2

فرصت

چائے کی آخری چسکی لے کر اس نے اپنی نئی نویلی دلہن کی طرف دیکھا۔ وہ جیسے شرما کر دوہری ہوگئی۔ ’’کب آئیں گے آپ؟‘‘

اس نے محسوس کیا کہ جیسے فضا میں موسیقی کا رس برسنے لگا ہے۔ اس کا جی چاہا کہ وہ اپنے سارے پروگراموں کو منسوخ کردے اور اپنے جوان دل کی کیف آگیں دھڑکنوں کا ترانہ سننے کے لیے گھر پر ہی رک جائے۔ پھر چند ہی لمحوں کے بعد اس نے فیصلہ کیا کہ وہ ترانۂ دل سننے کے لیے اپنی اہم مصروفیتوں کو نہیں ٹال سکتا۔

’’کوشش کروں گا کہ جلد آجاؤں۔‘‘ وہ کہہ رہا تھا۔

’’لیکن … تم …تم…‘‘ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر کہہ نہ سکا۔ اس کی دلہن کی پیشانی چاند کی طرح جگمگارہی تھی۔ کھڑکی میں سے آنے والی ہوا کے شوخ جھونکے اس کی زلفوں اور آنچل سے کھیل رہے تھے۔ ’’دیکھو صبوحی… آج میں شہر کے ایک دولت مند شخص سے ملاقات کرنے والا ہوں … دعا کرو کہ ہماری یہ ملاقات کامیاب ہو۔‘‘ یہ کہتے کہتے وہ باہر نکل آیا۔ اس کے قدم جیسے من من کے ہوگئے تھے۔ ایک طرف دل کے تقاضے اسے روک رہے تھے اور دوسری طرف مقصد کا احساس اسے آگے بڑھنے پر مجبور کررہا تھا۔ صدر دروازے پر پہنچ کر پیچھے پلٹ کر دیکھا۔ دو خوبصورت غزالی آنکھیں اپنا جادو جگارہی تھیں۔ اپنے مضطرب اور بے قابو دل پر جبر کرکے اپنے اسکوٹر پر سوار ہوا اور سڑک پر دوڑنے والی مختلف سواریوں کے ہجوم میں گم ہوگیا۔ سمنٹ روڈ کے چوڑے چکلے سینے پر کاروں، اسکوٹروں، بسوں، آٹو رکشاؤں کا جیسے ایک سیلاب تھا جو چوراہے پر تھم تھم کر آگے بڑھ رہا تھا۔ ہر طرف حرکت، زندگی اور گہما گہمی!! اس کا اسکوٹر بھی اس سیلاب میں کبھی تیز، کبھی آہستہ بہتا جارہا تھا، وہ سونچنے لگا۔ زندگی کا نام حرکت ہے اور موت کا نام سکوت… گزشتہ رات یہی پُر رونق اور پُر ہجوم شاہراہ سناٹوں میں ڈوب گئی تھی۔ ان فلک پیما عالی شان عمارتوں پر موت نے جیسے اپنے پر پھیلادئے تھے۔ زندگی سکون کی گود میں پیر پھیلائے سوگئی تھی۔ حرکت اور عمل کا سارا نظام جیسے رک گیا تھا۔ لیکن انسانی سانسوں اور خراٹوں کی آہٹ سے زندگی اپنے وجود کی خبر دے رہی تھی۔ غالباً نیند کو موت کی چھوٹی بہن اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہاں سانس کی ڈوری ٹوٹنے نہیں پاتی کئی سونے والے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی آنکھیں خوابوں کی دنیا میں کھل جاتی ہیں۔ کوئی جھونپڑی میں سوکر محلات کے خواب دیکھتا ہے ، کوئی طوفانوں اور زلزلوں میں پھنس کر بڑبڑانے لگتا ہے۔ نیند کی حالت میں یہ بیداری عجیب بھی ہوتی ہے اور دلچسپ بھی۔ بالکل اسی طرح جب موت کی نیند طاری ہوجاتی ہے تو شاید آدمی پر ایسے ہی اچھے برے خیالات کی رو آجارہی تھی۔ اسی کومرنے والوں کا ’’برزخ‘‘ کہاجاتا ہے۔ اس کا اسکوٹر جس رفتار سے بھاگ رہا تھا اسی رفتار سے خیالات کی رو آجارہی تھی۔ وہ سوچنے لگا وقت کی سوئی بھی اسی تیزی سے گھومتی ہے۔ رات اسی طرح ڈھلتی ہے۔ مشرق کا ماتھا کسی مشرقی دوشیزہ کے شرمائے ہوئے چہرے کی طرح سرخ ہوجاتا ہے۔ مرغ سحر کی بانگ گویا صور بن کر بلند ہوتی ہے۔ زندگی انگڑائی لے کر پھر جاگ اٹھتی ہے پھر وہی حرکت و عمل، وہی رونق، وہی ہنگامۂ ہاؤہو!!

