ازدواجی زندگی

رشتوں کا استحکام اور اسلامی ہدایات

ایک مرد اور عورت کی ازدواجی زندگی خاندان کی بنیاد ہے جس سے بہت سے رشتے وجود میں آتے ہیں۔ان رشتوں میں دور اور قریب کے اعزہ و اقارب شامل ہوتے ہیںجن کی باہمی رفاقت و محبت خاندان کو استحکام عطا کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک خاندانی استحکام انتہائی پسندیدہ ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’ائے رشتہ داری!جو تجھے جوڑے گامیں اس سے جڑوں گا اور جو تجھے کاٹے گا،میں اس سے کٹ جاؤں گا۔‘‘

غور کیا جائے تو اس میں ایک طرف عظیم بشارت ہے تو دوسری طرف شدید وعید بھی ہے اس لیے کہ جس کا اللہ تعالیٰ سے تعلق ہو جائے اس سے بڑا کوئی خوش قسمت نہیں اور جس سے اللہ تعالیٰ دور ہو جائے اس سے زیادہ کوئی بد بخت نہیں۔

موجودہ دور میں خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ رشتہ داریوں کو محض شوہر بیوی اور بچوں تک محدود کر دیا گیا ہے،مزید اگر کچھ صالحیت پائی جائے تو والدین کو بھی اس میں داخل کرلیا جاتا ہے اور بچوں کو دادی دادا کی معرفت کرا دی گئی۔باقی رہی پھوپھیاں ،چچا،چچی اور دیگر اعزہ و اقارب ،ان سے تعلق رکھنا اور ان کے حقوق کا پاس و لحاظ اپنی مصروف زندگی میں غیر ضروری اور لایعنی امر تصور کیا جانے لگا ہے جب کہ قرآن نے رشتوں کی اہمیت کو بہت ہی واضح لفظوں میں ذکر کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کر کے آگئے اور تمہارے ساتھ جد وجہد کرنے لگے وہ تم ہی میں شامل ہیں،مگر اللہ کی کتاب کے مطابق خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔یقینا اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔‘‘(الانفال:۷۵)

مہاجرین کے تعلق سے گفتگو کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے رشتوں کی اہمیت کو ان پر مقدم رکھا اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کی طرف متوجہ کیا۔مزید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتوں کے استحکام کے لیے صلہ رحمی کی تاکید کی چناں چہ انہوں نے فرمایا:

’’جو پسند کرتا ہے کہ اس کے رزق میں کشادگی ہو اور اس کی عمر میں اضافہ ہو تو اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔‘‘(مسلم)

خاندانی نظام کے ٹوٹ پھوٹ کے شکا رہونے اور آپسی تفرقے کی بنیاد عام طور پر مال و دولت کی حرص اور بخل ہوا کرتا ہے،رشتہ داروں سے توقعات زیادہ رکھی جاتی ہیںاور توقعات پوری نہیں ہوتیں تو باہمی رنجشیں اور بد گمانیاں پیدا ہوتی ہیں۔یہ توقعات کبھی مال ودولت کے لیے،کبھی عزت و مرتبہ کے لیے اور کبھی خدمت لینے کے لیے ہوتی ہیں۔ بیوی شوہر سے جس محبت اور ناز و نخرے اٹھائے جانے کی توقع رکھتی ہے وہ پورے نہیں ہوتیں تو شکایتیں شروع ہو جاتی ہیں،شوہر اپنی تکریم، خدمت اور جی حضوری کے لیے بے قرار ہوتا ہے تو کبھی بیٹیاں اپنے مائیکے والوں سے ڈھیروں تحائف کی خواہش مند ہوتی ہیں تاکہ سسرال میں ان کا سر اونچا ہو، لڑکے اپنے والدین سے کثیر دولت اور جائیداد کے امید وار ہوتے ہیں،والدین کا ہاتھ اگر خالی ہو تو انہیں بے پائیدہ اور بوجھ نظر آتے ہیں،ساس سسر بہو کی محبت و انسیت اور خدمت کے ارمان رکھتے ہیں،یہ اگر پورا نہ ہو تو ان پر مایوسی طاری ہونے لگتی ہے۔بہو سسرال میں اپنے شوہر کے علاوہ کسی کو اپنانے کے لیے تیار نہیں ہوتی اور محض مائیکے والوں کی دم بھرتی ہے۔دیورانی جٹھانی اور بہنیں مال و اسباب اور معیشت میں برابری کرتی نظر آتی ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کے لیے جئیں یا دوسرے ہمارے لیے جئیں؟ہم دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کس قدر کر رہے ہیں؟اس پر بھی غور کرنے کی کوشش کی جائے۔لوگوں سے لیتے رہنے کے بجائے دینے کے بارے میں سوچیں۔ارشاد نبوی ہے:

’’دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔‘‘(بخاری)

لوگوں سے نفع اٹھانے کے بجائے ان کو نفع پہنچانے کی کوشش کی جائے تو محبتیں پروان چڑھتی ہیں اور رشتوں میں استحکام پیدا ہوتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

’’لوگوں میں بہتر وہ ہے جو لوگوں کے لیے نفع بخش ہو۔‘‘

محترم نعیم صدیقی صاحب کا کہیںکہنا ہے کہ جب انسان کا دل زندہ ہوتا ہے تو وہ یہ سوچتا ہے کہ میرے اوپر کتنے فرائض تھے جو میں نے پورے کیے اور جس کا دل مردہ ہوتا ہے وہ یہ دیکھتا رہتا ہے کہ فلاں فلاں کے میرے اوپر کیا حقوق تھے اور اس نے کتنے ادا کیے۔

عورت کو شادی کے بعد دو طرح کے رشتے کو نبھانا ہوتا ہے ایک قدیم خونی رشتے ،دوسرے شوہر کے تعلق سے جدید سسرالی رشتے، لہذا نئی عمر اور والدین کے ناز و نعم میں پلی ہوئی لڑکی کے لیے دونوں رشتوں میں توازن برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ایسی صورت میں جہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ والدین اپنی بچیوں کے ذہن کو شادی سے قبل ہی سسرالی رشتوں کی محبت پاس و لحاظ سے مزین کر دیں،وہیں سسرالی نئے رشتے بھی اس کو اپنے گھر کی ایک فرد کی حیثیت سے خوش آمدید کہیں۔مزید اگر وہ بذات خود کما حقہ اسلامی تعلیمات سے آراستہ ہو تو وہ اپنی نئی زندگی میں ایک بہتر اور نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے اور ایک اچھی بیوی،اچھی بہو ،اچھی ماںاور آگے چل کر ایک اچھی ساس بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

رشتوں کے استحکام میں تقویٰ ،خدا ترسی اور نیکی اور صالحیت اور حسن و اخلاق کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔تقویٰ کی زندگی انسان کو ہر کام میں دوسروں سے بے نیاز کرتی ہے اور محض اللہ کی رضا کا پابند بناتی ہے، تقویٰ خدا ترسی پیدا کرتا ہے تو انسان نیکی کے راستے تلاش کرتا ہے اور اللہ کی ناراضگی سے بچتے ہوئے حق داروں کے حقوق کی ادائیگی کی فکر کرتا ہے اور قرآن مجید کے فرمان ’’ہم تم سے کوئی بدلہ اور شکریہ نہیں چاہتے‘‘کے مصداق بن کر اپنے حسن اخلاق کے ذریعے لوگوں کے دلوں کو جیتنے کی کوشش کرتا ہے،رشتہ داریوں کا پاس و لحاظ کرتا ہے،قطع رحمی سے گریز کرتا ہے ،ایک دوسرے کا احترام ،برداشت اور ان کی غلطیوں کو انگیز کرنے کی صفت پیدا کرتا ہے۔اخلاق کی بلندی ایثار وقربانی پر آمادہ کرتی ہے اور انسانی فطرت کو شرافت و سخاوت کا خوگر بناتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء:۲۸ میں فرمایا ’’اگر تم احسان اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔‘‘ایک حدیث میں آپؐ نے فرمایا’’تم یہ کہنے والے نہ بن جاؤ کہ اگر لوگ بھلائی کریںگے تو ہم بھی بھلائی کریں گے،اگر وہ ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے،بلکہ اپنے آپ کو اس بات پر آمادہ کرو کہ اگر لوگ بھلائی کریں گے تو تم بھلائی کرو گے اور اگر وہ برائی کریں گے تو تم ظلم نہیں کرو گے۔‘‘اس حدیث کی رو سے انسان کو اپنے اعتقاد اور اقوال و اعمال کو درست رکھنا چاہیے ،خواہ لوگوں کا رویہ برائی ہی پر مبنی ہو ۔شیخ ابن عثیمین کہتے ہیں کہ ہر پکارنے والے کے پیچھے چل پڑنا یہ مومنین کا شیوہ نہیں ہے بلکہ اس کی شخصیت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ شریعت کے تابع ہونی چاہیے حتیٰ کہ وہ تمام لوگوں کے لیے اسوہ بن جائے۔

شیئر کیجیے
Default image
ساجدہ ابو اللیث

تبصرہ کیجیے