3

خزاں تو پھر خزاں ہے

جب وہ صبح کو سوکر اٹھا تو اسے بے حد تعجب ہوا۔ یہ رات ہی رات کیا ہوگیا؟ آج تک تو ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ کل رات جب وہ سویا تھا تو موسم بڑا خوشگوار اور پُرفضا تھا، بڑی لطیف سی بھینی بھینی خوشبو چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی۔ ہر سانس کے ساتھ ایک کیف سا سینے میں سما جاتا تھا۔ دل چاہتا تھا کہ ان شگفتگیوں کے ساتھ جیئے چلے جائیے۔ لیکن آج صبح جب آنکھ کھلی تو سب کچھ یکسر بدلا ہوا تھا۔ اجڑا اجڑا سا خشک موسم، بڑھا روکھا روکھا سا ماحول، ہر طرف ویرانی سے چھائی ہوئی تھی۔ جو کچھ بھی نظر آرہا تھا بڑا عجیب سے لگ رہا تھا۔ ایسا تو کل نہیں تھا جیسا آج لگ رہا تھا۔ اسے بڑی حیرت تھی کہ یہ سب کچھ رات کے رات میں کیسے ہوگیا کیوں ہوگیا؟ اس کے دل میں ایک خلش سی پیدا ہوئی اور اس نے بے کلی میں چاروں طرف دیکھا، جیسے کچھ تلاش کررہا ہو۔

اخبار والے نے اخبار کا چنگلا بناکر بالکونی پر پھینکا۔ اس نے اخبار والے سے کچھ کہا، لیکن اخبار والا شاید کچھ سمجھا نہیں۔ کیوں کہ اس نے جو کچھ اس سے کہا وہ بھی اس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ اور اخبار والا اپنی کتاب کہتا ہوا بے زاری اور ناگواری کے ساتھ سائیکل کے پیڈل پر پیرمارتا ہوا چلا گیا۔ اس نے خفت کے عالم میں اخبار اٹھایا:

یہ کیا ؟……

یہ کس زبان میں لکھا ہے؟

اس سے پہلے یہ خطِ تحریر تو اس نے کبھی بھی نہ دیکھا تھا۔

اس نے اخبار کو چاروں رخ گھمایا، لیکن اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ وہ کدھر سے سیدھا ہے اور کدھر سے الٹا اور وہ کس رخ سے اسے پڑھے۔ یہ خطِ تحریر تو بالکل اجنبی تھا۔ اس کے تو کچھ معنی ہی نہ بنتے تھے۔ بس ایسا لگتا تھا کہ جیسے سب کچھ ایک سا ہی لکھا ہوا تھا۔ ایک بات، ایک ہی جیسی حروف کی کشش! یا خدا، یہ کیا ہے؟ کیا اس نے کبھی کچھ بھی نہ پڑھا تھا؟ پھر اس وقت کیوں وہ ان پڑھ سا ہورہا تھا؟

نیچے دودھ والے نے گھنٹی بجائی، لیکن اس کی گھنٹی کی آواز کسی نے نہ سنی، نہ بیوی نے، نہ بچوں نے۔ ناچار وہ خود برتن لے کر باہر گیا۔ دودھ والے نے برتن میں دودھ انڈیل دیا۔ لال لال سا!

’’یہ کیا ؟‘‘ اس نے تعجب اور تلخی کے لہجے میں دودھ والے سے پوچھا۔

’’پیو، پیو!‘‘ دودھ والے نے روکھائی کے ساتھ کہا۔ ’’یہ اس کا ہے!‘‘

دودھ والے کی آنکھیں لال انگارہ ہورہی تھیں۔

لرزتے ہاتھوں اور دھڑکتے دل کے ساتھ دودھ لے کر وہ اندر گیا۔

’’سنتی ہو، دیکھو یہ کیا دے گیا وہ!‘‘

’’کیا کہتے رہتے ہیں آپ!‘‘ بیوی نے بے زاری کے ساتھ کہا۔ ’’رکھ دیجئے ادھر چولہے پر!‘‘

اور وہ ایک دم سہم گیا۔ کیا اس لال (؟) کو وہ آگ پر چڑھا دے؟ ایک دم اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ مارے خوف کے اس نے وہ برتن کچن کے کاؤنٹر پر رکھا اور چپکے سے وہاں سے کھسک آیا۔

باہر بے حد خشک تیز ہوا چل رہی تھی۔ خود اسے اپنے چہرے کی کھال روکھی کھردری محسوس ہونے لگی تھی۔ آنکھوں میں ہوا کی تیزی چبھتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔ سڑک کے دو رویہ درخت مرجھا گئے تھے۔ اس کے زرد پتے ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہے تھے اور ان کے لاشے پیڑوں کے نیچے، فٹ پاتھوں پر اور سڑک پر ڈھیر ہوگئے تھے۔ ہوا کے جھونکے انھیں الٹ پلٹ کر تے اور دور تک اڑاتے ہوئے لیے چلے جاتے۔ پھر ہوا کا جھونکا بے اعتنائی کے ساتھ اوپر اٹھتا اور سوکھے پتوں کو بے حس چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا۔ بے جان پتے زمین پر گر جاتے۔