یکایک اس نے اپنے اسکوٹر کو بڑی پھرتی سے بریک لگا کر روک لیا اور تیز رفتار لاری جیسے اسے چھوتی ہوئی گزر گئی۔ اس کی نظروںکے آگے جیسے ایک خوبصورت گلاب کھل اٹھا۔ اف! اس نے سوچا کہ اگر لاری اس سے ٹکرا جاتی تو ان جھیل جیسی مسکان بھری آنکھوں کا کاجل بہہ جاتا۔ چوڑیاں چھن چھن کر کے ٹوٹ کر بکھر جاتیں وہ جیسے کپکپا گیا… چند منٹ کے بعد وہ اپنے آپ کو سنبھال سکا اور اس کا اسکوٹر پھر دوڑنے لگا اسے یہ احساس بری طرح ستانے لگا کہ زندگی پر بھروسہ کرنا اور مستقبل کے سنہرے خواب دیکھنا گویا ایک سراب کے پیچھے بھاگنا ہے۔ اس نے اپنے عزائم کو از سر نو مستحکم کرتے ہوئے سوچا کہ وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے اور تیز گام ہوجائے گا۔ اس نے اپنی زندگی کا یہ مشن بنالیا تھا کہ وہ اپنے ہر ملنے والے کے اندر انسان کی عظمت کا احساس پیدا کرے۔ وہ کہتا کہ انسان کا مقام چاند سورج سے بھی بلند و بالا ہے وہ اس روئے زمین کا نائب ہے۔ انسان کی بزرگی اور برتری کا یہ تقاضہ ہے کہ وہ کسی کے آگے نہ جھکے۔ نہ نفسانی خواہشات کے آگے اور نہ دولت و اقتدار کے آگے۔ وہ غلام صرف ایک کا ہے اور وہ آقا ہے سارے عالم کا!! آج تک اس سلسلے میں اس نے بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ اپنے پیام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے اس نے اکثر اپنے چین و آرام کو بھی تج دیا تھا۔ اس کی شادی ہوئے مشکل سے دو ہفتے ہی ہوئے تھے لیکن مقصد کی لگن، ساری رنگینیوں اور ساری دل ربائیوں سے اسے چھڑا کر باہر لے آئی تھی… تجربے نے اسے بتایا تھا غریب اور متوسط طبقہ کے لوگ ہی اس کی بات سنتے اور اس کے مشوروں پر عمل کرنے کی کوشش کرتے مگر سرمایہ دار اور اونچی سوسائٹی کے لوگ ہمیشہ اسے مایوس ہی کرتے رہے۔ اسے دقیانوسی اور رجعت پسند کہا۔ عجیب و غریب فقروں سے اس کا مذاق اڑایا۔ مایوسیوں اور ناکامیوں کی اس یورش میں اس نے کبھی ہمت نہ ہاری۔ ہر شکست اس کے سمندر شوق پر ایک اور تازیانہ لگاجاتی۔

