4

عصرِ حاضر میں سرسید کی معنویت

کورٹ ممبر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی

ذرّات کا بوسہ لینے کو سو بار جھکا آکاش یہاں

خود آنکھ سے ہم نے دیکھی ہے باطل کی شکست فاش یہاں

(ترانہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

۱۷؍اکتوبر کی تاریخ ہندوستانی مسلمانوں کی ملی زندگی میں بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ اسی روز بانئی درسگاہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی و امت مسلمہ کے عظیم مصلح سرسید احمد خاں کی یوم پیدائش پورے ہندوستان میں جوش و جذبہ کے ساتھ منائی جاتی ہے۔

۱۸۵۷ء؁ کے غدر تحریک کی ناکامی نے مسلمانوں کی دنیا ہی ویران کردی۔ سڑکیں مسلمانوں کے لہو سے لالہ زار کردئے گئے، ہزاروں علماء کو ذبح کردیا گیا۔ یہ ایک قیامت تھی۔ غالب نے اس قیامت کا ذکر اپنے خطوط میں کیا ہے لیکن ۱۹۵۷ء؁ کی قیامت کے غبار سے سرسید پیدا ہوئے۔ مسلمانوں کے سماجی، تعلیمی، معاشی و تہذیبی ترقی کے لیے دن کا سکون اور رات کا چین اپنے اوپر حرام کرلیا مسلمانوں کی مکمل ترقی کے لیے ایک تحریک شروع کی جسے دنیا علی گڑھ تحریک کے نام سے جانتی ہے۔

سرسید نے منفی رجحانات اور منفی تحریکوں کے زمانہ میں مثبت تحریک شروع کی۔ جذباتی باتوں اور تقریروں کے دور میں عملی اور حقیقی باتیں کیں۔ زمین پر پیر رکھ کر آسمانوں میں کمندیں ڈالنے کا خواب دیکھا۔ ٹکراؤ کو نظر انداز کیا توافق کو بنیاد بنایا۔ ایسا کارنامہ انجام دیا کہ مخالفین بے اختیار پکار اٹھیں کہ ’’سید کام کرتا تھا۔‘‘

برٹش استعمار تمام استعماروں سے یکسر مختلف تھا۔ یہ استعمار ایک فکری و نظریاتی بنیاد بھی رکھتا تھا جس کی طاقت سائنس اور انگلش زبان میں پنہاں تھی۔ سرسید نے مسلمانوں سے ان جدید علمی ماخذ کو اپنے کنٹرول میں کرلینے کی دعوت دی۔ اپنے اجتہاد کی مدد سے اس نئے صبح و شام میںاسلام کی فکر کی تشکیل نو کا کارنامہ انجام دیا۔

سرسید اپنی تحریک کی وجہ سے مختلف طبقوں کے سب و شتم کا نشانہ بھی بنے۔ فتوؤں کی مار سہی، کسی نے جوتے دئے اور کسی نے پتھر مارے مگر مشن جاری رہا۔ سائنٹفک سوسائٹی قائم کی، رسالہ تہذیب الاخلاق جاری کیا۔ ولیم میور کی شیطانی تصنیف کا مدلل جواب دیا۔ قریب سے انگلستان دیکھا۔ ۱۸۵۷ء؁ میں انگلستان آکر ساری کوشش کالج کے قائم کرنے کے لیے لگادی۔ بالآخر ۸؍جنوری ۱۸۷۷ء؁ کو وائسرائے لارڈلیٹن کے ہاتھوں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کی بنیاد ڈالی جو آگے جل کر ۱۹۲۰ئی میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہوگئی۔

اس وقت کے مسلم معاشرہ میں لڑکیوں کو کلی طور پر تعلیم سے محروم رکھا جارہا تھا۔ سرسید واحد شخص تھے جنھوں نے مردوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تعلیم نسواں کی بھی حمایت کی۔ چنانچہ ۱۸۸۸ء؁ میں ایک تعلیمی اجلاس میں قرار داد منظور ہوئی کہ ’’محمڈن ایجوکیشنل کانگریس‘‘ اس امر پر اتفاق کرتی ہے کہ مسلمان لڑکیوں کی تعلیم کے لیے اہل اسلام زنانہ مکتب جاری کریں جو مذہب اسلام کے مطابق اور مناسب ہو۔ ایک وقفہ کے بعد یہ تجویز یونیورسٹی کے عبداللہ کالج کی شکل میں مکمل ہوئی۔ ہندوستانی مسلمانوں کے حالات بہت زیادہ نہیں بدلے اس لیے آج ایک بار پھر سرسید کی تحریک کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
محسن رضا خاں

تبصرہ کیجیے