6

شیرخوار کی غذا

ولادت کے بعد تمام وقت یا زیادہ سے زیادہ وقت ماں کو بچے کے گہوارے کے قریب ہونا چاہئے اور بچے کو بار بار ماں کی چھاتی ہر دو تین گھنٹے کے بعد (چوبیس گھنٹے میں چھ مرتبہ سے زیادہ) چوسنا چاہئے، خواہ دودھ اترے یا نہ اترے ۔ بچے کو ہر مرتبہ دونوں چھاتیوں سے دودھ دیاجائے۔ جب دودھ دوبارہ پلایا جائے تو اس چھاتی سے دیں جس سے بعد میں دیا تھا۔ شروع میں بچہ پانچ منٹ یا اس سے زیادہ دودھ پیتا ہے ، جس میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔ بچہ چھاتی کے دودھ کا ۹۰ فیصد پہلے دس منٹ میں پی لیتا ہے۔ اگر بچے کو باری بار ہر پستان سے دس منٹ تک لگایا جائے تو کافی ہے یعنی دونوں چھاتیوں سے بیس سے پچیس منٹ یا اس سے زیادہ وقت بھی دیا جاسکتاہے، جس سے غذا سے زیادہ جذباتی ضرورت پوری ہوتی ہے۔ اکثر بچے سات آٹھ منٹ تک دودھ پینے کے بعد سوجاتے ہیں، لہٰذا انہیں ضرورت سے زیادہ نہیںپلایاجاسکتا۔

شروع میں بچے کو ماں کا دودھ بہت کم ملتا ہے، مگر بار بار ماں کی چھاتی چوسنے سے دودھ کی افزائش اور بہائو تیز ہوجاتا ہے۔ جس قدر بچہ دودھ چوسے گا اسی قدر دودھ اترے گا، مگر پہلے ہفتہ میں دودھ چوسنا بچے کے لئے دشوار ہوسکتا ہے اور ماں کے لئے چھاتی کو خود دبانا ضروری ہوجاتا ہے۔ وقفہ وقفہ سے اپنا دودھ پلانے سے دودھ کی افزائش کرنے والے ہارمون بھی صحیح مقدار میں دودھ کی افزائش کرتے ہیں۔شروع کے دو تین دنوں میں خصوصاً پہلوٹی کے بچے کی ولادت کے بعد دودھ کی مقدار کم ہوجاتی ہے ، کیونکہ اس وقت کم دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ نوزائیدہ بچوں میںجب ماں کی چھاتی سے بچے کارخسار لگتا ہے تو بچے کا منھ کھلتاہے اور چھاتی کی طرف ہوجاتا ہے۔ چنانچہ بچے کو متوجہ کرنے کے لئے ماں اپنی چھاتی کو بچے کے رخسار سے مس کرے۔ بچے کی ولادت کے بعد ماں کا دودھ صحیح مقدار میں اترنے میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔ دودھ کی کم افزائش کا سبب ، دودھ پلانے میں پریشانی بھی ہے۔ بعض خواتین اپنا دودھ پلانے میں جھجک اور شرم محسوس کرتی ہیں، جس سے دودھ کی افزائش متاثر ہوتی ہے۔ اگر اس مرحلہ پر مشورہ اور حوصلہ افزآئی نہ ہو تو دودھ کم ہوجائے گا۔ لہٰذا نئی بننے والی ماں کو دودھ پلانے کے ابتدائی ہمت شکن مرحلہ میں جی نہیں چھوڑناچاہئے۔پہلوٹی کے بچے کے رونے سے مائیں یہ سمجھتی ہیں کہ بچے کو مناسب مقدار میں دودھ نہیں مل رہا اور وہ جلد پریشان ہوجاتی ہیں۔ جب بھی بچہ روتا ہے تو انہیں خیال ہوتا ہے کہ بچے کو بھوک لگی ہے۔ چونکہ پستان کا دودھ بچے کے پیٹ میں جاتا ہوا دکھائی نہیں دیتا تو اسے ناکافی سمجھتی ہیں اور بچے کی چیخوں کے سامنے سپر ڈال دیتی ہیں۔ اس وقت بچے کے منھ سے بوتل لگانے سے چھائی کا دودھ چوسنا کم ہوکر افزائش شیر کم ہوسکتی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے