2

ونی ریڈلے

ونی ریڈلے وہ برطانوی خاتون ہیں جو اس وقت اخباروں کی شہ سرخی بن گئیں جب ۲۸؍ ستمبر ۲۰۰۱ء کو خفیہ طورپر افغانستان میں داخل ہوتے وقت طالبان نے ان کو گرفتار کرلیا۔ ان کو ۱۰ دن بعد رہا کردیاگیا۔ لیکن قید کے ان ایام نے نہ صرف ان کی زندگی کی کایاپلٹ دی بلکہ دنیا اوراس کے مسائل کے بارے میں ان کی پوری فکر کو بھی تبدیل کردیا۔ رہائی پانے کے بعد انھوں نے اپنے پروٹسٹنٹ عیسائی مذہب کو چھوڑکر اسلام قبول کرلیا۔

افغانستان کی جیلوں میں ان کوکئی بار دعوت دی گئی کہ وہ اسلام قبول کرلیں ۔ انھوں نے یہ وعدہ کیا کہ رہاہوتے ہی قرآن ضرور پڑھیں گی۔ ونی ریڈلے کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر رہا کردیاگیا اور اب یہ ان کی باری تھی کہ وہ اپنے وعدے کو پورا کریں۔ رہائی کے بعد طلبہ کے ایک وفد سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: چونکہ مجھے قید میںرکھنے والوں نے میرے ساتھ ہمدردی اور عزت کا سلوک کیا ہے، اس لئے اس کے بدلے میں میں نے اپنے وعدے کا پاس رکھا اور ان کے مذہب کے مطالعے کا آغاز کردیا۔ اس طرح شروع ہونے والے روحانی سفر کی تکمیل بالآخر ۳۰؍ جون ۲۰۰۳ء کی صبح گیارہ بجے اسلام قبول کرکے ہوئی۔

ایک موقع پر قید کے دوران پیش آنے والے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے ونی ریڈلے نے کہا: ’’ایک وقت ایسا بھی آیا جب کابل کی جیل میں قید کے دوران میری قوت برداشت اس حد تک جواب دے گئی کہ میں نے اپنے قید کرنے والوں کے منھ پر تھوکا اور ان کو گالیاں دیں۔ مجھے اس کے بدلے میں ان سے بدترین جواب کی توقع تھی، لیکن ان لوگوں نے میرے اشتعال دلانے والے رویے کے باوجود مجھے بتایا کہ میں ان کی بہن اور مہمان ہوں‘‘۔

عراق میں قیدیوں پر امریکی اور برطانوی فوجیوں کے ناقابل بیان مظالم کے پس منظر میں ونی ریڈلے کی داستان نہایت اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ اس میں دو مختلف تہذیبوں کی حقیقی تصویر آئینے کی طرح صاف نظر آتی ہے۔ ایک وہ جو آزادی، انسانی حقوق اور خواتین کے مقام کی عالمی ٹھیکیدار بنی ہوئی ہے لیکن قیدیوں کے ساتھ اس کا سلوک وحشیوں کو بھی شرماتا ہے اور دوسری وہ جس پر وہ دہشت گردی، حقوق نہ دینے اور خواتین کو پسماندہ رکھنے کا الزام ہے لیکن اس کا سلوک ایک جدید تعلیم یافتہ خاتون کے دل کو جیت لیتا ہے۔ آج طالبان کا نام گالی بنا دیاگیا ہے لیکن اسلام کی تعلیمات پر عمل میں جو کشش بلکہ جادو ہے وہ سرچڑھ کر بولتا ہے۔

ونی ریڈلے ۲۰۰۱ء کے بعد دو کتابیں لکھ چکی ہیں اور بقول ان کے ’’اس واقعے نے میری صحافتی زندگی کے دائرہ کار کو ریڈیو اور ٹیلی ویژن تک بڑھادیا ہے‘‘۔ ان کی ایک کتاب InThe Hands of Taliban طالبان کے ساتھ ان کے تجربات کی روداد پر مشتمل ہے ، جبکہ دوسری کتاب Ticket to Paradise ایک ناول کے طرز پر ہے۔

