3

حجاب کے نام

’’خواتین کے لئے ریزرویشن‘‘ پسند آیا

خواتین کو ریزرویشن رمضان المبارک کی منصوبہ بندی وغیرہ مضامین لائق ہدایت ہیں ۔ سرورق بہت دیدہ زیب ہیں۔ اس کے علاوہ رسالہ کااسلامی مزاج ہر خواتین کے لئے مشعل راہ ہے۔ یہ ملت کا مربی ہے جو کہ ایک اسلامی معاشرے کی تعمیر وترقی میں اپنی خدمات پیش کر رہا ہے۔

رابطہ شہزاد اڑکوی، ددھیرو مظفر نگر

شاید میرا مضمون شائع ہوا ہو؟

ماہ اکتوبر کا حجاب ملا ، دل خوش ہوگیا ۔ شعری کالم ،کہانیاں ،افسانے اور سرورق بہت پسند آیا۔ اگست کا شمارہ ملاجس میں میرا خط شائع ہوا اورآپ نے کہا کہ انشاء اللہ آپ کا مضمون جلد شائع ہوگا ، پڑھ کر بہت خوشی ہوئی،رات دن یہ سوچ کر گزرا کہ ستمبر میں میرامضمون شائع ہوگا۔ لیکن افسوس یہ شمارہ ہمیں ملاہی نہیں۔ حجاب میرے گھر کے آس پاس کہیں نہیں آتا ورنہ کہیں سے مانگ کر پڑھ لی ہوتی تو تسلی مل گئی ہوتی ۔

تمنا مبشور، جیراج پور

میری تلخ نوائی گواراہ فرمائیں!

قارئین کے خطوط’’ حجاب کے نام ‘‘ کالم میں واقعی بڑی اہمیت رکھتے ہیں ۔ اور آپ نے بہت صحیح کہا کہ خطوط میں محض تعریف ہی نہ ہو، بلکہ تنقیدی انداز بھی ہوناچاہئے ۔ لہٰذا میری تلخ نوائی گوارا فرمائیں۔

میں کئی دنوں سے منتظر ہوں کہ خواتین کے اس رسالے کے لے جو ملک کی نامور شخصیتوں کو آپ نے رسالے کو زینت بخشی اور مجلس مشاورت میں جن بڑے بڑے ناموں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ کاش دامانِ حجاب میں بھی یہ نام آجائیں ان کی بھی کچھ تحریریں اور ان کے خیالات سے بھی استفادہ کا موقع ملے۔ اخبار خواتین کالم میں’’عراقی خواتین کی حالت زار‘‘ یہ عنوان یہ ظاہر کر رہا ہے گویا پورا مضمون یا تمام خبریں عراق سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ اسی طرح صرف خبریں ہی نہ پیش کردی جائیں۔بلکہ خبر کے بعد مختصر تبصرہ یا تجزیہ یا اشارہ کنایہ میں تنقید ہو تو اور بھی دلچسپی پیدا ہوسکتی ہے۔

رخسانہ پروین، افضل باغ ۔ آکوٹ

غزلوں کا سلسلہ جاری رکھیں

رمضان کی پرخلوص مبارکباد، میرے پورے اہل وعیال کی طرف سے قبول فرمائیں۔ ’’اکتوبر‘‘ کے پرلطف شمارے اور دینی معلومات سے بھرے خوبصورت شمارے کے لئے سلمیٰ اور میں دونوں آپ کے شکر گزار ہیں۔ ڈاکٹر عبرت بہرائچی صاحب نے بہت ہی عمدہ طریقے سے اپنے قیمتی اور خوشنما الفاظ میں رمضان کی تعریف کو منظوم کیا ہے۔ واقعی میں قابل تعریف ہے۔ محترمہ عافیہ ادیب جی کی تحریر ’’روزہ بھائی کی تربیت‘‘ کا طریقہ بیان بہت اچھا لگا۔ پڑھتے وقت یوں محسوس ہوا جیسے میں پڑھ نہیں رہی ہوں گی بلکہ عافیہ جی خو تقریر کر رہی ہیں۔ امید ہے عافیہ جی سے بزم حجاب میں آئندہ بھی ملاقات ہوتی رہے گی۔ غزلوں کے سلسلے کو کسی وجہ سے ختم مت ہونے دیجئے گا۔

ثمینہ مرزا

قارئین سے گذارش

نومبر ۲۰۰۵ء؁ کا حجاب اسلامی ملا اور بھر پو رمطائعہ کے بعد مریم جمال آپا کا شکایت بھرا ایڈیٹوریل پڑھا۔ ان کی شکایت جائز ہے اور قارئین کے خطوط سے لوگوں کی پسند کا اندازہ ہوا۔ دونوں کا تقابلی مطالعہ کے بعد میں اس نتیجہ پر ہوں کہ ہم سب قارئین کی ذمہ داری ہے کہ ہم اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق عصری ضرورت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے مضامین لکھیں اور دوسرے قلم کاروں کو بھی اس طرف راغب کریں اور پرچہ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پھیلانے کی کوشش ضرور کریں۔

اس شمارہ میں سبھی مضامین اپنے انداز میں خوب سے خوب ہیں لہٰذا اہم نقطہ کے بعد کچھ زیادہ لکھنے کو نہیں بچتا ہے۔ ویسے عالمی، ملکی صورتحال اور عالم اسلامی کی خبروں کا خلاصہ بھی ہر شمارہ میں رہنا چاہیے یعنی خبروں کا صفحہ بڑھایا جائے۔

سلطانہ خانم ، بھاگلپور

اداریہ پسند آیا

حجاب اسلامی اکتوبر ۲۰۰۵ء کارسالہ ہمارے ہاتھوں میں آیا جس کے سبھی مضامین پسند آئے۔ خاص کر اداریہ کھلکھلاتے ہوئے چہروں پر نہ جانا‘‘واقعی ایک احتسابی مضمون رہا۔

صباپروین ، جمشید پور

پروف کا مسئلہ

ماہ نومبر کا شمارہ موصول ہوا۔ پورا رسالہ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ ادارہ پروف کی غلطیوں کے لیے فکر مند ہوگیا ہے۔ اس بار پروف کی غلطیاں تقریباً نہیں کے برابر تھیں۔ لیکن بات تبھی بنے گی جب یہ سلسلہ ایسے ہی جاری رہے۔ بزم حجاب میں نو قلم کاروں کی تعداد زیادہ ہونی چاہیے۔ اداریہ نے خواتین کی خوب خبر لی ہے۔ لیکن اس تحریر میں واقعی درد اور دعوت تحریک محسوس ہوتی ہے۔

عائشہ ادیب، سمبل پور ، اڑیسہ

قرض ہستی تو اسی طرح ادا ہوتا ہے

’’حجاب اسلامی‘‘ کا اکتوبر کا شمارہ زیر مطالعہ ہے۔ مہمان اداریہ پسند آیا۔ رمضان المبارک سے متعلق مضامین بہت مفید اور بروقت حجاب نے شائع کیے ہیں۔ ایس امین الحسن کا ’’رمضان کی منصوبہ بندی‘‘ لائق تحسین و عمل مضمون تھا۔ حضرت شبنم سبحانی صاحب کی غزل بڑی معیاری ہے خصوصاً یہ شعر:

اس خرابے میں تو نوحوں کو تبسم میں بدل

قرض ہستی تو اسی طرح ادا ہوتا ہے

دیگر مشمولات دلچسپ اور لائق مطالعہ ہیں زیادہ کیا خامہ فرسائی کروں۔ اس کے معیار مزاج کے مطابق ایک حمد اور ایک نعت مرسل خدمت کررہا ہوں۔

سہیل فصیحی، دھنباد

’’منجو‘‘ صرف داستان کے لئے نہیں!

’’منجو‘‘ نومبر کے شمارے میں اس نام پر میں چونک گیا۔ میرے علاقہ میں ’’منجو‘‘ نام کی ایک غیرمسلم بہن کچھ عرصہ سے لٹریچر کا مطالعہ کر رہی ہے ۔ پڑھی لکھی خاتون ہے۔ اس کے شوہر سرکاری ملازم ہیں۔ وہ پڑوس کی بچیوں کو اور کچھ غریب بچیوںکواپنے گھر میں گھنٹہ دو گھنٹہ انگریزی اور مراٹھی ہندی وغیرہ پڑھا دیا کرتی ہے۔ وہ ایک اچھی رائٹر بھی ہے ۔ پونا سے نکلنے ولے ایک بچوں کے رسالے میں اکثرکہانیاں اور انٹرویو وغیرہ شائع ہوتے ہیں۔ میں نے دامانِ حجاب میں اس کا نام دیکھا تو چونک گیا۔

مجھے لگا کہ ان کا کوئی آرٹیکل مراٹھی سے اردو میں ترجمہ کرکے کسی نے روانہ کردیا ہے۔ عنوان بھی تعلیم پر ہے ۔ ’’پڑھنا لکھنا تو دولت مند لوگوں کے لئے ہے‘‘۔ میں سمجھا ضروریہ اس کا کوئی طنزیہ مضمون ہے۔ لیکن پڑھنے کے بعد پتہ چلا کہ یہ تو سرراہ کسی مسافر کی کسی مجبوری سے ملاقات ہوگئی ہے۔ اچھا اسٹائل ہے۔لیکن یہاں سرراہ… ایک مجبور اور بے کس لڑکی سے ملاقات ،اس کا تذکرہ،صفحۂ قرطاس پر صرف زیب داستان کے لئے۔ یہاں عملی نمونہ کچھ نہیں۔ بلکہ قارئین پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ معاشرہ کی اس گھنائونی تصویر کو دیکھیں اور سردھنیں ۔

مسافر نے خاموشی سے یہ جملے کیو ں ہضم کرلئے ۔ اسوۂ حسنہ کاعملی نمونہ یہاں کیوں نہ جگا کہ یتیم کو سہارا دے دیا جائے۔ کیونکہ ناکہا گیا ’’بیٹی… ایسا نہ کہو… لکھنا پڑھنا صرف دولتمندوں کی جاگیر نہیں ہے‘‘۔ تم بھی پڑھ سکتی ہو… چلو ہمارے ساتھ … یا اسے کوئی سہارا دلا دیا جاتا۔ یا یتیم خانوں تک رہنمائی کی جاتی۔

محمد ابراہیم خان۔ آکوٹ (مہاراشٹر)

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے