5

بِأیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ

ایک شخص نے حضورﷺ سے اپنے عہدِ جاہلیت کا یہ واقعہ بیان کیا کہ میں ایک تجارتی سفر پر عرب سے باہر گیا ہوا تھا۔ میری غیر موجودگی میں میرے ہاں بیٹی پیدا ہوئی۔ جب میں واپس پہنچا تو اسے دیکھ کر بیوی سے سخت ناراض ہوا کہ اسے پیدا ہوتے ہی کیوں نہ ماردیا گیا۔ وہ رونے اور منت سماجت کرنے لگ گئی۔ مجبوراً میں چپ ہوگیا مگر موقع کی تلاش میں رہا کہ کسی بھی وقت اسے ختم کرڈالوں گا۔ کئی مرتبہ کوشش بھی کی مگر اس کی ماں آڑے آجاتی۔ حتی کہ وہ چلنے پھرنے، کھیلنے کودنے اور باتیں کرنے کے قابل ہوگئی۔ اسے مجھ سے بہت محبت تھی اور میرے دل میں بھی انسیت پیدا ہوتی جارہی تھی۔ میں نے سوچا کہ ایسا نہ ہو کہ اس کی محبت میرے دل میں گھر کر جائے اور میں اسے قتل کرنے کے ارادے سے باز آجاؤں۔ ایک دن میں نے موقع پاکر اسے کندھے پر بٹھایا اور سیر کے بہانے لے کر چل دیا۔ صحرا میں پہنچ کر میں نے گڑھا کھودا۔ اس دوران جو ریت میرے کپڑوں پر آکر پڑتی، میری بیٹی اسے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے جھاڑ دیتی (وہ شخص سسکیاں لے کر رونے لگا اور نبیٔ رحمت ﷺ بھی رونے لگے) مگر مجھے اس پر ترس نہ آیا اور میں نے اسے گڑھے میں کھڑا کرکے اس پر ریت ڈالنا شروع کردی۔ شروع میں تو وہ نہ سمجھی۔ جب کاندھوں تک ریت آگئی تو چلانے لگی۔ ’’ابا یہ کیا کررہے ہو؟ ابا ابا مجھے مت مارو۔‘‘ (وہ شخص دیر تک سسکیوں سے روتا رہا) مگر میں نے اسے ریت میں دفن کردیا۔ زندہ درگور کردیا۔ ‘‘ نبیٔ رحمتؐ اتنا روئے کہ آپؐ کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی۔

٭٭٭

گھر کے دروازے پر کھڑی میں سوچ رہی ہوں کہ اب کس طرف جاؤں۔ میری پشت پر جو گھر ہے وہ میری پناہ ثابت ہوسکتا تھا مگر قسمت کی خرابی نے میرے پاؤں وہاں جمنے نہ دئے اور آج بے مہر اور بے اعتبار رشتوں کی ایک ٹھوکر نے مجھے آسمان کے سائبان تلے لا کھڑا کیا ہے۔ پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو سب بہن بھائی اپنی اپنی زندگی اور مصروفیات میں مگن ہیں۔ بیوہ ماں کا غمزدہ چہرہ نگاہوں کے سامنے ہے جو خود دوسروں کے سہارے کی محتاج ہے۔ کیا بھائی مجھے خوش آمدید کہیں گے؟ میں نے اپنے آپ سے سوال کیا اور پانچ بیٹیوں پر نگاہ ڈالی۔ مایوسی اور انکار کے سوا کوئی جواب نہ آیا۔ پھر مجھے خود ہی اپنے سوال پر ہنسی آگئی۔ جن بیٹیوں کو باپ نے خوش آمدید نہ کہا انھیں ماموں ممانیاں کیونکر برداشت کریں گے؟

اب تو یوں لگتا ہے کہ دس سال پلک جھپکتے میں گزر گئے ہیں حالانکہ جب یہ دور گزر رہا تھا تو لگتا تھا کہ چیونٹی کی چال چل رہا ہے۔ شاید خوشی کے لمحات جلدی گزر جاتے ہیں اور دکھ کے لمحات صدیوں پہ محیط ہوجاتے ہیں۔

شادی کے بعد کا کچھ عرصہ تو خاصا اچھا گزرا۔ شوہر محبت کرنے والا تھا۔ سسرال والوں نے بھی سرآنکھوں پر بٹھایا۔ میری ماں پرانے خیالات کی عورت تھی۔ اس کی تو بس ایک ہی نصیحت تھی: ’’بیٹی جیسے بھی حالات ہوں گزارا کرنے کی کوشش کرنا۔ اپنی پسند کے افراد اور حالات نہیں ملا کرتے۔ انھیں موافق بنانا پڑتا ہے۔ بس یہ سوچ لینا کہ واپسی کا راستہ نہیں ہے۔‘‘

