4

ضمیر کی جیت

’’ارے یہ کیا؟‘‘ اس نے روپے گنے تو حیران رہ گیا۔

’’شاید مجھ سے غلطی ہوگئی ہے۔‘‘ اس نے سوچار اور دوبارہ روپے گنے مگر نتیجہ وہی تھا۔

’’لگتا ہے مجھے ریاضی میں زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی۔ بھلا دیکھو تو …… ان روپوں کی گنتی بار بار غلط ہوئی جارہی ہے۔‘‘ اس نے بڑ بڑا کر کہا، اس مرتبہ ہاتھ میں پکڑا ہو سبزی کا تھیلا زمین پر رکھ دیا اور ہر نوٹ علیحدہ علیحدہ کرکے خوب توجہ سے گنا۔ اب تو وہ اچھل ہی پڑا۔

’’ارے واقعی! یہ تو کمال ہی ہوگیا۔ یہ تو سچ مچ دس روپے زیادہ ہیں۔‘‘ اس نے خوش ہوکر کہا اور تھیلا اٹھا کر اچھلتا کودتا گھر کی جانب بھاگا۔ پھر نجانے کیا ہوا کہ یک دم رک گیا اور بولا: ’’مم، مگر یہ روپے تو سبزی والے چچا نے غلطی سے زیادہ دئے ہیں۔ یہ … یہ … تو …ح … حرام ہوئے۔‘‘

لفظ ’حرام‘ کہتے ہی اسے اپنے استاد یاد آئے۔ اس کے استاد بہت اچھے تھے، اسے ہر بات پیار سے سمجھاتے۔ تبھی تو ان کی باتیں اسے ہر وقت یاد رہتیں اور وہ ہر کام کرنے سے پہلے ان سے راہنمائی ضرور لیتا۔ اگرچہ وہ چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا مگر استاد کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل کرنے کے باعث جاننے والے اسے عقلمند کہتے تھے۔ اس وقت بھی اسے وہ دن یاد آیا جب اس نے استاد سے پوچھا تھا:

’’جناب! میرے دادا ابو کہتے ہیں کہ حرام سے بچنا چاہیے اور حلال رزق کھانا چاہیے۔ یہ حلال اور حرام کیا ہیں؟‘‘

اس کے معصوم انداز پر پہلے تو استاد مسکرائے تھے اور پھر اس کا گال تھپک کر بولے:

’’بیٹا! تمہیں خوب معلوم ہے کہ ہم دین اسلام کے پیروکار ہیں۔ ہر وہ حکم جو ہمیں اسلام دے، ہمیں اسے لازماً بجا لانا ہے۔ حلال اور حرام میں تمیز کا حکم بھی ہمیں اسلام نے دیا ہے۔ ہر وہ چیز جو ہم اسلام کے بتائے گئے اصولوں سے حاصل کریں، ہمارے لیے حلال ہے بصورت دیگر حرام ہے۔ کسی دوسرے کا مال چھین کر، چوری کرکے یا اس کی اجازت کے بغیر استعمال میں لانا حرام ہے اور جو شخص حرام کھاتا ہے قیامت کے دن اس کا منہ آگ سے بھر دیا جائے گا۔‘‘

استاد کا آخری جملہ سن کر ناصر اس وقت بھی کانپا تھا مگر اس وقت تو ان کے وہ الفاظ یاد کرکے گویا اس کے دل میں بھونچال سا آگیا۔

’’یہ … یہ دس روپے مجھے سبزی والے چچا کو واپس کردینے چاہئیں۔‘‘ یہ سوچ کر وہ جلدی سے واپس ہولیا۔ ابھی وہ دکان سے کچھ فاصلے پر تھا کہ اس کی نگاہ چاٹ، بیچنے والے پر پڑی۔ اس کے منہ میں ایک دم پانی بھر آیا۔

’’کتنے دن ہوئے چاٹ چکھی تک نہیں، آج اچھا موقع ہے۔ پیسے بھی ہیں …‘‘ اس کی سوچ فوراً ہی پلٹ گئی تھی۔

شیطان ہمارا وہ ازلی دشمن ہے جس نے انسان کو سیدھی راہ سے بھٹکانے کا عہد کررکھا ہے۔ وہ انسان کو اپنی راہ پر چلا کر اس کی دنیا و آخرت تباہ کرنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ نیکی کی طرف بڑھنے والا ناصر بھی شیطان کے شکنجے میں پھنسنے والا تھا اور لالچ اس پر حاوی آنے ہی والا تھا کہ اتنے میں ایک آواز سن کر وہ اچھل پڑا۔

’’ارے ناصر بیٹا! تم یہاں کھڑے ہو۔ گھر میں سبزی کے لیے انتظار ہورہا ہے۔‘‘ یہ اس کے ابو تھے۔ ’’کیوں کھڑے ہو یہاں؟‘‘

’’وہ، وہ ابو…‘‘ ناصر گھبرا سا گیا۔

’’اچھا، جلدی چلو۔ کھانے کو دیر نہ ہوجائے۔‘‘ ابو نے کہا اور گھر کی طرف مڑ گئے۔ اب ناصر سبزی کا تھیلا تھامے ان کے پیچھے چلنے لگا۔ تاہم اس کے ذہن میں یہ کشمکش بدستور جاری تھی کہ وہ سبزی والے چچا کو دس روپے واپس کرے یا نہیں؟

