6

صفائی آدھا ایمان ہے! آسان مشوروں پر عمل کیجئے اور امراض کو دور رکھئے

یہ حقیقت ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ جب ہم کسی سے ملیں ، تو سب سے پہلے اس کی ظاہری شخصیت کا جائزہ لیتے ہیں۔ ایک صاف ستھرا انسان یقینا اپنی شخصیت کااچھا تاثر چھوڑتاہے۔ جسمانی صفائی کے لئے مندرجہ ذیل باتیں بہت اہم ہیں جو بظاہر معمولی ہیں مگر ان پر عمل کرکے ہم کئی بیماریوں سے محفوط رہ سکتے ہیں۔

ہمارے ہاتھ

ان کے ذریعے ہم کھاتے پیتے اور سب سے زیادہ کام لیتے ہیں۔ انہی کے ذریعے ہم اپنے جسم کے دوسرے حصوں کو صاف ستھرا رکھتے ہیں۔ ہاتھوں کو کب دھونا چاہئے؟

٭صبح سویرے اٹھتے ہی٭ کچھ کھانے سے پہلے٭ رفع حاجت کے بعد ٭ بچے یا کسی دوسرے کو کھانا کھلانے سے پہلے٭ گھر کی صفائی کرنے اور کوڑا کرکٹ پھینکنے کے بعد٭بچوںکو نہلانے دھلانے یا ان کاپیشاب پاخانہ صاف کرنے کے بعد٭جانوروں کو صاف کرنے یا چارہ ڈالنے کے بعد٭ریت مٹی یا گارے سے کوئی کام کرنے کے بعد۔

ہاتھوں سے ہم کئی کام لیتے ہیں ۔ کچھ کام نہ بھی لیں تب بھی کچھ دیر میں ہاتھوں کے اوپر میل اور گندگی جمنے لگتی ہے جو بعض مرتبہ نظر نہیں آتی ۔ ثبوت یہ ہے کہ اگر بظاہر صاف ہاتھوں کو آپ دوگھنٹوں کے بعد اچھی طرح صابن لگا کسی بھی برتن یا بیسن میں دھوئیں، تو ہاتھوں سے میل کچیل اتر کر پانی میں نظر آئے گی۔ اس لئے وقتاً فوقتاً ہاتھ صابن سے دھوتے رہئے۔

ہاتھ دھونے کا صحیح طریقہ

سب سے پہلے ہاتھوں کو پانی سے گیلاکریں، اس کے بعداچھی طرح صابن لگائیں اوردونوں ہاتھوں کو ملیں۔ جھاگ بنائیں اور صاف پانی سے دھو ڈالیں۔ ہاتھ دھوتے وقت ناخنوں کو مت بھولیں اور اندر سے میل ضرورنکالیں۔ ورنہ ان میں گندگی پھنسی رہے گی۔ اس مقصد کے لئے دانت صاف کرنے والا پرانا برش استعمال کیاجاسکتاہے۔

ایک مرتبہ دھونے کے بعد اگر جھاگ بہت میلا ہو ،تو دوبارہ صابن لگاکر ہاتھ دھوئیں۔ ہاتھ دھونے کے بعد بہتر ہے کہ انہیں ہوا میں خشک ہونے دیں۔ خاص طور پر کھانا کھانے سے پہلے ہاتھوں کو کسی کپڑے سے نہ پونچھئے کیونکہ کپڑے پر لگا میل انھیں دوبارہ گندا کرسکتا ہے۔

ہماراچہرہ

ہاتھوں کے بعد جسم کا سب سے اہم حصہ چہرہ ہے۔ اسے بھی دن میں دو تین بار پانی سے دھوناچاہئے اور کم از کم دو مرتبہ صابن لگائیے۔ چہرے کو اچھی طرح مل کر دھوئیے تاکہ ساری میل اتر جائے۔ یہی میل بعد کو دانے پیدا کرتی ہے۔

