3

بیٹیاں جنت کا ذریعہ ہیں!

من ابتلی من ھذہ البنات بشئی فاحسن الیہن کن لہ ستراً من النار۔ (بخاری ومسلم)

’’جو شخص ان لڑکیوں کی پیدائش سے آزمائش میں ڈالا جائے اور پھر وہ ان سے نیک سلوک کرے تو یہ اس کے لئے جہنم کی آگ سے بچائو کا ذریعہ بنیں گی۔‘‘

من عال جاریتین حتی تبلغا جأ یوم القیامۃ انا وھکذا وضم اصابعۃ۔ (مسلم)

’’جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی ۔ یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں تو قیامت کے روز میرے ساتھ وہ اس طرح آئے گا ۔ یہ فرماکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو جوڑ کر بتایا‘‘۔

من عال ثلث بنات اومثلہن من الاخوات فادبہن ورحمھن حتی یغنیہن اللّٰہ۔ اوجب اللہ لہ الجنۃ فقال رجل یا رسول اللّٰہ اواثنتین! قال اوأثنتین حتی لوقالوا واحدۃ لقال واحدۃ۔ (شرح السنۃ)

جس شخص نے تین بیٹیوں یا بہنوں کی پرورش کی ۔ ان کو اچھا ادب سکھایا اور ان پر شفقت کا برتائو کیا، یہاں تک کہ وہ اس کی محتاج نہ رہیں تو اللہ اس کے لئے جنت واجب کردے گا ۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اور دو ۔ حضور نے فرمایا اور دو بھی۔ حدیث کے راوی ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اگر لوگ اس وقت ایک کے متعلق پوچھتے تو حضور ﷺ اس کے بارے میں بھی یہی فرماتے۔

من کانت لہ انثی فلم یئدہا ولم یہینہا ولم یؤثر ولدہ علیہا ادخلہ اللّٰہ الجنۃ۔ (ابوداؤد)

’’جس کے ہاں لڑکی ہو اور وہ اسے زندہ دفن نہ کرے نہ ذلیل کرکے رکھے۔ نہ بیٹے کو اس پر ترجیح دے ۔ اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ ‘‘

ما من مسلم قد ترکہ ابنتان فیحسن صحتہما الا ادخلتاہ الجنۃ (بخاری، ادب المفرد)

’’ جس مسلمان کے ہاں دو بیٹیاں ہوں اور وہ ان کواچھی طرح رکھے وہ اسے جنت میں پہنچائیں گی۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے