6

نیند

تیسری رات تھی زہرہ کو جاگتے ہوئے۔ کھڑکی میں سے زرد ادھورا چاند اونگھتا ہوا نظر آرہا تھا۔ سرد ہواؤں نے درختوں سے سرگوشیاں کرنی بھی بند کردی تھیں۔ الو جو ٹنڈمنڈ درخت کے بچے کھچے زرد پتوں میں چھپا کوئی دل دوز گیت گاتا رہا تھا وہ بھی چپ کر گیا تھا۔ اب تو جھینگر بھی بولتے تھک گئے، ہر چیز سو گئی تھی۔ آسمان بھی اور زمین بھی۔

زہرہ جاگ رہی تھی۔ اس کی پلکیں پل بھر کو ایک دوسرے کو چھونے لگتیں، لیکن تب بھی وہ جاگ رہی ہوتی۔ بڑی ظالم تھی اس کی ممتا، اسے لمحے بھر کے لیے اونگھنے ہی نہ دیتی تھی۔ وہ بار بار ننھے سعود کے ماتھے پر ہاتھ رکھتی۔ ’’بخار کتنا ہلکا ہوا… سانس ٹھیک چل رہی ہے؟‘‘ ممتا بار بار اس سے پوچھتی اور اسے سعود کو چھوکر جواب دینا پڑتا۔

یوں آج تیسری رات بھی گزر گئی۔ صبح اس نے ٹھنڈے پانی سے ناشتہ کیا اور سعود کو اٹھا کر پڑوسن نبیلہ کے پاس چلی گئی۔

’’ڈیئر نبیلہ… میری پیاری بہن… بس آج کے دن اسے اپنے پاس رکھ لو، تمہیں پتہ ہے سرکاری اسپتال میں کوئی بیڈ خالی تھا ہی نہیں، آج شام کو مجھے تنخواہ مل جائے گی، میں اسے اچھے سے اسپتال میں داخل کرا دوں گی۔ بس پھر تمہارا کام ختم ہوجائے گا۔‘‘

’’بیمار بچے کو سنبھالنا آسان کام نہیں۔ بہرحال رکھ لیتی ہوں جلدی آجانا۔‘‘ زہرہ شکریہ ادا کرتی ہوئی چلی گئی۔

دفتر میں اس کے سب ساتھی کام میں مصروف تھے۔ شعبہ ہی ایسا تھا، کسی کی ذرا سی غفلت محکمے کو کافی نقصان پہنچا سکتی تھی۔ زہرہ بھی اپنے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ گئی۔ یہ دفتری کام اس کی شخصیت سے زیادہ میل نہ کھاتا تھا۔ وہ نرم نرم جذبوں اور خوب صورت لفظوں کا تال میل کرنے والی لڑکی تھی۔ نظمیں ہر اچھے رسالے میں چھپتیں اور خوب سراہی جاتیں۔ شوہر کے انتقال کے بعد وہ اکیلی رہتی تھی۔ جدائی اور تنہائی کے دکھ نے ایک ایک حرف کو محبت اور غموں کو نئے رنگ دیے تھے۔ وہ اپنے ادبی حلقے میں ایک مقام رکھتی تھی اور دفتر میں بھی سب اسے احترام سے دیکھتے۔

آج تین راتیں جاگنے کے بعد نہ تو شاعری کے حرف اس کے قریب آرہے تھے اور نہ کمپیوٹر کی زبان اسے سمجھ آرہی تھی۔ وہ ذہن پر انتہائی بوجھ ڈال کر کام کر رہی تھی۔ اس کے پپوٹے بار بار نیچے جھک جاتے۔ نیند جھونکا بن کر پلکوں کو چھوتی اور وہ بار بار سرجھٹک دیتی۔ آج تیسرا دن تھا، وہ صرف چائے ہی پی رہی تھی۔ بیٹے کی دوائیں خریدنے کے بعد وہ صرف چائے ہی پی سکتی تھی اور اب تو یوں لگ رہا تھا کہ چائے پی لی تو قے آجائے گی۔

’’اگر میں بریک میں صرف ایک آدھ گھنٹہ بھی سو لوں تو تازہ دم ہو جاؤں گی اور شام تک سارا کام آسانی سے کرلوں گی۔ شام کو تنخواہ لے کر بیٹے کو اسپتال داخل کراؤں گی تو وہاں بھی آج کی رات آرام سے جاگ سکتی ہوں۔‘‘

یہ خیال کرن بن کر اس کی آنکھوں میں جھلملانے لگا۔ دفتر کے پیچھے ہی پلازہ تھا۔ اس کا ہم جماعت ریحان پبلشر تھا اور یہاں اس کا دفتر تھا۔ دفتر کے پیچھے ایک بڑا کمرہ تھا جس میں بے شمار کتابیں ترتیب سے رکھی ہوئی تھیں۔ وہ بیگ اٹھا کر جلدی جلدی ریحان کے پاس چلی گئی۔ ساری بات اسے بتا کر بولی:

’’دیکھو ریحان… میرا گھر آنے جانے کا راستہ ہی ایک گھنٹے کا ہے۔ اگر میں صرف ایک گھنٹہ کتابوں والے کمرے میں سوجاؤں تو سارا مسئلہ حل ہوجائے گا۔‘‘

’’نہیں نہیں…‘‘ ریحان گھبرا گیا۔ ’’پاگل ہوئی ہو، کوئی گاہک ادھر چلا گیا۔ گھر سے کوئی یہاں آگیا تو کیا کہے گا، میں نے یہاں عورت کو سلا رکھا ہے۔‘‘

