6

فرض کی خاطر

افریقہ کے ساحل کے نزدیک کھلے سمندر میں ایک چھوٹی سی کشتی بہتی جارہی تھی۔ کشتی میں موجود افراد کاجہاز ایک حادثے کا شکار ہوچکا تھا۔ اس کشتی میں مختلف علاقوں اور مختلف قوموں کے پانچ اشخاص موجود تھے۔ ایک شخص کیپٹن ٹیڈ تھا۔ وہ ڈوبنے والے جہاز کا کپتان تھا، دوسرا شخص عبداللہ تھا وہ جہاز کا ایک نوجوان افسر تھا اور عملے کا واحد مسلمان رکن تھا۔ تین دوسرے مسافر جہاز کے ملاح تھے۔ ان میں سے ایک کا نام ٹام، دوسرے کا بوبو اور تیسرے کا جانی تھا۔

عبداللہ جانتا تھا کہ کپتان کو کوئی معجزہ ہی زندہ رکھ سکتا تھا۔ جہاز میں جب آگ لگی تھی تو وہ جہاز کے عملے اور سامان کو بچاتے ہوئے بُری طرح جل گیا تھا۔ اور اب وہ چند لمحوں کا مہمان تھا۔ اس وقت سمندر پُرسکون تھا اور ہوا سمندر سے ساحل کی طرف چل رہی تھی اور کشتی آہستہ آہستہ ساحل کی طرف بڑھ رہی تھی لیکن انھیں ابھی کتنا سفر اور طے کرنا تھا؟ ساحل ابھی کتنا دور تھا؟ وہ یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے تھے۔

اس وقت زخمی کپتان کے ہونٹ ہلے عبداللہ نے کپتان کے منہ میں تھوڑا سا پانی ڈالا۔ کپتان تھوڑا سا مسکرایا اور پھر و ہ آہستگی سے بولا: ’’انجام قریب ہے۔ جب میں مرجاؤں گا تو اس کشتی کے کپتان تم ہوگے۔ تم مشرق کی طرف بڑھتے جانا۔ تم افریقہ کی بندرگاہ فری پورٹ تک تقریباً چار دن میں پہنچ جاؤ گے۔‘‘

’’ٹھیک ہے جناب میں آپ کی ہدایت پر عمل کروں گا۔‘‘ عبداللہ نے ادب سے جواب دیا۔

’’دیکھو میرے بعد وہ زندہ بچ نکلنے والوں میں تم ہی سب سے بڑے افسر ہو اور تم مسلمان بھی ہو۔ ایک مسلمان اپنے عہد کا پکا ہوتا ہے۔ اس لیے کپتانی کی ذمہ داری میں تمہارے سپرد کررہا ہوں کیا تم سمجھ رہے ہو؟‘‘ کپتان نے پوچھا۔

’’جی جناب۔ ‘‘عبداللہ نے جواب دیا۔

’’میری پتلون کی پچھلی جیب میں ایک سیاہ رنگ کی ڈبیہ ہے۔ اسے حفاظت سے دئے ہوئے پتہ پر پہنچانا۔ ہماری جہاز راں کمپنی نے اسے بحفاظت پہنچانے کی ذمہ داری اٹھائی تھی۔ اسے منزل مقصود تک پہنچانا میری اور میرے بعد تمہاری ذمہ داری ہے۔ اسے سینک اینڈ کمپنی کے مسٹر سینک تک پہنچانا ہے۔ ان کا دفتر فری پورٹ کے مرکزی علاقے میں ہے۔ یہ ڈبیہ ان کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ کیا تم اسے بحفاظت اس کے مالک تک پہنچانے کی ذمہ داری قبول کرتے ہو؟‘‘ زخمی کپتان نے پوچھا۔

’’میں اس ڈبیہ کو انشاء اللہ اس کے مالک تک پہنچاؤں گا۔‘‘ عبداللہ نے وعدہ کیا۔

’’شاباش! مجھے تم سے یہی امید تھی۔ میری جیب سے ڈبیہ نکال لو۔‘‘

عبداللہ نے زخمی کپتان کی جیب سے ڈبیہ نکال لی اور اس کے پاس بیٹھ کر اس کی تیمار داری کرنے لگا۔

’’جہاز کے کاغذات بھی سنبھال لو اور میری بندوق بھی تھام لو، کشتی میں زیادہ پانی نہیں، پانی احتیاط سے استعمال کرنا۔ اگر کوئی شخص تمہاری اجازت کے بغیر پانی استعمال کرنے کی کوشش کرے تو اسے بندوق کی زد پر روکنا۔ تم بہت نرم دل ہو لیکن ایسے موقع پر نرمی نہ دکھانا۔ اگر تم انہیں ڈسپلن پر آمادہ نہ رکھ سکے تو تم میں سے کوئی بھی زندہ بچ کر ساحل پر نہ جاسکے گا۔‘‘ کپتان نے عبداللہ کو مزید ہدایات سے نوازا۔

