BOOST

ہلدی فوائد کاخزانہ

ہلدی دنیابھر خصوصاً مشرقی ممالک میں بطور مسالہ سالن میں استعمال ہوتی ہے۔ یونانی حکماء نے صدیوں پہلے اس مفید جڑ پرتحقیق کی تھی۔ ان کی تجربہ کار نگاہوں نے اسے پروٹین اور فولاد سے مالا مال پایا، تو خون کی کمی دور کرنے کے لئے اسے بطور دواستعمال کرنے لگے۔ ہمارے جسم میں فولاد ایک ضروری عنصر ہے۔ ہیموگلوبن جو آکسیجن سے مل کر ہمارے پھیپھڑوں کی صفائی کرتا ہے،اس کا بنیادی جزو فولاد ہی ہے۔ انہی خواص کی بناپر پرانے اطباء ہلدی جیسی سستی مگر سونے سے زیادہ قیمتی لحمیاتی دوا کو روزمرہ کے پکوانوں میں شامل کرنے کی ہدایت کی اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

تازہ ہلدی بدمزہ اور بدبودار ہوتی ہے لیکن چار ماہ گزرنے کے بعد کھانے کے لائق بن جاتی ہے۔ سب سے عمدہ ہلدی اس جڑ سے بنتی ہے جو نہ تو بہت پرانی ہو اور نہ ہی بالکل تازہ۔ ہلدی کا مزاج خشک اور گرم ہے۔ بطور دوا مقررہ حد خوراک تین سے سات ماشہ تک ہے۔ اگر زیادہ استعمال کی جائے تو دل و جگر کو نقصان دیتی ہے۔ اگر اس سے نقصان کا احتمال ہو، تو اس کا مصلح کاغذی لیموں ہے اور بعض اطباء کے نزدیک ہینگ بھی۔

اس کے مفصل کیمیائی تجزیے کے مطابق اس میں یہ اجزا موجود ہوتے ہیں۔

رطوبت ۱ء۱۳ فیصد

پروٹین ۳ء ۶ فیصد

چکنائی ۱ء۵ فیصد

معدنیات ۵ء۳ فیصد

ریشہ ۶ء۲ فیصد اور

کاربوہائیڈریٹس ۴ء۶۹ فیصد

اس کے علاوہ معدنی اور حیاتینی اجزاء میں کیلشیم، فاسفورس ، لوہا، کیروٹین ، تھایا مین اور نایامین شامل ہیں۔ ایک سو گرام ہلدی کی غدائی صلاحیت ۳۴۹ کیلوریز ہے۔ ہلدی سے نباتاتی تیل بھی بنتا ہے۔

طبی فوائد اور استعمال

ہلدی کے پودے میں بہت سی طبی خوبیاں ہیں۔ اس کی جڑیں خوشبودار ، محرک اور مقوی ہوتی ہیں۔ بلغم اور ریاح کو خارج کرنے میں معاون ہیں۔ ہلدی غذا کو جزوبدن بنانے والے نظام کی اصلاح میں مؤثر ہے۔ یہ ہسٹریا اور تشنج کے دوروں کو روکتی ہے۔

٭زکام

جب بار بار چھینکیں آئیں ، زکام کا زور ہو اور ساتھ بخار بھی ہوجائے تو ایک پائونیم گرم دودھ میں پسی ہوئی ہلدی اور کالی مرچ دودو ماشے ملاکر پینے سے ایک دو دن میں آرام آجاتا ہے۔

٭جب زکام شروع ہونے کے آثار ہوں تو تھوڑے سے جلتے ہوئے کوئلوں پر ہلدی چھڑک کر ، اس پر قیف اوندھی کرکے اس کا دھواں ناک میں پہنچانے سے زکام نہیں ہوتا۔ ہوجائے تو اسی طریقے سے اس کا علاج ہوسکتا ہے۔ ریشہ بہنے کا عمل تیز ہوجاتا ہے اور پھر مزید اخراج نہیں ہوتا۔ (یادرہے کہ قیف استعمال کرنے سے دھواں ادھر ادھر پھیل کر ضائع نہیں ہوپاتا)

٭ اگر ریشہ گاڑھا ہو کر جم جائے تو سر میں بڑا شدید درد ہونے لگتا ہے ۔ ذرا سا سر ہلائیں تو سخت درد ہوتا ہے۔ اس عالم میں بھی کوئلوں پر ہلدی ڈال کے اس کا دھواں لینا مفید ہے۔ اس سے جمی ہوئی رطوبت باہر نکل آئے گی اور سرفوراً ہلکا ہوجائے گا۔