خیر فی الحال تو حالات اچھے ہی تھے اس لیے ہنسی خوشی گزارا ہورہا تھا۔ پہلا جھٹکا تو اس وقت لگا جب میرے ہاں پہلی بیٹی عطیہ پیدا ہوئی۔ نہ صرف ساس نندوں نے بلکہ شوہر نے بھی منہ بنالیا۔ البتہ سسر کا رویہ حوصلہ افزا تھا۔ انھوں نے تسلی دی، مبارکباد بھی دی اور بہت سی دعائیں دیں۔

’’آہ میرے بیٹے پر چھوٹی عمر ہی میں بیٹی کا بوجھ پڑگیا۔‘‘ ساس نے ٹھنڈی آہ کھینچی۔

’’بوجھ؟‘‘ مجھے حیرت ہوئی۔ ’’اماں جی بوجھ کیسا؟‘‘

’’ارے بیٹی تم ابھی کم عمر ہو، تم کیا جانو بیٹیوں کا بڑا بوجھ ہوتا ہے۔ پیدا ہوتے ہی رشتوں اور جہیز کی فکر لگ جاتی ہے۔ پتا نہیں قسمت اچھی ہو کہ نہ ہو…؟‘‘ انھوں نے سمجھایا۔

مجھے مزید حیرت ہوئی ’’اماں جی پالنا تو لڑکوں کو بھی پڑتا ہے اور لڑکیوں کو بھی اور قسمت کا تو کسی کا بھی پتا نہیں۔ کیا سب لڑکوں کی قسمت اچھی ہوتی ہے؟‘‘

ان کے ماتھے پر ناگواری کی شکنیں گہری ہوگئیں۔ ’’یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ آغاز ہی بیٹی کی نحوست سے ہوگیا ہے۔‘‘

میرے دل پہ گھونسا لگا۔ ’’یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں اماں جی … لڑکیاں منحوس کیوں ہوتی ہیں آخر؟ اگر لڑکیاں پیدا ہی نہ ہوں تو آپ اپنے بیٹوں کے لیے دلہنیں کہاں سے بیاہ کر لائیں گی؟‘‘

اماں جی ناراض ہوکر ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئیں ’’تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے۔ تم تو زبان درازی پر اتر آئی ہو۔‘‘ انھوں نے کمرے سے نکلتے وقت دروازہ دھڑ سے بند کیا۔ میں نے حیران اور دل گرفتہ ہوکر شوہر کی طرف دیکھا مگر وہاں ہمدردی کے کوئی آثار نہ تھے بلکہ الٹا بے زاری اور خفگی کا اظہار تھا۔

’’میں اماں جی کی خفگی کو سمجھ نہیں سکی۔ ہمارا پہلا بچہ ہے۔ بیٹا ہو یا بیٹی اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ ہر طرح سے صحت مند اور صحیح سلامت ہے۔‘‘

’’تم اپنا فلسفہ اپنے پاس رکھو۔ ہمارے ہاں بیٹیوں کی پیدائش کو نحوست ہی سمجھا جاتا ہے۔‘‘

’’دیکھیں اسلام ……‘‘ میں نے اپنی طرف سے بڑی مضبوط دلیل دینا چاہی مگر انھوں نے میری بات کاٹ دی اور ترش روئی سے بولے:

’’بس بس! اب تم مجھے جنت کے وعدے بلکہ سبز باغ مت دکھاؤ اور نہ ہی دوزخ کی دھمکیاں دو۔‘‘ وہ بھی پاؤں پٹختے ہوئے کمرے سے باہر چلے گئے اور میں اس سارے فسانے میں ناگواری کی وجہ اور اپنا قصور تلاش کرتی رہ گئی۔

دوسری بیٹی کی آمد پر ردِّ عمل زیادہ شدید تھا۔ ساس کے طعنے اور ملامتیں ایک طرف تھیں اور شوہر کا جارحانہ رویہ دوسری طرف سے مجھے پیسنے لگا۔ میں اللہ کی رحمت سے پرامید تھی اور اسی سے دعائیں مانگتی رہتی تھی۔ جبار اپنے نام کی طرح جابرانہ رویہ اختیار کرتے جارہے تھے۔ کئی مرتبہ بلاوجہ چڑجاتے اور گالی گلوچ پہ اتر آتے۔ دوچار دفعہ تو مار پٹائی بھی ہوتے ہوتے رہ گئی۔

تیسری بیٹی کی پیدائش پر وہ بری طرح بگڑ گئے۔ ’’تم میری نرمی سے ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہو۔‘‘

میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا: ’’کیا مطلب ہے آپ کا؟ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اسے میں نے خود بیٹے کی بجائے بیٹی بنایا ہے؟‘‘

