2

بہار اسمبلی میں ۲۴ خواتین

بہار کی چودہویں اسمبلی میں نصف آبادی یعنی ’عورتوں‘ نے اپنا سیاسی وقار برقرار رکھتے ہوئے پچھلی بار کی طرح اس بار بھی اسمبلی کی ۲۴۳ میں سے ۲۴ سیٹوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھا۔

جنتا دل (یو) سے سب سے زیادہ ۱۲ خواتین کامیاب ہوئیں۔ اسمبلی کے لیے فتحیاب قرار دی جانے والی کل ۲۴ خواتین میں سے ۵۰ فیصد یعنی ۱۲ نشستوں پر جنتا دل (یو) کی خواتین امیداروں نے اپنا جھنڈا بلند کیا جبکہ اس کی اتحادی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی خواتین امیدواروں نے اپنا پرچم لہرایا۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے ۱۴ خواتین کو اپنا امیدوار بنایا تھا جس میں سے صرف چار حلقوں سے ہی پارٹی کی خاتون امیدوار کامیاب ہوئیں۔ بی ایس پی کو بھی صرف ایک کامیابی دینارا اسمبلی حلقہ سے حاصل ہوئی۔ خاتون امیدواروں کے معاملے میں سب سے زیادہ نقصان ایل جے پی کو اٹھانا پڑا جس کی گذشتہ بار کی چھ خاتون ممبران اسمبلی کے مقابلے میں اس بار محض ایک خاتون امیدوار اسمبلی داخلہ پاسکی۔

اس بار مجموعی طور پر ۱۳۶ خواتین امیدواروں نے انتخابی دنگل میں مرد امیدواروں کے سامنے اپنا چیلنج پیش کیا تھا۔ سال ۱۹۵۲ء؁ کے اسمبلی انتخابات میں سب سے کم فرق ۱۹ خاتون امیدوار ہی مردوں کو چیلنج کرنے کی ہمت جٹا پائی تھیں۔ جبکہ سب سے زیادہ ۲۶۴ خواتین امیدواروں نے سال ۱۹۹۵ کے اسمبلی انتخابات میں اپنی قسمت آزمائی تھی۔

جدہ چیمبر آف کامرس میں خواتین منتخب

کویت کے بعد سعودی عرب میں بھی خواتین سیاسی سرگرمیوں میں شامل ہونے کے لیے قطار میںہیں۔ شروعاتی طور پر جدہ چیمبر آف کامرس میں دو خواتین ۱۸ رکنی بورڈ کی ممبر بن گئی ہیں۔ جدہ چیمبر آف کامرس کے چالیس ہزار ممبران میں خواتین دس فیصد ہیں۔ لیکن انھیں بورڈ کے رکن بننے کے لیے ووٹ دینے اور امیدوار بننے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن پہلی بار انھیں یہ اجازت حاصل ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کو بلدیاتی انتخابات میں بھی سیاسی سرگرمیوں سے علیحدہ رکھا گیا تھا۔ امید ہے کہ ۲۰۰۹ کے بلدیاتی انتخاب میں خواتین کو ووٹ کا حق حاصل ہوجائے گا۔ سعودی حکمراں شاہ عبداللہ نے بھی اس جانب اشارہ دیا ہے۔ جدہ چیمبر آف کامرس کے بورڈ ممبران کے انتخاب میں ۷۲ امیدواروں میں ۱۶ خواتین امیدوار تھیں جس میں سے لمع السلیمان اور نشوۃ الطاہر کامیاب ہوئی ہیں۔

جرمنی اور لائبریا میں خواتین امیدوار ایوانِ صدارت پر قابض

براعظم افریقہ میں پہلی بار ایک خاتون ایسن جانسن سرزیف اپنے ملک لائبریا کی صدر بن گئی ہیں۔ امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سے بینکنگ کی تعلیم یافتہ ایسن کو صدارتی انتخاب میں 59.40ووٹ حاصل ہوئے۔ لائبریا اس وقت داخلی کشمکش میں مبتلا ہے۔ سابق صدر چارلس ٹیلر جنگی جرائم میں ملوث ہیں اور نائجیریا میں پناہ گزیں ہیں۔ خود ایسن جانسن کے مخالفوں کی تعداد کم نہیں ہے۔ ایسے میں ان کی صدارت بہت آسان نہیں ہے۔

اسی طرح جرمنی کے حالیہ انتخابات کے نتائج خاتون امیدوار انجیل مارکیل کے حق میں رہے۔ کرشچین ڈیموکریٹ یونین کی امیدوار مارکیل اور سوشل ڈیموکریٹ کے امیدوار اور سابق چانسلر گریہارڈ شروڈر کے درمیان سخت مقابلہ تھا۔ معمولی اکثریت کے بعد مارکیل اور شروڈر کے درمیان معاہدہ ہوا۔ جس کے مطابق انجیلا مارکیر جرمنی کی پہلو خاتون چانسلر بن گئی ہیں۔

دنیا کی ۵۰ طاقتور خواتین میں ۱۳ ایشیا کی

فارچیون رسالے نے اپنے ۱۶ویں شمارے میں تجارتی میدان کی ۵۰ سب سے طاقتور خواتین کی فہرست شائع کی ہے۔ اس فہرست میں فرانس کی اینی لاور جین اول نمبر پر ہیں۔ اینی فرانس کی ایٹمی توانائی کمپنی آر یوا کی صدر ہیں۔ فہرست میں ٹاپ تیرہ میں ۳ ایشیا کی ہیں جبکہ باقی دس خواتین ہندوستان، سعودی عرب، دبئی، اسرائیل، چین، جاپان، ہانگ کانگ کی ہیں۔

اس طرح کی فہرستیں شائع کرنے کا فیشن بہت نیا نہیں ہے۔ پتہ نہیں فہرست سازی کے شوقین لوگوں کے لیے اخلاق کردار، پاکیزگی، عفت جیسی باتیں کچھ معنی رکھتی ہیں کہ نہیں۔ خوبصورت، امیر، طاقت ور، بااختیار، حکمراں، فیشن پرست، سیاسی خواتین کی فہرست بنتی ہے۔ لیکن کبھی سب سے باعفت، جرائم سے محفوظ، معاشروں، اخلاقی جرائم میں سب سے کم ملوث خواتین کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی۔ لیکن ایسا ہونا ناممکن ہے۔ اگر انھوں نے اخلاقی قدروں کی بنیاد پر انعام و اکرام اور ایوارڈ دینا شروع کردیا تو ان کی تجارت ہی ٹھپ پڑجائے گی۔

افغانستان: امریکی دوشیزہ مشرف بہ اسلام

خاتون صحافی ایون ریڈلی کے بعد افغانستان میں ایک امدادری ادارے میں کام کرنے والی امریکی دوشیزہ جانان نے افغان سپریم کورٹ میں چیف جسٹس مولوی فضل ہادی شنواری کے ہاتھوں اسلام قبول کرلیا۔ کلمہ شہادت پڑھتے ہی سپریم کورٹ کی عمارت نعرئہ تکبیر سے گونج اٹھی۔ افغان چیف جسٹس نے نو مسلم دوشیزہ کا نام بی بی فاطمہ رکھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد نو مسلم دوشیزہ نے ایک افغان باشندے احسان اللہ کے ساتھ نکاح بھی کرلیا۔ اس موقع پر اس نے مقامی لباس زیب تن اور دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا۔ اس موقع پر افغان چیف جسٹس نے اسے قرآن پاک ہدیہ میں دیا۔ نو مسلم دوشیزہ نے قرآن پاک کو بوسہ دیا اور کہا کہ اسی نے تو راہ دکھائی ہے۔

تحریک میں خواتین کو پیچھے نہ چھوڑیں۔ شیخ صیام

سابق امام مسجد اقصیٰ،ڈاکٹر محمد محمود الصیام نے جماعت اسلامی اعظم گڑھ کانفرنس میں خواتین کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو تحریکی سرگرمیوں میں آگے لانا چاہیے۔ فلسطین میں خواتین مردوں پر سبقت لے گئی ہیں۔ شیخ الصیام نے ادارہ حجاب سے خاص گفتگو کے دوران عرب ممالک کی اسلامی تحریکوں میں خواتین کی شرکت پر اطمینان کا اظہار فرمایا۔ انھوں نے کہا کہ عرب ملکوں میں تحریک نے خواتین کی تعلیم و تربیت کا معقول بندوبست کیا ہے۔ انھیں لڑکوں کے برابر بلکہ ان سے زیادہ تربیت تعلیم اور ہنر سکھائے جارہے ہیں لیکن ہندوستان میں ابھی یہ کام کافی سست ہے۔

جماعت اسلامی اعظم گڑھ کی کانفرنس میں خواتین کے علیحدہ سیشن کو ناظمہ ناصرہ خانم صاحبہ نے خطاب کیا۔ محترمہ ناصرہ خانم صاحبہ نے کہا کہ بے قید آزادی نے عورت کی نسوانیت چھین لی ہے۔ اس اجتماع میں ۲۰۰۰ سے زائد خواتین نے شرکت کی۔

جنسی بنیاد پر جنین کی جانچ غیر اسلامی، علمائے لکھنؤ

علمائے لکھنؤ نے جنس کی شناخت کے لیے ہونے والی طبی جانچ کو ناجائزٹھہرایا ہے۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے دارالافتاء کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شریعت جنسی بنیادوں پر جنین کی اجازت نہیں دیتی۔ اس لیے یہ جانچ ناجائز ہے۔ دوسری طرف فرنگی محل لکھنؤ کے دارالافتاء کی طرف سے مولانا خالد رشید نے کہا کہ ہونے والے بچے کی جنس معلوم کرنے کے لیے طبی معائنہ کرانا غیر اسلامی ہے اور اس کا گناہ گار ڈاکٹر بھی ہوگا۔ کیونکہ یہ غیر اسلامی فعل اس کے ذریعہ انجام پا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ۲۰۰۱ء کی مردم شماری کے مطابق مسلم معاشرے میں مردوں کی تعداد سات کروڑ تیرہ لاکھ (7,13,74,134) ہے۔ جبکہ خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلہ میں 45,60,028پینتالیس لاکھ کم ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ مسلم معاشرے میں اسقاط حمل کا چلن بہت معمولی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ فطری نظام کے مطابق خواتین کی تعداد زیادہ ہونی چاہیے۔ لیکن یہ کم کیوں ہورہی ہے۔ ظاہر ہے کہ مسلمان بھی نسوانی جنین کشی کے گنہگار ہورہے ہیں۔

چرکھا گروپ نے میڈیا میں خواتین ’’ایشوز‘‘ پرورکشاپ کی

دلی کے چرکھا گروپ نے سروے کے بعد کہا کہ میڈیا میں خواتین سے متعلق خبروں کا حصہ صرف پانچ فیصد ہے۔ نصف انسانیت کہی جانے والی صنف نازک کے ساتھ امتیازی سلوک میڈیا میں بھی جاری ہے۔ اہم بت یہ ہے کہ خبروں میں صرف چمک دمک رکھنے والی اداکارائیں، ماڈلس، چھائی رہتی ہیں۔ یا پھر عصمت دری اور استحصال کے واقعات ہوتے ہیں لیکن زمینی سطح پر خواتین کی خبریں آج بھی اخباروں کی زینت بننے سے محروم ہیں۔