’’ٹھیک ہے جناب میں آپ کی ہدایات پر عمل کروں گا۔‘‘ عبداللہ نے جواب دیا۔

’’بس مجھے تم سے یہی کچھ کہنا تھا۔ خدا تمہارا مدد گار ہو۔‘‘

کچھ دیر بعد کپتان مرگیا۔ عبداللہ نے دوسرے ملاحوں کی مدد سے اس کے مردہ جسم کو سمندری لہروں میں بہا دیا اور خود کپتان کی ڈیوٹی سنبھال لی۔

عبداللہ اپنے کپتان کی لاش بہانے کے بعد چپ چاپ اداس بیٹھا تھا۔ کپتان کی دی ہوئی ڈبیہ اس کے ہاتھ میں تھی کہ ٹام اس کے پاس پہنچا۔

’’جناب اس ڈبیہ میں کیا ہے؟ کیا میں اسے ایک نظر دیکھ سکتا ہوں؟‘‘ ٹام نے کہا اور عبداللہ نے بے خیالی میں ڈبیہ اسے دے دی۔ ٹام نے ڈبیہ کھولی تو دو مرے دو ملاح بھی ڈبیہ دیکھنے لگے۔

’’اوہ اس میں تو بہت قیمتی مال ہے۔ ہیرے، سونا، زیورات۔‘‘ ایک ملاح کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ ملاح کے بولنے سے عبداللہ کا دھیان ڈبیہ کی طرف گیا۔ اس نے سوچا اسے ڈیبہ ٹام کو نہیں دکھانی چاہیے تھی۔

’’ادھر لاؤ ڈبیہ۔‘‘ عبداللہ نے سخت لہجے میں کہا اور ملاحوں سے ڈبیہ واپس لے کر اپنی پتلون کی جیب میں رکھ لی۔ ’’اس وقت پانی کا ایک گلاس ہر دولت سے زیادہ قیمتی ہے۔‘‘ عبداللہ نے مسکراتے ہوئے کہا لیکن کوئی ملاح اس کے مذاق سے لطف اندوز نہ ہوا۔ وہ تینوں کسی اور ہی خیال میں کھوئے ہوئے تھے۔

بوبو نے ٹام کے کان میں سرگوشی کی۔

’’نہیں، ابھی نہیں۔‘‘ ٹام نے عبداللہ کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔

جب رات گہری ہوگئی تو وہ سب کشتی میں سونے کے لیے لیٹ گئے لیکن عبداللہ فکر مند تھا۔ اسے ڈبیہ کی دیکھ بھال کرنا تھا، پانی کے برتن پر نگاہ رکھنا تھی ا ور اپنی جان کی حفاظت بھی کرنا تھی۔ رات بھر وہ کبھی جاگتا اور کبھی سوتا رہا۔ رات کے پچھلے پہر ٹام چوری چوری پانی کے مٹکے کی طرف بڑھا۔

’’پیچھے ہٹ جاؤ ورنہ گولی ماردوں گا۔‘‘ عبداللہ نے دھمکی دی اور ٹام چپکے سے پیچھے ہٹ گیا۔

عبداللہ کے پاس دو دن کا پانی تھا اور چار دن کا سفر تھا اور اس کے ہمراہ ٹام جیسے لالچی ساتھی تھے۔ وہ دور افق پر نظریں گاڑے سوچتا رہا۔ اس سے پہلے وہ کسی نہ کسی کی ماتحتی میں کام کرتا رہا تھا۔ لیکن یہ اس کی زندگی میں پہلا موقع تھا کہ وہ ایک انتہائی خطرناک صورتِ حال میں کپتان کے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ منزل کٹھن اور دور تھا اور اس کے عملے کے لوگ لالچی، خود غرض اور شاید اس کے خون کے پیاسے بھی تھے۔

اگلے دن ہوا چلنی بند ہوگئی تو کشتی رک گئی۔ اگر ہوا چلتی رہتی تو تین دن کا سفر باقی تھا۔ لیکن ہوا کے رک جانے سے زیادہ دن لگ سکتے تھے اور اگر خدانخواستہ ہوا کا رخ الٹ ہوگیا تو وہ دوبارہ سمندر کی طرف جانے لگیں گے۔ عبداللہ فکر مند ہوگیا۔ لالچی ملاحوں کی نظریں اس کی پتلون کی جیب میں رکھی ہوئی زیوارت کی ڈبیہ پر مرکوز تھیں اور وہ سوچ رہا تھا کہ اس کے پاس ایک دن کا پانی رہ گیا ہے اور ابھی نہ جانے کتنے دنوں کا سفرباقی ہے۔

