BOOST

جہیز کی آگ

نئی دہلی کے رانی باغ میں رہنے والی اٹھائیس سالہ دلجیت کور نے اپنے ایک سالہ بیٹے کو گودمیں لے کر مکان کی تیسری منزل سے کود کرجان دے دی۔ وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئی جبکہ ایک سالہ بیٹے کو شدید زخمی حالت میں جے پور گولڈن اسپتال میں داخل کیا گیا۔ اس کے بھائی نے الزام لگایا کے ہماری بہن خود کشی نہیں کرسکتی۔ اسے چھت سے نیچے دھکیلا گیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جہیز کو لے کر ان کی بہن کو مسلسل ستایا جاتا تھا۔ جبکہ اس کے بھائیوںنے شادی میں انڈکا کار دی تھی مگر اس کا شوہر ہونڈا سٹی کی مانگ کررہا تھا۔

بیس سالہ دیپالی کے شوہر ترلوک چند نے اس پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگادی۔ شدید طور پر جھلسی دیپالی نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا کہ جب اس پر آگ لگائی گئی اس وقت اس کے سسر اور دیور بھی موجود تھے۔ اس کا شوہر ، بھائی، سسر، دیور اور ساس فرار ہیں۔

یہ ملک کی راجدھانی کے تعلیم یافتہ اور خوش حال گھرانے کی دلدوز داستانیں ہیں۔ اور ایسی داستانیں ملک کے ہر حصہ ہر مذہب اور طبقے کے خاندانوں میں پیش آرہی ہیں۔ اخبارات روزانہ جہیز کے لیے جلائی جانے والی جواں سال دلہنوں کی خبریں شائع کرتے ہیں اور پورا سماج انہیں پڑھتا بھی ہے مگر سوائے وقتی اظہار افسوس کے اور کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

اترپردیش کے لونی قصبہ کے تحت حاجی پور گاؤں میں جہیز کے لالچی سسرال والوں نے جواں سال رخسانہ پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگادی۔ اسے نوے فیصد جلی ہوئی حالت میں اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں اس نے موت کا جام پی لیا۔

دہلی ہی کے ایک پوش علاقہ وسنت وہار کی رہنے والی نیتو کو جھلسی ہوئی حالت میں اسپتال لایا گیا۔ نیتو نے مجسٹریٹ کو بتایاکہ اسے جہیز کے لیے اکثر مارا پیٹا جاتا تھا۔ اور اب اس کے شوہر راہل اور دیور روہت نے اس پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگادی۔

بلند شہر یوپی کے ایک گاؤں گٹرکوڈا میں جہیز کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر سسرال والوں نے نئی شادی شدہ عورت کو مارڈالا اور اس کی آخری رسومات بھی خاموشی کے ساتھ ادا کردیں۔ گاؤں کے کسی آدمی کی اطلاع پر مرنے والے کے باپ شامل سنگھ نے اپنی حیثیت کے مطابق کافی جہیزدیا تھا مگر سسرال والے اس سے مطمئن نہ تھے اور مزید جہیز کامطالبہ کرتے چلے آرہے تھے۔ اس کے لیے لڑکی کو زدو کوب بھی کیا جاتا تھا۔

اتر پردیش کی راجدھانی لکھنو کے مال تھانے علاقے کے تحت کالونی میں ایک خاتون کو زہر دے کر ہلاک کردیا گیا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ رودان کھیڑا کے رہنے والے کالی چرن کی ۲۳ سالہ بیٹی کنچن لتا کی شادی تین سال پہلے اشوک سے ہوئی تھی سسرال والے کنچن سے موٹر سائیکل اور کلر ٹی وی لانے کے لیے مسلسل زدوکوب کرتے تھے۔ اب مانگ پوری نہ ہونے پر اسے ہلاک کردیا گیا۔ گرفتاری کے ڈر سیسسرال والے گھر پر تالہ لگا کر فرار ہوگئے۔

نجیب آباد (بجنور) کی ۲۵ سالہ اور دو لڑکیوں کی ماں گڑیا کو جہیز کی خاطر اس کی ساس، جیٹھ، دیور اور شوہر نے اپنے گھر کے اوپری کمرے میں تیل چھڑک کر جلا ڈالا۔ اور یہ واقعہ عین اس وقت ہوا جب گڑیا کی ماں، اس کے بہنوئی اور بڑی بہن ان کے گھر میں ہی موجود تھے۔ انھوں نے بداخلاقی اور درندگی کی تمام حدوں کو پار کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ گڑیا کو جلا کر مارنے کی کوشش کی بلکہ اس کے بہنوئی کے ساتھ مار پیٹ بھی کی۔ اسے ۸۰ فیصد جلی ہوئی حالت میں دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں ایک ہفتہ زندگی اور موت کی کشمکش کے بعد اس کا انتقال ہوگیا۔

یہ قتل اور خون کی داستانیں ہر روز کے اخبارات میں پڑھنے کے لیے ہم مجبور ہیں۔ یہ ہلاکتیں اور جلا کر مارنے کے واقعات اڑیسہ کے داراسنگھ، نے انجام نہیں دئے۔ نہ دہشت گردوں کے حملے اس کا سبب ہیں اور نہ عراق اور افغانستان کی جنگ میں یہ واقعات پیش آئے۔ ان واقعات کے پیچھے نہ ہندو مسلم فسادات ہیں اور نہ دشمنوں اور ڈاکوؤں کے حملے۔ بلکہ یہ سارے واقعات بیویوں کے شوہروں اور ان کے اپنے سگے رشتہ داروں کے کالے کرتوت ہیں جو نام نہاد پرامن گھرانوں میں پیش آئے ہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ واقعات کسی خاص طبقہ، مذہب یا گروہ سے جڑے ہوں۔ یہ ہمارے ’’ترقی یافتہ‘‘ اور ’’مذہب‘‘ سماج میں اب عام ہیں۔ یہاں مذہب کی تفریق بے معنی اور امیروغریب کا فرق بے کار ہے۔ پورا سماج ہے جو اس آگ کی لپیٹ میں ہے اور پورا ملک ہے جہاں بکثرت اس قسم کے واقعات پیش آتے ہیں اور ان کا شمار کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ہر پانچ منٹ پر ایک عورت جہیز کی خاطر جلاڈالی جاتی ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہاں ہر روز ۲۸۸ لڑکیاں اور ہر سال ایک لاکھ پانچ ہزار سو لڑکیاں محض جہیز کی چتا پر چڑھا دی جاتی ہیں اور رانی جیٹھ ملانی (سابق وزیر قانون رام جیٹھ ملانی کی بیٹی) کی رپورٹ کے مطابق ہر سال ڈیڑھ لاکھ لڑکیاں جہیز کی خاطر جلا ڈالی جاتی ہیں۔

لیکن … لیکن پھر بھی ہمارے ذہن و دماغ اور قلب و ضمیر بے حسی اور سماجی و معاشرتی مردنی کالبادہ پھینکنے کے لیے تیار نہیں۔ ہم ان لاکھوں جلا ڈالی جانے والی بہوؤں کے جلتے جسم کی بدبو کو محسوس کرنے کے لائق نہیں۔ کتنے بے حس، بے ضمیر اور پتھر دل ہوگئے ہیں ہم لوگ۔

تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا

کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

اسباب

٭ جہیز کے لیے لڑکیاں کیوں جلائی اور قتل کی جارہی ہیں؟ اس کاکلیدی سبب وہ حرص و ہوس ہے جو ڈگریوں اور تعلیمی ترقی کے ساتھ بتدریج بڑھتی جاتی ہے۔ جو لڑکا جتنا تعلیم یافتہ اور اعلیٰ ڈگریوں کاحامل ہے وہ خود کو اسی قدر زیادہ مال جہیز کا حق دار تصور کرتا ہے اور اس کے گھر والے اور والدین اس کی ڈگریوں اور تعلیم کو جہیز کی صورت میں وصول کرنا چاہتے ہیں۔ اس فکر کے پیچھے ہماری وہ سماجی و معاشرتی سوچ ہے جس میں لڑکیوں کو ذلیل، حقیر اور کم تر سمجھا جاتا ہے اور انہیں معاشرہ کے تعلیم یافتہ نوجوان بغیر مال و اسباب کے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ سوچ اس قدر ناانصافی پر مبنی ہے کہ ان کے ذہن میں یہ خیال تک نہیں آتا کہ لڑکی بھی تعلیم یافتہ ہے اور لڑکے ڈگریوں کے ساتھ ساتھ اس کی تعلیمی صلاحیت اور ڈگریوں کی بھی اہمیت ہے اور اس کی تعلیم پر بھی لڑکی والے مال و اسباب اور اپنی گاڑھی کمائی صرف کرتے ہیں۔

٭ جہیز کے معاملہ میں جلائی جانے اور قتل کیے جانے میں لڑکی کے گھر والوں، بھائیوں اور والدین کی لاپرواہی کا بھی دخل ہے۔ اور وہ اس طرح کہ لڑکی والے شادی کرکے یہ تصور کرتے ہیں کہ ان کے سر سے ایک بڑا بوجھ اتر گیا۔ کیونکہ وہ لڑکی کو بوجھ سمجھتے ہیں اس لیے شادی کے بعداس بات کی توفیق انہیں کم ہی ہوتی ہے کہ وہ لڑکی کی ازدواجی زندگی اور اس کی کیفیات کے بارے میں معلومات رکھیں اور مسائل کی صورت میں انہیں حل کرنے کی کوشش کریں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ناقابل برداشت اور شدید اذیت کی صورت میں بھی وہ لڑکی کو اسی کی تلقین کرتے ہیں کہ وہ صبر کرے اور برداشت کرتی رہے۔ ایسی حالت میں یا تو لڑکی کو مارڈالا جاتا ہے یا وہ خود ہی خودکشی پر مجبور ہوجاتی ہے۔

٭ ہمارے معاشرہ میں لڑکی مجبور محض ہے۔ شادی سے پہلے اس کی شخصیت پر والدین کا جائز و ناجائز ہر طرح کا کنٹرول رہتا ہے اور شادی کے بعد یہ تمام اختیارات سسرال والوں کو منتقل ہوجاتے ہیں جس سے اسکی اپنی شخصیت ٹھٹھر جاتی ہے۔ شادی کے بعد سسرال کے مظالم اور اس پر والدین یا گھر والوں کامناسب سپورٹ نہ ہونے کی صورت میں لڑکی اپنے آپ کو اس بات کے لیے تیار کرلیتی ہے یامجبور ہوجاتی ہے کہ وہ ہر صورت میں حالات سے سمجھوتہ کرے۔ جہیز کے مطالبہ کے معاملے پر وہ انتہائی مجبور ہوتی ہے اور گھر والوں کی طرف سے عدم تعاون اسے اور زیادہ مجبور کردیتا ہے۔ وہ مظالم کی صورت میں اپنے دفاع یا سماجی اور قانونی اختیارات کے استعمال کے بارے میں سوچ تک نہیں پاتی۔