چرکھا گروپ دہلی میں خواتین کے لیے فیچر ایجنسی چلاتا ہے۔ اور حال ہی میں گروپ نے میڈیا میں خواتین کے ایشوز عنوان پر ایک روزہ ورکشاپ منعقد کی۔ گروپ کے صدرشنکر گھوش نے کہا کہ خواتین سے وابستہ زیادہ سے زیادہ خبریں اخبارات تک پہنچانے کی فکر کی جانی چاہیے۔ چرکھا گروپ نے اردو اخبارات کا سروے بھی کیا۔ اردو اخبارات بھی عورتوں کے ساتھ سوتیلا سلوک کررہے ہیں۔ گروپ نے تشویش ظاہر کی کہ عام طور پر صحافی حضرات خواتین سے متعلق خبروں میں خواتین کے لیے ناشائستہ الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

ادیبہ امرتا پریتم نہیں رہیں

امرتا پریتم ہندی اور پنجابی ادب کی مایہ ناز ادیب تھیں۔ گجرانوالہ میں ۱۹۱۹ء؁ میں پیدا ہوئیں اور تقسیم ہند کے بعد ہندوستان میں آباد ہوگئیں۔ گذشتہ ۳۱؍اکتوبر کو دلی کے حوض خاص میں واقع اپنے مکان میں انتقال کرگئیں۔ امرتا پریتم نے پنجر، ڈاکٹر دیو سمیت ۷۰ کتابیں لکھیں۔ خواتین سے متعلق ان کے افسانے اور کہانیاں اگرچہ بغاوت اور انقلاب کا زور رکھتے ہیں لیکن عورت کو ادب کے ذریعہ موضوع بحث بنانے میں سب سے کامیاب قرار دی جاتی ہیں۔ امرتا پریتم نے تقسیم ہند کے درد کو پنجابی زبان کے ایک شعر سے بیان کیا تھا، جس کے بارے میں فیض احمد فیض نے تبصرہ کیا کہ تقسیم میں خواتین کے درد کو اس سے زیادہ بیان کرنے والا کوئی شعر نہیں ہے۔

اک مری سی دھی پنجاب دی

تو لکو لکو مارے ویڑ

اج لکھاں دھیاں اندیا تنو وارث شاہ نو کہن

اٹھ درد مندا دی دردیاں تے تک این پنجاب

اج بیلے لاشا بیچھیاں تے لہو دی بھری چناب

مسلم خواتین کا مسئلہ صرف نکاح طلاق نہیں۔ ورندا کرات

آل انڈیا ڈیموکریٹک وومین ایسوسی یشن (ایڈوا) کی نائب صدر اور ممبر پارلیمنٹ ورندا کرات نے سیاسی پارٹیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ایجنڈے میں مسلم خواتین کے مسائل بھی شامل کریں۔ مسلم خواتین کے معاشرتی اقتصادی اور قانونی مسائل کے موضوع پر منعقدہ ایک اجلاس میں ورندا کرات نے علماء کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ نکاح کے وقت علماء اور ہزاروں لوگ جمع ہوتے ہیں لیکن جب یہی عورت بیوہ ہوجاتی ہے یا مصیبت کا شکار ہوتی ہے تو کوئی نظر نہیں آتا۔ ورندا کرات نے اس بات پر ناراضگی ظاہر کی کہ مسلم خواتین کے مسائل میں نکاح طلاق کے علاوہ کوئی دوسرا مسئلہ شامل ہی نہیں ہوتا۔ دلی میں منعقد اس اجلاس میں متعدد تنظیموں کے ذمہ داران اور مصیبت زدہ خواتین بھی شریک ہوئیں۔ واضح رہے ورندا کرات کمیونسٹ پارٹی کی بھی ذمہ دار ہیں اور ایک طویل عرصہ سے ایڈوا کے ساتھ خواتین حقوق کے لیے سرگرم ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ادارہ

تبصرہ کیجیے