BOOST

گھڑی

احمر نے کپڑے بدلے، وہ دفتر جانے کے لیے تیار ہورہا تھا۔ ثمینہ نے ناشتہ میز پر رکھا اور احمر کی شیروانی کو برش سے صاف کرنے لگی۔ احمر کی نظر اس کے بھورے بالوں پر پڑی جو تیل سے محروم تھے تو اس کی چوڑی پیشانی پر لکیریں ابھر آئیں۔ بے کسی کا افسانہ!!

اور پھر احمر دفتر چل دیا۔ لیکن اس کے خیالات ثمینہ کے بالوں سے الجھ کر رہ گئے۔

’’کتنا بدنصیب ہوں میں۔ اپنی بیوی کے خوبصورت بالوں کے لیے تیل بھی نہیں خرید سکتا۔ اس نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے سوچا۔

ثمینہ کے بال بڑے ہی خوبصورت تھے۔ ان میں عجیب سی چمک تھی۔ اور پھر لمبے کتنے تھے۔ اس کی آواز میں گھنگھروں کی سی جھنکار تھی۔ احمر کے لیے ثمینہ قدرت کا انمول عطیہ تھی۔

راستہ کافی طویل تھا۔ بس میں جگہ نہ ملنے کی وجہ سے وہ اکثر پیدل دفتر جایا کرتا تھا۔ اتفاق سے آج بھی وہ پیدل جارہا تھا۔ راستہ بھر اس کو ثمینہ کے خیالات پریشان کرتے رہے۔ آج وہ ثمینہ کے متعلق شدت سے سوچ رہا تھا۔ پھر اس کے خیالات ماضی کی طرف لوٹ گئے۔

کالج کی پرکیف زندگی ایک خواب سے زیادہ کچھ بھی نہ ہوسکی اور اس خواب کی تعبیر یہ تھی کہ وہ اپنی بیوی کے بالوں کے لیے تیل بھی نہیں خرید سکتا تھا۔ وہ اپنی اسی ثمینہ کے متعلق سوچ رہا تھا۔ جس نے اپنے بڑے گھرانے کی رنگینیاں، رعنائیاں اور مسرت کے زمانے چھوڑ کر محبت پرور وادیوں کی خاموشیوں کو اپنایا تھا۔ تاکہ اپنے محبوب کی شبنمی سانسوں سے اپنے تشنہ خیالوں کی پیاس بجھا سکے۔ کالج کی زندگی! چاندنی راتوں میں دو پیار بھرے دلوں کی مقدس سرگوشیاں تھیں۔ لیکن اب اندھیری راتوں کے ہولناک قہقہے تھے قہقہے!! اس نے سوچا کہ کیا گردش ایام ہم دونوں کے لیے ہیں۔

ثمینہ اور احمر نے اپنے خیالوں میں محبت کے حسین جھلملاتے محل تعمیر کیے تھے۔ لیکن حقیقی زندگی میں صرف تاریک کھنڈر ہی نصیب ہوئے۔ ان کھنڈروں میں دردناک قہقہے، سسکتی اور ڈوبتی ہوئی آہیں اور خاموش پلکوں پر منجمد آنسو تھے اور اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔

وہ دفتر پہنچ گیا۔ معمول کے مطابق دفتر کی فائلوں میں گم ہوجانا چاہا لیکن ناکام رہا۔ دوسرے دن عید تھی۔ اس لیے کام کافی تھا۔

’’کل عید ہے۔ ثمینہ کو کیا تحفہ دوں گا۔ اس دفعہ تو ایک پیسہ بھی نہیں بچا۔ اور تنخواہ بھی تو مل چکی۔‘‘

خیالات کی آندھی چلی۔ احمر ثمینہ کو ہر عید پر ہمیشہ کچھ نہ کچھ تحفہ کے طور پر دیتا آیا تھا اور ثمینہ کا بھی یہی معمول رہا تھا۔ ادھر ثمینہ بھی سارے دن فکر مند رہی۔ وہ احمر کے لیے کچھ خریدنا چاہتی تھی۔ دونوں افلاس میں بھی ہر وقت خوش رہنے کی کوشش کرتے۔ احمر شام کو دفتر سے واپس لوٹتا اور ثمینہ کو مسکراتا دیکھتا تو ساری تھکن دور ہوجاتی۔

اس کو اپنی اس وفا شعار بیوی پر بڑا ناز تھا۔ دن بھر نہ تو ثمینہ کا ہی کسی کام میں جی لگا اور نہ ہی احمر کا دونوں تحفوں کے متعلق دن بھر سوچتے رہے۔

احمد بار بار گھڑی میں وقت دیکھتا اور پھر اپنے کام میں مشغول ہوجاتا۔ پھر اس کو فائل کے کاغذات میں ثمینہ کا عکس ابھرتا ہوا سا معلوم ہوا۔ جیسے وہ اس کے انتظار میں بیٹھی ہوئی ہے۔ اور پھر وہی خیالات کا سلسلہ!!