’’مجھے اپنے اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ اپنا فریض ایمانداری سے سرانجام دینا چاہیے اور انجام خدا کے سپرد کردینا چاہیے۔‘‘ عبداللہ نے سوچا اور یہ سوچتے ہی اس کے اندیشے ختم ہوگئے۔

ایک اور دن گزر گیا۔ تیسرے دن کی شام کو ٹام کہنے لگا۔

’’فری پورٹ کا شمالی علاقہ بڑا محفوظ علاقہ ہے۔ وہاں نہ تو زیادہ آبادی ہے نہ پولیس گارڈ ہے۔ ہمیں اپنی کشتی وہاں لے جانی چاہیے۔ آپ کا کیا خیال ہے عبداللہ صاحب؟‘‘

’’مجھے کپتان کہو … اور ہم سیدھے بندرگاہ کی طرف جارہے ہیں اور کسی طرف نہیں۔‘‘ عبداللہ نے سختی سے جواب دیا۔

’’دیکھئے جناب ناراض ہونے کی ضرورت نہیں۔ میں سب کے فائدے کی بات کررہا ہوں۔ ہم بندرگاہ سے ذرا دور کشتی ٹھہراکر سارے زیورات آپس میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ جہاز تباہ ہو چکا ہے، اس کو پتہ ہے کہ زیورات بھی جہاز کے ساتھ ڈوب نہیں گئے؟ زیورات تقسیم کرنے کے بعد ہم آبادی میں پہنچ جائیں گے۔‘‘ ٹام نے تجویز پیش کی۔

’’ایسی باتیں مت کرو۔‘‘ عبداللہ نے حکم دیا۔

’’ہمیں اس سے باتیں کرنے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ بوبو نے ٹام کو مشورہ دیا۔

عبداللہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا لیکن جلد ہی اس نے اپنے جذبات پر قابو پالیا اور ملاحوں سے مخاطب ہوکر کہا۔ ’’بیوقوف مت بنو۔ یوں لگتا ہے تم پاگل ہوگئے۔ یہ زیور اصلی نہیں بلکہ نقلی ہیں یہ افریقی قبائلیوں کے ہاتھوں بیچنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ یہ زیورات کے نمونہ جات ہیں۔ افریقی قبائل ان زیورات کو اپنی عورتوں کو تحفتاً دیتے ہیں۔ وہ انہیں پہن کر اسی طرح خوشی محسوس کرتی ہیں جیسے متمدن علاقوں کی عورتیں اصلی زیورات پہن کر۔ اگر مسٹر سینک کو یہ نمونہ جات پسند آئے تو وہ مزید زیورات منگوائیں گے۔‘‘

لیکن ملاحوں کو عبداللہ کی بات پر یقین نہ آیا۔

جونی بولا: ’’اگر زیوارت نقلی ہیں تو کپتان انہیں سٹرانگ روم میں بند کرکے کیوں رکھتا تھا۔‘‘

’’دیکھو … میں اس کشتی کا کپتان ہوں، مجھ سے ایسے لہجے میںبات مت کرو۔‘‘ عبداللہ نے سختی سے کہا اور تینوں ملاحوں کے منہ لٹک گئے۔

چوتھے دن علی الصبح ملاحوں نے عبداللہ پر حملہ کردیا۔ عبداللہ نے بندوق سنبھالی اور فائر کردیا۔ ایک آدمی کی ٹانگ زخمی ہوگئی۔ وہ پیچھے ہٹ گئے۔ لیکن اگلے ہی لمحے انھوں نے پھر حملہ کردیا۔ ابھی کافی اندھیرا تھا۔ کوئی چیز صاف نظر نہیں آرہی تھی۔

’’اگر تم نے میرا کہنا نہ مانا…‘‘ اسے ٹام کی آواز سنائی دی لیکن وہ پورا جملہ نہ سن سکا۔ کوئی چیز زور سے عبداللہ کے سر پر لگی اور وہ بے ہوش ہوکر گرپڑا۔

اسے جب دوبارہ ہوش آیا تو وہ کمر کے بل کشتی میں لیٹا ہوا تھا۔ کشتی پوری رفتار سے ساحل کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اسے شدت کی پیاس لگ رہی تھی۔ ٹام نے اس کی طرف دیکھا اور کہا: ’’اچھا تمہیں ہوش آگیا ہے۔ ہم ساحل تک پہنچے ہی والے ہیں۔‘‘

