5

حج کی فضیلت – احادیث کی روشنی میں

حضرت حسن بن علیؓ سے روایت ہے، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، کہا کہ میں بزدل اور کمزور ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: آؤ ایسے جہاد کی طرف جس میں اسلحہ نہیں ہے، وہ حج ہے۔ (طبرانی)

حج اللہ کی محبت میں اس کے گھر کی طرف لبیک اللہم لبیک کہتے ہوئے رواں دواں ہونا ہے، اور جہاد اللہ کی محبت میں اپنی جان نچھاور کرنا ہے۔ دونوں کی اساس محبت ہے، دونوں میں سفر ہے، دونوں میں مال کاخرچ ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ حج میں دشمن کے خلاف ہتھیاروں کا استعمال نہیں ہے اور جہاد میں ہتھیار کا استعمال ہے۔ جہاد صرف جرأت مند اور بہادر آدمی کرسکتا ہے اور حج بہادر اور بزدول دونوں کرسکتے ہیں۔

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: جب ابراہیم علیہ السلام مناسک حج کے لیے منیٰ آئے تو شیطان جمرۃ العقبہ کے قریب ان کے سامنے آگیا تو حضرت ابراہیم ؑ نے اسے سات کنکر مارے، یہاں تک کہ وہ زمین میں دھنس گیا۔ پھر دوسرے جمرہ کے پاس سامنے آکر کھڑا ہوا تو اسے سات کنکر مارے یہاں تک کہ وہ زمین میں دھنس گیا۔ پھر تیسرے جمرہ کے پاس سامنے آگیا تو پھر سے سات کنکر مارے یہاں تک کہ زمین میں دھنس گیا۔ ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ تم شیطان کو رجم کرتے رہو اور ملت ابراہیم کی پیروی کرتے رہو۔ (ابن خزیمہ، حاکم)

حج جو ملت ابراہیمی کے ایمان افروز مناظر کی یاد تازہ کرتا ہے، تین جمروں، کو کنکر مارنا بھی ایک ایسے ہی دل کش منظر کی یاد تازہ کرتا ہے۔ شیطان کو کنکر مارنا، اسے زمین میں دھنسا دینا کس قدر خوشی اور مسرت کی بات ہے۔ آج اس منظر کو ہمیشہ کی طرح یاد کرنے کی کس قدر ضرورت ہے۔ شیطان اور اس کی ذریت کو کنکروں سے زمین میں دھنسانے کا وقت ہے۔ اگر ہر مسلمان اپنے حصے کے کنکر مارے تو شیطان اور اس کی ذریت خائب و خاسر ہوجائے۔

حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی گھر میں نماز پڑھے تو ایک نماز کا ثواب ہے، قبیلے کی مسجد میں ۲۵ نمازوں کا ثواب اور جامع مسجد میں ۵۰۰ نمازوں کا ثواب، مسجد اقصیٰ میں ۵۰ ہزار نمازوں کا ثواب اور میری مسجد میں ۵۰ ہزارنمازوں کا ثواب اور مسجد حرام میں ایک لاکھ نمازوں کے برابر ثواب ہے۔ (ابن ماجہ)

حجاج کرام کے لیے کمائی کا نادر موقع ہے۔ اس میں سستی اور غفلت سے کلیتاً پرہیز کرنا چاہیے۔ ان مبارک ایام میں گپ شپ اور بازاروں میں گھومنے پھرنے کے بجائے نمازوں پر توجہ دی جائے۔ ایک کے بدلے میں ایک لاکھ۔ دنیا کاکوئی بازار ایسا ہے جہاں ایک کے بدلے میں ایک لاکھ ملتا ہے؟ بالفرض ایسا ہو تو کون آدمی ایسا ہوگا جو اس سے غافل ہوکر بیٹھا رہے؟ نہیں، سب لائنوں میں کھڑے ہوں گے اور رش کی وجہ سے کسی کو جگہ نہ ملے۔ تب حرمین شریفین پہنچ کر آدمی کا ذوق و شوقِ عبادت بھی اجر کے تناسب سے بڑھ جانا چاہیے۔

حضرت سبیعۃ اسلمیؓ سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو مدینہ میں مرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو کوشش کرے کہ اسے مدینہ میں موت آئے، اس لیے کہ جسے مدینہ میں موت آئی، میں قیامت کے روز اس کے لیے شفیع یا گواہ ہوں گا۔ (طبرانی فی الکبیر)

حرمین شریفین، مکہ اور مدینہ اور بیت المقدس زمین کے وہ مقدس مقامات ہیں جن پر موت انسان کو بڑا فائدہ پہنچاتی ہے۔ انسان اگر کسی اور جگہ فوت ہوجائے تو اسے بڑی محرومی سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ یہ برکت اس شخص کو ملے گی جس نے ایسا جرم نہ کیا ہو جس کی وجہ سے وہ اس برکت کے استحقاق کو ختم کردے۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: آدم کے بیٹے! میری عبادت کے لیے فارغ ہوجا، میں تیرے سینے کو دولت سے بھر دوں گا اور تیرے فقر کو دور کردوں گا۔ اور اگر ایسا نہ کرے گا تو تیرے سینے کو پریشانیوں سے بھردوں گا اور تیرے فقر کو دور نہ کروں گا۔ (ابن ماجہ، ترمذی)