’’کم بخت زندگی بھی کیا ہے۔ بی اے کی ڈگری! اور کلرکی! ہونھ!! یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہے اس زندگی میں اپنی شریک حیات کے ریشمی اور بھورے بالوں کے لیے تیل بھی نہیں خرید سکتا۔ ساری تنخواہ اس پیٹ کے بھرنے پر صرف ہوجاتی ہے میں بھی کوئی آدمی ہوں!!!

پھر اس نے مسکرانا چاہا۔ اس نے سوچا کہ میں مسلمان ہوں۔ اور مسلمان کبھی ہمت نہیں ہارتا۔ تدبیر کرنا میرے بس کی بات ہے۔ میں تدبیر سے اپنی تقدیر سنواروں گا۔ خدا میری مدد کرے گا۔ سوچتے سوچتے اسے چار بج گئے۔ وہ دفتر سے چل پڑا۔ بازار سے گزرتے ہوئے اس نے کافی رونق دیکھی۔ ایک دکان کے بڑے سائن بورڈ پر نظر پڑی۔ ’’سنگھارستان‘‘ اور پھر دکان میں نظریں دوڑائیں۔ عورتوں اور مردوں کی بھیڑ تھی۔ بڑی بڑی شیشے کی الماریوں میں تیل، آئینے، کنگھے، لپ اسٹک، غرض سنگھار سے متعلق ہر سامان موجود تھا۔ اپنی گھڑی کا اسے خیال آیا تو وہ رک گیا، اس نے ہاتھ سے گھڑی کھولی پلاسٹک کا پرانا سٹریپ نوچ پھینکا۔ اس کے قدم ایک گھڑی ساز کی دوکان کی طرف اٹھ گئے۔ گھڑی فروخت ہوگئی۔ اس نے روپے لیے اور دکان سے باہر آگیا۔ اس نے سوچا کہ ثمینہ کی سنہری گھڑی کے لیے خوبصورت سا اسٹریپ بھی آجائے گا اور سلمیٰ کے لیے کچھ اور چیزیںبھی خریدی جاسکیں گی۔ کچھ دنوں کا خرچ بھی چل جائے گا۔

اس نے ثمینہ کے لیے اٹھائیس روپیہ کا اسٹریپ خریدا۔ اس کی گھڑی اسٹریپ نہ ہونے کی بنا پر مہینوں سے میز کی دراز میں پڑی تھی۔ احمر نے اس کے لیے ایک تیل کی بوتل، ایک اچھا سے کنگھا خریدا۔ بک اسٹال سے ’’بتول‘‘ کا تازہ شمارہ بھی خریدا۔ اور گھرکی طرف چل دیا۔

خوشیوں کے بے شمار پھول لیے وہ گھر میں داخل ہوا۔ ثمینہ کچن میں کھانا پکا رہی تھی۔ احمر نے اس کی تمام چیزیں صبح دینے کے خیال سے الگ چھپا کر رکھ دیں۔ رات گزر گئی۔ سب چیزیں ثمینہ نے صبح خود دیکھ لیں۔ اس کو بڑا دکھ ہوا۔

’’قرض لیا ہوگا۔‘‘ اس نے سوچا۔ اس کا دل ڈوب گیا۔ لیکن وہ سنبھلی اور احمر کو ایک خوبصورت سنہری چین نکال کر دی۔ ’’ لو احمر! ان کے بدلے یہ چین میری طرف سے تحفہ۔ اس کو اپنی گھڑی میں لگا لو۔ دیکھو تو کتنی خوبصورت ہے۔‘‘

احمر کی پیشانی پر پسینے کی بوندیں نمودار ہوئیں۔ اس نے چین لے لی۔

’’یہ کہاں سے خریدی ہے؟‘‘ احمر نے پوچھا۔

’’وہ منحوس گھڑی میں نے فروخت کردی۔ دراز میں یونہی بیکار تو پڑی تھی۔ ثمینہ نے جواب دیا۔

’’واقعی بڑی منحوس گھڑی تھی وہ۔‘‘ احمر نے کرسی سنبھالتے ہوئے کہا۔

شیئر کیجیے
Default image
مختار شکیب

تبصرہ کیجیے