چوٹ

چوٹ خواہ اندرونی ہو یا بیرونی ، ہلدی اس کا بہترین علاج ہے۔ دونوں صورتوں میں ایک پیالہ نیم گرم دودھ میں آدھی چمچی پسی ہوئی ہلدی ڈال کر مریض کو پلا دیں۔

بیرونی استعمال کے لئے توے پر ذرا ساگھی گرم کریں اوراس میں آدھی چمچی ہلدی اور تھوڑاسا نمک ڈال کر کڑکڑائیں۔ اس کڑکڑاتے گھی کے اوپر روئی کی موٹی تہہ رکھیں۔ بعد کو قابل برداشت گرم ہونے پر روئی چوٹ والی جگہ پر باندھ دیں ۔ دو تین دن تک صبح شام روئی رکھنے سے درد اور سوجن میں خاطرخواہ افاقہ ہوگا۔

موچ

موچ یا اس کی وجہ سے ہونے والی سوجن میں لیموں کے پانی اورنمک کے ساتھ ہلدی کا سفوف ، بیرونی طور پر استعمال کرنا مفید ہے۔

دانت درد

ہلدی کو آگ پر بھون کر باریک پیس لیں اور اسے منجن کے طور پر دکھتی ہوئی ڈاڑھوں اور دانتوں پر استعمال کریں ۔ درد میں افاقہ ہوگا۔

انتڑیوں کی بیماریاں

انتڑیوں کے جراثیم ہلاک کرنے میں ہلدی بہت مؤثر ہے ۔ ہلدی کی جڑوں کا رس یا سفوف سادہ پانی یا لسی میں ملاکر پینے سے انتڑیوں کی بیماریوں خصوصاً پرانے اسہال کا شافی علاج ہوتا ہے۔ یہ دوا ریاح بھی خارج کرتی اور گیس بننے کا عمل روکتی ہے۔

پیٹ کے کیڑے

کچی ہلدی کا رس بیس قطرے ایک چٹکی نمک کے ساتھ نہار منھ پینے سے پیٹ کے کیڑے ختم ہوجاتے ہیں۔

خون کی کمی

ہلدی پر فولا دکا ذخیرہ ہے۔ کچی ہلدی کا رس ایک چمچی اور شہد ایک چمچی روزانہ پینا خون کی کمی دور کرنے کا آزمودہ نسخہ ہے۔

خسرہ

ہلدی خسرے کا بھی عمدہ علاج ہے۔ اس کی جڑیں دھوپ میں خشک کرکے ان کا باریک سفوف بنالیں۔ اس میں پیٹھے کے پتوں کا رس ملاکر اور شہد سے میٹھا کرکے دینا مریض کو شفا دیتا ہے۔

دمہ

بلغمی دمے میں ہلدی بطورعلاج زمانہ قدیم سے رائج ہے۔ ایک چھوٹی چمچی ہلدی کاسفوف ، ایک پیالہ دودھ کے ساتھ دن میں دو یا تین بار پلانا اکسیر ہے۔ خالی پیٹ پینا زیادہ بہتر ہے۔

بچوں کا نزلہ زکام

بچوں کے نزلہ زکام کے لئے ہلدی اور اجوائن ملاکر دیتے ہیں۔ ایک چمچی سفوف ہلدی اور چوتھائی چمچی اجوائن ابلتے پانی میں ڈالیں۔ ٹھنڈا ہونے پر شہد سے میٹھاکرکے دن میں تین بار آدھی پیالی پلانا نزلے زکام سے چھٹکارا دلاتا ہے۔

یرقان

ہلدی کا سفوف بقدر ایک چمچی لیں اور ایک پائو دہی میں ملاکر ، مریض کو اندھیری جگہ پر لٹاکر کھلائیں۔ چند روز میں انشاء اللہ افاقہ ہوگا۔ اندھیری جگہ کی پابندی اس لئے ہے کہ دہی کی عجیب رنگت کے باعث شاید مریض اسے نہ کھائے ، تاریکی میں اسے کچھ پتہ نہیں چلے گا۔

برص

برص کے داغ مٹانے کے لئے ہلدی کا تیل لاجواب ہے۔ تاہم یہ طویل مدتی علاج ہے۔ تیل بنانے کے دو طریقے ہیں۔ پہلایہ کہ ثابت ہلدی آدھا کلو کوٹ کر آٹھ کلو پانی میں بھگودیں اور رات بھربھیگا رہنے دیں ۔ صبح اس برتن کو آگ پر چڑھادیں ۔ آٹھ کلو پانی جب ایک کلو رہ جائے تو اس میں آدھا کلو سرسوں کا تیل ملاکر دوبارہ پکائیں۔ تمام پانی جل جانے پر جب تیل رہ جائے تو اسے اتار لیں۔ ٹھنڈاہونے پر چھان لیں، شیشی میں محفوظ کرلیں اور داغوں میں دن میں تین مرتبہ لگائیں۔

٭… ہلدی کو نہایت باریک پیس کر شہد میں ملادیں۔ شہد کاخالص ہونا شرط ہے۔ روزانہ صبح و شام اسے برص کے داغوں پر لیپ کریں۔ یہ بھی مفید ہے۔

زخم دور کرنے والا کراماتی سفوف

چولہے کی سرخ مٹی اور ہلدی ہم وزن لے کر باریک پیس لیں۔ بس دوا تیار ہے۔ زخم خواہ کیسا ہی ہو، اسے سرسوں کے تیل میں ملاکر لگائیں۔ تیل بس اتنا ملانا ہے کہ مرہم سی بن جائے۔ یا پہلے زخم پر تیل چپڑلیں اور اوپر سے سفوف چھڑک دیں۔ اس کے بعد کسی اور مرہم کی ضرورت نہیں رہے گی اور زخم ٹھیک ہونے لگے گا۔

٭ ۱۵ گرام ہلدی ایک کلو پانی میں ابال لیں۔ اس پانی کو چھان کر اس سے زخم دھویا جائے، تو وہ خراب نہیں ہونے پاتا بلکہ بہت جلد بھرجاتا ہے۔

بچھو کا زہر

جسم کے جس مقام پر بچھو نے کاٹا ہووہاں ہلدی کی دھونی دیں اور ہلدی کا سفوف متاثرہ مقام پر لگائیں۔ امید ہے کہ تکلیف ختم ہوجائے گی۔

افیون کا تریاق

اگر غلطی سے (کیونکہ افیون یونانی دوائوں کا اہم عنصر ہے) افیون کی زیادہ مقدار کھانے سے زہر سرایت کرجائے تو ہلدی پانی میں گھول کر پلادیں ، فوراً فائدہ ہوگا۔

پھوڑے پھنسیاں

پھوڑوںپر ہلدی کاسفوف لگانے سے وہ ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ نئے پھوڑوں کی صورت میں ہلدی کی خشک جڑیں بھون کر ان کی راکھ ایک پیالہ پانی میں ملاکر متاثر جلد پر لگانامفید ہے۔ اس سے پھوڑے پک کر جلد پھٹ جاتے ہیں۔

امراض جلد

جلد کے امراض مثلاً داد، فنگس کی چھوت اور ترخارش (جو گھاس کے کیڑوں سے لاحق ہوتی ہے) میں بہت کارگر ہے۔ ان میں سے کسی بھی بیماری میں کچی ہلدی کا رس جلد کے متاثر حصے پر لگانا مؤثر ہے۔ بیرونی استعمال کے ساتھ ہلدی کا رس شہد کے ساتھ ملاکر پینا زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔

آشوب چشم

دکھتی آنکھوں میں ہلدی کا سفوف استعمال کرنا بڑا نسخہ ہے۔ چھ گرام سفوف کو آدھالیٹر پانی میں اس وقت تک ابالیں کہ پانی آدھارہ جائے۔ یہ پانی چند قطرے آنکھوں میں ڈالنا آشوب چشم میں افاقہ دیتا ہے۔ دن میں تین سے چار بار یہ پانی آنکھوں میں ڈالنا مناسب ہے۔ ایک دو دن میں آرام آجاتا ہے۔

حسن وصحت

ہلدی اور گندم کا آٹا ہم وزن ملائیے۔ اس مرکب کو گائے کے تازہ اور کچے دودھ میں ملاکر چہرے پر ملنے سے رنگ صاف، چھائیاں اور داغ دور ہوتے ہیں۔

٭ باریک کپڑے سے چھان کر حاصل کی گئی ہلدی کو گائے کے کچے دوچھ میں ملاکر ابٹن کی طرح جسم پر ملتے رہنے سے ہر قسم کے سیاہ وسفیدداغ دور ہوتے ہیں۔ کیل مہاسے ، چھائیاں جھریاں دور ہوکر جلد نرم وملائم اور خوبصورت ہوتی ہے۔

٭ہلدی کے ساتھ ہم وزن بیسن اور سنگترے کے پسے ہوئے خشک چھلکے ملاکر عمدہ ابٹن تیار کیا جاتا ہے۔

٭ ہلدی اور تل ہم وزن لے کر باریک پیس لیں اور معمولی سا پانی شامل کرکے رات کو سوتے وقت منھ پرمل کر سوجائیں۔ صبح اٹھ کر اچھی طرح صابن سے منھ دھولیں۔ چندروز کے استعمال سے چھائیاں غائب ہوجائیں گی۔

شیئر کیجیے
Default image
فرحت افزا

تبصرہ کیجیے