6

جہیز نہیں وراثت میں حصہ دیں!

مسلم پریس، قائدین کے بیانات، مصلحین و مقررین کی تقاریراور علماء، ائمہ و دانشوروں کے خطابات، تحریروں اور لٹریچر وغیرہ میں ’’جہیز کی لعنت‘‘ کے خلاف اتنے تذکرے ہوتے رہے ہیں کہ جہیز کو ملعون کرنے کی مزید کوششیں غیر مؤثر محسوس ہونے لگی ہیں۔ ہمسایہ سماج (ہندو معاشرہ) میں بہوؤں کو زندہ جلادینے، یا تنگ آکر ان کے خود کشی کرلینے یا سسرال سے میکے واپس بھیج دینے کی واقعات نے مسلم معاشرے میں جہیز کے بڑھتے ہوئے رواج پر تشویش میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ حتی کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی بھی اس جانب متوجہ ہوگئی ہے۔ لیکن مسئلے کی سنگینی کا عالم یہ ہے کہ صورت واقعہ پر ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ کا محاورہ صادق آتا ہے۔ مسلم بہوؤں کے جلائے جانے کے واقعات پیش آنے لگے ہیں۔ مسلم بچیوں کے والدین اور ہندو بچیوں کے والدین کی اس فکر مندی کی کیفیت اور مقدار میں کوئی زیادہ فرق نہیں رہ گیا ہے جو انھیں اپنی بچیوں کی پیدائش کے بعد سے ہی ستانے لگتی ہے۔ تقریباً بارہ سال قبل ایک اسلامی طلبہ تنظیم کے چند نوجوانوں کے ایک گروپ نے ’’جہیز‘‘ (اور بارات) کی اسلامی حیثیت کے سوال پر بارہ دارالافتاء سے فتوے حاصل کرکے انھیں ایک کتابچہ میں شائع کیا تھا۔ ان فتوؤں میں جہیز (اور بارات) کو ظالمانہ، ناجائز، غیر اسلامی، مشرکانہ سماج کا چلن، شیطانی عمل وغیرہ الفاظ کے ساتھ غلط قرار دیا گیا تھا۔ لیکن شریعت، روحِ اسلام، انسانی اخلاقی اقدار سے بے نیاز مسلم معاشرہ عملاً بے روک ٹوک اپنی روش پر گامزن رہا ہے۔ (فتوؤں کی اہمیت غالباً ہمارے نزدیک صرف ’’عمرانہ‘‘ جیسے ہیجان خیز معاملات تک رہ گئی ہے)۔

اس پوری کیفیت کو کما حقہٗ سنجیدگی، فراست، اخلاص اور دیانت کے ساتھ حل کرنے کے انفرادی، سماجی و اجتماعی عزم و داعیہ میں غالباً کوئی زبردست نقص ضرور رہ گیا ہے، جو مسلم سماج کے، اس بڑے دلدل سے نکلنے میں ناکامی کا باعث بنا۔ اس نقص کی نشاندہی کبھی کی بھی گئی تو نہایت ہلکی آواز میں۔ مذکورہ بالا طلبہ تنظیم کے کچھ نوجوان،تنظیم کی خاتون ممبران سے ملے جنھیں وہ اصلاح میں ’’بہن‘‘ کہتے تھے۔ انھوں نے ایسی ایک رکن سے کہا، ’’بہن! یہ لعنت آپ لوگوں کے تعاون کے بغیر ختم نہ ہوسکے گی۔ آپ ارادہ کرلیجیے اور والدین سے کہہ دیجیے کہ میں اپنی شادی میں جہیز نہیں لے جاؤں گی۔‘‘ تجویز و ترغیب کا تعلقعقل اور دلیل سے کم، جذباتیت سے زیادہ تھا۔ لیکن ’’بہن‘‘ کے جواب نے ’’بھائیوں‘‘ کی نگاہیں نیچی کردیں، گردنیں جھکادیں، قوتِ گویائی سلب کردی۔’’بھائی جان!ہمیں ترکہ (وراثت) سے تو آپ نے محروم کردیا، سارے کا سارا آپ ہڑپ لیتے ہیں، جہیز سے ہم خود اپنے آپ کو محروم کرلیں۔ یعنی والدین کی دولت، املاک، جائیداد میں سارے کا سارا آپ کا، اور ہمارے حصے میں کچھ بھی نہیں!‘‘