وہ پتوں کو دردمندی کے ساتھ دیکھتا ہوا، بھاری دل اوربوجھل قدموں کے ساتھ بڑھتا رہا۔ اس کا ذہن اور اس کا سینہ دونوں بالکل خالی سے تھے۔ بس کوئی ایسا دکھ جسے وہ جانتا نہ تھا، لیکن اس کا کلیجہ پانی کیے دے رہا تھا، اس کے قدموں کو بوجھل کیے دے رہا تھا۔ اگر اس میں خود اپنے آپ سے پوچھنے کا حوصلہ ہوتا تو وہ پوچھتا کے وہ کہاں جارہا ہے؟ اسی اثنا میں دو بچے اس کے پاس سے گذرے۔ پھر دو قدم آگے بڑھ کر اسے خوف زدہ سے گھورنے لگے۔ وہ خود بھی اچنبھے میں مبتلا ہوگیا۔ کیا بات ہے؟ آخر اس میں ایسی کیا تبدیلی آگئی کہ بچے اسے اس طرح اجنبی نظروں سے گھور رہے ہیں۔ اس نے اپنے آپ کو ہر زاویہ سے دیکھا، لیکن اسے تو سب کچھ بالکل ویسا ہی نظر آیا جیسا وہ ہمیشہ ہوا کرتا تھا۔ مگر بچے اس سے ہٹ کر خائف سے کھڑے ہوئے تھے، جیسے وہ ان میں سے نہ ہو۔ ابھی اس نے بچوں کی طرف دیکھا ہی تھا کہ وہ بے اوسان ہوکر، سوکھے پتوں کو روندتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے اور پتے چرمرا کر کراہ اٹھے۔

یہ سایہ دار پُرسکون سڑک اس کے لیے اجنبی نہ تھی۔ وہ روز ہی صبح سویرے اس پر چہل قدمی کیا کرتا تھا۔ گھر داری کی ضرورتوں کے لیے اس کے بیسیوں چکرلگایا کرتا تھا۔ دفتر جایا کرتا تھا، واپس آتاتھا۔ پڑوسیوں، ملاقاتیوں اور راہ گیروں کے ساتھ کسی نہ کسی سایہ دار درخت کے نیچے کھڑے ہوکر پہروں باتیں کیا کرتا تھا۔ وقت گزرا تو وقت کے ساتھ زندگی کی کئی منزلیں اس سڑک سے ہوکر گزرگئیں، پھر بھی سڑک اس سے ہمیشہ ہمیش یکساں مانوس رہی، لیکن آج جو بھی گزر رہا تھا، بالکل اجنبی، بے رخ، نظر چرائے پاس سے نکل جاتا تھا۔ یا خدا، یہ کیا ہوگیا ہے ان سب کو؟ کیاان میں سے کوئی بھی اپنا نہیںہے؟ کسی سے جان پہچان نہیں؟

اس نے ہمت کرکے پاس سے گزرنے والے پڑوسی کو سلام کیا۔ پڑوسی نے بڑی خشمگیں نظروں سے اسے دیکھا اور کترا کر نکل گیا۔ وہ دل ہی دل میں سہم گیا۔ ایک جھرجھری سی اس کے پورے جسم میں پیدا ہوئی اور وہ اپنے آپ میں سمٹ گیا۔ اسے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے اس کے باہر اس کا اپنا کچھ نہ ہو۔

سورج جیسے جیسے اوپر چڑھ رہا تھا، پیڑوں کی شاخیں اور ٹہنیاں یکسر برہنہ ہوتی جارہی تھیں۔ شاخیں فریاد کناں اپنے بازو آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے تھیں۔ اسے بڑا ڈر سا لگا۔ اس کی روح لرزگئی اور وہ بے ثبات قدموں کے ساتھ ایک پیڑ کا سہارا لے کر کھڑا ہوگیا۔ یہیں چھوٹے سے میدان میں ہری ہری گھاس پر اس کے بچے محلے کے دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ ان کی مسرتیں، ان کی خواہشیں، ان کی معصوم حرکتیں اس میدان کے ایک ایک تنکے میں رچی بسی ہوئی تھیں۔ وہ ان کی ایک ایک ادا کو اپنے تصور میں رقص کرتے ہوئے دیکھتا رہا۔ اس اجڑتے ہوئے آج میں اسے گزرا ہوا آباد کل نظر آرہا تھا۔ وہ درد کا بوجھ، وہ گھٹن جو وہ بڑی دیر سے محسوس کررہا تھا اس میں کمی ہونے لگی اور اسے اپنے سینے میں کشادگی کا احساس ہونے لگا۔