دانت ضرور صاف کریں

دانتوں کو صاف رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ گندے دانت ہمارانظام ہضم تباہ کرسکتے ہیں۔ دانت صاف کرنے کا سب سے اہم وقت رات کو سونے سے پہلے ہے۔ اگر رات کو دانتوں میں کھانا لگا رہے گیا تو یہ رات بھر آپ کے دانتوں کو خراب کرتا رہے گا، اس کے بعد صبح سویرے منجن، مسواک یا برش اور پیسٹ کے ذریعے کم ازکم تین سے پانچ منٹ تک دانت صاف کیجئے۔ اس کے علاوہ کچھ بھی کھائیے، پانی سے اچھی طرح کلی کریں ۔ غذا کے ذرے لگے رہ جائیں تو نہ صرف دانت خراب ہوتے ہیں بلکہ ان کے گلنے سڑنے کے باعث منھ سے بدبو آنے لگتی ہے۔ خاص طور پر میٹھا کھانے کے بعد دانت ضرور صاف کریں ورنہ بہت چھوٹی عمر میں دانت اور داڑھیں کمزور ہوکر نکل جاتی ہیں۔ بچوں کو بھی ہر رات برش ضرور کروائیں تاکہ دانتوں پر میٹھا نہ لگا رہ جائے۔

کانوں کی صفائی

کان جسم کااہم حصہ ہیں۔ نہاتے وقت کوشش کرنی چاہئے کہ دونوں کان باہر سے اچھی طرح صابن سے صاف ہوجائیں۔ جہاں تک کان کے اندرونی حصے کا تعلق ہے، اسے کسی پن یا پنسل سے صاف نہ کریں۔ صاف روئی لے کراس کے ایک سرے کو صاف تنکے کے اوپر چڑھالیں اور اس کی مدد سے کان صاف کریں۔ بچوں کے کان خصوصاً احتیاط سے صاف کریں۔

کان جسم کا بہت نازک حصہ ہیں۔ ان کے اندر دورتک پن ہرگز نہ لے جائیں اور نہ ہی پنسل یا کسی نوکیلی چیز سے کان صاف کریں ورنہ زخم لگ سکتا ہے۔

آنکھیں صاف رکھئے:

آنکھوں کو صبح وشام وقتاًفوقتاً صاف پانی سے دھوتے رہئے، اس سے وہ صاف اور چمکدار رہتی ہیں ۔ جب بھی منھ دھوئیں ،تو آنکھوں میں تازہ ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ضرور ماریں۔ کبھی آنکھ میں کچھ پڑ جائے تو ہرگز اسے مسلنے کی کوشش نہ کریں، اس سے آنکھ میں زخم ہوسکتا ہے اور بینائی بھی جاسکتی ہے۔ صرف پانی کے چھینٹے ماریں یا کسی کھلے برتن میں پانی بھر کر اس میںآنکھ کھولیں اور بند کریں، اس سے آنکھ صاف ہوجائے گی۔

ناک دھوئیے

منھ دھوتے وقت ناک بھی پانی سے صاف کرنی چاہئے۔ یوں ناک کے چھوٹے چھوٹے بالوں میں موجود مٹی اور گندگی نکل جاتی ہے اور سانس لینے میں آسانی ہوتی ہے۔

بال بکھرے ہوں تو…

بالوں کو روزانہ کم از کم دو مرتبہ صاف کنگھی یا برش کی مدد سے سنواریئے اور روزانہ نہیں تو کم از کم ہر دوسرے دن انہیں صابن یا شیمپو سے ضرور دھولیں۔ بالوں میں ہفتے میں ایک بار تیل لگاکر مالش کرنی چاہئے۔ اس سے جلد کا دوران خون تیز ہوتا ہے اور بال مضبوط ہوتے ہیں۔ اپنی کنگھی یا برش کسی دوسرے کواستعمال کے لئے نہ دیں ،یوں جلد کی بیماریاں پھیلتی ہیں ۔ بچوں میں اسی طرح سر کی جوئیں ایک سے دوسرے بچے کے بالوں میں جاتی ہیں۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ایک دن نبی پاک ﷺ ہم سے ملنے کے بعد ہمارے یہاں رونق افروز ہوئے۔ آپ ﷺ نے دیکھا کہ ایک آدمی گردوغبار میں اٹا ہوا ہے اور اس کے بال بکھرے وئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا اس کے پا س کوئی کنگھا نہیں ہے کہ یہ اپنے بالوںکو سنوارلے‘۔ (مشکوٰۃ المصابیح)

پیروں کی دیکھ بھال

دونوں پیر، ان کی انگلیاں اور ناخن صاف رکھنا بہت ضروری ہے۔ دن میں کم از کم دو مرتبہ پیر ضرور دھوئیے۔ پیر دھوکر خشک کرلئے جائیں، تو انہیں چند گھنٹے کھلی چپل میں ضرور رکھئے تاکہ پیروں کو ہوا لگے۔ پائوں کو زیادہ عرصہ گیلا اور بندرکھنے سے جلد کے سفید ہونے اور پھٹ جانے کا خطرہ رہتا ہے اور اس سے بو آنے لگتی ہے۔ کوشش کریں کہ دوسرے کی چپل یا جوتا کم سے کم پہنیں۔ سردی کے موسم میں تیلیا ویزلین سے پیر کا مساج کریں۔ پھٹی ہوئی ایڑیوں کو رگڑ کر صاف کرلیں۔ اس کے بعد ویزلین لگاکر جرابیں پہن لیجئے۔