ایک مردِ دانا کے بقول (جو نہ عالمِ دین ہے، نہ فقیہ، نہ اصلاح معاشرہ کا علمبردار)، ’’ہندو سماج اور ہندو والدین کا مقام اس معاملے میں مسلم سماج اور مسلم والدین سے اعلیٰ و برتر ہے…‘‘ بات بہت غلط، بے ڈھنگی، اور خلاف واقعہ لگتی ہے لیکن جملہ پوراہوتا ہے تو ہمیں اپنا ایماندارانہ جائزہ لینے اور خود احتسابی پر مجبور کردیتی ہے، ’’… ہندو مذہب نے بیٹیوں کو والدین کی وراثت میں کوئی حصہ نہیں دیا تو والدین نے اپنی دولت میں سے بیٹیوں کا حق دینے کے لیے ’’جہیز‘‘ کا ایک راستہ نکال لیا۔ مسلمانوں کے دین و شریعت نے عورتوں کو یہ حق دیا، اس کی ادائیگی کا حکم دیا، منصوص و محکم قرآنی آیات دیں لیکن مسلم سماج نے عملاً اس حق کو غصب کرکے، ساقط کرکے ’’جہیز‘‘ کو ترکہ کا متبادل بنادیا۔ قرآن کے حکم کا متبادل ہندوانہ سماجی رواج۔‘‘

سطور بالا میں جس ’’زبردست نقص‘‘ کی طرف اشارہ کیا گیاہے وہ دراصل یہی ہے کہ ہم احکام خداونی سے بغاوت کرکے عورتوں کا حقِ وراثت عملاً ساقط کرچکے ہیں اور پھر جہیز کی ’’لعنت‘‘ (؟) کو بھی ساقط کردینے کے شوق کا اظہار کرکے مسلم معاشرہ کے مصلح اور مسلم عورت کے غمگسار و خیر خواہ بنتے پھرتے ہیں۔ یہ عملی نفاق کی عجیب سی شکل ہے کہ جب دشمنانِ اسلام، مسلم سماج میں عورت کی حق تلفی کے الزامات کی بوچھار ہم پر کریں تو ہم ان کا منھ بند کرنے کے لیے جواب دیں کہ اسلام نے عورت کو حقِ مہر اور حق وراثت دیا ہے اور جب مسلم عورت کے حق وراثت دینے کا موقع آئے تو ہم کہیں کہ ’’جو کچھ دینا تھا جہیز میں دے دیا۔ بات ایک ہی ہے۔‘‘ اور پھر حقِ وراثت کے مسئلے کو پوری قوت، عزم اور اعتماد کے ساتھ چھیڑنے سے پہلو تہی کرتے ہوئے جہیز کی ’’لعنت‘‘ کو بھی ختم کرنے کا آوازہ رہ رہ کر لگاتے رہیں۔

ہمارے سماجی روئیے تضادات، انحرافات اور دھاندلیوں سے بھرے ہیں۔ پہلے مرحلہ میں طرح طرح کی تاویلوں کے سہارے، شوہرِ نامدار کو مہر کی ادائیگی نہ کرنے کے جواز سے بہرہ مند کیا گیا۔ ترغیب و ترہیب اور نکاح کی مجلسوں میں ادائیگی مہر کی اہمیت تو سرسری طور پر بیان کی گئی اور ’’ہاں! بیوی اگر معاف کردے تو معاف‘‘ کے فقہی مسئلے کو زیادہ زور دے کر، زیادہ وضاحت کے ساتھ، زیادہ اونچی آوازمیں بیان کیا جانے لگا۔ دوسرے مرحلے میں جہیز کو ’’جہیز فاطمی‘‘ کی اصلاح سے تقدس بہم پہنچادیا گیا۔ (اور اتنا بھی خیال نہ آیا کہ نفس پرستی اور زرپرستی، حرص و طمع کی تحریک نے ہم سے حضورؐ کی ذاتِ مبارک پر کتنا بڑا الزام لگانے کا ارتکاب کروادیا، کہ آپؐ نے ایک بیٹی کو تو ’’جہیز‘‘ دیا اور بقیہ تین بیٹیوں کو بغیر جہیز کے رخصت کردیا۔)تیسرے مرحلے میں، ہم نے جہیز کو’’ لعنت‘‘ قراردے کر اس کے خلاف مہم بھی چھیڑ دی۔ پھر چوتھے اور آخری مرحلے میں ہم نے اسی ’’ملعون‘‘ جہیز کو وراثت کے خدائی حکم کی تعمیل کا ’’نعم البدل ‘‘ بھی بنادیا۔

