2

ہم سفر

ان کی تعداد ڈھائی سو کے قریب تھی اور وہ مسلسل منزل کی جانب تیز گامی سے مائل پرواز تھے۔ بھوک اور پیاس کی شدت نے انہیں بہت حد تک نڈھال کردیا تھا مگر اپنے گردوپیش سے بے خبر اور تھکان کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ برق رفتاری سے آگے بڑھتے چلے جارہے تھے۔ ان کا سردار کچھ زیادہ ہی خود اعتمادی کا مظاہرہ کررہا تھا۔ اس کی حالت بھی خستہ تھی مگر اس خدشہ کے پیش نظر کہ کہیں اس کے ساتھی ہمت نہ ہار جائیں وہ اپنی بھوک اور پیاس کی شدت کو نظر انداز کرتا ہوا رفتار میں بتدریج اضافہ کرتا چلا جارہا تھا۔ کیونکہ شام ڈھلنے سے پہلے پہلے اسے اور اس کے ساتھیوں کو منزل مقصود تک پہنچنا تھا۔ نہ جانے کتنے دریا، کتنے تالاب، کھیت، کھلیان، جنگل اور بیابان انھوں نے پارکیے، اس کا اندازہ خود انہیں بھی نہیں تھا۔ ان کو صرف منزل مقصود تک پہنچنے کی فکر لاحق تھی اور اسی دھن میں مگن وہ لوگ کرئہ ارض کے سبزہ زاروں، نخلستان و آبشاروں کو پھلانگتے ہوئے آسمان کی بلندی پر پرواز کیے جارہے تھے۔ نیلے گنبد کے نیچے ان کا جھنڈقابل دید خوشنما منظر کی عکاسی کررہا تھا اور ایسا لگ رہا تھا جیسے بادلوں کے تیرتے ہوئے ٹکڑوں میں تکونی سفید ململی چادر کہیں سے اڑتی ہوئی آکر ان میں شامل ہوگئی ہو۔ وہ سائرس پرندوں کا قافلہ تھا جو ہر سال کی طرح اس سال بھی اپنے وطن کو خیر باد کہہ کر عارضی سکونت کی غرض سے اپنے طے شدہ مقام کی طرف رواں دواں تھا۔ حسبِ معمول میزبان ملک کے موسم سرما کی مخصوص آب و ہوا ان کی آمد کی منتظر تھی۔

ماحول پرسکون اور مطلع بالکل صاف تھا۔ دوپہر کی چمکتی کرنیں زمین پر براہ راست روشنی کا طبق چڑھانے میں مصروف تھیں۔ تیز ہواؤں کے جھونکوں میں فرطِ مسرت سے مخمور ناریل کے پیڑوں کی سبز ٹہنیاں قدرے خم کھائے ہوئے نئے مہمانوں کو خوش آمدید کہہ رہی تھیں۔ وقفے وقفے سے ہوا کی سنسناہٹ اور درختوں کے پتوں کی کھڑ کھڑاہٹ ان کے استقبال کے لیے مترنم دھن چاروں طرف بکھیر رہی تھی۔ دفعتاً خاموش و پرسکون فضا میں ایک دھماکہ ہوا۔ سردار نے جب پلٹ کر دیکھا تو قافلے میں اسے اپنے کچھ ساتھی غائب نظر آئے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتا دوسری مرتبہ پھر وہی دھماکہ کی آواز، اب جو اس نے نیچے کی طرف دیکھا تو اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ نیچے کہرام مچا تھا، اس کے تمام ساتھی زمین پر خون میں لت پت پڑے شدت تکلیف سے کراہ رہے تھے۔ اپنے زخمی ساتھیوں کی طرف نیچے آنے کے خیال سے جیسے ہی اس نے اپنی پرواز کا رخ موڑنا چاہا اس کی نظر پرندوں کی طرف بے تحاشہ دوڑتے ہوئے کچھ شکاریوں پر پڑی جن کے کاندھوں پر بندوقیں لٹکی ہوئی تھیں اور ان کی آنکھوں میں حریصانہ چمک و ہونٹوں پر فاتحانہ تبسم تھا۔ زخمی پرندوں کے پاس پہنچتے ہی انھوں نے فلک شگاف قہقہہ لگایا تھا۔ تھوڑی دیر تک وہ لوگ اپنے شکار کو غور سے تکتے رہے۔ ان کے چہرے رحم اور خلوص جیسے جذبوں سے بالکل عاری تھے۔ پھر آپس میں ان کی حجت و تکرار شروع ہوئی۔ غالباً کس کے حصہ میں کتنا آئے گا اس مسئلہ پر بحث چھڑی ہوئی تھی جس نے بالآخر ہاتھاپائی کی شکل اختیار کرلی۔

اس ناگہانی آفت سے گھبرایا ہوا وہ آسمان میں دائرہ نما چکر لگارہا تھا۔ جب اسے اپنے ساتھیوں کو بچانے کی کوئی تدبیر نہ سوجھی تو شکستہ دل ہوکر ایک طرف کو پرواز کرگیا مگر اب اس کی کوئی منزل نہیں تھی۔ اپنے ساتھیوں کی کربناک چیخیں اب تک اس کے ذہن کو مفلوج کیے ہوئے تھیں اور اب اس کے بازو بھی اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ ایسے میں وہ لمبی اڑان بھرتا ہوا ناریل کے پیڑ کی سب سے اونچی شاخ پر بیٹھ گیا اور گردن گھما گھما کر اپنے گردوپیش کا جائزہ لینے لگا۔ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے وہ حضرت انسان کی سفاکی اور وحشیانہ پن کا شکوہ کررہا ہو۔ مغموم پرندے کے غم میں وہاں کی ہر شے برابر کی شریک تھی۔ درختوں نے اپنی ٹہنیوں کو احساس شرمندگی سے خم کردیا تھا۔ ہوائیں اس کے پروں کو ہلکے ہلکے سہلارہی تھیں اور اس دل خراش کو بھلا دینے کی کوشش میں مدد کرتی ہوئی، اسے اپنی منزل تک پہنچنے کا مشورہ دے رہی تھیں مگر اب کیسی منزل…؟ کون سا مقصد…؟ وہ شام ڈھلنے سے پہلے اپنے مقام تک پہنچنے کی چاہت … سب کچھ بس ایک ہی پل میں ختم ہوگیا۔ اپنا سر اٹھا کر اس نے آفتاب کی طرف دیکھا مگر سورج جو اس قتل عام کا اہم گواہ تھا، اپنا سر احساس ندامت سے جھکائے اس کی نظروں سے اوجھل ہورہا تھا۔ معصوم پرندے کی آنکھوں میں ایک چبھتا ہوا سوال تھا کہ اس کے ساتھیوں کا قصور کیا ہے…؟

ایسے مسافر کو جو اپنے وطن سے دور خوشیوں کی تلاش میں سفر پہ نکلا ہو بنی نوع انسان کی طرف سے کبھی نہ بھلانے والا غم بطور انعام دیا جاتا ہے۔ ان کے معصوم دلوں میں وحشیانہ پن کے خنجر کی نوک سے اتنے کچوکے لگائے جاتے ہیں کہ وہ ناسور بن کر تمام عمر ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ کوئی حق نہیں بنتا ہے انہیں اشرف المخلوقات کہلانے کا۔

مغموم پرندے کی سرد آہیں آسمان میں گونج رہی تھیں اور ماحول کو رنجیدہ کرتی جارہی تھیں۔ یکایک ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ بوکھلاہٹ میں وہ پرندہ تیز رفتاری سے پرواز کرتا ہوا کافی اونچائی تک چلا گیا۔ جب اس کی نظر نیچے کی طرف گئی تو پھر ایک دلخراش منظر اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ ایک مسافر برادر ٹرین کے ڈبوں کے پڑخچے اڑے ہوئے تھے اور ہر طرف انسانی اعضا کے ٹکڑے بکھرے پڑے تھے۔ زخمی مسافروں کی آہیں اس کی سماعت سے ٹکرارہی تھیں۔ تبھی اسے کچھ لوگ دوڑتے ہوئے جائے حادثہ کی طرف بڑھتے نظر آئے غالباً یہ ان گاؤں والوں نے ٹھیک شکاریوں کی طرح پہلے خاموشی سے جائے حادثہ تک پہنچ کر جائزہ لینا شروع کیا۔ پرندے کو ان کی آنکھوں میں وہی حریصانہ چمک جو ان شکاریوں کی آنکھوں میں تھی صاف نظر آنے لگی اور پھر سب کچھ ویسا ہی ہونے لگا جو تھوڑی دیر پہلے ہوا تھا۔ پہلے بات حجت و تکرار تک رہی اور پھر بڑھتے بڑھتے نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔

اچانک پرندہ چونک اٹھا، کیونکہ زخموں سے چور کراہتے ہوئے مسافروں کے درمیان اسے اپنے زخمی ساتھی بھی نظر آنے لگے اور ان گاؤں والوں کے درمیانہ قہقہہ لگاتے اور ہاتھا پائی کرتے ہوئے شکاری بھی اسے موجود نظر آئے۔ دونوں ہی مسافروں کا انجام ایک تھا۔ شاید بدقسمت مسافروں کو اپنی منزل مقصود تک پہنچنا مقدر میں ہی نہیں تھا۔ شکستہ دل اور بوجھل احساس کے ساتھ وہ پرندہ نامعلوم منزل کی طرف پرواز کرگیا۔

شیئر کیجیے
Default image
سید نسیم اعجاز اشک

تبصرہ کیجیے