سعودی عرب کی وزارت حج کے خوبصورت اور وقیع عربی انگریزی مجلے ’الحج والعمرۃ (جون ۲۰۰۴ء) میں ان کا درج ذیل خصوصی ای میل انٹرویو شائع ہوا تھا۔ یہ انٹرویو عمر سمان نے مرتب کیا اور نور اسلم خان نے اسے اردو میں منتقل کیا اور یہ ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ لاہور کے شمارہ جون ۲۰۰۴ء میں شائع ہوا۔ تینوں کے شکریہ کے ساتھ یہاں پیش کیا جارہا ہے:

س:اسلام قبول کرنے کے سے پہلے آپ اس مذہب کے بارے میں کس قدر جانتی تھیں؟

ج:میں اسلام کے بارے میں بہت کم جانتی تھی اور جو کچھ جانتی تھی، وہ مسخ شدہ اور گمراہ کن معلومات کے سوا کچھ نہ تھا۔

س:اسلام میں خواتین کے حقو ق کے بارے میں آپ کی ذاتی رائے کیاہے؟

ج:قرآن اس بات کو انتہائی صراحت کے ساتھ بیان کرتا ہے کہ دین سے تعلق ، فرد کی اہمیت اور تعلیم کے حوالے سے مرد وخواتین برابر ہیں۔ مزید یہ کہ بچوں کی پیدائش اور ان کی پرورش کی ذمہ داری کے حوالے سے بھی ہمیں سراہا گیا ہے ۔ میرے خیال میں تو یہ ہمیں انسانیت کی معراج پر پہنچا دیتا ہے۔

س:آپگیارہ ستمبر کے بعد پہلی فرصت میں افغانستان کیوں گئی تھیں؟

ج:میں دراصل ان لوگوں سے بات کرنا چاہتی تھی، جنہیں امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے جنگ کرنے کے فیصلے سے براہ راست متاثر ہونا تھا۔ میں ان کے احساسات کے بارے میں جانناچاہتی تھی۔ میں یہ جاننا چاہتی تھی کہ وہ ۱۱؍ ستمبر کے حوالے سے کیا کہتے ہیں اور طالبان کی حکومت کے تحت وہ کس طرح زندگی گزار رہے ہیں۔

س:آپ نے جب اسلام قبول کرنے کاارادہ کیا تو اس وقت آپ کے خاندان اور بالخصوص بیٹی ڈیسی کے تاثر ات کیا تھے؟

ج:اس حوالے سے میرے خاندان کے ملے جلے تاثرات تھے۔ میری ماں نے پھر سے چرچ جانا شروع کردیا، جبکہ میری بیٹی، ڈیسی، میری سب سے بڑھ کر معاون بن گئی۔

س:آپ کیا سمجھتی ہیں کہ معاشرہ آپ کو کس نظر سے دیکھ رہا ہے؟ ایک بہادر خاتون یا ایک ایسا فرد جس نے اپنے مذہب سے بے وفائی کی؟

ج:مجھے عیسائی بنیاد پرستوں کی طرف سے قتل کی دھمکیاں مل چکی ہیں کہ میں نے اپنے مذہب سے غداری کی ہے ۔ لیکن میرے مسلمان بھائی ، جو پہلے دن سے ہی میرے مددگار چلے آرہے ہیں ، اس کا جواب دے کر اس کا اثرزائل کردیتے ہیں۔

س:آپ اپنی بیٹی کو بھی افغانستان لے کر گئیں۔ آپ نے ایسا فیصلہ کیوں کیا اور خوداس کے تاثرات کیا ہیں؟