عدم ادائیگی وراثت کے فطری نتیجوں سے، مسلم سماج میں عورت پر ہونے والی، بالواسطہ بہت ساری زیادتیوں، مظالم، استحصال کے بہت سارے دردناک، افسوس ناک اور شرمناک پہلو بھی جڑے ہوئے ہیں جو ایک طویل تحریر میں ہی زیر بحث لائے جاسکتے ہیں۔ اس تحریر میں اس کا موقع نہیں ہے۔ یہاں اصل مسئلہ زیر غور ہے ’’جہیز‘‘۔ جہیز کے انسداد کے لیے جتنی بھی کوششیں، جس سطح سے بھی اور جس نوعیت کی بھی ہورہی ہیں، سب مبارک! ان کے کچھ نہ کچھ اثرات اور فائدے تو ضرور ہوں گے اور یقینا تھوڑے بہت …… برسہا برس کی کوشش کے بعد ایک فیصد ڈیڑھ فیصد …… ہو بھی رہے ہیں۔ لیکن جب تک وراثت میں عورتوں کو حق دینے کا رواج عام کردینے کی کوششیں نہ ہوں گی، فائدوں کا تناسب ڈیڑھ دو فیصد سے آگے بڑھ سکنا محال ہے۔ دولہے اونچی اونچی قیمتوں پر فروخت ہوتے رہیں گے۔ لڑکے والے، لڑکی کی رخصتی کے وقت اس کے مائیکے کا سروسامان لوٹتے رہیں گے۔ بہووئیں جہیز کے ڈھیر کے ڈھیر لے جاکر بھی سسرال میں ذلیل کی جاتی، ستائی جاتی، ہراساں کی جاتی اور سسرال میں بے وقعت بنی رہیں گی۔ (واضح ہو کہ جس بہو کے بارے میں یہ یقین ہو کہ والدین کے ترکے میں اس کو حصہ ملنے والا ہے وہ سسرال میں بے وقعت بنا کر نہیں رکھی جائے گی۔ شوہرِ نامدار بات بات پر یہ نہیں کہیں گے کہ گھر سے بھگادوں گا۔ بچوں کو چھین لوں گا اور گھر سے نکال دوں گا ورنہ جیساہم اور ہمارے گھر والے کہیں ویسا کرو۔ وہ جانتے ہوں گے اور بیوی بھی جانتی ہوں گی کہ بیوی کا معاشی انحصارمحض شوہر پر ایسا نہیں ہے کہ اگر وہ طلاق دے دے، ظالمانہ طور پر گھر سے نکال دے اور معلق چھوڑ دے تو بیوی دردر کی ٹھوکریں کھانے پر، گھروں میں جھاڑو پونچھا کرنے پر، صدقہ خیرات زکوٰۃ پر گزارہ کرنے پر مجبور ہوجائے گی بلکہ اس کے والدین کی دولت، املاک اور جائداد میں اس کا حصہ اسے معاشی استحکام فراہم کرے گا۔ جہیز کے سامانوں میں عورت کے معاشی استحکام کی کوئی صفت نہیں ہوتی۔ یہی کمزوری بسا اوقات عورت کو سسرال میںسخت تکلیف دہ، مظلومانہ اور استحصال زدگی کی کیفیت میں جینے پر مجبور کردیتی ہے۔ شریعت مطہرہ نے اسے ترکہ کا جو حق دیا ہے اس میں عظیم حکمتیں پوشیدہ ہیں)۔ لہٰذا مرض کا حقیقی علاج یہ ہے کہ عورت کو وراثت دینا عام کیا جائے۔ جہیز کے لعنت خود بخود ختم ہونے لگے گی۔ یہ لعنت، احکام خداوندی کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے بطورِ عذاب ہمارے سماج پر مسلط ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد زین العابدین منصوری، نئی دہلی

تبصرہ کیجیے