6

’’جنوبی ہند میں حجاب فیشن عروج پر‘‘

ٹائمز آف انڈیا کی ۲۲؍اکتوبر کی ایک خبر کے مطابق تمل ناڈو اور کیرالہ ریاست میں پردہ قدامت پسند لباس ‘‘ سے نکل کر فیشن کے دور میں داخل ہوگیا ہے۔ نئی نئی ڈیزائنوں سے سجے حجاب دس دس لاکھ روپیوں تک میں بک رہے ہیں۔ قدیم زمانے کے طرز لباس کی طرف واپسی لوگوں کے لئے حیرت کا سبب ہے۔ مسلم لیگ خواتین سیل کیرالہ کی صدر محترمہ قمرالنساء انور نے خود کئی حجاب کی دکانوں کا افتتاح کیا ہے۔ ایک تاجر کے مطابق اس وقت حجاب کی تین سو اقسام مارکیٹ میں چل رہی ہیں۔ دراصل اسلامی انقلاب کے بعد ایران نے حجاب کلچر کو آگے بڑھایا ، ہندوستان سمیت اکثر ملکوں میں ایرانی حجاب پسند کیا جاتا ہے۔ جنوبی ہند کی ادیبہ وشاعرہ کملا ثریا ۱۹۹۰ء میں اسلام قبول کرنے کے بعد جب پردہ کرنے لگیں تو پردہ پر سے قدامت پسندی کاالزام ہلکا پڑگیا۔ کملا ثریا صاحبہ کہتی ہیں کہ پردہ مذہبی جنون کی علامت نہیں ہے۔ آج کل یونیورسٹی اور کالجوں میں بڑی تعداد میں مسلم طالبات کو پردے میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ہندوستان میں دہلی، لکھنؤ اور حیدرآباد کے پردے اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں انڈونیشیا میں پردہ پر فیشن ڈیزائنروں نے نمائش کا بھی اہتمام کیا تھا۔ لیکن اس خدشہ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ پردہ کو فیشن …بنانے کے چکر میں اس کا اصل مقصد ہی پیچھے رہ جائے اور سادگی اور ستر کی حفاظت کے بجائے پرکشش بے پردگی کا حصہ بن جائے۔

ماں اور بچے کی حفاظت کے لئے انمول آنچل مہم

Fedration of Obsteric and Gynaecological Societies of India نے تشویش ظاہر کی ہے کہ ماں بننے کے دوران ہلاک ہونے والی خواتین کی تعداد کم نہیں ہورہی ہے۔ ہندوستان جیسے بڑے ملک میں ہر ایک لاکھ پیدائش پر ۴۰۷ مائیں ہلاک ہوجاتی ہیں ۔ جبکہ ملائشیا اور تھائی لینڈجیسے ممالک کی حالت ہندوستان سے کہیں بہتر ہوگئی ہے ۔ عالمی ادارۂ صحت کی ۲۰۰۵ء کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ہر سال پندرہ لاکھ مائیں اور دس لاکھ نومولود بچے موت کا آسان شکار ہوجاتے ہیں۔ ہر ہلاک ہونے والی خاتون کو کم سے کم تیس زخم پہنچتے ہیں۔ ڈلیوری کے بعد زندہ رہ جانے والی بعض خواتین مستقل طور پر جسمانی معذور ہوجاتی ہیں ۔ عموماً کافی مقدار میں خون بہنے ، مدت حمل کے دوران سخت ٹینشن ، خون کی کمی، انفیکشن اور کبھی کبھی غیر محفوظ ابارشن موت کا بڑا سبب بنتی ہیں۔ تنظیم FOGSI کی صدر شیام دیسائی نے دہلی میں اعلان کیا کہ ان کی تنظیم محفوظ ماں کے لئے بیداری مہم چلائے گی۔ انمول آنچل کے نام سے اس مہم کے ذریعہ عوام کو ماں اور بچے کی صحت پر باخبرکیا جائے گا۔

سیاہ فام حقوق شہریت کی عظیم کارکن روزا پارکس کا انتقال

امریکہ میں سیاہ فام انسانوں کی تاریخ بھی سیاہ ہے۔ لیکن ایک خاتون نے اس تاریخ کو بدلنے کے لئے کمر کسی اور سفید فام امریکی کے لئے بس میں اپنی سیٹ چھوڑنے سے انکار کردیا۔ ۱۹۵۵ء کا سردی کا موسم سیاہ فام شہریوں کی تحریک کے لئے سرگرم ہوگیا۔ محترمہ روزاپارکس نے عام نافرمانی کی تحریک چلاکر سیاہ فاموں کے لئے بنے قانون کو منسوخ کرالیا۔ ریاست الباما میںقانون کے مطابق بس میں آگے کی دس سیٹیں سفید اور آخر کی دس سیاہ فام شہریوں کے لئے مختص تھیں۔ سولہ سیٹیں عمومی تھیں۔ لیکن سفید فام مسافروں کے لئے اکثر سیاہ فام مسافروں کو ان نشستوں سے اٹھا دیاجاتا۔ محترم روز اپارکس نے اس دن نہیں اٹھنے کا فیصلہ لیا۔ یہ عزم تحریک میں تبدیل ہوا ۔ اخبارات، عوام اور دوسرے لیڈروں کی مدد سے سول رائٹس کے لئے ان کی تحریک رنگ لائی۔ اسی تحریک کے لئے ۱۹۶۵ء میں روز اپاکس کو صدارتی ایوارڈ بھی ملا۔ ۹۲ سال کی عمر میں اس خاتون کا ۲۵؍اکتوبر کو نیویارک میں انتقال ہوگیا۔ روز اپاکس نے اپنی خود نوشت My Story میں اپنی زندگی کی تصویر پیش کی ہیں۔

