3

تہذیبی اصولوں کاشکار ہے عورت!

٭ اشتہارات چھپ رہے ہیں کہ حمل میں جنس کی پہچان کے لئے ٹیسٹ کرانا غیر قانونی ہے۔ ایسے شخص کو ۱۹۹۴ء قانون کے تحت سزا دی جاسکتی ہے۔ اس اشتہار بازی کے سوا حکومتیں کچھ کر رہی ہیں اور نہ ہی کرسکتی ہیں۔ صورتحال جس قدر بگڑ چکی ہے حکومتیں اتنے ہی بگڑے اوربھونڈے راستے علاج کے لئے منتخب کرتی ہیں۔ لگاتار یہ حقائق سامنے آرہے ہیں کہ بیٹیاں غائب ہورہی ہیں۔ بگڑے ہوئے معاشرے کی روایات میں تہذیب جدید نے اس جرم کو جیسے پنکھ لگا دئے ہیں۔ سونوگرافی، ابارشن کلینک ،میٹرنٹی سنٹر، پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں میں مادر رحم میں لڑکی کو بے رحمی سے قتل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ پڑھے لکھے مہذب اور شائستہ سمجھے جانے والے لوگ اس جرم میں شان وشوکت سے ملوث ہیں۔ لوگ قانون کی بات کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ قانو ن ہی چلتا ہے۔ جہاں قانون چل رہا ہے وہاں کے حالات بھی کچھ بہتر نہیں ہیں۔ کیونکہ بیٹیوں کے خلاف معاشرے کی بے رحمی قانون سے زیادہ تہذیبی ثقافتی مسئلہ ہے۔ تہذیب کے بنیادی اصول میں آیافساد ہی اس کا ذمہ دار ہے۔

اترپردیش کے ایک علاقے میں اور ایک ہی کیا کہیں بھی آپ چند مقامی کہاوتیں سن سکتے ہیں۔

٭لڑکی مرے گھڑی بھر کا دکھ جیے تو جنم بھرکا

٭بن بیاہی بیٹا مرے یا سکھ کہاں سمائے

٭ جن مت بیٹا جو مرے ٹھاڈی اوکھ بکائے

٭بن مارے بیری مرے یا سکھ کہاں سمائے

٭پتر نہ ہو اس سے بڑا سوگ نہیں رڑ(قرض)سے بڑا روگ نہیں

اس خواہش کی تکمیل میں بازار میں دوائیں ، کیپسول ، ٹانک، سستے مہنگے ہر بھائو پر بک رہی ہیں۔ ڈاکٹروں کا گروہ دوائیں تجویز کر رہاہے۔ گائوں دیہات میں پتر جیوک، جڑی بوٹیاں ہیں۔ بداعتقادی کا دھندہ چلانے والوں کی بھی اس کاروبار میں خوب کمائی ہورہی ہے۔ کہیں کوکھ بدلنے والے بابا ہیں تو کہیں پتر جیون کلپ ورکش‘‘ ہے۔

خواتین کو معاشرے میں برابر کا درجہ دینے کے لئے تحریک چلانے کی بات اب پرانی ہوگئی ہے۔ اب خواتین خود اپنے حق کے لئے میدان میں ہیں لیکن گائوں شہروں ،محلوں اور کوچوں میں رحم مادرد میں بچیوں کے قتل پر وہ بھی حیران و پریشان ہیں۔ا ن میں سیکڑوں وہ ہیں جو خود اس جرم میں شریک ہیں۔ بلکہ ماہرین کا خیال یہ ہے کہ لڑکے کی خواہش عورتوں میں ہی زیادہ ہوتا ہے۔ بالخصوص ساس اور سسرال کی بڑی بوڑھی عورتیں بہو کو لعن طعن کرتی ہیں۔ اس لعنت سے مسلمانوں کے شریف گھرانے بھی محفوظ نہیں ہیں ۔ اگرچہ یہ وبا مسلمانوں میں کم ہے۔ لوگ اس لعنت سے نجات پانے کے لئے طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔ نئی نئی تجویزیں دماغوں سے ڈھل کر کاغذوں پر چھپ رہی ہیں۔ لیکن صورتحال یہ ہے کہ’’ درد بڑھتا گیا جتنے درماں کئے۔‘‘