٭ اس طرح کے واقعات اور ان کے اضافہ کا ایک اہم سبب قانون کا ناکارہ پن بھی ہے۔ اکثر خواتین پر مظالم کی رپورٹ یا تو قانون کو ہوتی ہی نہیں یااگر ہوتی بھی ہے تو انصاف کی توقع مشکل ہی سے ہوتی ہے اور اگر انصاف ملتا بھی ہے تو اتنی دیر کے بعد ملتا ہے کہ اس کی معنویت ختم ہوجاتی ہے۔ قانون کے ذریعہ انصاف حاصل کرنا اس قدر مہنگا اور طویل مدتی عمل ہے کہ وہاں تک جانے کے بارے میں سوچنا ہی ایک عورت کے لیے مستقبل کو تاریک تر بنادینے کے مترادف ہوتا ہے۔ اگر قانون کے ذریعہ انصاف ملے اور بر وقت ملے تو اس طرح کے واقعات کو روکا اور کم کیا جاسکتا ہے۔ انصاف دلانے کا کلیدی آلہ یعنی پولیس اس قدر غیر ذمہ دار اور بے عمل ہے کہ مظلوم کو انصاف دلانے کے بجائے چند روپیوں کے بدلے بک کر ظالم کا ساتھ دینے والی بن جاتی ہے۔

٭ اس ظلم اور نا انصافی میں سب سے بڑا ظالم وہ سماج ہے جس میں ہم رہتے اور بستے ہیں۔ اسی سماج نے جہیز کو قابلِ فخر بنایا ہے اور یہی سماج جہیز لینے اور جہیز دینے میں اپنی ناک اونچی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سماجی منافقت اور دورنگی کی عجیب و غریب صورتحال ہے۔ لڑکی کی شادی کے وقت یہ سماج جہیز کو بڑا مسئلہ تصور کرکے مگر مچھ کے آنسو بہاتا ہے اور خود کو خوب کوستا ہے مگر جب لڑکے کی شادی کا وقت آتا ہے تو اس کاطرز فکرو عمل یکسر بدل جاتا ہے اور مال جہیز کے لیے اس قدر حرص کا مظاہرہ کرتا ہے جیسے مرنے والا زندگی کی تمنا کرتا ہے۔

کیا کریں؟

جہیز کے خواہش مند اور اس کامطالبہ کرنے والے نہ صرف سماجی مجرم ہیں بلکہ عورت کی تحقیر اور تذلیل کے بھی مرتکب ہیں اور جو لوگ شریعت اسلامیہ کی رو سے اس کے جواز کی دلیلیں دیتے ہیں وہ اسلام کی روح کے ساتھ کھلواڑ اور شریعت کی رو سے عورت کے بنیادی حق مہر اور حق وراثت کا مذاق اڑانے والے ہیں۔ اسلام سے وابستہ نوجوانوں کے لیے تو لازم ہے کہ وہ اس برائی کے خلاف ’’جہاد عظیم‘‘ کریں۔ جہیز کا بنیادی عنصر کیونکہ لڑکا قرار پاتا ہے اس لیے باشعور اور ہوشمند نوجوان ہی اس میدان میں کچھ کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے سماج میں اس بیماری کے لیے زبردست بیداری مہم چلائیں اور اس کے خطرناک اثرات کو لوگوں پر واضح کرتے ہوئے اس بات کا عہد کریں کہ وہ خود جہیز کا بائیکاٹ کریں گے اور محض مہر کی بنیاد پر شادی کریں گے۔

٭ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا تھا کہ شادی جس قدر مشکل بنادی جائے گی سماج میں زنا آسان ہوجائے گا۔ اور اس وقت یہی کیفیت ہے۔ اس لیے شادیوں کو دولت اور شان و شوکت کا مظاہرہ بنانے کے بجائے سادہ ترین بنایا جائے اور اس سلسلہ میں سماج اور معاشرہ کی تنقید و ملامت کو بالکل نظر انداز کردیا جائے۔

٭ شادیوں اور رشتوں کے وقت دین داری اور علم و تقویٰ کو ترجیح دی جائے نہ کہ حسن و خوبصورتی، عہدوں اور مال و دولت کو مقدم رکھا جائے۔

٭ لڑکیوں کے اندر خود اعتمادی اور اپنی شخصیت کا ادراک و شعور بیدار ہو اور وہ سمجھیں کہ عورت جنس بازار نہیں اور نہ بوجھ ہے کہ مال و اسباب کے بدلے فروخت کیا جائے یا اتار پھینکا جائے۔