’’میرا کچھ بھی مطلب وطلب نہیں ہے۔ لیکن تم یہ کان کھول کر سن لو کہ میں مزید بیٹیاں برداشت نہیں کرسکتا۔ تم نے میرا گھر نحوست سے بھردیا ہے۔ میرا سر جھکا کے رکھ دیا ہے۔ اس کے بعد اگر لڑکی پیدا ہوئی تو میں تمہیں ہمیشہ کے لیے گھر سے نکال دوں گا۔‘‘

’’ارے واہ… بھئی آخر اس میں میرا کیا قصور ہے۔ آپ اللہ کی تخلیق کی مسلسل تذلیل کررہے ہیں۔‘‘ میں مارے غم اور دکھ کے رو پڑی۔ مگر میرے آنسو پتھر میں سوراخ نہیں کرسکتے تھے۔ وہ اسی نحوست سے بولے:

’’مجھے تمہاری دلیلوں سے کوئی سروکار نہیں۔ میں تو تنگ آچکا ہوں تم سے۔ شادی کے بعد اب تک تم نے مجھے کوئی سکھ نہیں دیا۔ میں تو شادی کرکے پچھتایا۔‘‘

میرے پاس اس ہٹ دھرمی کا کوئی جواب نہیں تھا۔ میں انہیں محبت، نرمی اور خدمت ہی سے رام کرسکتی تھی۔ لیکن ہر دفعہ ایک اور بیٹی کی آمد میری تمام کوششوں پہ پانی پھیردیتی تھی۔ اب تو اکثر و بیشتر مار پٹائی سے بھی سابقہ رہنے لگا تھا۔ شاید اللہ تعالیٰ نے میرے تمام تر صبر کا بدلہ آخرت ہی میں دینے کا فیصلہ کررکھا تھا۔ اب تو مجھے نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنی معصوم بیٹیوں کے لیے بھی تگ و دو کرنی تھی۔ رہ رہ کے ہمت ٹوٹ جاتی مگر ان بچیوں کی معصوم نگاہیں اور فرشتوں جیسی مسکراہٹیں نئے سرے سے زندگی کا حوصلہ بخش دیتی تھیں۔

یہ چوتھا موقع تھا جب میں زندگی اور موت کی سرحد پر کھڑی تھی۔ آج ہی میری بربادی یا آبادی کا بھی فیصلہ ہوجائے گا۔ ذہن شدید دباؤ اور تناؤ کی کیفیت میں تھا۔ مایوسی رہ رہ کے غلبہ پاتی تھی اور پھر امید ڈوبتی ناؤ کا کنارہ تھام لیتی۔ دعائیں تو ایک تسلسل کے ساتھ وردِ زبان تھیں۔

مگر نرس نے جب خبر سنائی تو وہ وہی پرانی خبر تھی بلکہ اس مرتبہ قسمت کا حملہ دگنا شدید تھا۔ جڑواں بچیاں مجھے جنت سے قریب اور شوہر کے گھر سے دور کرنے آچکی تھیں۔ آج تو مجھے بھی ایسا گہرا صدمہ ہوا کہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہی ہوگئی۔ میرے آس پاس گہرا اندھیرا تھا یا ایسی دھند کے جس کے پار کچھ نظر نہیں آتا۔ میری آنکھوں میں ریت ہی ریت تھی۔ جیسے کسی نے مجھے زندہ درگور کردیا ہو۔ جوئے خوں آنکھوں سے بہتا رہا۔ شکوے دل اور زبان پہ مچلتے رہے مگر خدا کی جناب میں گستاخی کا تو میں تصور بھی نہیں کرسکتی تھی۔ مجھے اب بھی اس کی رحمت پہ یقین تھا۔ یقینا اس میں بھی اس کی کوئی مصلحت ہوگی۔ شاید وہ میرا امتحان لینا چاہتا تھا۔ شاید میرے لیے آخرت کی بہتری مقصود ہے۔ شاید میری آہیں دل سے نہ نکلتی ہوں گی۔ شاید میرے اعمال کی سیاہیوں نے میری دعاؤں کا راستہ روک لیا ہوگا۔

اس دن میں شام تک انتظار کرتی رہی لیکن گھر سے کوئی نہ آیا۔ نہ ساس آئیں اور نہ شوہر۔ دکھ اور غم سے بھوک تو پہلے ہی اڑ چکی تھی مگر میری بوڑھی ماں میرے پاس تھی۔ وہ بھی بھوکی تھی اور اسے اسپتال سے تو کھانا ملنا نہیں تھا۔ صورتِ حال ساری کی ساری ان کے علم میں تھی۔ وہ بھی آنے والے خطرے سے کانپ رہی تھی۔