وہ گز را ہوا آباد کل اب کیسے آئے گا؟

سبز میدان سنسان پڑا ہوا تھا۔ سبزہ زرد سوکھی پتیوں کے تلے دفن ہوگیا تھا اور بچوں میں سے کوئی بھی وہاں نہیں تھا۔ ایک دہشت ناک سناٹا تھا اور بس! اس نے آنکھیں بند کرلیں اور بند آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھنے لگا۔ سارا سب کچھ اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔ سامنے اجاڑ پیڑ کھڑا تھا۔ اس کی ایک شاخ پر چڑیا کا گھونسلا تھا جس پر تمام پتوں کے جھڑ جانے کی وجہ سے سورج کی کرنیں براہ راست پڑ رہی تھیں اور چند روزہ بچے دھوپ کی تپش سے پریشان ہوکر چیخنے لگے تھے۔ ان کی چوں چوں سے بے قرار ہوکر چڑیا تیز اڑتی ہوئی گھونسلے تک آئی۔ اس کے پیچھے پیچھے ایک چیل آئی اور غوطہ لگا کر ننھی چڑیا کو اپنے پنجوں میں دبوچ کر اٹھا لے گئی۔ بچے بھونچکے سے دیکھتے رہ گئے، یہ کیا ہوگیا؟ اور پھر وہ چوں چوں چیخنے لگے۔ اس نے بے بسی کے عالم میں آنکھیں موند لیں۔

اسے اس طرح کھڑے دیکھ کر سڑک پر گزرتی ہوئی ایمبولینس نے اپنی رفتار دھیمی کردی۔ اور اس کے قریب تقریباً روکتے ہوئے عملے کے ایک شخص نے سرنکال کر بلند و کرخت آواز میں پوچھا:

’’طبی امداد چاہیے؟……‘‘

اور اس سے پہلے کہ کوئی اسے جواب دیتا اس نے ایمبولینس کی رفتار بے حد تیز کردی اور فراٹے بھرتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ ایمبولینس کے پیچھے سوکھے پتے ہوا میں اٹھے اور گر پڑے۔ اس نے بے اعتنائی کے ساتھ سڑک کی طرف دیکھا، وہاں ایمبولینس کے پہیوں کے نشانوں پر کچلی ہوئی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔ اس کا دل پھر بوجھل ہوگیا۔ اب ان لاشوں کو کون اٹھائے گا؟ کس کی ہیں یہ لاشیں؟

اس نے چاہا کہ وہاں سے ہٹ جائے، لیکن اس کے پیر اتنے بھاری ہوچکے تھے کہ اس کے لیے جنبش کرنا بھی مشکل ہورہا تھا۔ پیڑ کے تنے سے سہارا لے کر وہ وہیں کھڑا رہا۔ کتنی دور آگیا ہے وہ اپنے گھر سے؟ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کہاں آگیا ہے، کہاں ہے اس کا گھر؟ اب تو کچھ آوازیں تھیں جو اس کے کانوں میں گونج رہی تھیں، کچھ منظر تھے جو اس کی آنکھوں کے دھندلکوں میں رقصاں تھے۔ صبح کی کنواری دھوپ میں سبز، ان چھوئی گھاس کی پتیوں کی نوک پر ٹنکے ہوئے شبنم کے موتی، آم کی کچی کیریوں کو مس کرتی ہوئی کوئل کی کوک، سرمئی چھپروں میں سے اٹھتا ہوا نیلگوں دھواں، شام کی چمپئی رخصتی کرنوں میں کسی الھڑ لڑکی کا گاؤں سے باہر کے ٹیلے پر کھڑی ہوکر کسی نظر نہ آنے والے کو بہت اونچی آواز میں پکارنا، اور گھروں کو لوٹتے جانوروں کے گلے میں بندھی گھنٹیوں کی ناتراشیدہ موسیقی! سب کچھ اس وقت اسے بار بار یاد آرہا تھا۔ کتنے بے ریا اور مانوس چہرے تھے ان سب کے! اس اپنائیت کے ماحول میں الاؤ کی گرمی اور پرسکون و پرامن سناٹے میںپر خطر قصے کہانیاں! کتنی ہی داستانیں تھیں جو اب تک اس کی یادوں میں زندہ تھیں۔ لیکن اب کوئی چہرہ پہچانا نہیں جاتا، کچھ بھی اپنا سا نہیں لگتا۔ سب کچھ گڈ مڈ ہوگیا ہے، سب کچھ کھوگیا ہے، سب کچھ گم کردۂ راہ!