’’عورت…؟ میں تو تمہاری دوست کی حیثیت سے آئی ہوں… تمہاری کلاس فیلو…‘‘ زہرہ کی آواز حلق میںپھنس گئی۔

’’وہ تو ٹھیک ہے زہرہ… لیکن پلیز میری پوزیشن کو سمجھو۔ آئی ایم سوری زہرہ۔‘‘

زہرہ بیگ اٹھائے سیڑھیوں سے اتر رہی تھی کہ یکدم اسے خیال آیا۔ اس پلازہ کے ساتھ ہی فلیٹس تھے۔ ایک فلیٹ میں اس کے چھوٹے بھائی کا دوست سلمان رہتا تھا۔ کسی دوسرے شہر سے یہاں پڑھنے آیا تھا۔ میڈیکل کالج کے پہلے سال میں تھا۔ انیس بیس سال کا بھولا بھالا سا لڑکا۔ اب تو کالج سے آگیا ہوگا۔

اس نے فلیٹ کی گھنٹی بجائی۔ سلمان باہر نکلا تو زہرہ کو سکون سا مل گیا۔ اس نے سارا مسئلہ سلمان کو بتایا۔

’’صرف ایک گھنٹہ کے لیے مانی…‘‘ وہ اسے یوں پیار سے پکاری جیسے چھوٹے بھائی کو پکارتی تھی۔

’’نو پرابلم باجی، آپ میرے کمرے میں سوجائیں، میں ساتھ والے کمرے میں بیٹھ جاتا ہوں۔‘‘

’’اچھا… یہاں کوئی ڈسٹربنس تو نہیں ہوگی۔‘‘

’’نہیں باجی…‘‘ سلمان نے جلدی سے بیڈ شیٹ کی سلوٹیں درست کیں اور تکیہ رکھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا۔

زہرہ بیڈ پر یوں گری جیسے نہ جانے کتنی صدیوں کی مسافت طے کر کے آئی تھی۔ نیند نے فوراً اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔ ابھی پانچ منٹ نہیں گزرے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ زہرہ بڑی مشکل سے اٹھی اور دروازہ کھولا۔ سلمان لفافے میں سموسے لیے کھڑا تھا۔

’’یہ کھالو باجی… آپ کو بھوک لگی ہوگی۔‘‘

’’افوہ رکھ دو… یہ تو میں جاتے ہوئے بھی کھاسکتی تھی، کچی نیند سے اٹھانے کی کیا ضرورت تھی…‘‘ وہ جھلا کر بولی… پھر جیسے زہرہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔

’’تھینک یو مانی، رکھ دو، اس تکلف کی ضرورت تو نہ تھی۔‘‘

’’یہ کہہ کر زہرہ نے دروازہ بند کیا اور پھر بستر پر گر گئی۔ کچھ دیر بعد دوبارہ دستک ہوئی۔ زہرہ کا دماغ تنور کی طرح تپ گیا۔ وہ بڑی مشکل سے اپنے لہجے کو نارمل بنا کر بولی اب کیا بات ہے؟‘‘

’’باجی… یہاں میرا قلم رہ گیا ہے… میں نے بڑے ضروری نوٹس لکھنے ہیں۔‘‘

’’اچھا اب دروازہ کھلا ہے۔ مجھے نہ جگانا، جو لینا ہو چپکے سے لے لینا۔‘‘ زہرہ نے جمائیاں لیتے ہوئے کہا اور بستر پر گر گئی۔

اسے لیٹے دس منٹ بھی نہ گزرے ہوں گے کہ کچی پکی نیند میں اسے یوں لگا جیسے کوئی خواب میں اس کے بال سہلا رہا ہے اور یہ ہاتھ اس کے کانوں سے ہوتا ہوا گلے تک آن پہنچا ہے۔

زہرہ نے آنکھیں کھول دیں۔ اپنے اوپر سلمان کو جھکے دیکھ کر اس کی سانس رک گئی۔ اس نے اٹھنا چاہا تو سلمان نے اس کے دونوں کندھوں پر اپنے ہاتھوں سے دباؤ ڈالا۔

’’سوجاؤ زہرہ…‘‘

’’زہرہ…؟‘‘

وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی اور بیگ اٹھا کر باہر نکل گئی۔

کمپیوٹر کے آگے بیٹھی زہرہ پر نیند تو بار بار حملہ آور ہو ہی رہی تھی، اب ذلت کے احساس نے بھی اسے لہولہان کر دیا تھا۔ اس کے سامنے سرخ خونی رنگ پھیل گیا تھا اور اسے کمپیوٹر پر حرف بھی سرخ سرخ نظر آرہے تھے۔ نہ جانے چھٹی تک وہ کیا کرتی رہی۔ شام کو تنخواہ لے کر وہ گھر بھاگی۔

اگلے دن بچے کو اسپتال داخل کرا کے وہ دفتر گئی تو باس نے اس کی کل کی غلطیاں گنواتے ہوئے اپنا نقصان بتایا۔ وہ باس جو اس کے احترام میں کھڑا ہوکر بات کرتا تھا، آج غصے میں جانے کیا کیا بولتا جا رہا تھا۔ دفتر میں زہرہ کی عزت و وقار کا جو تاج محل تعمیر ہوا تھا دھڑام سے اس کے اوپر آن گرا۔

بچہ جانے ٹھیک ہوا یا نہیں، مگر وہ معروف شاعرہ جو صرف ایک گھنٹہ سونا چاہتی تھی، دماغ کی رگ پھٹ جانے سے ابدی نیند سوگئی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
مسرت کلانچوی

تبصرہ کیجیے