2

نیا باورچی

میری خالہ زاد بہن قدسیہ باجی کی منگنی تھی، اس لیے سارا گھر صبح ان کے گھر روانہ ہوگیا۔ میری چھوٹی بہن رقیہ کی طبیعت کچھ ٹھیک نہ تھی اس لیے میں اور وہ گھر پر ہی رک گئے۔ رقیہ تو لیٹ کر مطالعہ کرنے لگی، میں نے سوچا کوئی مضمون ہی لکھ دوں۔ مگر مضمون کا پلاٹ سمجھ میں آنے کے بجائے خالہ جان کے ہاں ہونے والی تقریب یاد آنے لگی۔ کتنا اودھم مچ رہا ہوگا۔ قدسیہ باجی کتنی پیاری لگیں گی … اور … دفعتاً غفور نے آکر بتایا ’’چھوٹی بی بی! ایک بوڑھاآیا ہے، کہہ رہا ہے اسے نوکر رکھ لو۔ بڑی دور سے صاحب کا نام سن کر آرہا ہوں۔‘‘

’’اچھا؟ ‘‘ رقیہ نے کتاب رکھ دی۔

’’بالکل بڈھا ہے، کمر جھکی ہوئی ہے۔‘‘

’’بلا لو اسے۔‘‘ رقیہ نے غفور سے کہا اور پھر میری طرف دیکھا۔

’’ہاں، ہاں بلالو۔‘‘ میں نے بے تکلفی سے کہا۔

غفور اسے لے کر آیا تو معلوم ہوا غدر کا مارا کوئی شہزادہ چلا آرہا ہے۔ اسے دیکھ کر مجھے ہنسی آگئی، اس لیے میں تو کھڑکی کے نزدیک جاکر کھڑی ہوگئی۔ رقیہ اس سے بولی ’’بڑے میاں! کیا کیا کام کرلیتے ہیں آپ؟‘‘

’’سب کام کروں ہوں، روٹی پکاؤں ہوں، پلاؤ، جردہ (زردہ)، کورمہ (قورمہ)سب پکاؤں ہوں۔‘‘ ’ان کی بطخ جیسی آواز سن کر ہنسی ضبط کرنا انتہائی مشکل تھا۔

’’کہیں کام کرچکے ہیں؟‘‘ رقیہ نے پوچھا۔

’’بہوت جہگہ۔‘‘ انھوں نے بے نیازی سے فرمایا۔

’’ایسا مزیدار کھانا پکاؤں ہوں کہ انگلیاں چاٹتے رہ جاؤ۔‘‘ بڑے میاں نے اپنا قصیدہ پڑھا۔

’’واقعی؟‘‘ میں نے بھی دلچسپی لی۔

’’تو کیا جھونٹ کہوں ہوں؟‘‘ بڑے میاں کو برا لگ گیا۔

’’نہیں نہیں، یہ بات نہیں۔ آپ تو بڑے ہوشیار ہیں۔‘‘ رقیہ نے مسکہ لگایا۔

’’تنخواہ کیا لیجیے گا؟‘‘ غفور نے کاروباری بات کی۔

’’میرا تو حساب ہووے ہے کہ ایک دن مپھت (مفت) کام کروں ہوں پھر تنخواہ لوں ہوں۔‘‘

’’اچھا تو آج کام کیجیے، کھانا وغیرہ پکائیے۔‘‘ رقیہ بولی اور بڑے میاں غفور کے ساتھ باورچی خانے میں چلے گئے۔

تھوڑی دیر بعد میں یونہی ٹہلتی ہوئی باروچی خانے میں گئی۔ دروازے کے پاس کھڑے ہوکر دیکھا تو غفور تو غائب تھا اور بڑے میاں پلیٹ میں تلی ہوئی مچھلی کے قتلے لیے فٹا فٹ پیٹ میں اتار رہے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی ان کے حواس رخصت ہوگئے، پلیٹ ہاتھ سے چھوٹ کر گری اور کئی حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ پلیٹ ٹوٹنے کی آواز سے غفور بھاگا ہوا آیا اور بری طرح چیخا۔ ’’ارے بابا! پلیٹ توڑ دی۔‘‘

بڑے میاں چوہے کی طرح سکڑے چپ چاپ کھڑے رہے۔ میں نے بات ٹالتے ہوئے کہا: ’’کوئی بات نہیں بیچارے ضعیف ہیں نا۔‘‘

بڑے میاں نے نہایت بیچارگی سے سر ہلایا اور میں کمرے میں بھاگ آئی۔ ہنسی کے مارے برا حال تھا۔

