6

اعتماد

اتنے سارے بھائی بہن اور اتنا شور شرابہ، کھیل کھود اور ہنگامہ۔ لیکن اس بھیڑ میں بھی ثانیہ اکیلی تھی۔ سب سے چھوٹی اور سب سے الگ۔

گرمیوں کی چھٹی میں جب چچا اور پھوپھی اور ان کے بچے آجاتے تو وہ اوروں کی طرح خوش ہونے کے بجائے کہیں چھپنے کی جگہ ڈھونڈتی پھرتی۔ اسے معلوم تھا کہ اگر وہ انہیں مل جائے گی تب سب مل کر اس کا خوب مذاق اڑائیں گے۔ توتلی زبان، پڑھائی میں کمتر اور دوڑ بھاگ میں سب سے پیچھے۔ انہیں سب باتوں پر اس کی خوب ہنسی اڑتی۔ ان سب سے اسے پناہ ملتی تو ’اماں‘ کے کمرے میں۔

انھوں نے اسے بچپن سے پالا تھا۔ ماں کی گود سے زیادہ پیار دیا تھا۔ وہ تو جیسے نوکر نہ ہوکر ایک ماں ہی تھیں۔ وہ ہی ایک اس کی کمزوریوں کو سمجھ سکتی تھیں۔

ریس کے لیے جب بچوں کی لائن لگتی تھی تو کہیں نہ کہیں ایک آواز آتی ’’ثانیہ کو ہٹاؤ وہ نہیں دوڑ سکتی اور کھیل خراب کردے گی۔‘‘ یہ سنتے ہی وہ اپنے آپ میں سمٹ جاتی۔

بعد میں اماں سمجھاتی ’’دوسروں کے کہنے سے اگر تم دوڑ میں حصہ نہیں لو گی تو تمہیں کیسے پتہ چلے گا کہ تم تیز دوڑسکتی ہو یا نہیں۔‘‘ اوروہ آئندہ دوڑ میں حصہ لینے کے لیے وہ اپنے آپ کو تیار کرنے لگتی۔

جب سب بچے اپنا اپنا رزلٹ گھر لاتے اور بڑی شان سے بڑوں کو دکھاتے تب ثانیہ کا نمبر سب سے پیچھے ہوتا۔ خوب ہنسی اڑتی، آپا کے اول آنے پر مٹھائی آتی اور اسے نظر انداز کردیا جاتا۔

اماں کبھی کبھی اس کے لیے پریشان ہوجاتیں پھر رفتہ رفتہ انہیں جیسے یقین آگیا کہ وہ کبھی کچھ نہ کرسکے گی اور غلط بھی کیا تھا۔ ثانیہ نے خود بھی شکست تسلیم کرلی تھی۔ ایک نہیں مانیں تو اماں۔

اس کی ہر ہار کے بعد اس کو اپنے اوپر کچھ زیادہ ہی اعتماد دلاتیں اور اس کے اندر کی اچھائیوں کو باہر لانے کی کوشش کرتیں۔ وہ کہتیں : ’’دیکھو ثانیہ تم ایک دن بہت ترقی کرو گی۔ بس اپنے آپ پر بھروسہ نہ چھوڑنا اور ایمانداری سے محنت کرتی جانا‘‘ اور اس کو اپنے آپ پر تھوڑا تھوڑا یقین ہونے لگتا۔

ایک دن بڑی پھوپھی امریکہ سے ایک عرصہ کے بعد آئیں۔ سب خوش تھے۔ ان سے ملنے کے لیے سارا خاندان اکٹھا ہوا۔ بڑی دھوم دھام تھی۔ سارے بچے خوش ہوکر اپنے کارنامے بڑوں کو دکھا کر تعریف لوٹ رہے تھے لیکن اس کے پاس دکھانے کے لیے کچھ بھی نہ تھا۔اس لیے وہ سب کی نظروں سے دور اماں کے کمرے میں چھپ جاتی پھر ایک دن پھوپھی کی نظر اس پر پڑ ہی گئی۔

شام کو میٹنگ ہوئی اور طے ہوا کہ ’’ثانیہ کی ہر کمزوری اور بزدلی کے پیچھے اماں کا ہاتھ ہے وہی اس کی غلطیوں کو بھی سراہتی ہیں۔ اسے سب سے الگ چھپنے کی جگہ دیتی ہیں۔‘‘ لہٰذا سب نے طے کیا کہ اماں کو گاؤں میں ان کے گھر بھیج دیا جائے تب ہی شاید ثانیہ کچھ کرسکتی ہے اور کسی قابل بن سکے گی۔

اس رات بھیا نے کہا : ’’ثانیہ اب تم کہاں چھپوگی تمہاری اماں تو گھر جارہی ہیں۔‘‘

اس کے سر پر جیسے آسمان ٹوٹ پڑا۔ وہ دوڑتی ہوئی اماں کے کمرے میں گئی اور ان کی گود میں سر رکھ کر خوب روئی۔ اماں نے کہا : ’’بیٹا تمہارے گھر والے تمہاری بھلائی چاہتے ہیں۔ میرا کیا مجھے تو ایک دن جانا ہی تھا۔ بس اپنے اوپر بھروسہ کرنا مت چھوڑنا یہی ترقی کی پہلی سیڑھی ہے۔

مجھے یقین ہے کہ تم ایک دن بہت ترقی کروگی۔ میرے اس بھروسہ کو ٹھیس مت پہنچانا۔ تمہارے راستے میں بہت مشکلیں آئیں گی لیکن ہار مت تسلیم کرنا، میں ہر وقت تمہارے ساتھ رہوں گی۔‘‘ وہ بہت روئی، گڑگڑائی لیکن ہر بار کی طرح اس دفعہ بھی کسی نے اس کی ایک نہ سنی اور اماں چلی گئیں۔ اس کے سر سے تو جیسا سایہ چلاگیا۔ وہ بالکل اکیلی رہ گئی۔ بہت پیار کرنے والے اپنے لوگ اس کے دل کے قریب نہ ہوسکے۔ اس کو چند لمحے کا پیار اور بھروسہ نہ دے سکے۔

اماں کے الفاظ اکثراس کے کانوں میں گونجتے۔ وقت گزرتا گیا اور ایک دن جب وہ ڈاکٹر بن گئی اور تمغہ لے کر گھر آئی تو گھر کے ہر فرد نے اس کی ترقی کا سہرا اپنے سر پر باندھنے کی کوشش کی۔ لیکن صرف ثانیہ کو معلوم تھا کہ اس ترقی کااصلی حقدار کون تھا۔

شیئر کیجیے
Default image
شاہد حسن

تبصرہ کیجیے