عبداللہ نے دیکھا کہ ٹام نے اس کی بندوق تھامی ہوئی ہے۔

’’تم کیا کرنے والے ہو؟ کیا تم مجھے ہلاک کرنا چاہتے ہو؟‘‘ عبداللہ نے پوچھا۔

’’اوہ نہیں ہم تمہیں ساحل پر چھوڑ دیں گے اور خود اپنا راستہ لیں گے۔‘‘ ٹام نے جواب دیا۔

’’لیکن یہ تو قتل ہوگا۔ ویران ساحل کے ساتھ ساتھ تو جنگل ہے۔ جنگل میں درندے ہیں۔ درندے مجھے چیر پھاڑ ڈالیں گے۔ میں جنگل سے باہر نہیں نکل سکوں گا۔‘‘ عبداللہ نے خوفزدہ آواز میں کہا۔

ٹام نے قہقہہ لگایا اور کہا: ’’ہم تمہیں زندہ رہنے کا ایک موقع دینا چاہتے ہیں … شاید تم بچ جاؤ۔ جب تک تم راستہ ڈھونڈ کر آبادی تک پہنچو گے ہم فری پورٹ سے کہیں آگے جاچکے ہوں گے۔‘‘

دوپہر کے وقت ان کی کشتی ساحل کے نزدیک پہنچ گئی۔ وہ سب ساحل کے ایک سنسان حصہ پر اتر گئے۔ عبداللہ شدید زخمی تھا۔ اس کے سر پر گہری چوٹ لگی تھی۔ خون اس کے بالوں میں جما ہوا تھا۔ لیکن وہ لڑکھڑاتا ہوا، یرغمالی بنا ساحل تک پہنچ گیا۔ لیکن ساحل پر پہنچتے ہی اس کی ہمت جواب دے گئی اور وہ گر کر دوبارہ بے ہوش ہوگیا۔

ٹام نے ایک مچھلی شکار کرلی تھی۔ ساحل پر ایک گھڑے سے انھیں صاف پانی بھی مل گیا تھا۔ وہ آگ جلا کر مچھلی بھون کر کھانے لگے۔ شام پڑگئی تھی۔ پیٹ بھر کروہ باتیں کرنے لگے۔

’’اب ہمیں مال تقسیم کرلینا چاہیے۔‘‘ جونی نے تجویز پیش کی۔

’’نہیں ابھی نہیں۔ بندرگاہ سے نکل کر ہم مال تقسیم کریں گے۔‘‘ ٹام نے کہا۔

’’کیوں … ابھی کیوں نہیں؟‘‘ بوبو نے جونی کا ساتھ دیا۔

’’جیسے تمہاری مرضی۔‘‘ ٹام نے کہا اور جواہرات کی ڈبیہ اپنی پتلون کی جیب سے نکال کر ہاتھ میں پکڑلی۔ وہ جواہرات کی تقسیم میں اس طرح منہمک ہوگئے کہ عبداللہ کو بالکل ہی بھول گئے۔ عبداللہ کو ہوش آیا تو اس نے لالچی ملاحوں کود یکھا ان کی باتوں کو سنا، دور جنگل کا دیکھا اس نے جنگل سے آتی وحشی درندوں کی آوازیں بھی سنیں اور اس نے آخری کوشش کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس نے چولہے میں جلتی ہوئی ایک لکڑی اٹھائی اور ٹام پر حملہ کردیا۔ ٹام اس حملہ کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس کے ہاتھ سے بندوق گر گئی۔ عبداللہ نے لپک کر بندوق اٹھالی اور اس کا رخ لالچی ملاحوں کی طرف پھیر دیا۔

’’ڈبیہ نیچے پھینک دو اور بھاگ جاؤ۔‘‘ عبداللہ نے سخت لہجے میں حکم دیا۔

ٹام نے ڈبیہ زمین پر پھینک دی اور وہ سب بھاگ کھڑے ہوئے۔ عبداللہ نے اللہ کا نام کر لے جنگل کا رخ کیا اور باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنے لگا ۔ جنگل میں اندھیرا تھا۔ ہر طرف جھاڑیاں اور درخت تھے۔ جنگلی درندے تھے، زہریلے کیڑے تھے۔ خوراک اور پانی ندارد تھا۔ راستے اور سمت کا اندازہ نہیں تھا۔ لیکن عبداللہ جانتا تھا کہ وہ ایک ڈوبے ہوئے جہاز کا کپتان ہے … اس کے پس ایک امانت ہے۔ اور اس کو وہ امانت اس کے مالکوں تک پہنچانا ہے۔ وہ گرتا پڑتا چلتا گیا، چلتا گیا۔