اسے ایسا لگا کہ جیسے کچھ لوگ خزاں زدہ پتوں کو بہارتے، سمیٹتے، لیے چلے آرہے ہیں۔ جب ان کے آنے کی آواز بہت قریب سے سنائی دینے لگی تو اس نے بے لطفی کے ساتھ کنکھیوں سے ان کی طرف دیکھا۔ ان کے چہرے کچھ اتنے غیر واضح اور دھندھلائے ہوئے تھے کہ وہ پہچانے نہیں جارہے تھے کہ وہ کون تھے۔ انھوں نے سامنے کے اس پیڑ کے نیچے پتوں کا ڈھیر جمع کردیا جس کی ایک عریاں شاخ پر گھونسلا تھا جس میں چڑیا کے بچے بیٹھے چوں چوں بین کررہے تھے۔ پھر ان لوگوں نے اپنے تھیلوں میں سے بہت سی لمبی لمبی ماچس کی تیلیاں نکالیاں۔ خوف سے اس کی سانس رک گئی۔ اُف میرے خدا، یہ کیا؟

انھوں نے جیسے ہی ماچس کی سلائیاں رگڑیں بے حد زور کے دھماکے ہوئے اور سوکھے پتے دھڑدھڑ جلنے لگے۔ آگ کی لپٹیں اونچی اٹھنے لگیں، ان شعلوں سے پیڑ کی ٹہنیاں سلگنے، جلنے اور چٹ چٹ چٹخنے لگیں۔ بڑا کثیف سا چراند بھرا دھواں ساری فضا میں پھیل گیا اور چڑیا کے بچوں کا دم گھٹنے لگا۔ بڑی بے کلی کے ساتھ وہ فردیا کرنے لگے، کرتے رہے پھر چپ ہوگئے۔ شاید مرگئے۔

وہ موہوم چہروں والے آگ لگاتے ہی جاچکے تھے۔ لیکن اسے نہ معلوم کون سا دکھ ہوا کہ وہ دل ہی دل میں روتا رہا۔ پھر ایسا لگا کہ جیسے اس کے بچے سامنے کھڑے اسے بڑی یاس بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ اس نے چاہا کہ وہ ان سے کچھ کہے (کہے تو کیا کہے؟) لیکن باوجود کوشش کے وہ کچھ نہ کہہ سکا۔ اتنے میں کچھ ایسے لوگ ایک بڑا سا آرا لے کر آئے جو پہچانے نہیں جارہے تھے، پھر بھی اجنبی نہ تھے۔ انھوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، کچھ کہا جو اس کی سمجھ میںنہ آیا۔ لیکن ان کے ارادوں سے ایسا ظاہر ہورہا تھا کہ جیسے وہ اس پیڑ کو کاٹنا چاہتے تھے جس کا سہارا لیے ہوئے وہ کھڑا تھا۔

بس اس نے بے حد خائف ہوکر بڑی عاجزی کے ساتھ ان سے التجا کی:

’’اس پیڑ کو نہ کاٹو اس کے نیچے میرے بچے کھیلتے ہیں۔‘‘

ان کے بشرے سے ایسا لگتا تھا کہ جیسے انھوں نے کچھ سنا ہی نہیں۔ شاید اس کی آواز میں کوئی صدا نہ تھی، لیکن پھر بھی اس نے التجا کی۔

’’اس پیڑ میں میرے بچوں کے لیے شفقت بھرے سائے بسیرا کئے ہوئے ہیں۔‘‘

انھوں نے کچھ توجہ نہ دی۔ شاید اس کے الفاظ ناقابلِ فہم تھے۔

’’اس کے گرد ان کی کلکاریاں، ان کے معصوم کھیل، ان کی بے لوث محبتیں گشت کررہی ہیں۔‘‘

وہ بالکل بے حس بنے رہے۔ شاید ان کے لیے وہ کوئی وجود ہی نہ رکھتا تھا:

’’اس پیڑ کو … بس، صرف اسی پیڑ کو میرے بچوں کے لیے چھوڑ دو … میرے بچوں کے لیے!‘‘ وہ رو پڑا۔ شاید اس کے درد میں کوئی فریاد نہ تھی۔

اور انھوں نے آرا پیڑ کے تنے پر رکھ دیا۔ بالکل اس طرح کہ اس کا نصف دھڑا اوپر تھا، ہوا میں! اور نچلا نصف دھڑ زمین پر! (وہ خود وہاں کہاں تھا؟) انھوں نے آرا چلا دیا۔ اس کے بچوں کے منھ سے چیخ نکل پڑی اور اس کی آنکھو ںسے آنسو ابل پڑے۔

پھر کیا ہوا……؟

وہی ہوا جو ہونا تھا۔ وہی جو ہوتا آیاہے!

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر ابن فریدمرحوم

تبصرہ کیجیے