3

احساس ذمہ داری

حضرت عمر بن عبدالعزیز مسند خلافت پر فائز ہونے سے پہلے پہلے بڑے عیش و راحت کی زندگی بسر کرتے تھے۔ شوخ لباس اور نفیس مزاج کی یہ حالت تھی کہ جب ان کے کپڑوں پر دوسروں کی نظر پڑجاتی تھی تو انھیں پراناسمجھنے لگتے تھے۔ خوشبوکے لئے عنبر کا سفوف داڑھی پر چھڑکتے تھے ، ہر وقت عطر میں بسے رہتے تھے۔ جب مدینہ کے گورنر ہوکر روانہ ہوئے تو تیس اونٹوں پر ان کا ذاتی سامان لدا ہوا تھا۔ لیکن جب ان کے ذمہ دار کاندھوں پر مسلمانوں کی خلافت کا بار آپڑا تو معاً بالکل بدل گئے ۔اپنے پیش رو خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کی تجہیز وتکفین سے فراغت کے بعد حسب معمول ان کے سامنے شاہی سواریاں پیش کی گئی ۔ پوچھا۔

’’یہ کیا ہیں؟‘‘

’’یہ شاہی سواریاں ہیں‘‘ خدام نے عرض کیا۔

’’میرے لئے میرا خچر کافی ہے‘‘ خلیفہ راشد نے کہا اور سب سواریاں واپس کردی اور کچھ روز بعد شاہی اصطبل کے تمام جانوروں کو بیچ کر ان کی قیمت بیت المال میں داخل کرادی ، گھر آئے تو چہرے سے پریشانی کے آثار ہویدا تھے ۔

لونڈی نے پوچھا ’’امیرالمؤمنین آپ کچھ متفکر ہیں‘‘؟

عمر بن عبدالعزیز نے جواب دیا۔ اس سے زیادہ فکراور تشویش کی بات کیا ہوگی۔ مشرق و مغرب میں امت مسلمہ کا کوئی فرد ایسا نہیں جس کا حق مجھ پر نہ ہو اور مطالبہ و اطلاع کئے بغیر اس کا ادا کرنا مجھ پر فرض نہ ہو‘‘۔

ایک روز عمر بن عبدالعزیز اپنے گھر میں روروکر دعائیں کر رہے تھے۔روتے روتے آنکھ لگ جاتی جب کھلتی تو پھر دوبارہ یہ مشغلہ شروع ہوجاتا ان کی بیوی فاطمہ نے جو ایک خلیفہ عبدالملک کی بیٹی تھیں خاوند کو اس حال میں دیکھ کر پوچھا : ’’آپ آج اس حالت میں کیوں ہیں‘‘؟

بی بی تمہیں اس سے کیا غرض؟‘‘ خاوند نے ٹالنے کے لئے کہا۔

میں بھی اس سے نصیحت حاصل کرناچاہتی ہوں بیوی نے اصرار کرتے ہوئے کہا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جن کا سینہ خلافت کی ذمہ داریوں کے احساس سے بے چین تھا ، بولے میں اپنے بارے میں غور کرتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ اس امت کے چھوٹے بڑے اور سیاہ وسفید جملہ امور کا ذمہ دار ہوں اس لئے جب میں بے کس ، غریب، محتاج ، فقیر، گم شدہ ، قیدی اور اس طرح کے دوسرے آدمیوں کو یاد کرتا ہوں جو ساری مملکت میں پھیلے ہوئے ہیں اور جن کی ذمہ داری مجھ پر ہے اور یہ سوچتا ہوں کہ خدا ان کے بارے میں مجھ سے سوال کرے گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے متعلق مجھ پر اور حشر کی عدالت میں دعویٰ کریں گے اور پھر میں اس وقت کیا جواب دوں گا ۔ اگرخدا کے سامنے کوئی عذر اور شافع حشر کے سامنے کوئی عذر پیش نہ کرسکا تو میرا انجام کیا ہوگا؟ میں یہ سوچتا ہوں اور میری نیند اڑجاتی ہے ۔ میرے آنسو بہنے لگتے ہیں اور میرا دل خوف سے دہل جاتا ہے۔ اسی طرح ہم پر بھی مغلوب اسلام کی ایک ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہم اس کے لے مسلسل جدوجہد کرتے رہے اور انشاء اللہ ہم اس میں کامیاب ہوں گے۔ (آمین)!

شیئر کیجیے
Default image
سید شہاب الدین ، ایوت محل

تبصرہ کیجیے