’’امی آپ نیچے کینٹین سے کچھ خرید لائیں۔ آپ کو بھوک لگ رہی ہوگی۔ آپ تو کچھ کھالیں۔‘‘

’’نہیں بیٹی… مجھے بھوک نہیں ہے۔ البتہ میں تمہارے لیے سیب لے کر آتی ہوں۔‘‘

’’نہیں امی جان۔ مجھے بھی بھوک نہیںہے۔ میں کچھ نہیں کھاؤں گی۔‘‘ میں نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا: ’’پلیز امی آپ کچھ کھالیں۔ اگر آپ کو کچھ ہوگیا تو میں کیا کروں گی؟‘‘

’’نہیں میں نہیں کھاسکتی کچھ بھی۔ جب بھوک لگے گی تو کھالوں گی۔‘‘

یوں ہم ماں بیٹی رات تک بھوکے رہے۔ دو ننھی جانوں کو تو دودھ پلانا ہی تھا۔ امی نے زبردستی کرکے مجھے اور میں نے زبردستی کرکے انھیں سیب کے چند ٹکڑے کھلائے۔ گھر سے ابھی تک کوئی نہ آیا تھا۔ تمام رات میں سولی پر ٹنگی رہی۔ جبار کیوں نہیں آئے۔ کیا انھیں یہی توقع تھی کہ میرے ہاں اس مرتبہ بھی بیٹا پیدا نہیں ہوگا؟ میں ان کی آرزو پوری نہیں کرسکی… مگر اس میں میرا کیا قصور ہے؟ بچیوں کا کیا قصور ہے؟ وہ بے رخی اور نفرت و بدسلوکی کے گڑھے میں کیوں سسک رہی ہیں؟ وہ اور میں کس گناہ کی پاداش میں زندہ درگور ہیں؟

اگلے دن دو پہر کو جبار آئے اور جڑواں بیٹیوں کی خبر سن کر آگ بگولہ ہوگئے۔ ان کا بس چلتا تو شاید مجھے اور بچیوں کو قتل ہی کرڈالتے۔

’’اف… تم منحوس عورت! اب تم اپنی نحوست سمیت میرے گھر سے دفعان ہوجاؤ۔ میں تمھیں ایک دن بھی برداشت نہیں کرسکتا۔‘‘ انھوں نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا۔

’’یہ تم کیا کہہ رہو بیٹے ۔‘‘ میری امی مداخلت کر بیٹھیں۔ ’’یہ کہا ںجائے گی بیٹا۔ یہ تمہاری بیوی ہے۔ یہ بچیاں …‘‘

’’بس بس!‘‘ وہ دھاڑے ’’یہ نحوست تمہاری ہی دی ہوئی ہے۔ اپنی بیٹی اور اس کی سوغاتوں سمیت تم بھی میرے گھر میں قدم نہ رکھنا۔‘‘ وہ کوئی بات سنے بغیر چلے گئے۔

اب میرے پاس سوائے آنسوؤں کے اور کچھ نہ تھا۔ سامنے ایک وسیع خلا تھا۔ ذہن خالی تھا۔ سوالوں کا کوئی جواب نہ تھا۔ ذہن اندھیروں میں ڈوبتا چلا گیا۔

وہ کسی صلح پر آمادہ نہ تھا۔ کوئی بات نہیں سننا چاہتا تھا۔ مجھے کوئی رعایت دینے پر تیار نہ تھا۔ صرف اتنی لچک ضرور اس نے دکھائی کہ مجھے گھر آنے اور اپنا اور بچیوں کا ذاتی سامان سمیٹ کر لے جانے کی اجازت دے دی۔

اور آج میں اپنے مختصر سامان اور پانچ بیٹیوں کے ساتھ ماں کے سامنے شرمندہ کھڑی ہوں جس نے نصیحت کی تھی کہ ہر صورت میں نباہ کرنا اور شوہر کا گھر چھوڑ کر مت آنا۔ لیکن اس نے تو خود اپنی آنکھوں سے میرا گھر ٹوٹنے اور اجڑنے کا مشاہدہ کیا ہے۔ وہ جانتی ہے کہ میں بے قصور ہوں۔ وہ مجھ سے یہ سوال نہیں کرسکتی کہ تو کس قصور میں گھر سے نکالی گئی…… وہ ماں ہے اور وہ اپنی کمزوری اور بے بسی کے باوجود مجھے نہیں دھتکارے گی بلکہ اپنا کمزور کاندھا سہارے کے لیے پیش کردے گی۔ اللہ تعالیٰ تو ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والا ہے۔ کیا وہ روزِ قیامت ہم سے نہیں پوچھے گا۔بأی ذنب قتلت؟

شیئر کیجیے
Default image
سمیعہ سالم

تبصرہ کیجیے