2

بیٹی بھی سہارااور چراغ ہے!

بیٹیاں بادل ناخواستہ ہیں۔ یہ سچائی ہے ۔ غائب ہورہی ہیں یہ بھی سچ ہے۔ کیوں بیٹوں کو ترجیح ہے۔ کیوں بیٹوں کی تعدا د پر قابو پایا جائے۔ پہلے بتایاگیا دماغ میں ڈالا گیا ، دماغ نے سوچا مانا پھر حقیقت میں بدلا۔ مرد اعلیٰ ہے۔ عورتوں کا دل بھیڑیوں کی طرح ہے۔ لکھا گیا پڑھایا گیا۔ نجات تو بیٹا ہی دلاتا ہے تو پھر کیوں بیٹیاں۔ ذہن نے قبول کیا کہ بیٹیاں نہ ہو ں تو بھی فرق نہیں۔

معاشرے میں پھیلنے والا کوئی بھی خیال حقیقت بننے سے پہلے دماغ میں اپنی جگہ بناتا ہے۔ دماغ فتح کرتا ہے ، پھر زمین۔ مردوں نے اپنا تسلط بنائے رکھنے کے لئے نظریاتی خاکہ تیار کیا، اس نے ایسے ہی مذہبی ،ثقافتی ، سماجی ، سیاسی اور معاشی قانون تیار کئے جو عورت کو کمتر بناتے تھے۔

جیسے مذہبی۔

مذہبی کتابوں میں عورتوں کے بارے میں کہا گیا ہے: بیٹے کے بغیر نجات نہیں ہے ۔ پنڈ دان ، اگنی دان کے لئے بیٹا ضروری ہے۔ خاندان بیٹوں سے آگے بڑھتا ہے۔

کنیا دان ضروری ہے ۔ بیٹیاں پرائی ہوتی ہیں۔ جیسے معاش۔

بیٹا بڑھاپے کا سہارا ہے ، کماکر کھلائے گا۔

جائداد کا وارث ہے

جیسے معاشرتی۔

بیٹا جہیزلائے گا ، جہیز سماج میں عزت بڑھائے گا۔

جیسے ثقافتی۔

بیٹے کی لالچ میں … اگر بیٹا نہیں تو زندگی بیکار ہے۔

جیسے سیاسی۔

سیاست مردوں کو دھیان میں رکھ کر بنی ہے۔

یہ کسی بھی ایک مذہب اور ثقافت کی بات نہیںہے۔ ہندوستان میں رہنے والے سبھی طبقوں پر یہ باتیں فٹ بیٹھتی ہیں۔ جن کے مذہب میں پنڈدان کی اہمیت ہے ان پر بھی اور جہاں یہ نہیں ہے وہ بھی بیٹا ہی چاہتے ہیں۔ پینوس فیلوشپ کے تحت ایک مطالعہ میں سامنے آیا کہ ہندو مسلم دونوں ہی بیٹے کی لالچ میں برابر ہیں۔ جن کے پاس ڈھیر ساری دولت ہے اور جو خالی ہاتھ والے ہیں وہ بھی بیٹے کی خواہش میں زندگی گزارتے ہیں۔

ایسے حالات میں سوچنے والی بات ہے ۔ کسی بیٹی والے باپ کو مکتی ملے گی یا نہیں ۔ اکلوتی بیٹی والے پنڈت نہرو جی کو مکتی ملے گی یا نہیں یا پھرہمارے فیل گڈ سابق وزیراعظم اٹل بہاری باجپئی کا کیا ہوگا۔ بیٹے کو بڑھاپے کی لاٹھی بنانے کے پھیر میں عمر گزارنے والے والدین پھر سڑکوں پر مارے مارے پھرتے ہیں۔ انھیں اولڈہائوس میں پناہ لینی پڑتی ہے۔ جہاں تک خاندان آگے بڑھانے کی بات ہے سات نسلوں کا نام روشن کرنے کا مسئلہ ہے، دل پر ہاتھ رکھئے اور سوچئے کن کو اپنے پردادا ، لکڑ دادا کا نام یاد ہے؟ ان کے کام یاد ہیں؟

سوال اور بھی ہیں ، خاندان کا نام جوڈیو اور تیلگی سے کیسے روشن ہوگا اور وسندھرا راجے سندھیا یا شبانہ اعظمی سے نہیں۔ کیسے ممکن ہے کہ لینڈر پیس اور مہیش بھوپتی سے تو ملک اور خاندان کا نام روشن ہو لیکن ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا سے نہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آسٹریلیا کے ہاتھوں پٹنے والے مرد کرکٹر تو ملک کانام روشن کریں گے اور اسی دن ایشیا کپ ہاکی جیت کر ترنگا لہرانے والی بیٹیاں نہیں۔

عورتوں کے وجود پر ایک بڑامسئلہ جہیز کا بڑھتا بوجھ ہے۔ آپ کو پہلے دکھائی نہ دیتا ہو ۔ لیکن یہ مردوں کا تسلط ہے۔ یہی اس کا نظام ہر حال میں عورتوں کو قابو میں رکھنے کا خیال دلاتا ہے۔ حقیقت میں یہ سب زمین، دولت کو اپنا بنانے کی دوڑ میں مذہب سماج تہذیب کاسہارا لے کر بنائے گئے خیال ہیں۔ دولت کو بچانے کے لئے خاندان ، جائداد کا انتظام چلانے کے لئے چراغ جلانے والا۔ چراغ کون جلائے گا۔ بیٹا۔ بیٹیوں کو وراثت میں حق نہیں ۔ اس لئے کہ وہ پرائی دولت ہیں۔ اب معاشی طور پر کمزور شخص کا تصور کیجئے۔ بیٹیوں کے بارے میں سوچئے ۔ تو پھر بیٹی کون چاہے۔ یہی وہ خیال ہے جس سے آج بیٹیوں کی زندگی خطرے میں ہے۔ اس خیال کی سچائی کا اندازہ دلائل کی کسوٹی پر خود لگایا جاسکتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ناصر الدین حیدرخاں چیف کاپی ایڈیٹر، روزنامہ ’’ہندستان‘‘ لکھنؤ

تبصرہ کیجیے