طالبات کی ایک اسلامی تنظیم نے گزشتہ دنوں دہلی میں Female Foeticide, a Crime against Humanity کے عنوان سے ایک پرچاتقسیم کرایا۔ اس پرچے کے آخر میں حل تجویز کیا گیا تھا۔ اس کے مطالعہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ خود مسلم تنظیمیں اس کے حل کو لے کر الجھن کا شکار ہیں۔ یہ افسوس کا مقام ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اس بات پر یقین کرناچاہئے کہ جنین کی شناخت کرنا اور لڑکی ہونے پر قتل کردینا۔ ایک تہذیبی مسئلہ ہے ۔ یہ مسئلہ اس تہذیب کی پیداوار ہے جس سے اسلامی تہذیب کے بنیادی اصول کا ہمیشہ سے ٹکرائو رہا ہے ۔ اس تہذیب نے خواتین کی حیثیت اور مقام طے کرنے میں اصولی غلطیاں کی ہیں۔ اس تہذیب نے خدا اور رسالت کو تہذیب سے کاٹ کر ساری انسانیت کو مجرموں، فاسقوں اور فاجروں کے حوالے کردیا ہے۔ اب یہاں ہوس پرست دانشور بن گئے ہیں ۔ اخلاقی مجرم سماجی اصول طے کرنے لگے ہیں۔ عالمی سطح پر معاشی پیچیدگی ، غربت اور افلاس میں اضافہ کر رہی ہیں۔ ہندوستانی معاشرے میں پھیلی قدیم روایتیں اس تہذیب کے شانہ بشانہ چل کر پورے ملک کو خراب کر رہی ہیں۔

ملت اسلامیہ اس مصیبت سے صرف کسی حد تک محفوظ ہے۔ لیکن یہ وبا ان میں بھی عام ہورہی ہے۔ جہیز کا چلن دیندار لوگوں میں خفیہ یا علانیہ رائج ہے۔ لڑکیوں کو تعلیم دلانے میں لڑکوں کے مقابلے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ لڑکیاں بوجھ سمجھی جانے لگی ہیں۔ خواتین و طالبات کی تحریک ملک کے چند حصوں میں ہی بلوغت کو پہنچ سکی ہے۔ ایسے میں اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں کوئی نہیں ہے۔ فطری طور پر اس خلا کو پورا کرنے کے لئے خود ساختہ ترقی پسند تنظیمیں اور این جی اوز سامنے آئی ہیں لیکن ان کا کام صرف پیوند کاری سے زیادہ نہیں ہے۔ تہذیب کی بنیادوں میں تبدیلی لانے کی تحریک غائب ہے۔ بہتر ہوگا کہ اس مسئلے سے نپٹنے کے لئے مذہبی رہنما، علماء کے ساتھ اس کا شعور رکھنے والی خواتین سامنے آئیں اور قرآن وسنت کی روشنی میں خواتین کی حیثیت کو واضح کریں۔ یہ موقعہ ہے کہ بأی ذنب قتلت کی تفسیر گھر گھر عام کی جائے۔ یہی موقعہ ہے کہ لڑکیوں کی تربیت سے متعلق محسن انسانیت ﷺ کی بشارتوں کو پھیلایا جائے، جہیز اور مادہ پرستی کے جنون پر کاری ضرب لگائی جائے۔ بعض احادیث کے اصولوں کا غلط طریقے سے سہارا لے کر جہیز کی حمایت کرنے والوں کی گرفت کی جائے۔ ورنہ بیٹیوں کے غائب ہونے کا سلسلہ مسلم معاشرے میں بھی رفتار پکڑ لے گا۔ آج نہیں تو کل بہت سے لوگ بیٹی کے لیے ترسیں گے۔ تحریک کاایک بڑا میدان خالی ہے کیا آپ تیار ہیں؟

شیئر کیجیے
Default image
مریم جمال