2

بہادر صحابیاتؓ

اسلام کو غالب کرنے کی خاطر صحابہ کرام نے بہت ہی کارنامے انجام دیئے، اسلامی تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ صحابہ کے ساتھ صحابیات بھی شریک تھیں۔ وہ صرف شریک ہی نہ تھیں بلکہ بعض موقعوں پر صحابہ سے سبقت بھی لے جاتی تھیں۔ صحابیات نے اسلام کو غالب کرنے کی خاطر اولاد کی بھی پرواہ نہ کی۔ راہ حق میں جان قربان کرنے کے لیے انھیں ابھارا۔ حضرت اسماء ؓ اپنے لخت جگر عبداللہ کو نصیحت کرتی ہیں کہ بیٹے دل میں دو آرزو ہیں۔ تم یزیدوں سے لڑکر شہید ہوجاؤ اور میں اس پر صبر کروں یا میرے حسینؓ کے قاتلوں پر تم کامیاب ہوجاؤ اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ خدا سے دعا مانگی اے الٰہ جب تک میں عبداللہ کی لاش نہ دیکھ لوں موت نہ آئے۔ خدا نے حضرت اسماءؓ کی دعا قبول فرمائی۔ حضرت عبداللہ نے ماں کے حکم کی تعمیل کی اور ماں سے کہا اچھا تو پھر ہمارا آخری سلام قبول ہو۔ یہاں سے رخصت ہوئے اور میدان جنگ میں آکر یزیدی فوج سے خوب مقابلہ کیا اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔ حجاج نے جو لشکر کا سپہ سالار تھا حضرت عبداللہ کی لاش کو سولی پر لٹکایا جب ان کی لاش کو سولی پر لٹکے تین دن ہوگئے تو حضرت اسماء باندی کو لے کر اپنے اکلوتے بیٹے کی نعش پر آئیں دیکھا کہ بیٹے کا مردہ جسم الٹا لٹکا ہوا ہے۔ ان کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ دل تھام کر بولیں کیا اس سوار کے گھوڑے سے اترنے کا بھی وقت نہیں آیا۔ حضرت اسماءؓ بھی اپنے سینے میں ماں کا دل رکھتی تھیں لیکن ان کے دل میں بیٹے سے بڑھ کر اللہ کی محبت تھی، جس پر انھوں نے اپنے بیٹے کو قربان کردیا۔

حضرت صفیہؓ آں حضرت ﷺ کی پھوپھی تھیں ایسی خوش قسمت عورت دنیا میں کہیں نظر نہیں آئی جنگ خندق میں انھوں نے بہادری کا مظاہرہ کیا۔ اس جنگ میں آنحضرت نے تمام مسلمانوں کو مدینے کے شہر کے باہر لے گئے تھے مقابلے میں دس ہزار کی فوج تھی اور مسلمان کل تین ہزار تھے آپ نے مستورات کو ایک قلعے میں چھوڑ دیا اور حضرت حسانؓ کو حفاظت کے لیے مقرر کردیا تھا۔ یہودیوں نے میدان خالی سمجھ کر عورتوں کے اس قلعہ پر حملہ کردیا۔

ایک یہودی قلعہ کی پھاٹک پر پہنچ گیا اور قلعہ پر حملہ کرنے کا موقع ڈھونڈنے لگا۔ حضرت صفیہؓ نے اس یہودی کو قلعہ کے اوپر سے دیکھ لیا۔ حضرت حسانؓ نے کہا جلدی قلعہ پر سے اتروا اور اس یہودی کو قتل کردو ورنہ پھر ہماری خیر نہیں حضرت حسانؓ چونکہ ابھی بیماری سے اٹھے تھے کمزوری کی وجہ سے معذور تھے۔ حضرت صفیہؓ پھرتی سے اٹھیں اور قلعہ سے نیچے اتر کر قلعہ کی ایک چوب اکھاڑ لی اور اس یہودی کو اس زور سے مارا کہ سر کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ حضرت حسانؓ سے کہا جلدی جاؤ اور اس یہودی کا سر قلعہ سے نیچے پھینک دو انھوں نے اس وقت بھی کمزوری ظاہر کی یہ سن کر اس بہادر خاتون نے سر کاٹ کر نیچے پھینک دیا اپنے آدمی کے کٹے ہوئے سر کو دیکھ کر یہودیوں نے سمجھا کہ اس قلعہ میں بھی فوج ہے۔ اس خیال سے یہودیوں نے مستورات پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کی۔

اسلام کے معرکے میں حضرت محمد ﷺ اور ام سلیم اور انصار کی عورتوں کو ساتھ رکھتے تھے یہ عورتیں مجاہدین کو میدان جنگ میں پانی پلاتی تھیں اور جو لوگ زخمی ہوجاتے ان کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔ ان صحابیات کے عظیم کارناموں سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ غلبہ اسلام کی خاطر انھوں نے سب کچھ قربان کردیا۔ کیا آج بھی خواتین ان نمونوں کو دہرانے کے لیے تیار ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
سید شہاب الدین