2

بیگم اور بیوی

گرمیوں کاموسم تھا ۔ آدھی رات گزر چکی تھی ۔ مہینہ کی آخری راتیں تھیں۔ آسمان پر ستاروں کی مجلس شبینہ آراستہ تھی۔ لیکن چاند کے جلوہ گر ہونے میں ابھی دیر تھی۔ چاند کے جلوہ افروز ہوتے ہی ایک شخص برآمدے میں داخل ہوا۔ اس نے ایک کارڈ ہمارے دوست کو دیا اور یہ الفاظ کہے :

’’صاحب نے کہاہے کہ آپ خود بھی تشریف لائیں اور بیگم صاحبہ کو بھی ساتھ لائیں۔‘‘

اس وقت میرے دوست نے یہ کہا ۔ میں تو آسکتا ہوں لیکن میری اہلیہ نہیں آسکتی۔

میں نے دریافت کیا ایسا کیوں ؟

میرے دوست نے یہ وجہ بتائی:

یوں تو بیگم اور بیوی دونوں ہی عورتیں ہیں۔ جو کپلنگ کو مشرق اور مغرب میں نظر آتا تھا اور وہ بے اختیار چلا اٹھا ’’مشرق مشرق ہے اور مغرب مغرب ہے‘‘ ۔ دونوں کا ملاپ ناممکن ہے۔

بیگم اور بیوی دونوں ایک ہی معاشرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ (۱) دونوں کی آنکھ ایک جیسی ہے مگر نظریں مخالف ہیں۔ (۲) چلنا دونوں کوآتا ہے لیکن چل دونوں مخالف سمت رہی ہیں۔ (۳) گھر دونوں کے پاس ہوتا ہے ۔ بیوی گھر کے سیاہ وسفید کی مختار ہوتی ہے اور بیگم کا گھر لمیٹڈ کمپنی سے مشابہ ہوتا ہے۔ (۴) بیوی گھر کاسارا کام خود کرتی ہے مگر بیگم عزت کی کمی سمجھتی ہے اور نوکروں سے کرواتی ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ جس طرح گویا کورباب اور زندگی کو شباب اور کسان کو سحاب۔ دن کو آفتاب اور رات کو مہتاب سے چار چاند لگتے ہیں… اسی طرح عورت کوحیا اور حجاب سے چار چاند لگتے ہیں۔

(۱) بیگم دن رات اپنے خاوند کے ساتھ رہتی ہے مگر اس کی زندگی میں نہیں ہوتی۔ (۲) اپنے خاوند کا دل لبھا سکتی ہے مگر حفاظت نہیں کرسکتی۔ (۳) کلب کی پابندی گوارا کرسکتی ہے مگر مذہب کی پابندی گوارا نہیںکرسکتی(۴) کار چلانا سیکھ سکتی ہے مگر گھر چلانا نہیں سیکھ سکتی۔(۵) بیگم پردیس میں اپنے عزیزوں کے یہاں ٹھہرنا پسند نہیں کرتی ، ہوٹلوں میں ٹھہرنا پسند کرتی ہے۔ (۶) رمضان کا چاند اس کی دنیا میں طلوع نہیں ہوتا۔ البتہ عید کا چاند ضرور طلوع ہوتا ہے۔

بیگم کا سب سے اہم وظیفہ میک اپ ہے جبکہ بیوی کااہم وظیفہ جائے نماز ہے۔

بیگم کی سب سے بڑی مصیبت تحفظ عصمت ہے جبکہ بیوی کی سب سے بڑی مصیبت خاوند کی ناراضگی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