5

روٹیوں کا تحفہ

دادی جی ! مالکن نے آپ کے لئے روٹیوں کا تحفہ بھیجاہے‘‘۔

’’الحمد للہ! کتنی ہیں؟ ‘‘

’اٹھارہ روٹیاں !‘‘

’’بیٹی! پھریہ تحفہ میرے لئے نہیں کسی اور کے لئے بھیجا ہوگا‘‘۔

’’نہیںدادی ماں! یہ آپ ہی کے لئے ہے‘‘۔

’’نہیں بیٹی! یہ میرے لئے نہیں‘‘

بزرگ خاتون اور جوان خادمہ کے درمیان ادھر یہ گفتگو ہورہی تھی، ادھر خاتون کے تین مہمان بیٹھے انتظار کر رہے تھے کہ انھیں کچھ کھانے کو ملے۔

بات دراصل یہ تھی کہ یہ مہمان ابھی کچھ ہی دیر قبل دور دراز کا سفر کرکے حضر ت رابعہ بصریؒ کی زیارت کے لئے پہنچے تھے۔ جن کی بزرگی کا چرچا دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ لوگ انھیں اللہ والی خاتون مانتے تھے۔مثل مشہور ہے کہ ’ولی کو ولی پہچانتا ہے‘ آنے والے مہمان بھی اپنی جگہ اللہ والے لوگ تھے۔

یہ اولیاء اللہ ایک ولیہ کے دروازے پر پہنچے تو انہیں بہت بھوک لگی ہوئی تھی۔ اس لئے انھوں نے پہنچتے ہی بلا تکلف ظاہر کردیا کہ اگر گھر میں کھانے کے لئے کوئی چیز ہے تو انہیں کھلائی جائے۔ حضرت رابعہ بصریؒ کے گھر میں دو روٹیاں ایک برتن میں ڈھکی رکھی تھیں۔ انھوں نے سوچا ’’بس یہی دو روٹیاںمہمانوں کے آگے رکھ دوں‘‘۔

یہ سوچ کر انھوں نے برتن اٹھایا ہی تھا کہ دروازے پر ایک فقیر آگیا اور بولا ’’خدا کی راہ میں کچھ کھانے کا سوال ہے ۔ فقیر تین وقت کا بھوکا ہے!‘‘

یہ فقرہ بزرگ خاتون کے دل میں تیرکی طرح پیوست ہوگیا۔ انھوں نے فوراً فیصلہ بدلتے ہوئے دلی ہی دل میں سوچا کہ فقیر ان روٹیوں کا زیادہ مستحق ہے کیونکہ وہ تین وقت کا بھوکا ہے۔ بے شک مہمان بھی بھوکے ہیں، ورنہ اس بے تکلفی سے کھانا کبھی نہ مانگتے، مگر اللہ تعالیٰ نے ایک کے بدلے دس دینے کا وعدہ کیا ہے، اگر میں یہ فقیر کو دے دوں تو ان کے بدلے میں مجھے بیس ملیں گی۔ پھر ان روٹیوں سے مہمانوں کی اچھی خاطر تواضع ہوجائے گی۔ بزرگ خاتون نے یہ سوچ کر دونوںروٹیاں اٹھائیں اور فقیر کو دے دیں۔

مثل مشہور ہے ’’جیسی نیت ویسی برکت‘‘۔

جب خادمہ نے انھیں بتایا کہ تحفے میں اٹھارہ روٹیاں ہیں تو انہیں شک ہوا اور انھو ںنے کہا ’’اللہ تعالیٰ ایک کے بدلے دس دیتے ہیں۔ میں نے بھوکے فقیر کو دو روٹیاں دی ہیں۔ بدلے میں بیس آنی چاہئیں۔ ہو نہ ہویہ اٹھارہ روٹیاں کسی اور رابعہ کے لئے ہیں‘‘۔

جب خادمہ نے یہ سنا تو بے اختیار بول اٹھی ’’دادی جی! مجھے معاف کردیجئے ۱ میں بہت شرمندہ ہوں‘‘۔

’’بی بی ! تم کس بات پر شرمندہ ہو؟‘‘

خادمہ نے اٹک اٹک کر بتایا ’’دادی جی! … مالکن نے سچ مچ … سچ مچ … بیس ہی روٹیاں بھیجی تھیں ۔ میں نے … میں نے … جی میں نے اپنے بچوں کی خاطر…‘‘

بزرگ خاتون نے بات کاٹ دی’’اچھا اچھا ! تو یہ بات ہے بیٹی! تم بچوں کے لئے اللہ ہی سے مانگتیں، میں تو اللہ ہی سے مانگتی ہوں ۔ خیر کوئی بات نہیں، اب تم وہ دونوں روٹیاں میری طرف سے لے جائو۔ میرے لئے اٹھارہ ہی رہنے دو‘‘۔

مگر خادمہ کو اطمینان نہیں ہوا ،اس نے کہا ’’دادی جی ! میں آج سے بچوں کے لئے اللہ ہی سے مانگا کروں گی۔ آپ اپنی روٹیاں …‘‘

’’نہیںنہیں،بس اب وہ روٹیاں تمہاری ہیں۔ انھیںاللہ ہی کی طرف سے سمجھو۔ میں اللہ سے دعا کروں گی کہ وہ تمہاری غلطی معاف کردے اور تمہاری توبہ قبول کرلے۔آئندہ احتیاط کرنا‘‘۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محمدنیاز

تبصرہ کیجیے