٭ سماج کی جو لڑکیاں اس پریشانی کا شکار ہیں وہ اس تصور کو ذہن سے نکال دیں کہ لڑکی کے لیے سب سے بہتر جگہ سسرال ہے۔ اگر وہ جہنم بن گئی ہے تو اس سے چھٹکارا ان کا حق ہے اور اپنا دفاع لازمی۔ ایسے مواقع پرصبر کرنے کے بجائے حوصلے سے مقابلہ کرنا چاہیے۔

٭ قانون اگرچہ وقت پر انصاف فراہم نہیں کرتا مگر اس کا سہارا لے کر ظالموں کو ظلم سے باز رکھا جاسکتا ہے۔ اس لیے لڑکیوں کو آگاہ کیا جائے کہ وہ ظلم کی صورت میں قانونی طور پر کون کون سے دروازے کھٹکھٹا سکتی ہے۔ ’’خواتین کے خلاف تشدد‘‘ کا قانون بن جانے کے بعد کم از کم اتنا تو ضرور ہوسکتا ہے کہ ایک پختہ عزم والی عورت خود کو ظالموں کے ہاتھ قتل ہونے سے بچالے۔

جہیز کے خلاف مہم صرف لڑکوں کے ذریعہ انجام نہیں دی جاسکتی۔ اس میں لڑکیوں کے پختہ ارادوں اور بلند عزائم کی بھی ضرورت ہے۔ جہاں جہیز نہ لینے کا عزم کرنے والے نوجوان درکار ہیں وہیں ایسی لڑکیاں بھی ضروری ہیں جو اس بات کا عہدکریں کہ وہ جہیز کے ساتھ اس گھر سے رخصت نہیں ہوں گی خواہ انہیں زندگی یوں ہی گذارنی پڑے مگر اس کے لیے انہیں حسین خوابوں کی زندگی کے ساتھ مصالحت کرنا ہوگی اور سادہ زندگی اور دین داری پر قناعت کا عزم کرنا ہوگا۔

یاد رکھئے کہ ہم جیسے اسلام پسند لوگ اس ظالم سماج کے باغی ہیں اور اس بغاوت پر ہمیں فخر ہونا چاہیے۔ ہم مستقبل میں لاکھوں جلتی ہوئی دلہنوں کو جہیز کی آگ میں جلنے سے بچانا چاہتے ہیں اور انہیں جہیز کی آگ سے اس وقت تک نہیں بچایا جاسکتا جب تک اس سے شدید اور دائمی آگ یعنی جہنم کے شعلوں سے نہ بچایا جائے۔ بس اٹھنا ہے اور ’’جہادِ عظیم‘‘ کرنا ہے لڑکے لڑکیوں کو جہیز کی آگ سے بچانے کے لیے اور اس سے بھی شدید آگ جہنم سے بچانے کے لیے۔

اتقوا فتنۃ لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ

’’لوگو! بچو اس فتنہ سے جو صرف ظلم کرنے والوں ہی کو اپنی گرفت میں نہیں لے گا۔‘‘

ہم لڑکے والے بھی ہیں اور لڑکی والے بھی۔ ہمارے بیٹے بھی ہیں اور بیٹیاں بھی۔ مگر کیا کوڑے کی مانند جہیز کی خاطر جلا ڈالی جانے والی لڑکیوں میں ہمیں اپنی بیٹیاں نظر نہیں آتیں۔ اگر نظرنہیں آتیں ہم اندھے ہیں آنکھیں رکھنے کے باوجود اور اگر نظر آتی ہیں تو ہم پتھر ہیں گوشت پوست کا جسم رکھنے کے باوجود، فیصلہ کیجیے ابھی اور اسی وقت کہ آپ اندھے ہیں یا آنکھوں والے۔ پتھر ہیں یا انسان؟

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

تبصرہ کیجیے