جسمانی صفائی کیوں اہم ہے؟

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بہت سی بیماریاں ہاتھ یا جسم صاف نہ رکھنے سے وجود میں آتی اور پھیلتی ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سی بیماریاں گندے ہاتھوں کے باعث پھیلتی ہیں۔ مثال کے طور پر ٭دست /پیچش٭قے آنا٭ ہیضہ ٭ٹائیفائڈ٭یرقان ٭گردن توڑ بخار اور کئی دوسرے امراض۔

خاص طور پر رفع حاجت کے بعد صابن سے ہاتھ نہ دھونے سے ان سب بیماریوں کے جراثیم پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہمیشہ کچھ بھی کھانے سے پہلے ہاتھ صابن سے ضرور دھولیں۔ کھانا صاف ستھرا کھائیے اور پانی ابال کرپیجئے ۔ گھر سے باہر کھاناکھاتے اور پانی پیتے وقت اطمینان کرلیجئے کہ صفائی تسلی بخش ہے یا نہیں۔ اگر شک ہو تو کبھی آلودہ کھانا نہ کھائیں اور خاص طور پر ایسا پانی کبھی نہ پئیں۔

اسلام کی نظر میں صفائی کی اہمیت

جدید تحقیق سے یہ ثابت ہے کہ دن میں کم از کم چار پانچ مرتبہ ہاتھ منھ اور دوسرے اعضاء دھولینے سے انسان تازہ دم رہتا اور بہت سی بیماریوں سے بھی محفوظ ہوجاتاہے۔ اس سے وضو کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

٭حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرنے کو بہت پسند فرماتے تھے۔ آپ ؐ کی کوشش ہوتی تھی کہ ہر مرتبہ وضو سے پہلے مسواک ضرور کریں۔ تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ مسواک دانتوں اور مسوڑھوں کے لئے بہترین صفائی اور ورزش کا ذریعہ ہے۔

٭سنت ہے کہ کچھ بھی کھانے سے پہلے ہاتھ ضرور دھولئے جائیں۔ اس بات کی افادیت میں اب شک شبہ کی گنجائش ہی نہیں کیونکہ سائنس ثابت کرچکی ہے کہ گندے ہاتھوں سے کئی بیماریاں پھیلتی ہیں۔

٭ وضو کے دوران انگلیوں میں خلال کرنا سنت ہے۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ اس طرح میل کچیل ہاتھ یا پیر کی انگلیوں میں نہیں پھنستا اور جلد بھی بہت سی بیماریوں سے محفوظ ہوجاتی ہے ۔ ہمیں یہ بھی حکم ہے کہ ہاتھ میں پہنی ہوئی انگوٹھی یا چھلا گھمالیا کریں تاکہ اس جگہ بھی پانی ضرور پہنچے ۔ ان باتوں کا مقصد یہی ہے کہ گردوغبار اور مٹی سے ہمارا وجود پاک صاف رہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک آدمی پر پڑی، جس کے کپڑے انتہائی گندے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کیا اس کو ایسی چیز میسر نہیں جس سے یہ اپنے کپڑے دھوکر صاف کرلے‘‘۔ (مشکوٰۃ المصابیح)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ صفائی اور پاکیزگی اختیار کرو کیونکہ اسلام صاف ستھرا ہے۔ نبی پاک ؐ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ پاک ہے ، وہ پاکیزگی کو پسند کرتا اور ستھرائی کو محبوب جانتا ہے۔ کریم ہے، کرم کو اچھاسمجھتا ہے ، سخی ہے ، سخاوت کو مرغوب جانتا ہے،لہٰذا تم اپنے گھروں کے صحنوں کو صاف ستھرا رکھا کرو اور یہود کی طرح مت رہو جو اپنے گھروں کو صاف ستھرانہیں رکھتے۔‘‘

قرآن مجید میں ارشاد ہے:

’’بے شک اللہ تعالیٰ محبت رکھتاہے توبہ کرنے والوں سے اور محبت رکھتا ہے پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے‘‘۔ (۲۲۲:۲)

شیئر کیجیے
Default image
بنت فضل

تبصرہ کیجیے