے آیا ہوتا۔ شاید حساب کتاب کا وقت ہوگیا۔ کیا دیکھتی ہوں کہ سب سے پہلے جو میرے برابر کالی کوٹھری میں تھا اس کو زبردست فرشتے زنجیروں میں جکڑے لارہے ہیں، اس کی حالت دیکھ کر تکلیف ہوئی لیکن زیادہ نہیں اپنا ہی ہوش نہیں تھا۔ پھر اس کا اعمال نامہ پڑھا جانے لگا۔ میں اس کی تکلیف اور اپنا ڈر چھوڑ کر وہ سننے لگی۔ مجھے اس کا اعمال نامہ سن کر بڑا رشک آیا۔ کوئی نیکی چھوٹی نہ تھی لیکن اس پر نظر پڑی تو حیرت ہوئی کہ یہ اس حال میں کیوں ہے؟ کہیں یہ اندھیر نگری تو نہیں … تبھی اس کے گناہوں کی فہرست شروع ہوئی اس میں صرف ایک گناہ تھا … خود کشی- حرام موت۔ میں حیران رہ گئی کہ اس ناعاقبت اندیش نے ایساکیوں کیا۔ بقیہ سارے گناہ اس نے اپنی نیکیوں سے دھو لیے تھے۔ لیکن اس کی ساری نیکیاں رائیگاں ہوگئی تھیں۔ پھر اس سے پوچھا جانے لگا کہ تم نے ایسا کیو ںکیا؟ کیا تمہیں معلوم نہیں تھا یہ حرام موت ہے؟ اس نے اپنی پریشانیاں اور مجبوریاں بتائیں تو اس سے کہا گیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ نہیں کہا کہ’’ہم تم کو جان، مال، خوف اور بھوک سے آزمائیں گے۔‘‘ کہا: ہاں پڑھا تھا۔ لیکن حالات ناقابل برداشت ہوگئے تھے اس لیے ایسا کیا۔ کیا تم آزمائش میں پورے اترے؟ نہیں۔ کیا آ زمائش میں ناکام ہونے والے کا معاملہ آزمائش میں کامیاب ہونے والے کی طرح ہوسکتا ہے۔ نہیں۔

اس نے ایک امید بھری نگاہ سے اپنے گھر والوں کی طرف دیکھا۔ لیکن سب نے سر جھکالیا۔ کوئی اپنی نیکیاں اسے دینے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ اس کے بعد میری باری آنے والی تھی۔ میں اپنی ایک ایک نیکی جوڑ رہی تھی۔ تبھی خدائے ذو الجلال کا حکم ہوا۔ لے جاؤ اسے۔ اس کے ٹھکانے پہنچادو۔ فرشتے اسے کھینچ کر لے جانے لگے۔ وہ میری طرف التجا بھری نگاہوں سے دیکھنے لگی۔ فرشتے بے دردی سے اسے آگ کے دہکتے غار میں جھونکنے کے لیے تیار تھے۔ گویا آگ خود دھاڑ رہی تھی۔ ایک بھیانک چیخ اس غار میں ڈوبتی ہوئی محسوس ہوئی۔ میں خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی۔ اب میری باری تھی کہ کانوں میں اذان کی آواز گونجی اللہ اکبر اللہ اکبر موذن صاحب فجر کی نماز کی دعوت دے رہے تھے۔ میں نے خود کو بستر پر پایا۔ لیکن چند گھنٹوں کے سفر نے میرے فکر و خیال کو ہلا کر رکھ دیا۔ وضو کرکے میں نے مصلیٰ بچھایا اور زارو قطار آنسو بہنے لگے۔ یوم حساب کے اندیشے۔ خوف خدا کے آنسو!!

شیئر کیجیے
Default image
صائمہ عابدی، رتنا گیری

تبصرہ کیجیے