میانمارکی خاتون رہنما آنگ سان سوکی

قید وبند کے دس سال پورے

میانمار(برما) کی اپوزیشن لیڈر محترمہ آنگ سان سوکی نے اکتوبر میں نظربندی اور قید کے دس سال مکمل کئے۔ فوجی افسران نے ۱۹۹۵ء کے انتخاب میں آنگ سان سوکی کی قائم جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی پر پابندی عائد کردی اور اس کے سبھی رہنمائوں کو جیل میں ڈال دیا۔ محترمہ آنگ سان سوکی ۶۰ سال کی ہیں۔ جمہوریت کی بحالی کے لئے ان کی کوششوں کے اعتراف میں انھیں ۱۹۹۱ء میں نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ آنگ سان سوکی کو پہلی بار جون ۱۹۸۹ء میں گرفتار کیا گیا ۔ اس کے بعد سے وہ مختصر مدت کے لئے رہا کی گئیں لیکن بار بار انھیں جیل بھیج دیاگیا۔ میانمار کی کل آبادی سوا چار کروڑ ہے۔ مسلمانوں کی تعداد سولہ لاکھ کے آس پاس ہے ۔ جنوبی مشرقی ایشیا کا سب سے امیر ملک میانمار اب اقتصادی اور سیاسی مسائل سے دوچار ہے۔ لیکن عالمی برادری اس فعال خاتون کو فوجی حکومت کے چنگل سے رہائی دلانے میں ابھی تک ناکام ہے۔

مذہبی رہنماؤں نے بیٹیوں کے تحفظ پر زور دیا

نئی دہلی میں تمام مذاہب کے رہنماؤں نے بیٹیوں کے تحفظ پر تبادلہ خیال کیا۔ مونث جنین کی شناخت کرکے اسے ختم کرنے کو انسانیت کے خلاف بتاتے ہوئے خواتین کو زیادہ با اختیار بنانے کی بات کی۔ ہندو مذہبی رہنماؤں نے کہا کہ جئے ماتا کی نعرہ لگانے والا ہندو سماج لگاتار بے رحم ہوتا جارہا ہے۔ اس جلسے میں آرٹ آف لیونگ کے شری شری روی شنکر، رام کرشنامشن کے سوامی نکھلیشور آنند اور درگاہ اجمیر کے حاجی سید کبریا اور اکال تخت کے جتھیدار گیانی جوگندر سنگھ سمیت متعدد مذہبی رہنماؤں نے عوامی بیداری کے لیے ملک بھر میں پیدل مارچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جلسے میں شرکت کرنے والی بہت سے غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے عورت کو ایک عورت کی شناخت ملنی چاہیے۔ اس کے بعد ماں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی رہنما مادر رحم میں مونث جنین کے قتل کے خلاف بولتے وقت Aborationکے خلاف بھی بولنے لگتے ہیں جو عورت کے بنیادی حقوق میں شامل ہے۔

صورتحال یہ ہے کہ ابارشن سینٹر کے پس پردہ ہی سونوگرافی اور فیمیل فٹی سائڈ کا کاروبار پھل پھول رہا ہے۔ ابارشن کبھی کبھی ایک طبی مجبوری کا نام ہے جس کے بہانے ملک بھر میں ڈاکٹرس نرس اور جھولا چھاپ صحت کارکنان خواتین کے خلاف جرائم میں سرگرم ہیں۔

’’بیٹی بچاؤ کارواں‘‘ دہلی پہنچا

آریہ سماج پرتی ندھی سبھا کے زیر اہتمام بین المذاہب بیٹی بچاؤ کارواں ملک بھر میں دورہ کرتے ہوئے ۶؍نومبر کو دلی پہنچا۔ یہ سفر یکم نومبر سے گجرات میں مہارشی دیانند کی جائے پیدائش ٹنکرا سے شروع ہوا اور ۱۵ نومبر کو جلیان والا باغ امرتسر پہنچا۔ اس کارواں کے پیغام کو عام کرنے کے لیے ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا، ارونا کیس ون، جوشنا چنیاّ کو بطور قاصد منتخب کیا گیا ہے۔ کارواں کی اشتہاری مہم میں ’’سماج بچاؤ ملک بچاؤ، مونث جنین کا قتل گناہ ہے، اس گناہ سے بچیں، اس لعنت سے ملک کو بچائیں‘‘ جیسے نعرے لکھے گئے تھے۔ کاش کارواں اپنی حقیقی منزل کو پہنچے۔

’’انمول خاتون‘‘ نیلامی کے لیے پیش

ایک امریکی خاتون کو اس کے سارے دوست انمول کہتے ہیں۔ لیکن اس خاتون کی زندگی ۴۸ سالوں کے بعد بھی ناقص ہے۔ اس نے اپنے گھر میں آسائش کا ہر سامان مہیا کرلیا، زیورات کا ہر ڈیزائن حاصل کیا، خود ڈیزائنر ہونے کی وجہ سے اس کا بزنس بھی بہترین چل رہا ہے۔ اس کے گھر کی قیمت کوئی چھ لاکھ امریکی ڈالر یعنی سوا دو کروڑ روپے ہے۔ لیکن اس کی تمام کوشش کے باوجود اسے کوئی مناسب شخص نہیں ملا جسے وہ اپنی زندگی کا ساتھی بنالیتی۔ اس سے نالاں ہوکر اس خاتون نے اپنے گھر کے ساتھ انٹرنیٹ پر شادی کی ویب سائٹ پر خود کو بھی نیلامی کے لیے پیش کردیا ہے۔مغربی تہذیب میں عورت کی مایوس کن حالت کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوگی۔

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