5

کچھ سنا آپ نے!

نبی آخرﷺ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ میری امت کا فتنہ مال ہے۔ جہیز بھی ایک مال ہے۔ جو مالداروں کے گھروں سے شروع ہوتا ہے اور غریبوں کے گھروں کو جلا کر راکھ کرتا ہے۔ ہندوستان میں مسلم بیٹیوں کو جلانے کے واقعات شروع ہوچکے ہیں میں کچھ دنوں تک جہیز کی خبروں میں لگی رہی۔ ایک ہفتے میں کئی خبریں آگئیں۔ میرے صبر کا پیمانہ تو اس وقت لبریز ہوگیا جب میں نے بجنور کی اس لڑکی کی عیادت کی جس کو اس کے سسرال والوں نے تیل لگاکر جلا دیا۔ آخر کار یہ لڑکی شہید ہوگئی۔ جی ہاں میں جان بوجھ کر شہید کا لفظ استعمال کررہی ہوں تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ بیٹی کو جہیز کے لیے قتل کرنے والے مسلمان نہیں ہوسکتے۔ اگرچہ وہ رجسٹر میں کتنے ہی عبداللہ، عبدالرحمان اور محمد اور احمد کے نام سے درج ہوں اور چاہے کوئی عالم ان کے خلاف فتویٰ دے یا نہ دے۔ اگر بیٹی جنت کا ذریعہ ہے تو اس پر ظلم جہنم کا راستہ کیوں نہیں ہے۔

عجیب عجیب باتیں ہیں جہیز کے بارے میں۔ صاحب ثروت اور دیندار مسلمان کہتے ہیں کہ جہیز کا مطالبہ غیر اخلاقی ہے یہ جہیز کے لیے نرم گوشہ ہے۔ جہیز کا لین دین جس صورت میں رائج ہے اسے ناجائز کہنے کے لیے بڑا جگر چاہیے۔ کیوں کہ ہر ایک کو اپنے گھر میں ایک میدان فتح کرنا ہوگا۔ اصل بات یہ ہے کہ جہیز کو ’’غیر اخلاقی‘‘ کہنے والے لوگ تقریر تحریر کے سارے معرکے فتح کرسکتے ہیں لیکن قوا انفسکم و اہلیکم ناراً اور انذر عشیرتک الاقربین کے معاملہ پر ان کے سارے پیچ و خم ڈھیلے پڑجاتے ہیں۔ یہیں سے جہیز کا مرض پھلنا پھولنا شروع ہوا ہے۔ جتنی لڑکیوں کو جلایا گیا ہے ان کے قاضیوں سے کون پوچھے کہ نکاح پڑھانے سے پہلے انھوں نے جہیز کے معاملے پر کیا کہا اور کیا فیصلہ دیا۔

حیدرآباد میں ایک شادی میں جتنی آئس کریم کھائی جاتی ہے اتنے روپیوں میں حیدرآباد کی کم سے کم ۱۰۰ لڑکیوں کا نکاح کرایا جاسکتا ہے۔ لکھنؤ میں بارات اور چوتھی میں جانے والی گاڑیوں کا قافلہ اگر مختصر کردیاجائے تو وہاں جہیز کی وجہ سے گھر بیٹھی سینکڑوں بیٹیوں کا گھر آباد کیا جاسکتا ہے۔ دارالسلطنت دلی کے مسلمان ڈیکوریشن اور ٹینٹ میں جتنی دولت بہاتے ہیں۔ اس میں بھی سینکڑوں خاندانوں کی مایوسی دور کی جاسکتی ہے۔ دین اسلام کے قصیدے پڑھنا ہر شخص پسند کرتا ہے۔ دین نے خواتین کو یہ حقوق اور وہ حقوق دئیے لیکن یہ کوئی نہیں کہنا چاہتا کہ خود اس نے اپنے گھر میں اپنی تنظیم میں اپنے خاندان میں خواتین کو کس مقام پر رکھ چھوڑا ہے۔

ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ لوگ اہم کے مقابلے غیر اہم بات کرکے جان بچالیتے ہیں۔ شادی میں موسیقی کے استعمال پر نہ جانے کتنے فتوئے اور کتنے بائیکاٹ ہوئے، کھڑے ہوکر کھانا، بیٹھ کر کھانا بھی انابھری بحث کا حصہ بنتا ہے۔ لیکن جہیز کا لین دین کرنے والوں کی تقریب نکاح سے دوری بنانے میں سب کو نقصان ہی نقصان نظر آتا ہے۔ جب ہندوستان میں سفر حج مسلکی اختلاف کا شکار ہوا تو سید احمد شہید علانیہ قافلے لے کر جانب مکہ روانہ ہوئے۔ اللہ مغفرت فرمائے۔ مہر کو موخر کرنا اور نفقے کو بھول جانا یہ روایت بن چکی ہے۔ کاش اس روایت شکنی کے لیے کوئی تحریک کھڑی ہوتی۔