پچھلے چند ہفتوں سے وہ ایک بڑے سرمایہ دار کے ہاں جا رہا تھا۔ ویسے وہ بڑے ہی شریف انسان تھے لیکن کاروباری مصروفیتوں کی زنجیروں نے انہیں اتنا جکڑ لیا تھا کہ وہ آدمی کی عظمت اور اس کے تقاضوں کے تعلق سے غور کرنے کے لیے وقت نہیں نکال سکتے تھے۔ پہلی ملاقات کے موقع پر سیٹھ صاحب نے اس سے کہا تھا’’ تم جیسے نوجوانوں کی لگن اور تڑپ دیکھ کر جی بہت خوش ہوتا ہے۔ مگر کیا کریں فرصت نام کی کسی شئے سے ہمارا یارانہ ہے ہی نہیں۔!! سیٹھ صاحب سے اتنا ہی سن کر وہ بہت خوش ہوا کہ سیٹھ صاحب ہی وہ پہلے سرمایہ دار تھے جنھوں نے اسے عزت و اکرام سے بٹھایا۔ چائے سے تواضع کی اور کچھ دیر تک بات چیت کی مگر بعد میں جب بھی وہ ان کے پاس پہنچتا، سیٹھ صاحب عدیم الفرصتی کی شکایت کرتے، بھئی اس کاروبار نے تو ہماری ناک میں دم کردیا ہے۔ صبح ہوتی ہے کاروبار شروع ہوجاتا ہے۔ شام ہوتی ہے تو کاروبار شباب پر پہنچ جاتا ہے۔ مختلف لوگوں کی آمدورفت، گاہکوں سے گفتگو، ٹیلی فون کی پیہم گھنٹیاں، فیکس، خطوط، بھاؤ تاؤ، اور بازار … اللہ کی پناہ … آپ ایسا کریں، پرسوں صبح آٹھ بجے کے قریب آجائیے۔ آج تو بے حد مصروف ہوں۔ آج ہمارے فرم کی ایک نئی برانچ کھل رہی ہے۔ اس کے افتتاح میں شہر اور بیرون شہر کے کئی سرکردہ حضرات، سیاسی قائدین، اور حکومت کے وزیر شریک ہورہے ہیں، کل کا دن میں نے اپنے طبی معائنہ کے لیے طے کیا ہے۔ ڈاکٹروں کی رائے ہے کہ مجھے بائی پاس سرجری کرالینی چاہیے لیکن میں اس کے لیے تیار نہیں ہوں۔ بہر حال کل اس کا حتمی فیصلہ ہوگا اس لیے پرسوں کا دن ہی مناسب رہے گا۔

آج صبح صبح حسب وعدہ سیٹھ صاحب سے ملاقات کے لیے جارہا تھا۔ اپنی ساری ا منگوں اور آرزوؤںکو خیر باد کہہ کر، خوبصورت غلافی آنکھوں کی ساحری کے زیر اثر نہ آکر، وہ یہ سوچ کر گھر سے نکلا تھا کہ وہ آج سیٹھ صاحب سے اپنا مدعا ضرور بیان کرے گا۔ آگے بڑھا تو سیٹھ صاحب کا عالی شان بنگلہ دکھائی دیا۔ وہاں کئی موٹر کاریں کھڑی تھیں۔ کئی اور کاریں بھی آرہی تھیں۔ اسے افسوس ہوا کہ آج بھی وہ سیٹھ صاحب سے بات نہ کرسکے گا۔ کیونکہ کاروباری لوگ اسے ملنے کا موقع کہاں دیں گے؟ آگے بڑھ کر اس نے ایک شخص سے پوچھا: ’’آج یہ اتنی بہت سی کاریں کیو ںہیں؟‘‘ سیٹھ صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے۔‘‘ وہ شخص کہہ رہا تھا۔ ’’رات کے دو بجے دل کا زبردست دورہ پڑا۔ ڈاکٹروں کی انتھک کوشش کے باوجود دل کی دھڑکن واپس نہیں آسکی۔‘‘ اس نے محسوس کیا جیسے زمین ڈولنے لگی ہے۔ منٹ دو منٹ کے لیے وہ اپنے آپ کو سنبھال نہ سکا۔ پھر کچھ سنبھل سکا تو وہ جیسے آپ ہی آپ بڑبڑانے لگا۔ ’’جناب سیٹھ صاحب! اب آپ کو بالکل فرصت مل گئی ہوگی۔ آپ پر اب نہ تو کاروبار کی وسعت کادباؤ پڑسکتا ہے اور نہ دل کا دورہ!! میں آپ سے جو کچھ عرض کرنا چاہتا تھا وہ سب آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے۔ خدا آپ کی مدد کرے۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
یعقوب سروش

تبصرہ کیجیے