6

’’اقوال زرّیں‘‘؟

انقلاب کے اثرات اجتماعی زندگی کے ہر گوشے پر پڑتے ہیں۔

اقوال اور ضرب الامثال بھی اس ہمہ گیر بحران سے نہیں بچتے۔ کچھ نئے اقوال پیدا ہوتے ہیں اور کچھ پرانے اقوال نئے سانچوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ انقلاب ۱۹۴۷ء نے ہماری اجتماعی زندگی کو بیخ وبن سے ہلا ڈالا۔ چنانچہ اس انقلاب سے بہت سے نئے اقوال پیدا ہوئے۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں ان کو اچھی طرح پلے میں باندھ لیجئے:

٭کل کاکام آج مت کرو۔ کیونکہ شاید کلاس کام کے کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے۔

٭جو آرام آج مل سکتا ہے اسے کل پر نہ چھوڑو کہ کہیں وقت تم سے اس آرام کا موقع نہ چھین لے۔

٭دیوار کے صرف کان نہیں بلکہ آنکھیں بھی ہوتی ہیں۔

٭ادھار اور کریڈٹ کارڈ پر گزارہ کرنے والے لوگ معتبر ہوتے ہیں۔

٭وہ شخص متقی ہے جو دعوت میں جاکر بھی اتنا کھانا کھائے جتنا اپنے گھر کھاتا ہے۔

٭کسی بیوقوف کو بیوقوف نہ سمجھو، تمھیں کیا معلوم کب وہ منسٹر بن جائے۔

٭ منتخب ممبر کو اس کے وعدے یا ددلاکر شرمندہ نہ کرو۔

٭منسٹر کی بیوی ، ریس کا گھوڑا جتناکو دے اتنا تھوڑا۔

٭طاقتور ہاتھ فیصلہ کرتے ہیں، عقل ان کی تائید کرتی ہے۔

٭وہ عہد جدید کا نوجوان نہیں جو اپنے ماں باپ کو بیوقوفوں کی لسٹ میں سب سے اونچی جگہ نہ دے۔٭ادبی رسالوں ،اخباروں اور اشتہاری دوائوں کے بغیر فرمائش کے بھیجے ہوئے وی، پی چھڑانا اخلاقی فرض ہے۔٭جمہوریت میں اکثریت کا ہر ممبر مطلق العنان ہوتا ہے۔ ٭اصلی ولی وہ ہے جس کی بیوی بھی اس کی ولایت کی قائل ہو۔ ٭کال کے نواب ٹھڈیوں کی فرمائش۔٭بھوکے سے ملے بھوکے اور کھاگئے دونوں غش۔٭ملا کی دوڑ مسجد تک۔ ٭صدر کی دوڑ کونسل تک٭تاجر کی دوڑبلیک مارکیٹ تک ٭نوجوان کی دوڑ ایکٹریس تک ٭عورت کی دوڑ فیشن تک۔٭عاشق کی دوڑ زہر کی شیشی تک٭ جملہ انسانوں کی دوڑ موت تک ٭اور قلم کی دوڑ یہاں تک۔

شیئر کیجیے
Default image
م، احمددہلوی(ایم، اے)