’’دوپہر کے کھانے پر رقیہ کے لیے پرہیزی کھانا، سوپ اور کھچڑی موجودتھی۔ میں نے اپنے لیے پلیٹ میں جو سالن نکالا،وہ عجب رنگ کا تھا۔ ’’کیسا ہے یہ غفور؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’بابا نے پکایا ہے۔‘‘ اس نے کہا۔

’’اچھا‘‘ کہہ کر جو ایک نوالہ منہ میں رکھا، تو آسمان زمین سب ناچتے نظر آئے۔ ’’اللہ توبہ پانی۔‘‘ میں زور سے چلائی۔ رقیہ نے جلدی سے گلاس بڑھا دیا مگر ایک گھونٹ پانی نے پیٹ میں اور آگ لگادی۔ رقیہ کو ایسے نازک وقت میں مذاق سوجھ رہا تھا، ہنس ہنس کر پوچھنے لگی، ’’کیا ہوا، ارے بھئی ہوا کیا آخر؟‘‘

میں نے جلدی سے فیرنی کھانا شروع کی تب جاکر کچھ سکون ہوا۔ اب بابا سے پوچھا کہ اس میں کتنے من مرچیں ڈالی تھیں۔ انھوں نے نہایت مختصر جواب دے دیا : ’’یہ ہمارے وطن کا کھانا ہے۔‘‘

مجبور ہوکر مچھلی کے قتلوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ رقیہ نے بھی تھوڑا سا سالن چکھا، تو انھیں مجھ سے بھی زیادہ مزہ آیا اور ناچ ناچ گئیں۔ اب میں نے بھی بڑے مزے سے پوچھا ’’کیا ہوا، آخر ہوا کیا۔‘‘ ہنسنے کامقام تھا لہٰذا ہم دنوں ہنس پڑے۔

کھانے کے بعد رقیہ تو پڑ کر سوگئیں میں بھی سونے کے لیے لیٹی۔ ابھی آنکھ لگنے بھی نہ پائی تھی کہ ایک عجیب بے سری تان سے میں چونک کر اٹھ بیٹھی۔ اسی وقت غفور بھاگتا ہوا آیا اور بولا: ’’اللہ بی بی، چل کر دیکھئے، بڑے میاں گانا گارہے ہیں۔‘‘

رقیہ بھی اٹھ بیٹھیں۔ ہم دونوں باہر نکلے تو بڑے میاں برآمدے میں ستون سے لگے آنکھیں بند کیے بیٹھے جھوم رہے تھے۔ ایک ہاتھ سے چمٹا بج رہا تھا اور گلے سے ایسا نغمہ بلند ہورہا تھا کہ اگر تان سین مرحوم سن پاتا تو خود کشی کرلیتا۔ ہم لوگ بے ساختہ ہنسنے لگے مگر بڑے میاں پر اس ہنسی مذاق کا رتی بھر اثر نہیں پڑا۔ غفور سے ضبط نہ ہوسکا، اس نے بڑے میاں کو جھنجھوڑ دیا۔ بس پھر کیا تھا، اچھل پڑے اور چلا کر بولے:

’’پتھر کا کلیجہ پھٹ جاوے ہے میرا گانا سن کر اور تم مذاق کرو ہو۔‘‘

غفور غریب تو سہم کر بھاگ کھڑا ہوا اور ہم لوگ بھی بے تحاشا ہنستے ہوئے کمرے میں چلے آئے۔ بڑے میاں چپ ہوگئے تھے، اس لیے اب ہم پڑ کر سوگئے۔ جب آنکھ کھلی تو ساڑھے چار بجے کا وقت ہوچکا تھا۔ اسی وقت غفور نے بتایا کہ شام کی چائے تیار ہے۔ منہ ہاتھ دھو کر جب میں میز پر پہنچی، تو رقیہ بولیں : ’’دیکھو یہ بابا نے سموسے بنائے ہیں، بڑے مزیدار ہیں۔‘‘

میں نے بھی چکھا تو بڑے مزیدار لگے۔ تین چار کھا گئی۔ جب برتن اٹھانے بڑے میاں آئے، تو میں نے پوچھا: ’’بابا! کس چیز کے بنائے ہیں؟‘‘

