BOOST

بچوں کی اسلامی تربیت – کیوں اور کیسے؟

یا ایہا الذین آمنوا قوا انفسکم واہلیکم ناراً۔ (التحریم: ۶)

’’اے ایمان والو! بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو (جہنم کی) آگ سے۔‘‘

ہر بہن کی اپنی بچوں سے بے شمار امیدیں وابستہ ہوتی ہیں کہ ان کے بچے بڑے ہوکر ڈاکٹر، انجینئر، قاری، حافظ، داعی اور مجاہد بنیں اور دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہمکنار ہوں۔ اور اسی مقصد کے تحت اکثر بہنوں کی ساری جدوجہد، علم، ان کے اوقات اور سرمایہ کا اولین حقدار ان کا اپنا گھر ہوتا ہے۔ دنیاوی کامیابی کے لیے دن رات تگ و دو کی جاتی ہے۔ ایک اسکول بورڈنگ، یا ڈگری سرٹی فیکٹ حاصل کرنے کے لیے ان تھک محنت اور کوشش ہوتیں ہیں جس کے بارے میں یقینی طور پر یہ کہا بھی نہیں جاسکتا کہ مستقبل میں ان کوششوں سے ضرور ہی دنیا میں کامیاب ہوجائیں گے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کیا اس سطح کی محنت اور کوشش ہم اس ابدی زندگی کے لیے بھی کرتے ہیں جہاں ہمیں اور ہمارے اہل و عیال کو ہمیشہ رہنا ہے؟ جبکہ اس مستقبل کی کامیابی کی ضمانت تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن کریم میں دے رکھی ہے، جو یقینی ہے۔

رسول اللہ نے فرمایا: ’’ہر بچہ دینِ فطرت پر (مسلم) پیدا ہوتا ہے۔ یہ اس کے والدین ہیں جو اسے یہودی یا عیسائی بنادیتے ہیں۔‘‘ رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث کو مدِّ نظر رکھیں اور سوچیں کہ ہمارے بچے دنیا و آخرت کے اعتبار سے کیا بنیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کی ساری ذمہ داری مکمل انحصار والدین کی تربیت پر ہے۔ اب اس عظیم ذمہ داری کا احساس اور اس کی اہمیت کا اندازہ کیجیے اور اپنی اولاد کو جہنم کی آگ سے بھی بچائیے اور خود اللہ کے سامنے جواب کے لیے تیار بھی کیجیے۔ آئیے دیکھتے ہیں بچوں کی اسلامی تربیت کس طرح ممکن ہوسکتی ہے۔

سب سے پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ بچوں کی تربیت کا یہ کام کس عمر سے شروع کیا جائے؟ اس ضمن میں نبی کریم ﷺ کی اس حدیث کو سامنے رکھیں کہ ایک صحابیؓ رسول اللہ سے اپنے چھوٹے بچے کی تربیت کے لیے ہدایات کی درخواست کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ بچے کی عمر کیا ہے؟ اس پر وہ صحابیؓ جواب دیتے ہیں ایک سال۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں: ’’تم نے بہت دیر کردی۔‘‘ آج ماہرِ نفسیات کا کہنا ہے کہ بچوں کے ابتدائی دو سال، 0-2برس کی عمر، ذہن کی نشو ونما کے لیے انتہائی اہم اور نازک ہے۔ ان دو سالوں میں بچوں میں پچاس فیصد ذہانت تشکیل پاجاتی ہے اور ۸ برس کی عمر تک پہنچنے تک تقریباً ۸۰ فیصد ذہن کی نشو ونما مکمل ہوجاتی ہے۔ یعنی دو سال کی عمر کا عرصہ جو کہ بچوں کی سب سے زیادہ نا سمجھی کا دور سمجھا جاتا ہے اس دور میں بچے زندگی میں سب سے زیادہ سیکھتے ہیں اور ۸ سے ۱۰ برس کی عمر کے بعد جب کہ سمجھا جاتا ہے کہ اب بچوں کے ساتھ سنجیدہ ہوا جاسکتا ہے تب تک تو بچے اپنے ذہنوں میں بہت کچھ جمع کرچکے ہوتے ہیں۔ لہٰذا بچوں کی 0-8برس کی عمر کے اس عرصہ میں ہم ان پر جتنی محنت کریں جتنا زیاد ہ انہیں سکھاسکیں ان کی تربیت کرسکیں، پختگی کی عمر میں اس محنت کے نتائج ظاہر ہوں گے۔ انشاء اللہ۔ بچوں کی اسلامی تربیت مکمل طور سے اس طرح ہو کہ ان کا ذہنی نشو نما بھی ہو اور ساتھ ہی بہترین اسلامی کردار و اخلاق کی بھی تشکیل ہو۔ اس ضمن میں درج ذیل باتوں کا خیال کیا جانا ضروری ہے:

جس اسلامی کردار کی تشکیل ہم بچوں میں کرنا چاہتے ہیں، اس کی بنیاد ہی کلام اللہ ہے۔ بچوں کو تلاوتِ قرآن، آیات کے حفظ، ان کا مفہوم اور قرآن کے احکامات پر عمل کرنے کا طریقہ سمجھائیں۔ قرآن کی تلاوت و تفہیم کا شوق ان میں پیدا کریں۔ بچوں کو ساتھ لے کر بیٹھیں اور خود آیات پڑھ کر ان کے معنی سمجھاتی جائیں۔ مثلاً قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وبالوالدین احسانا اما یبلغن عندک الکبر احدہما او کلہما فلا تقل لہما اف ولا تنہر وقل لہما قولا کریما۔ (بنی اسرائیل:۲۳)

’’اور والدین کے ساتھ احسان کا سلوک کرنا، اگر تمہاری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بزرگی کی عمر کو پہنچ جائیں تو انھیں اف تک نہ کہنا نہ انھیں جھڑک کر جواب دینا بلکہ ان کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ بات کرنا۔‘‘

اخلاقیات اور ایمانیات کے مختلف پہلووں سے انھیں واقف کروائیں اور یہ بات ان کے ذہن نشین کراتی جائیں کہ قرآن کریم تمام زندگی کے لیے ان کے لیے ہدایت نامہ ہے۔ جس کی طرف انھیں زندگی کے تمام حالات و معاملات میں رجوع کرنے کی عادت ہوجائے۔

اخبارات و رسائل

ذہن کو بنانے یا بگاڑنے میں اخبارات و رسائل کا بھی بہت اہم رول ہے۔ بچوں کو اچھی، صاف ستھری، معلوماتی اور اسلامی کتابوں کے مطالعے کی عادت ڈالیں اور اس عادت کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں۔ بے شمار اور بہترین اردو و انگریزی کتابیں میسر ہیں جن میں دلکش و دلچسپ انداز میں رنگین تصاویر وغیرہ کے ساتھ بچوں میں اسلامی نظریات، عقائد و اخلاقیات کی نشو ونما کی کوشش کی گئی ہے۔ ذہن کو پراگندہ کرنے والے، فحش، دین کے خلاف، بے بنیاد قیاس آرائیوں پر مشتمل لٹریچر اور کامکس وغیرہ سے بچوں کو محفوظ رکھیں اور اگر کبھی اس طرف ان کا التفات ہو تو بہترین انداز میں انھیں سمجھانے اور اس سے باز رکھنے کی کوشش کریں۔ کتابیں لازماً ایسی ہوں جن سے فکر و ذہن کو غذا مل سکے۔

ٹیلی ویژن

بچوں کے ذہنوں پر ٹی وی کا کس قدر گہرا اثر ہوتا ہے یہ کسی کے لیے بھی محتاج بیان نہیں۔ صبح سے شام تک نشر کیے جانے والے پروگراموں کا اگر ہم خالص اسلامی نقطۂ نظر سے جائزہ لیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ ان کا ۹۹فیصد حصہ خدا بیزاری اور اخلاق و کردار کو تباہ کردینے والا ہوتا ہے۔ ایک آدھ فیصد حصہ تعمیری اور اخلاقی قدروں پر مشتمل ہوتا ہے، کیونکہ نشر و اشاعت کے ذرائع جن افراد کے ہاتھوں میں ہیں، وہ سب کے سب خدا بیزار، دین بیزار، ثقافت و کلچر کے نام پر اخلاق کو برباد کرنے والے، فحاشی، عریانیت و آوارگی کے دلدادہ، ٹھیٹھ مادہ پرست اور روحانی اقدار کے بدترین دشمن ہیں۔

جو چیز ہم پڑھتے ہیں وہ کم عرصے تک ہمارے ذہنوں پر قائم رہتی ہے۔ جبکہ جو چیز ہم سنتے ہیں وہ نسبتاً ہمارے ذہنوں پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔ لیکن جو کچھ ہم دیکھتے ہیں اس کا اثر ہمارے ذہنوں پر سب سے زیادہ ہوتا ہے، ٹی وی پر جس دلکشی اور رنگینی کے ساتھ پروگرام، فلمیں، سیریل وغیرہ پیش کیے جاتے ہیں اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔ ان کا ایک عام ذہن پر کیا اثر ہوتا ہے اسے ایک چھوٹی سی مثال کے ذریعہ سمجھا جاسکتا ہے۔ فرض کیجیے کہ ایک بہن آج کوئی عام سی مجلس یا کسی دینی پروگرام میں شریک ہوتی ہے تو آج سے ٹھیک دس دن بعد اسے مجلس یا پروگرام کی کم ہی باتیںیاد ہوں گی، لیکن اگر وہی بہن اگر آج کوئی فلم دیکھ لیں تو اس فلم کا بیشتر حصہ مع اداکاروں، ان کے مکالمات حتی کے تمام مناظر کے ساتھ ان کے ذہن میں دس سال بعد بھی محفوظ ہوگا۔ اب بچے تو اسفنج کی طرح ہوتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اسفنج کتنی آسانی سے سب کچھ جذب کرلیتا ہے، بالکل اسی طرح بچے بھی جو کچھ دیکھتے، سنتے اور محسوس کرتے ہیں سب کچھ اپنے دل و ذہن اور عادات و اطوار میں اخذ کرلیتے ہیں۔ اور آج جب کہ بچے ٹی وی پر نشر کیے جانے والے ان پروگراموں کو دیکھنے کے عادی ہیں تو یہ چیز ان کے اخلاق و کردار کو تباہ کردینے کے لیے کافی ہے۔

کارٹونس جنہیںمحفوظ سمجھا جاتا ہے اور جن کے دیکھنے میں کوئی قباحت نہیں محسوس کی جاتی ان کے بارے میں انتہائی حیرت انگیز و افسوسناک انکشافات ہوئے ہیں۔ والٹ ڈزنی کے تیار کردہ کارٹونس، ’’مکی اینڈ ڈونالڈ‘‘ اور ’’ٹوم اینڈ جیری‘‘ وغیرہ جنہیں دیکھ کر بچے تو کیا بڑے بھی محظوظ ہوتے ہیں ان کے تیار کرنے والے مغرب میں جاری ہم جنسوں کی تحریک کی پشت پناہی ومدد کررہے ہیں ان کا مطالبہ ہے کہ ہم جنسوں کے تعلقات اور ان کے نکاح کو قانونی اور جائز قرار دیا جائے۔ ان کارٹونس کے ذریعہ یہ لوگ اسی قسم کے دوسرے فحش خیالات و رجحانات کو غیر محسوس طریقے سے عام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ساتھ ہی کثرت سے کارٹونس دیکھنے والے بچوں میں یہ مشاہدات ہوئے ہیں کہ ان میں اکثر بچے کاہلی کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں جسمانی اور تعمیری حرکت و عمل سے بے رغبتی پیدا ہوتی ہے اور ان کے تعلیمی ریکارڈ میں تیز رفتار زوال دیکھا گیا ہے۔ ساتھ ہی ۱۰ برس تک کی عمر کے اکثر بچوں میں جنسی جذبات کو فروغ دینے میں کارٹون کے ہیجان انگیز مناظر مدد گار ثابت ہوئے ہیں۔

ہم ذرا سوچیں اور ان حقائق کو مدنظر رکھیں – اگر ہم بچوں کو ٹی وی کے ان پروگراموں اور کارٹون بینی کی وقتی طور پر ہی کیوں نہ سہی، صرف اس سبب سے اجازت دے دیں کہ اس دوران ہمارا کھانا پکانا اور دوسرے گھریلو کام نمٹ جائیں گے تو یہ ہماری بہت بڑی نادانی ہوگی ہم اپنے اس رویے سے گویا یہ کہ رہے ہیںہم اپنے بچوں کے ذہن و اخلاق وکردار کو اتنی اچھی طرح تباہ نہیں کرسکتے جتنا کہ یہ ٹی وی کرسکتا ہے۔

عام طور پر یہ عذر دیا جاتا ہے کہ ’’آج کل کے زمانے میں‘‘ بچوں پر زیادہ سختی نہیں کرنی چاہیے اور انھیں تھوڑی ’’ڈھیل‘‘ دینی چاہیے ورنہ باہر جاکر جب یہ بچے ٹی وی دیکھتے ہیں یا اپنے دوستوں سے فلموں، سیریل وغیرہ کا تبصرہ سنتے ہیں تو انھیں محرومی کا احساس ہوتا ہے، وہ احساسِ کمتری میں مبتلا ہوتے ہیں اور پھر ان چیزوں کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ لہٰذا گھر میں ہی تھوڑی بہت فلم بینی وغیرہ کی اجازت دے دینی چاہیے۔ ہماری یہ سوچ گویا اس طرح کی سوچ وفکر ہے کہ ہمیں اس بات کااندیشہ ہے کہ ہمارے بچے گھر سے باہر بآسانی دستیاب زہر کھاسکتے ہیں لہٰذا کیوں نہ ہم تھوڑا زہر انہیں گھر میں ہی میسر کروادیں۔

ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اسلام ہر زمانے اور تمام حالات کے لیے دین ہے۔ اس میں کسی کمی و بیشی کی ذرہ بھر بھی قطعی ضرورت نہیں۔ دوسرے یہ کہ جتنی ڈھیل ہمارے لیے موزوں تھی وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں دے چکے اب اس ڈھیل یا رعایت کے دائرے کو ہم اپنی دانست میں وسیع کرنا چاہیں تو اس کی تباہ کاریوں کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔

تیسرے یہ کہ ہمیں اپنے بچوں کے ذہنوں کو اور ان کے کردار کو اتنا پختہ اور مضبوط بنانا ہے کہ گھر کے پاکیزہ ماحول سے باہر اگر کوئی برائی دیکھیں تو اس میں کشش محسوس کرکے اس کی جانب راغب ہونے کی بجائے برائی کو برا جان کر نہ صرف خود اس سے بچیں بلکہ دوسروں کو بھی اس سے روکنے والے بن جائیں۔ ٹی وی سے بھی زیادہ مہلک بچوں کے لیے جو چیز ثابت ہوسکتی ہے وہ ہے انٹرنیٹ۔ دنیا جہاں کی شاید ہی کوئی معلومات ایسی ہو جو ہرگز آپ نہ چاہیں کہ آپ کے بچے جانیں اور وہ انٹرنیٹ پر میسر نہ ہوں۔ اطلاعات کے مطابق انٹرنیٹ کا ۶۰ فیصد مواد فحاشی پر مشتمل ہوتا ہے۔ بے شک اس کا استعمال تعلیم و معلومات اور دین کے بہترین مقاصد کے لیے بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اس ضمن میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ ہم بچوں کو ٹی وی یا انٹرنیٹ کے استعمال کی اجازت اپنی موجودگی میں ہی دیں۔ ٹی وی وغیرہ کے مضر اثرات سے بچوں کے ذہنوں کو آلودہ ہونے سے محفوظ رکھ کر دیکھیں کہ ان کے تعلیمی ریکارڈ، تعمیری سرگرمیوں اور اسپورٹس وغیرہ میں حصہ داری اور خالص طور پر ان کی اسلامی خطوط پر شخصی ارتقاء میں کس قدر حیرت انگیز اضافہ ہوسکتا ہے۔

اخلاق و آداب

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ تم میں سب سے اچھے وہ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔‘‘ ہمارے بچوں کو بہترین مسلمان بنانے کے لیے ناگزیر ہے کہ بہترین اخلاق کی نشوونما ان میں کی جائے۔ عام طور پر والدین چند قرآنی آیات و سورتیں اور دعائیں بچوں کو حفظ کرواکے سمجھ لیتے ہیں کہ بچوں کی اسلامی تربیت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ لیکن حقیقی معنوں میں بچوں کی تربیت اس وقت تک انجام نہیں پاسکتی جب تک کہ ان کی سوچ و فکر، ان کے اعمال، ان کے انداز و گفتار، قرآن و سنت کے مطابق ڈھل نہ جائیں۔ اکثر گھر کے بے تکلفانہ ماحول میں ایک دوسرے کا مذاق اڑانا، مختلف ناموں سے پکارنا، بظاہر بے ضرور نظر آنے والا جھوٹ بولنا وغیرہ باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ لیکن ایک شخص مستقل طور پر کوئی کام کرتا ہے تو وہ انسان کی عادتِ ثانیہ بن جاتی ہے۔ بچوں میں بظاہر معمولی نظر آنے والی ان برائیوں کی سنجیدگی سے اصلاح کریں کہ قرآن کے الفاظ میں یہ حرام ہیں۔ بلکہ ہر حال میں سچ بولنا، شائستہ گفتگو کے آدب و اطوار، ایثار و قربانی، صبرو محنت، غصہ پر ضبط، باہمی اشتراک، ایک دوسرے کا خیال رکھنا، راست بازی، دیانت داری، بڑوں کی عزت و احترام، چھوٹوں سے شفقت و محبت اور حلم و وقار جیسے اوصاف کی نشوونمار کریں۔ اخلاقی تربیت میں سب سے زیادہ اہم خود والدین کا خاص طور پر ماں کا اخلاق و کردار ہوتا ہے۔ اکثر اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ بچے گفتگو کا انداز تک ماں کی طرح اختیار کرلیتے ہیں۔

اگر ایک ماں دوسروں کا مذاق اڑائے گی، جھوٹ بولے گی، غیبت کرے گی، فلمیں وغیرہ دیکھے گی تو بچوں میں از خود یہ باتیں پیدا ہوجاتی ہیں اور اگر ایک ماں نیک و صالح ہوگی، قرآن پڑھے گی، نماز پڑھے گی تو ایک سال کا معصوم بچہ تک اس ماں کو دیکھتے ہوئے از خود بھی سجدہ میں چلا جاتا ہے۔

بچوں کو ہم ٹی وی وغیرہ دوسری بظاہر دلفریب نظر آنے والی مضر چیزوں سے روکتے ہیں تو ساتھ ہی اس کا بہترین بدل بھی مہیا کریں۔ ا ور سب سے بہترین متبادل جو بچے سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں وہ ہمارا اپنا وقت ہے۔ کچھ وقت بچوں کے لیے مختص کردیں۔ ان کے ساتھ اچھے گیمس کھیلیں، انہیں کتابیں پڑھ کر سنائیں۔ انبیاء کرام و صحابہ کرام کی حیاتِ مبارکہ کے ذریعہ اخلاقی اقدار کی اہمیت و اللہ کی اطاعت و دین کی خاطر جدوجہد کا جذبہ پیدا کریں۔ ان کی استطاعت اور عمر کے مطابق انھیں ذمہ داریاں اور کام سونپیں اور ان کی تکمیل کاطریقہ انھیں بتائیں اور ان تمام سرگرمیوں کے دوران براہِ راست یا بالواسطہ طور پر مذکورہ بالاصفات ان میں پیدا کرنے کی کوشش کریں۔

اکثر اوقات والدین اپنے بچوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ آپ کو فلاں انکل یا فلاں آنٹی یا فلاں ٹیچر کی طرح کامیاب ہونا ہے یا کسی مشہور شخصیت کی طرح بننے کی ترغیب دلاتے ہیں، اور اکثر بچے ان سے متاثر ہوکر انہیں اپنا آئڈیل بھی بنالیتے ہیں۔ ہمارے بچوں کے لیے جو بے مثال اور لافانی آئڈیل ہونا چاہیے وہ رسول ﷺ ہیں۔ سنت کے چند پہلو مثلاً کھانے، پینے، سونے جاگنے کے آداب، پر ہی اکتفا کرنے کی بجائے بچوں کو رسول ﷺ کی شخصیت کے بے مثال انقلابی پہلوؤں سے آشنا کرائیں۔ رسول ﷺ کی حیات مبارکہ کے ایک ایک پہلو کو اس طرح سے اجاگر کریں کہ بچے قرآن و سنت کا نمونہ بن جائیں۔ اس مکمل کردار و آئڈیل کا انہیں شوقین بنائیں۔

لقد کانا لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ (الاحزاب: ۲۱)

’’بے شک اللہ کے رسول میں تمہارے لیے بہترین اسوہ ہے۔‘‘

بچے کافروں اور مشرکین کی طرح اپنی شکل و صورت اور ہیئت بنانے کی بجائے سنتِ رسول ﷺ کو اپنا اسٹائل اور فیشن بنائیں۔ حیاء ان کا طرز ہو، برتھ ڈے پارٹی وغیرہ سے لطف اندوز ہونے کی بجائے عیدین کو اپنی خوشیوں کا مرکز بنائیں۔

بچوں کی تربیت کے سلسلے میں ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگرچہ ہم نے گھر میں انھیں ایک پاکیزہ اور اسلامی ماحول فراہم کردیا لیکن گھر سے باہر اسکولوں، کالجوں، میں جاکر بچے ایسے ماحول میں گھر جاتے ہیں جہاں گھر پر سکھائی جانے والی اسلامی تعلیمات کے بالکل برعکس مشاہدات ہوتے ہیں۔ جس کے سبب اکثر بچے کنفیوزن اور بعض اوقات کئی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ انتہائی حکمت کے ساتھ بچوں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) کے طریقے سمجھائیں اور اس سلسلے میں ان کی بھرپور ہمت افزائی کریں، ان میں خود اعتمادی پیدا کریں اور اس سلسلے میں پیش آنے والی مشکلات کو حل کرنے کا طریقہ بتائیں۔ اسلام پر کی جانے والی تنقید و اعتراضات کے بہترین جوابات سے انھیں آراستہ کریں تاکہ وہ گھر سے باہر اسلام مخالف روش پر جانے والے معاشرے میں احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوکر رہ جائیں۔

شیئر کیجیے
Default image
سمعیہ ٹھاکر، سعودی عرب