اللہ رب العالمین کیسی مہربان ذات ہے، جو اس کی ڈیوٹی پر ہوتا ہے اس کے کام وہ خود کرتے ہیں۔ نماز کے وقت دکان بند کردے تو فی الواقع بند نہیں ہوتی وہ آمدنی دیتی رہتی ہے۔ حج کے سفر پر جانے کی وجہ سے اپنے کام سے غیر حاضر ہو تو فی الواقع حاضر شمار ہوتا ہے۔ اسی طرح دعوت و تبلیغ، تعلیم وتربیت اور جہاد کے لیے کام کو چھوڑ دے تو نقصان نہیں فائدہ ہوتا ہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کے بلاوے پر حاضری نہ دے تو دکان اور کاروبار جاری رہنے کے باوجود فائدہ / نفع نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ کے پیار ومحبت کاجواب کس طرح دینا چاہیے، بندگی اور غیرت کا تقاضا کیا ہے؟ اس کا جواب یہی ہوسکتا ہے کہ ’دوڑو اللہ کی طرف‘۔

حضرت انسؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اپنے مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرنے کے لیے چل پڑا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر قدم کے بدلے میں ۷۰ نیکیاں لکھتے ہیںاور ۷۰ خطائیں مٹا دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے، جب تک وہ اس کام سے واپس نہ لوٹ آئے۔ پھر اگر مسلمان کی حاجت اس کے ہاتھوں پوری ہوگی تو وہ اپنے گناہوںسے اسی طرح پاک و صاف ہوکر نکلے گا جس طرح اس دن تھا، جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا اور اگر اس دوران میں ہلاک ہوجائے تو جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوگا۔ (ابن ماجہ)

مسلمانوں اور انسانوں کی خدمت اللہ کی عبادت اور رضا کا راستہ ہے۔ خدمت خلق کا کام کرنے والوں کو اس شعور کے ساتھ اس کام کو کرنا چاہیے کہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کی طرح یہ بھی عبادت ہے۔ اللہ اس سے راضی اور اس کام پر عنایتیں فرماتے ہیں۔ جو لوگ حضرات و خواتین زلزلہ زدگان کی خدمت کے لیے اپنے دن رات، مال اور صلاحیت دے رہے ہیں، انھیں یہ اجر کے پورے یقین و شعور کے ساتھ کرنا چاہیے۔

حضرت ابی طلحہ انصاریؓسے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ دیکھا کہ آپؐ کا چہرہ چمک رہا ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! میں نے آج کی طرح آپؐ کو کبھی ہشاش بشاش اور اس قدر کشادہ چہرے اور اتنی چمک دار پیشانی والا نہیں پایا۔ آپؐ نے فرمایا: میں کیوں راضی نہ ہوجاؤں اور میرے چہرے پر خوشی کے آثار کیوں ظاہر نہ ہوں، جب کہ جبریلؑ ابھی مجھ سے جدا ہوئے اور یہ کہہ کر گئے ہیں: اے محمد!آپؐ کی امت میں سے جو کوئی آپؐ پر درود پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے لیے۱۰ نیکیاں لکھیں گے اور ۱۰ گناہ مٹائیں گے، اور اس کی بدولت اسے ۱۰ درجے اونچا کریں گے اور فرشتہ اس کے لیے وہی دعا کرے گا جو دعا اس نے درود کی صورت میں آپؐ کے لیے کی ہے۔ میں نے کہا: جبریلؑ! وہ کون سا فرشتہ ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے جب سے آپؐ کو پیدا کیا ہے، اس وقت سے لے کر آج تک اور اس وقت تک جب آپؐ کو قیامت کے روز اٹھایا جائے گا، آپؐ کی امت کا جو آدمی آپؐ پر درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کو دعا دینے کے لیے ایک فرشتہ مقرر کردیا ہے۔ وہ فرشتہ کہتا ہے: وانت صلی اللہ علیک و سلم۔ اور تجھ پر اللہ تعالیٰ نے اس طرح درود بھیجا۔ (طبرانی)

نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجنے میں بہت سے مسلمان سستی اور غفلت برتتے ہیں اور بہت بڑی فضیلت سے محروم رہتے ہیں۔ نبی ﷺ درود و سلام کی اس فضیلت پر کس قدر خوش ہوئے ہیں۔ اتنا کہ اتنا کبھی بھی خوش نہیں ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپؐ کو راضی اور خوش کرنے کا بہت بڑا ذریعہ درود شریف ہے جس کی برکت درود پڑھنے والے کو بھی بے حساب ملتی ہے اور نبیﷺ پر رحمتوں کی بارش سے اس کو بھی پورا حصہ ملتا ہے۔ تب سستی اور غفلت کا کیا جواز ہے؟ خصوصاً ایسی صورت میں، جب کہ ہم نبی ﷺ سے محبت کے دعوے داربھی ہیں۔ اس عمل کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
مولانا عبدالمالک

تبصرہ کیجیے