’’یہ جناور (گوشت) کے ہیں۔‘‘ انھوں نے بڑی بے پروائی سے برتن اٹھاتے ہوئے کہا۔

’’جناور؟‘‘ رقیہ مجسم سوال بن گئی۔

’’جناور … جھینگر…‘‘ وہ بولے۔

’’جھینگر یعنی وہی کیڑے جو پھدکتے ہیں؟‘‘ یہ کہہ کر میرا برا حال ہوگیا۔

’’وہی، یہ ہمرے وطن کا کھانا ہے۔‘‘ بڑے میاں اطمینان سے برتن لے کر کمرے سے نکل گئے اور ہم دونوں بت بنے بیٹھے ایک دوسرے کو گھور رہے تھے۔ چند سیکنڈ بعد بڑے میاں ایک پلیٹ لے کر پھر آئے اور بڑے مزے سے بولے: ’’جھنگر تو ہم بھون کر کھالیں ہیں۔‘‘

دیکھا تو پلیٹ میں دس بارہ جھینگر مرے پڑے تھے اور قریب ہی بہت سے پر بھی موجود تھے۔ میں تو اچھل کر بھاگ کھڑی ہوئی۔ رقیہ جو گھبراہٹ میں پیچھے کھسکیں، تو کرسی لڑھک گئی اور وہ ایک قلا بازی کھا کر پھر اٹھ کھڑی ہوئیں۔ کئیاں کرتے کرتے ہم دونوں کا برا حال ہوگیا۔ غفور بدتمیز ہنسے جارہا تھا اور بابا صحن میں کھڑے حیرت سے ہمیں یوں تک رہے تھے جیسے کہہ رہے ہوں ’’عجب جناور ہو تم لوگ بھی ……‘‘

تھوڑی دیر بعد بابا بڑی مسکین شکل بنائے ہمارے پاس آئے اور بولے ’’بی بی! ہم چھٹی مانگتا۔‘‘

’’جائیے جائیے، چھٹی ہے۔‘‘ رقیہ نے ایسے لہجے میں کہا کہ مجھے بے اختیار ہنسی آگئی۔‘‘

’’میں رات کو آجاؤ ںگا۔‘‘ وہ بڑے اطمینان سے بولے۔ ’’اب جتنی عمر ہے اس گھر میں بتاؤں گا۔‘‘ بڑے میاں ہمارے سروں پر دست شفقت پھیرتے ہوئے چلے گئے۔

میں نے جل کر کہا’’خدا تم سے سمجھے! امی تو تمہیں ایک منٹ میں کان پکڑ کر نکال دیں گی۔‘‘

مغرب کے وقت سب گھر والے واپس آگئے۔ قدسیہ باجی کی منگنی کے لڈو آئے تھے، اس پر چھین جھپٹ ہوتی رہی۔ کھانے کے بعد ہم دونوں نے امی کو سارے دن کا قصہ سنایا۔ سب کا ہنسی کے مارے برا حال ہوگیا۔ ساڑھے دس بجے کے قریب جب ہم سب سونے جارہے تھے، تو دروازے پر دستک ہوئی۔ ’’بڑے میاں ہوں گے۔‘‘ میں نے سہم کر کہا۔

غفور باہر گیا، تو واپس آکر ابا جان سے بولا: ’’بابو جی! کوئی صاحب آئے ہیں، ان کے ساتھ سامان بھی ہے۔‘‘

’’ہائیں صاحب … سامان۔‘‘ امی بوکھلا گئیں۔

رقیہ بڑے درد بھرے لہجے میں بولیں ’’ایک آفت سے تو مر مر کر ہوا تھا جینا۔‘‘

اور میں نے جلدی سے شعر پورا کردیا : ’’دوسری پڑگئی اللہ نئی کیا…‘‘

باہر سے ابا جان کی آواز آئی۔ ’’ارے لڑکیو بھاگ کر آؤ، دیکھو جمی آیا ہے۔‘‘

’’جمی بھیا؟‘‘ میں چیخی اور ہم سب چیختے چلاتے ڈرائنگ روم کی طرف بھاگے۔ وہاں ہمارے پھوپھی زاد بھائی جمی بھیاکھڑے مسکرارہے تھے۔ ہم سب ان کے گرد جمع ہوگئے۔ امی بھی آئیں۔ بلائیں لی گئیں اور ڈھیر سارے پیار ہوئے۔ رقیہ نے بڑے پیار سے پوچھا’’جمی بھیا! آپ کیسے آئے؟‘‘

’’بھئی اسٹیشن سے ریل کا ٹکٹ کٹایا اور اس نے یہاں پہنچادیا۔‘‘ جمی بھیا سنجیدگی سے بولے۔

’’اچھا تو کیوں آئے ہو؟‘‘ آپی بولیں۔

’’بات یہ ہے جناب‘‘ انھوں نے ٹائی کی ناٹ کھولتے ہوئے کہا: ’’جب گیدڑ کی شامت آئے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے … یہی حال مجھ غریب کا ہوا۔‘‘