اس واقعہ کے کئی دن بعد فری پورٹ کے پولیس اسٹیشن میں انچارج آفیسر ایک سپاہی سے مخاطب تھا۔ ’’تم نے وہ پاگل آدمی کہاں سے پکڑا۔‘‘

’’جناب جنگل سے چند دیہاتی اسے پکڑ کر شہر لائے تھے۔ اس کے پاس ایک ڈبیہ تھی جسے وہ کسی قیمت پر اپنے سے جدا نہیں کرنا چاہتا تھا۔‘‘ سپاہی نے جواب دیا۔

’’کیااس نے بتایا کہ وہ جنگل میں کیسے پہنچا۔ ‘‘ آفیسر نے پوچھا۔

’’جی جناب وہ ایک ملاح ہے۔ اس کاجہاز سمندر میں حادثہ کا شکار ہوگیا تھا۔ وہ کشتی کے ذریعہ ساحل تک پہنچا ہے۔ اس کے ملاحوں نے اس کے خلاف بغاوت کردی تھی۔ وہ اس سے ڈبیہ چھیننا چاہتے تھے۔ وہ ان سے لڑ بھڑ کر جنگل میں پہنچا اور راستہ کھو بیٹھا۔ اگر وہ ایک آدھ دن مزید جنگل میں رہتا تو بھوک، پیاس اور موسم کی سختی کی وجہ سے اس کی موت یقینی تھی۔‘‘ سپاہی نے ادب سے جواب دیا۔

جس وقت سپاہی اور آفیسر کے درمیان گفتگو ہورہی تھی، عبداللہ فری پورٹ کے ایک ہسپتال میں داخل تھا۔ دو دن کے بعد اس کی طبیعت ٹھیک ہوگئی تو وہ پولیس آفیسر کے سامنے پیش ہوا۔ اس وقت جواہرات سے بھری ڈبیہ سامنے میز پر پڑی تھی۔ آفیسر کی درخواست پر عبداللہ نے ساری کہانی سنائی۔

’’اچھا تو تم نے یہ ڈبیہ اس کے مالک تک پہنچانے کے لیے یہ سب تکلیف برداشت کیں۔ حتی کہ اپنی جان کی بازی بھی لگادی۔‘‘ آفیسر نے پوچھا۔

’’جی ہاں۔ اس لیے کہ میں نے یہ ڈبیہ پہنچانے کا وعدہ کیا تھا۔ اور اس لیے کہ یہ میرا فرض تھا۔‘‘ عبداللہ نے جواب دیا۔

’’اوہ خدایا!…… کیا تمہیں علم نہیں تھا کہ یہ زیورات نقلی ہیں؟ ان کی قیمت معمولی ہے۔ اور تم چند ٹکوں کی مالیت کے زیورات کے لیے اپنی جان کی بازی لگا بیٹھے۔ کیا یہ حماقت نہیں؟‘‘ آفیسر نے پوچھا۔

’’جناب نہیں۔ یہ حماقت نہیں۔ میںجانتا تھا…… میں بخوبی جانتا تھا کہ زیورات نقلی ہیں۔‘‘ عبداللہ نے جواب دیا۔

’’تو پھر تم کیوں اتنی تکلیف برداشت کرتے رہے؟‘‘

’’اس لیے … جناب اس لیے کہ یہ میرا فرض تھا۔ اس لیے کہ میں مسلمان ہوں۔ ایک مسلمان اپنے عہد کا پابند ہوتا ہے۔ وہ امانت اس کے مالک کے حوالے کرنے کے لیے اپنی جان کی بازی بھی لگا دیتا ہے۔ خواہ اس امانت کی مالیت معمولی ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ عبداللہ نے وضاحت کی۔

’’اوہ……‘‘ پولیس آفیسر کے منہ سے فرط حیرت سے نکلا۔ وہ بے اختیار اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے عبداللہ کے کندھے پر تھپکی دی اور کہنے لگا۔

’’شاباش جوان تم پر تمہاری قوم اور تمہارے ملک کے لوگ فخر کرسکتے ہیں۔‘‘

عبداللہ نے پولیس آفیسر سے الوداعی مصافحہ کیا اور ڈبیہ اٹھا کر ڈبیہ کے مالکان کے حوالے کرنے کے لیے چل دیا۔

شیئر کیجیے
Default image
اعجاز احمد

تبصرہ کیجیے