ایک صاحب کو لفظ بارات پر شدید اعتراض تھا۔ جب کہ اس لفظ کا کوئی اچھا متبادل بھی پیش کردیا جائے تب بھی بات وہی رہے گی اور حقیقت بھی۔ بارات پر چراغ پا ہونے والے جہیز کے لین دین پر اتنا ہی چراغ پا کیوں نہیں ہوتے جس پراللہ کے رسولؐ کی ناراضگی ہے۔ یہ نہ سمجھیں کہ میں لڑکی والوں پر رعب جمانے والی باراتوں کی حمایت کررہا ہوں۔ بات صرف اتنی ہے کہ موسیقی، بارات، باجے کے مقابلے میں دلہن کو قتل کرنے کی بات آخر سنگین ہے یا نہیں۔ ایک دلہن کی زندگی بچانے کے لیے منہ سے ایک لفظ نکالنا آخر کیوں گراں گزرتا ہے۔

کہتے ہیں وراثت میں لڑکی کو حصہ نہیں ملتا۔ جہیز اس لیے دیا جاتا ہے تاکہ وراثت میں حصہ دینے سے جان بچ جائے۔ یہ بات بھی آدھی سچ ہے۔ وراثت کا حصہ بہر حال موروث کے انتقال کے بعد ہی ملتا ہے، پہلے نہیں دیا جاتا ۔ لیکن یہاں تو ماں باپ، بھائی کی وراثت سے حصہ پانے سے پہلے ہی دلہن جلا دی جاتی ہے۔ دلہن کا مال شوہر نامدار اور دیگر افراد خاندان مل بانٹ کر کھا جاتے ہیں۔

مہر کے بارے میں مان لیا گیا ہے کہ شاید یہ دینے کے لیے نہیں بلکہ معاف کروالینے کے لیے طے ہوتا ہے۔ رہا نفقہ کا معاملہ تو ہر شخص اپنے گھر سے واقف ہے کہ گھر کی ملکہ کو کتنا نفقہ ملتا ہے۔ گویا ایک عورت کے لیے وسائل زندگی ہر طرف سے محدود ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان مطلقہ یا بیوہ کے حالات اوروں سے زیادہ خستہ ہیں۔

جہیز فاطمی کا لفظ چلن میں ہے۔ فاطمی جہیز کیا ہوتا ہے جو حضورؐ نے حضرت فاطمہ کو دیا۔ کیا سچ مچ حضور نے فاطمہؓ کو دیا یا حضرت علی کوجو حضورؐ کی کفالت میں تھے۔ جہیز فاطمی کی حیثیت کو معاشرے میں غیر واضح کیوں چھوڑ دیا گیا ہے۔ کہ جہیز فاطمی کا لفظ محض دھوکہ ہے۔ پھر یہ معاملہ ان لوگوں کا ہے جن کے گھروں میں کئی کئی روز چولہا نہیں جلتا تھا۔ کیا حضرت علی و فاطمہؓ اور کیا جناب حضورؐان حضرات کو نہ تو وسائل زندگی کی فکر تھی اور نہ انھیں میسر تھے۔ جس گھر میں چولہا، بچھانے کو بستر، آٹا پیسنے کے لیے چکی اور پانی کے لیے مشکیزہ نہ ہو جو سارا مال و متاع ہجرت مکہ میں دین کے لیے چھوڑ آئے ہوں۔ کیا ہمارے معاشرے کا جہیز بھی ایسے ہی خاندانوں کو آباد کررہا ہے یا صرف دولت کی ہوس پوری ہورہی۔ جو جتنا امیر ہے اس کے اتنے ہی لین دین ہیں۔ غریبوں اور پسماندہ لوگوں میں بیٹیاں نہیں جلائی گئی ہیں۔ بیٹیاں محلوں اور کوٹھیوں میں رہنے والے لوگوں نے جلائی ہیں۔ کیا اتنا سننے کے بعد بھی کوئی غور کرنے کو تیار ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
مریم جمال

تبصرہ کیجیے