اگلے دن وہ اسکول میں بھی پریشان رہا۔ دس روپے اس کے پاس تھے۔ ان سے وہ چاٹ کھاسکتا تھا۔ گول گپے اور کھٹی املی بھی لے سکتا تھا۔ مگر جانے کیا بات تھی کہ وہ جب بھی یہ چیزیں خریدنے کے خیال سے دس روپے نکالتا، اسے عجیب سے بے چینی ہونے لگتی۔ اسے یوں لگتا کہ اس نے یہ روپے سبزی والے چچا کو واپس کرنے کے بجائے خرچ کردئیے، تو کچھ بہت برا ہوجائے گا۔ پھر وہ استاد کے سامنے کس طرح جائے گا؟ ان سے اچھی اچھی باتیں کیسے کرے گا؟ اگر انہیں پتا چل گیا کہ اس نے ح … حرام … کھایا ہے تو؟ اور پھر اللہ میاں بھی اس کا منہ آگ سے بھردیں گے۔ ان ہی خیالات نے اسے دس روپے کا نوٹ خرچ نہ کرنے دیا۔ اس کے اندر کا پاکیزہ بچہ پوری شدت سے شیطان کے خلاف لڑ رہا تھا۔

اسکول سے واپس آکر ناصر نے کھانا کھایا اور اسکول کا کام کرنے بیٹھ گیا۔ اس نے سب سے پہلے اسلامیات کی کاپی کھولی اور پڑھائی کرنے لگا۔ لیکن اس کے ہاتھ تو لکھ رہے تھے مگر ذہن کہیں اور تھا۔ وہ خیالوں ہی خیالوں میں بازار کی سیر کررہا تھا۔ جب اسے فروٹ چاٹ کا خیال آیا، تو اس کے چٹخارے یاد کرکے اس کی زبان میں کھجلی سی ہونے لگی اور منہ میں پانی بھر آیا۔ شیطانی سوچ نے یک دم اپنا وار کیا اور اس کے پاکیزہ ذہن کی باڑ ٹوٹ گئی۔ حلال، حرام کی تمیز مٹنے لگی اور وہ بے تابانہ باہر کی طرف دوڑا۔

اس کی منزل فروٹ چاٹ والے کا ٹھیلہ تھا۔ کچھ ہی دیر بعد چاٹ کی پلیٹ اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے چمچ بھر کر جونہی چاٹ منہ میں ڈالی، اسے یوں لگا جیسے قیامت آگئی ہو۔ چاٹ نے منہ میں جاتے ہی گویا آگ لگادی تھی۔ ناصر کے منہ سے چیخیں نکلنے لگیں مگرآگ تھی کہ سرد ہونے کے بجائے پورے جسم میں پھیلتی چلی گئی۔ اچانک اسے سامنے اپنے استاد جی نظر آئے۔ وہ اداس نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے جیسے کہہ رہے ہوں:

’’میں نے تو تمہیں سیدھا راستہ بتایا تھا، یہ آگ تم نے خود اپنے لیے خریدی ہے۔‘‘

جلن بڑھتی جارہی تھی۔ اس کی سانسیں درہم برہم ہونے لگیں… وہ رکنے کے قریب تھیں کہ اچانک … وہ اٹھ بیٹھا۔ ارے وہ تو چاٹ کے تھیلے کے نزدیک کھڑے ہونے کے بجائے اپنے کمرے میں بیٹھا تھا اور اسلامیات کی کاپی اس کے سامنے اسی طرح کھلی پڑی تھی۔ ہوش میں آنے کے باوجود اسے منہ میں جلن کا احساس ہوا۔ وہ جلدی سے اٹھا اور میز پر رکھے جگ سے پانی گلاس میں ڈال کر غٹا غٹ پی گیا۔ تب اس پر سے خواب کا اثر ختم ہوا اور اس کے ہوش واپس آئے۔

اب وہ بار بارا للہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے لگا کہ یہ سب خواب تھا۔ ورنہ وہ تو گناہ کرنے ہی لگا تھا۔ دس روپے کا نوٹ ابھی تک اس کی جیب میں پڑا تھا۔ اسی وقت ناصر کی نظر اسلامیات کی کاپی پر پڑی جو ابھی تک کھلی پڑی تھی۔ اونگھنے سے قبل وہ کاپی میں لکھ رہا تھا:

’’اللہ اپنے نیک بندوں کی ہر حال میں مدد کرتا ہے۔ اگر اچھائی کا راستہ اپنایا جائے، تو اللہ خود اچھائی کرنے والوں کی حفاظت فرماتا ہے۔‘‘

یہ پڑھ کر ناصر کے معصوم چہرے پر مسکراہٹ کھیلنے لگی۔ واقعی اللہ پاک نے اس کی خوب مدد کی تھی اور اسے شیطان سے شکست کھانے سے بال بال بچا لیا تھ۔

شیئر کیجیے
Default image
احمد سعید