’’اچھا تو گیدڑ صاحب۔‘‘ میں نے انھیں دھکیل کر صوفے پر بٹھاتے ہوئے کہا ’’یہ بتائیے آپ ہم لوگوں کے لیے کیا لائے؟‘‘

’’چمگادڑ کے لیے کیا دھوپ کا چشمہ لاتا؟‘‘ وہ ہنس کر بولے۔ میں نے لپک کر پھلوں کی ٹوکری پر قبضہ جمایا اور ایک ایک سیب سب کی طرف اچھال دیا۔ پندرہ منٹ میں ٹوکری خالی تھی اور قالین پر ڈھیر سارا کوڑا جمع ہوچکا تھا۔

’’تائی‘‘ بھیا نے امی کو مخاطب کیا ’’میں سمجھا تھا یہ لوگ یہاں آکر کچھ انسان بن گئی ہوں گی مگر …… خیر چڑیا گھر تو قریب ہی ہے نا، کچھ پنجرے مخصوص کروانے ہیں۔‘‘

’’ہاں ہاں‘‘ میں نے ان کی جیب سے چاکلیٹ نکال کر منہ میں رکھتے ہوئے کہا …… ’’فکر نہ کیجیے، ایک مخصوص ہوچکا ہے، کل چلئے گا۔ داخلہ مل جائے گا۔‘‘

بھیا میری طرف لپکے اور میں بھاگ کر ڈرائنگ روم میں گھس گئی۔ بھیا چلا کر بولے۔

’’خیر ابھی تم کو بتاؤں گا کہ اصل ماجرا کیا ہے۔ ذرا کپڑے بدل آؤں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنی اٹیچی لیے غسل خانے کی طرف چل دئیے۔

میں کمرے میں آگئی۔ بھیا جو کتابیں لائے، اس پر سب قبضہ جمانے لگے۔ پانچ منٹ بعد دروازے پر پھر دستک ہوئی۔ ’’ارے اب کون ہے؟‘‘ رقیہ چلائی۔

ابا جان نے دروازہ کھول کر دیکھا، تو بولے ’’ایک بڑے میاں ہیں۔‘‘

’’ارے بابا!‘‘ میں چیخی۔

بابا اندر آکر کھڑے ہوئے۔ امی ان سے کہنے لگیں ’’جی دراصل یہ بچیوں نے غلطی سے آپ کو رکھ لیا، ہمیں ابھی باورچی کی ضرورت نہیں۔‘‘

انھوں نے سلام کرکے کہا: ’’حضور! بڑا غریب آدمی ہوں۔‘‘

دفعتاً میری نگاہ ان کی کلائی پر پڑی۔ سلام کرنے سے ان کے لبادے کی آستین ذرا ہٹ گئی تھی اور کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی جھانک رہی تھی۔ ’’ارے یہ تو جمی بھیا کی گھڑی ہے۔‘‘

یہ سوچ کر میں بداحواسی سے غسل خانے کو بھاگی۔ دروازے پر ہاتھ مارا، تو کھل گیا۔ غسل خانہ خالی پڑا تھا۔ باہر کھلنے والی کھڑکی کھلی پڑی تھی۔ میں پھر دیوانوں کی طرح بھاگتی ہوئی بابا کی طرف آئی۔ وہ جھک کر پیچھے ہٹے مگر میں نے ایک ہاتھ مارا تو بابا کی داڑھی اور مونچھیں دونوں میرے ہاتھ میں تھیں۔

’’ایں جمی!‘‘ امی اور ابا جان ایک ساتھ چیخے۔ آپی بھی بدحواس سی ہوگئیں۔ انھوں نے پگڑی پر ایک ہاتھ جو مارا تو بابا کی دو تھان کی پگڑی دور جا گری…

’’ارے یہ کیا بکواس ہے، جمی تم سارا دن ہمیں …… رقیہ نے تنک کر کہا۔

جمی بھیا نے بے تحاشا ہنستے ہوئے اپنا لبادہ اتار پھینکا۔ وہ اپنا مخصوص سونے کا لباس پہنے ہوئے تھے۔ سارا گھر بے تحاشا ہنس رہا تھا اور میں دم بخود کھڑے سوچ رہی تھی، ’’وہ بابا … سالن … گانا … جھینگر … جمی بھیا۔‘‘

دفعتاً جمی بھیا نے آگے بڑھ کر کہا ’’سرکار طبیعت کیسی ہے؟‘‘ ایک قہقہہ پڑا اور میں نے جل کر کہا ’’دھوکے باز کہیں کے۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
حسینہ معین

تبصرہ کیجیے