ج:میں ۲۰۰۲ء کے موسم بہار میں اپنی بیٹی کو افغانستان اس لئے لے کر گئی تھی تاکہ وہ اس بات کااپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرسکے کہ افغان ، انسانوں کی وہ نسل ہیں جن کے دل ہمدردی کے خوبصورت جذبوں سے سرشار ہیں۔ یہ ایک ایسا خوشگوار تجربہ ہے جو ہمیشہ اس کے دل میں تازہ رہے گا۔ اوریہ یقینا ڈزنی لینڈ دیکھنے کے تجربے پر غالب رہے گا۔

س:آپ نے ماضی قریب میں افغانستان کادورہ کیا۔ وہاں جاکر آپ نے کیا دیکھا؟

ج:میں رہائی کے بعد کئی بار افغانستان آچکی ہوں۔ جو کچھ مجھے نظر آیا وہ یہ ہے کہ پورا ملک ایک ایسا کھنڈر بن چکا ہے جس پر حکومت کرنے والے شخص کو کابل کا میئر کہا جاتا ہے،کیونکہ حامد کرزئی کابل سے باہر باقی ماندہ ملک پر کوئی گرفت نہیں رکھتے۔ امریکی فوجیوں نے افغان عوام کے دل ودماغ جیتنے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ ان کا رویہ افغان عوام کے ساتھ توہین آمیز ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب تک کسی نے بھی ان کو خوش آمدید نہیں کہا۔

افغانستان میں امریکی فوجی قیام امن کے بجائے دنیابھر کے مسلمان جنگجوئوں کے لئے ایسا مرکز توجہ بن گئے ہیں کہ وہ گروہ درگروہ افغانستان آئیں اور ان کو قتل کردیں۔

افغانستان کے اندر خواتین کو مسلسل مصیبتوں کا سامنا کرناپڑ رہا ہے۔ ان حالات میں پیشہ ور خواتین کس طرح تیار ہوں۔ امریکہ قوموں کو آزادی دلانے والا نہیں بلکہ استعماری ، ظالم وجابر ملک ہے۔ ثبوت درکار ہو تو افغانستان جاکر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔

س:اسلام قبول کرنے کے بعد آپ میں کیا تبدیلی آئی؟

ج:میرا یہ عزم پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوگیا ہے کہ جدھر بھی جائوں، اسلام کو پھیلائوں، مذہب تبدیل کروانا میرا کام نہیں۔ میں اس حیرت زدہ کردینے والے مذہب کے حوالے سے لوگوں کی جہالت اور تعصب کی آگ بجھانا چاہتی ہوں۔

س:اسلام کی کس خوبی نے آپ کو سب سے زیادہ متاثر کیا؟

ج:جس طرح یہ خواتین کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ سلوک کی جو اعلیٰ مثالیں قائم کی ہیں یقینا وہ خواتین کا سب سے برھ کر احترام کرنے والے اور ان کی صلاحیتوں اور خوبیوں کی حوصلہ افزائی کرنے والے تھے۔

س:آپ طالبان کے کابل کے قید خانے کا گوانٹاناموبے ایکسرے کیمپ سے کس طرح موازنہ کرتی ہیں؟

ج:میں لوگوں کو بتاتی رہتی ہوں کہ میں اس حوالے سے بہت خوش قسمت واقع ہوئی ہوں کہ مجھے امریکہ کے بجائے ’’روئے زمین کے سب سے زیادہ وحشی لوگوں ‘‘ کی قید میں رہنے کا موقع ملا۔

مجھے مسلسل چھ دن تک ایک ایئر کنڈیشن کمرے میں رکھا گیا جس کی چابی تک مجھے دے دی گئی۔ میرے ساتھ ہمدردی اور احترام کا سلوک کیاگیا۔ مجھے ذہنی یا جسمانی طور پر ہراساں کرنے، کسی قسم کی تعذیب دینے یا حملہ کرنے کی کوئی کوشش نہیں ہوئی۔ گو کہ کچھ سوال جواب ضرور ہوئے۔ وہ مجھے مسلسل یہ بتاتے رہے کہ وہ مجھے خوش رکھناچاہتے ہیں اوریہ کہ میں ان کی بہن اور مہمان ہوں۔

س:جیل میں رہتے ہوئے آپ کے احساسات اور خدشات کیا تھے؟

ج:ان کی سب مہربانیوں کے باوجود میں سوچتی رہی کہ اس وقت تو اچھا برتائو کر رہے ہیں لیکن کسی بھی وقت کچھ برے لوگ آکر مجھے ایذا دینا شروع کردیں گے ۔ میں ہر روز یہ سوچتی کہ آج مرنے والی ہوں، لیکن یہ سب میرے محض خیالات ثابت ہوئے۔ اس کے باوجود کہ میرا رویہ ان کے ساتھ کافی تضحیک آمیز تھا، انھوں نے میرے ساتھ ہمدردی اور مہربانی کا سلوک ہی جاری رکھا۔

س:کیا آپ کو امید تھی کہ آپ زندہ سلامت باہرنکل آئیں گی؟

ج:نہیں: بالکل نہیں۔ مجھے یقین تھا کہ میں ماری جائوں گی۔ بالخصو ص ۱۷؍اکتوبر ۲۰۰۱ء کو جب میں کابل کی جیل میں تھی اور امریکہ نے بم برسانے شروع کردیئے تھے۔ ایک لمحہ تو ایسا بھی آیا کہ میں نے سمجھا کہ اب اگر طالبان مجھے قتل نہیں کریں گے تو امریکہ یا برطانیہ کا کوئی بم یہ کام کردے گا۔

س:طالبان کو میڈیا میں دہشت گرد کے طور پر دکھایا جاتا ہے اورایک آپ ہیں کہ جس نے ان سے رہائی پانے کے بعدان کے مذہب کو گلے سے لگا لیا۔ یہاں ایک تضاد پایا جاتا ہے ۔ آپ اس کے بارے میں کیا محسوس کرتی ہیں؟

ج:میں اب بھی خواتین کے حقوق کی بڑی علمبردار ہوں۔ اگر طالبان نے مجھے اسلام قبول کرنے پر قائل کرلیا ، تو یہ ان کی اپنی ایک کامیابی تھی۔ میں طالبان کی کوئی بڑی مداح نہیں ہوں لیکن ٹونی بلیئر اور جارج ڈبلیو بش نے ان کی سب خوبیوں کے باوجود انہیں ایک بہت بڑی برائی کے طور پر پیش کیا۔

س:کیا آپ اب اسلام اور مسلمانوں کے متعلق پھیلائے گئے افسانے اور حقیقت میںفرق کرسکتی ہیں؟

ج:یہ تو بہت آسان بات ہے۔ اسلام ایک مکمل اور جامع دین ہے،جبکہ اس پر عمل کرنے والے ایسے نہیں۔

س:کیا آپ مسلمانوں کے حوالے سے میڈیا کا رویہ انصاف پر مبنی پاتی ہیں؟

ج:مسلمانوں کے حوالے سے مغربی میڈیا کارویہ منصفانہ نہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ غلط فہمی پر مبنی ایک راسخ فکر، مسخ شدہ معلومات اور لاعلمی کے ساتھ ساتھ سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے اسلام کو بدنام کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش بھی ہے۔

س:کیااسلام لانے سے قبل اس حوالے سے آپ کا رویہ منصفانہ تھا؟

ج:مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے کبھی اس موضوع پر کچھ لکھاہو۔

س:آج مغرب دہشت گردی کی جو تعریف کر رہاہے ،اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

ج:جی ہاں، جس طرح کہ جارج ڈبلیو بش نے کہا تھاکہ اگر تم اس کے ساتھ نہیں تو دہشت گردوں کے ساتھی ہو۔ ذاتی طور پر میرایہ خیال ہے کہ اب اس لفظ کے استعمال پر پابندی لگنی چاہئے، اس لئے کہ یہ بے معنی ہوچکاہے ۔ مارگریٹ تھیچر (سابق برطانوی وزیراعظم) نے ایک دفعہ نیلسن منڈیلا کو بھی دہشت گرد کہاتھا لیکن آج اس کی حیثیت ایک عظیم قائد کی ہے۔

س:آپ دہشت گردی کی تعریف کس طرح کرتی ہیں؟

ج:دہشت گرد وہ ہے جو معصوم لوگوں کو بموں سے اڑاتا ہے اور عام آبادی کو خوفزدہ کرتا ہے۔ میں نے یہ سب کچھ افغانستان، عراق اور فلسطین میں ہوتے دیکھاہے اور اسی کو ریاستی دہشت گردی کہتے ہیں ۔ جیسا کہ میں نے حال ہی میںکہا ہے کہ میں نے لاکر بی کے ملبے سے بچوں اور خواتین کی لاشوں کو اس وقت بھی نکالتے ہوئے دیکھا ہے جب اسکاٹ لینڈ کے ایک سرحدی گائوں کے اوپر پان امریکن ۱۰۳ کا جمبو جیٹ طیارہ پھٹ گیا تھا۔ میں نے نین (فلسطین) کے ملبے سے بچوں اور عورتوں کی لاشوں کو نکالتے ہوئے دیکھا ہے اور یہی سب کچھ جنوبی افغانستان اور عراق میں بھی دیکھ رہی ہوں۔

مجھے یہ سب لاشیں ایک جیسی لگتی ہیں۔ آپ انسانی زندگی کی کوئی قیمت نہیں لگا سکتے، حالانکہ امریکی یہی کرتے ہیں ۔ ایک امریکی کی زندگی کی قیمت تو لاکھوں ڈالر میںلگائی جاتی ہے جبکہ ایک عرب مسلمانوں کی زندگی اس کے مقابلے میں کوئی قیمت نہیں رکھتی!

س:آپ کے خیال میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کس سمت میں جارہی ہے؟

ج:دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی یہ جنگ نہ ختم ہونے والی جنگ بن چکی ہے کیونکہ اب اس کو ایریل شیرون اور ولادی میر پوتن جیسے لوگوں نے فلسطینی اور چیچن عوام کو کچلنے کے لئے یرغمال بنالیاہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس کا رخ اب امریکہ کی طرف پھر رہا ہے اور یہ خود جارج ڈبلیو بش کے لئے ڈرائوناخواب بن جائے گی۔ میں سوچتی ہوں کہ اس کاانجام بھی اس کے آغاز ہی جیسا ہوگا۔ ۱۱؍ستمبر کی طرح ایک بہت بڑی تباہی!

س:اس نازک صورتحال میں مسلمانوں کی حکمت عملی کیا ہونی چاہئے؟

ج:ان کو گردن اٹھاکر چلنا چاہئے اور اس بات پر فخر محسوس کرناچاہئے کہ وہ کون ہیں۔ ان رویوں کو بالکل برداشت نہ کیا جائے جو اسلام کے خلاف ہیں۔

س:سی آئی اے آپ کو قتل کرناچاہتی تھی، آپ نے کوشش کی کہ اس پورے معاملے کی چھان بین ہو۔ کیاآپ اب تک اس بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت لانے میں کامیاب ہوسکی ہیں؟ کیااس حوالے سے لاحق خوف ختم ہوچکا ہے؟

ج:سی آئی اے نے میرے وکیل کو میرے بارے میں بنی ہوئی فائل دینے سے انکار کردیا۔ میں نے ذاتی طور پر اس معاملے کونظرانداز کرکے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ چونکہ میں ان کے ڈرامے میں رنگ بھرنے والی مطلوب کردار تھی، اس لئے امریکی یہی چاہتے تھے کہ جنگ کی مخالفت میں اٹھنے والی پوری تحریک سے توجہ ہٹانے کے لئے متوسط طبقے کی ایک شریف ، سفید فام ، مظلوم شہری ، ایک ذاتی جنگ کاآغاز کرے۔ میں کسی سے نہیں ڈرتی ، مجھے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کاخوف نہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر عبدالغنی فاروق

تبصرہ کیجیے